1946ء میں میں اور چند ہمجماعت لڑکے کھیل کر واپس آ رہے تھے ۔ راستہ میں ایک ہندو لڑکے نے ایک ہندو دکاندار سے پانی مانگا تو دکاندار نے پانی کا گلاس دے دیا اور اس نے گلاس سے منہ لگا کر پانی پی لیا ۔ پھر ایک مسلمان لڑکے نے پانی مانگا تو دکاندار نے کہا چلُو کرو اور گلاس سے ڈیڑھ فٹ اونچائی سے لڑکے کے چلُو میں پانی پھینکنا شروع کیا جس سے لڑکے کے کپڑے بھیگ گئے اور وہ ٹھیک طرح پانی بھی نہ پی سکا
ایک دن ایک ہندو آدمی فُٹ پاتھ پر جا رہا تھا کہ ایک مسلمان لڑکا بھاگتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا تو ہندو چیخا ”کپڑے بڑھشٹ کری گیا“ مطلب کہ کپڑے پلِید کر گیا ہے اور اس لڑکے کو کوسنے لگا ۔
کچھ دن بعد وہی ہندو گذر رہا تھا کہ راستہ ميں کھڑی ایک گائے نے پیشاب کیا جس سے اس کا پاجامہ بھيگ گيا تو وہ بولا “پاپ چڑی گئے پاپ چڑی گئے“ یعنی گناہ جھَڑ گئے
فروری 1947ء میں ایک دن سکول میں آدھی چھٹی کے دوران میرے ہم جماعت 2 برہمن لڑکے رنبِیر اور کِیرتی کُمار میرے پیچھے سے آئے ۔ رنبِیر جو مجھ سے 3 سال بڑا تھا قائداعظم محمد علی جناح کو گالیاں دے رہا تھا ۔ میرے منع کرنے پر اُس نے جیب سے چاقو نکالا اور اُسے میرے پیچھے شانوں کے درمیان رکھ کر زور سے دبانے لگا ۔ اچانک نویں جماعت کےکچھ مسلمان لڑ کے آ گئے اور وہ چلا گیا۔ میں نے گرم سُوٹ پہنا ہوا تھا ۔ میرا کوٹ پر شانوں کے درمیان کٹ گیا لیکن مجھے گزند نہ پہنچی
دو دن بعد ہمارا خالی پیریڈ تھا ۔ ہم کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رنبیر کے دوست کیرتی کمار نے مسلمانوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ میرے منع کرنے پر کیرتی کمار نے کہا ”ہم تم مُسلوں کو ختم کر دیں گے“ اور مجھ پر پَل پڑا اور ہم گُتھَم گُتھا ہو گئے ۔ شور سُن کر ساتھ والے کمرے سے ٹیچر آ گئے تو کیرتی کمار نے مجھے چھوڑا