Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

سائنس اور سَينس

ايک “سائنس [Science]” ہوتی ہے اور ايک “سَينس [Sense]” ۔ سائنسدان [Scientist] سمجھ نہ آنے والی چيز کو “نان سَينس [Non-sense]” کہتا ہے اور جب وہی چيز اُسے سمجھ آ جائے تو کہتا ہے “اِٹ ميکس سَينس [It makes sense]”

جب ارشمِيدس [Archimedes] نہاتے ہوئے ننگا بھاگ نکلا اور بآوازِ بلند کہتا جا رہا تھا “پا ليا ۔ پا ليا [Got it, got it]”۔ اُس وقت لوگوں کيلئے وہ نان سَينس تھا مگر اُسے احساس نہ تھا کہ وہ کيا کر رہا ہے کيونکہ اُس کيلئے نان سَنس جو تھی وہ سائنس بن گئی تھی

ايک ايجاد [Invention] ہوتی ہے اور ايک دريافت [Discovery]۔ ايجاد وہ ہوتی ہے جو پہلے نہ تھی اور کسی نے نئے سرے سے بنا دی جبکہ دريافت وہ ہوتی ہے جو پہلے سے موجود تھی مگر معروف نہ تھی

انسان ازل سے ہی ہيرا پھيری کرتا آيا ہے ۔ سائنسدان خود ہی کہتے ہيں کہ مادہ نہ بنايا جا سکتا ہے اور نہ اسے فنا کيا جا سکتا ہے البتہ اسے ايک صورت سے دوسری صورت ميں تبديل کيا جا سکتا ہے [Matter can neither be created nor destroyed but it can change its form]۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مادہ ايک بار اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بنا ديا اور وہی اسے فنا کر سکتا ہے ليکن سائنسدان “ميں نہ مانوں” پر اَڑ جاتا ہے

خير چھوڑيئے مذہبی بات کو ۔ صرف سيکولر [Secular] بات جاری رکھتے ہيں ۔ اگر مادہ نہ بنايا جا سکتا ہے اور نہ فنا کيا جا سکتا ہے تو پھر ايجادات چہ معنی دارند ؟ جن کو ايجادات کہا جاتا ہے وہ دريافتيں ہی ہوئيں چنانچہ ثابت ہوا کہ انسان نے اپنی بے عِلمی پر پردہ ڈالنے کيلئے دريافت کو ايجاد کہنا شروع کيا

ارشميدس کی مثال ليجئے ۔ وہ ٹب ميں پانی بھر کر نہانے کيلئے اُس ميں گھُسا تو ٹب ميں سے کچھ پانی باہر بہہ گيا ۔ نہ تو وہ پہلی بار نہانے لگا تھا اور نہ وہ بغير ٹب کے نہاتا تھا کيونکہ اس زمانے ميں کميٹی کے نلکے نہيں تھے اور نہ اس کے گاؤں ميں کنواں اور رہٹ تھی کہ نيچے بيٹھ کر نہا ليتا جيسے ہمارے ملک ميں ديہات ميں لوگ نہاتے ہيں ۔ ثابت يہی ہوا کہ ارشميدس پہلے نان سَنس تھا کيونکہ اُس نے پہلے کبھی توجہ ہی نہ دی تھی کہ جب وہ نہانے کيلئے پانی کے ٹب ميں گھُستا تھا تو کچھ پانی ٹب سے باہر بہہ جاتا تھا يا کم از کم پانی کی سطح بُلند ہو جاتی تھی ۔ جب اُسے عِلم ہو گيا تو سائنسدان بن جانے کی خوشی ميں ننگا ہی بھاگ کر لوگوں کے سامنے نان سينس بنا

ميں نے بات طبيعات کی کی ہے کيميا کی نہيں ۔ کيميا کی بات کرتا تو ايووگيڈرو [Avogadro] کو بيچ ميں گھسيٹنا پڑتا اور ايووگيڈڈرو پادری تھا ۔ اس طرح پھر مذہب اور سيکيولرِزم کا دنگل پڑ جاتا

چوروں کے ديس کا قانون

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تابش گوہر نے کہا ہے کہ کراچی کے وہ علاقے جہاں بجلی کی چوری بہت کم اور بجلی کے بل بروقت ادا کئے جاتے ہیں ان کو جلدہی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کردیا جائے گا اور جن علاقوں میں بجلی کی بہت زیادہ اور مسلسل چوری اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی تک نہیں کی جاتی ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ساڑھے 4 گھنٹے سے بڑھاکر 6 گھنٹے کردیا جائے گا

تابش گوہر نے کہا کہ چوری کی جانچ کیلئے ہر فیڈر پر میٹر نصب ہیں، ان سے بجلی کی چوری کا پتہ لگایا جاتا ہے، جن فیڈرز پر 40 فیصد سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کے دورانئے میں اضافہ، جن فیڈرز سے 10 فیصد سے کم بجلی کی چوری کی جاتی ہے وہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کردیئے جائیں گے

جملہ معترضہ ۔ کہيں ايسا تو نہيں کہ تابش گوہر صاحب پنجابی ہيں اسلئے خواہ مخوا کراچی والوں کو بدنام کر رہے ہيں

بشکريہ ۔ جنگ

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کامیاب زندگی

ایک دن صبح سویرے ہی ذہن میں آیا کہ کامیاب زندگی کا راز کیا ہے ؟ سارا دن اس سوال نے پریشان کئے رکھا ۔ رات ہوئی بستر پر دراز ہوا مگر سوال نے نیند کو بھگا دیا ۔ آنکھیں پھاڑے اپنے کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔ کچھ دیر بعد کمرے کی ہر چیز بولتی محسوس ہوئی
چھت بولی ” ذاتیات کو چھوڑ اور میری طرح بلند ہو جا ”
پنکھا بولا “مزاج ہمیشہ ٹھنڈا رکھ”
گھڑی بولی “وقت کی قدر کو جان”
بلب بولا “اپنی روشنی سے اندھیروں کو دور کر”
کتاب بولی “مجھ سے دوستی پکی رکھ”
کیلنڈر نے کہا “ہر گذرتے دن سے سبق لے”
بٹوے نے کہا ” بُرے وقت کیلئے آج ہی بچا”
بستر نے کہا ” ہر نیا دن شروع کرنے سے پہلے مناسب آرام کر”
آئینے نے کہا ” کارگذاری کا مظہر بن”
دیوار نے کہا ” دوسروں کا بوجھ بانٹو”
کھڑکی نے کہا ” زاویہ نظر کشادہ رکھو”
دروازے نے کہا “راستہ پانے کیلئے زور لگاؤ”
فرش نے کہا ” انکساری اختیار کرو”

آمريت کا اُچھلنا يا جمہوريت کا بِدکنا ۔ عوام کا کچُومر

پبلک اکاؤنٹس کميٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن یاسمین رحمن کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ
2 سال کے دوران 30 کھرب [3000000000000] روپے کے قرضوں کا اضافہ ہوا
اور اب ملک پر قرضوں کا مجموعی حجم 90 کھرب [9000000000000] روپے ہو گیا ہے
90 کھرب کے قرضوں میں سے 45 کھرب روپے غیر ملکی جبکہ 45 کھرب روپے قومی قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں
3 کھرب کے اندرونی قرضے اتارنے کیلئے مزید قرضے لئے جاتے ہیں
حکومت فاٹا کے بجلی کے بلوں کا 10 ارب [10000000000] روپے قومی بجٹ سے ادا کررہی ہے
اسٹیل ملز میں 2 کھرب 25 کروڑ روپے کا خسارہ ہے

سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے مزيد بتايا کہ
بینظیر ٹریکٹر اسکیم پر 4 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی
توانائی شعبے کو 183 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے
سیلاب کی وجہ سے 2 کھرب 80 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کو کم کر کے 2 کھرب روپے کر دیا گیا ہے

جانچ پڑتال کے دوران وزارت خزانہ کے کھاتوں میں 14 کروڑ [140000000] روپے کے سِیکرٹ فنڈ کا انکشاف ہوا جو 10 نومبر 2007ء سے 17 دسمبر 2007ء کے 43 دنوں میں ایک خفیہ ایجنسی کو فراہم کئے گئے تھے

خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے اور دیگر ناکارہ اداروں کو 250 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو اس بھاری رقم کے ثمرات سے محروم رکھا جا رہا ہے
حامد یار ہراج نے کہا کہ حکومت کے تمام شعبے سبسڈی پر چل رہے ہیں جو اچھی گورننس نہیں ہے

پی اے سی کیلئے یہ بات بھی تشویش انگیز تھی کہ پوری حکومت سبسڈی پر چل رہی ہے اور سرکاری اداروں کو دی جانے والی سبسڈی کی مالیت دفاعی بجٹ کے برابر پہنچ چکی ہے

مکافاتِ عمل

آج پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آر او فیصلے پر عمل درآمدسے متعلق عدنان خواجہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید ضیاءکی جانب سے بطور قائم مقام چیئرمین کئے گئے اقدامات کا ریکارڈ اور عدنان خواجہ کے خلاف ریفرنس سے متعلق ریکارڈ طلب کیا

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جاوید ضیاء نے نیب چیئرمین کے آفس پر غیرقانونی قبضہ کیا ہوا ہے اور عدالت ان کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دے گی

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات کھولنے کیلئے ابھی تک خط کیوں نہیں لکھا گیا، وہ بدمزگی نہیں چاہتے اور روزانہ اصرارکرنا اچھانہیں لگتا، اس لئے اٹارنی جنرل اس معاملے پر اپنا کرداراداکریں ۔ عدالت نے سوئس کیسز بحالی کی سمری نہ بھیجنے پر وفاقی سیکرٹری قانون مسعود چشتی کو طلب کیاجنہوں نے پیش ہوکر مہلت کی درخواست کی ۔ عدالتِ عظمٰی نے 24 ستمبر تک مہلت دیدی ہے

سپریم کورٹ نے کمرہ عدالت میں موجود احتساب ریفرنس میں سزا یافتہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز اور عدنان خواجہ کو بھی فوری حراست میں لینے کا حکم دیا جس پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ دونوں تین دن میں ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کراسکتے ہیں

احوالِ قوم ۔ 2 ۔ نبی صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی تعليم

تم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
ميری حد سے رُتبہ نہ میرا بڑھانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انساں ہیں واں جس طرح سرفگندہ۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح ہوں میں بھی اک اس کا بندہ
بنانا نہ تُربت کو میری صنم تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کرنا مری قبر پر سر کو خَم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم۔ ۔ کہ بے چارگی میں برابر ہیں ہم تم
مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی

سکھائی انہیں نوعِ انساں پہ شفقت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہا ہے یہ اسلامیوں کی علامت
کہ ہمسایہ سے رکھتے ہیں وہ محبت۔ ۔ ۔ شب و روز پہنچاتے ہیں اس کو راحت
وہ جوحق سے اپنے لئے چاہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہر بشر کے لئے چاہتے ہیں
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کسی کے گر آفت گزر جائے سر پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر
کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر
ڈرایا تعصب سے ان کو یہ کہہ کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ زندہ رہا اور مرا جو اسی پر
ہوا وہ ہماری جماعت سے باہر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ساتھی ہمارا نہ ہم اس کے یاور
نہیں حق سے کچھ اس محبت کو بہرہ۔ ۔ کہ جو تم کو اندھا کرے اور بہرہ

بيچارہ بيٹا يا بيچارے داماد اور بہو

ميری بيوی کی والدہ اللہ جنت نصيب کرے ميری بڑی خالہ تھيں مگر ميری والدہ سے چھوٹی تھيں ۔ ميری اور ميری بيوی کے بھائی کی شادی دو دن کے وقفے سے ہوئی تھی ۔ شادی کے بعد ميں خالہ کے ہاں گيا ہوا تھا ۔ وہاں ايک خاتون مہمان آئيں اور شادی شدہ بيٹے بيٹی کا پوچھنے لگيں ۔ ميری خالہ نے ايک دلچسپ کہانی سنائی

دو لڑکياں اکٹھے تعليم حاصل کر رہی تھيں ۔ اُن ميں دوستی ہو گئی ۔ تعليم سے فارغ ہو کر اُن کی شادی ہو گئی ۔ اتفاق سے ايک کا خاوند کسی دوسرے شہر ميں کام کرتا تھا تو وہ وہاں چلی گئی ۔ جب اُس کا خاوند ريٹائر ہو گيا تو وہ اپنے شہر واپس آ گئے ۔ وہ اپنی پرانی سہيلی کو ملنے آئی

سہيلی نے پوچھا “تم نے اپنے بيٹے اور بيٹی دونوں کی شادی کر دی تھی ۔ بال بچے دار بھی ہو گئے ہيں سناؤ اپنے گھروں ميں خوش ہيں ؟”

وہ بولی ” ميرا داماد اچھا ہے ۔ دفتر سے آکر بچوں کو ساتھ لے جاتا ہے اور گھر کا سودا سلف لے آتا ہے ۔ گھر آ کر بچوں کو سنبھالتا ہے ۔ چھٹی والے دن گھر کی صفائی بھی کر ديتا ہے ۔ باورچی خانہ ميں بھی مدد کر ديتا ہے ۔ البتہ ميرا بيٹا بيچارہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ديکھو نا ۔ بيچارہ دفتر کا کام بھی تو کرتا ہے نا ۔ بہو اُسے کہتی ہے کہ ميرے لئے بچوں کو چھوڑ کے جانا مشکل ہوتا ہے اور پيدل ساتھ لے کر جانا بھی مشکل۔ دفتر سے واپسی پر سودا سلف لے آيا کرو ”

سہيلی نے پوچھا ” تو کيا گھر کا باقی کام بھی آپ کا بيٹا کرتا ہے ؟”
وہ بولی ” نہيں ۔ کام تو سارا بہو ہی کرتی ہے ۔ پر ديکھو نا”