پڑھيئے اور سوچئے

عزيز ہموطنوں
اللہ آپ کو سلامتی اور حق کی پہچان عطا فرمائے
آپا دھاپی چھوڑيئے اور ہوش سے کام ليجئے ۔ آج ہم سب کو جن آفتوں کا سامنا ہے يہ سب ہماری غلط سوچ اور بے عملی يا غلط عمل کا نتيجہ ہيں ۔ يہ وقت ہے اپنی دماغی اور عملی صلاحيّتوں کو بروئے کار لانے کا ۔ اپنے مصائب کا سدِ باب ہم نے خود ہی کرنا ہے ۔ ايئر کنڈيشنڈ کمروں ميں رہنے اور فائيو يا سِکس سٹار ہوٹلوں ميں کھانا کھانے والوں کو کيا معلوم کہ 80 سے 90 فيصد ہموطن جن کے ہاں بجلی گھنٹوں کے حساب سے غائب رہتی ہے اُن پر کيا گذرتی ہے

آنکھيں اور دماغ کی کھڑی کھول کر ديکھيئے کہ کيا واقعی وطنِ عزيز بجلی کی طلب [demand] کے مطابق پيداواری صلاحيت [Production Capacity] نہيں رکھتا

وطنِ عزيز ميں بجلی کی پيداوار کے 3 بڑے ذرائع ہيں
1 ۔ پن بجلی
2 ۔ تھرمل يعنی گيس يا بھاپ يا فرنس آئل سے
3 ۔ نيوکليئر

بجلی مہيا کرنے والے 4 بڑے ادارے ہيں ۔ واٹر اينڈ پاور ڈويلوپمنٹ اتھارٹی [WAPDA] ۔ کراچی اليکٹرک سپلائی کمپنی [KESC] ۔ پاکستان اٹامک انرجی کميشن [PAEC] اور انڈيپنڈنٹ پاور پروڈکشن پروجيکٹس [IPPs] ۔ ان اداروں کی نصب شدہ پيداواری صلاحيت [Installed Production Capacity] جون 2008ء ميں مندرجہ ذيل تھی

واپڈا پن بجلی

تربيلہ ۔ 3478 ميگا واٹ
وارسک ۔ 243 ميگا واٹ
درگئی ۔ 20 ميگا واٹ
منگلا ۔ 1000 ميگا واٹ
غازی بڑوتھا ۔ 1450 ميگا واٹ
چشمہ ۔ 184 ميگا واٹ
مونگ رسول ۔ 22 ميگا واٹ
شادی وال ۔ 18 ميگا واٹ
نندی پور ۔ 14 ميگا واٹ
کُرم گڑھی ۔ 4 ميگا واٹ
رينالہ ۔ 1 ميگا واٹ
چترال ۔ 1 ميگا واٹ
جگران آزاد جموں کشمير ۔ 30 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پن بجلی کی کُل پيداواری صلاحيت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6465 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

واپڈا تھرمل بجلی

گيس ٹربائن پاور سٹيشن شاہدرہ ۔ 59 ميگا واٹ
سٹيم ٹربائن پاور سٹيشن فيصل آباد ۔ 132 ميگا واٹ
گيس ٹربائن پاور سٹيشن فيصل آباد ۔ 244 ميگا واٹ
گيس ٹربائن پاور سٹيشن ملتان ۔ 195 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن مظفر گڑھ ۔ 1350 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن گُدُو ۔ 1655 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن کوٹری ۔ 174 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن جام شورو ۔ 850 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن لاڑکانہ ۔ 150 ميگا واٹ
گيس ٹربائن پاور سٹيشن کوئٹہ۔ 35 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن پسنی۔ 17 ميگا واٹ
گيس ٹربائن پاور سٹيشن پنج گڑھ ۔ 39 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کل تھرمل پاور پيداواری صلاحيت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4900 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
واپڈا کی کُل بجلی کی پيداواری صلاحيت ۔ ۔ 11365 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کراچی اليکٹرک سپلائی کمپنی

تھرمال پاور سٹيشن کورنگی ۔ 316 ميگا واٹ
گيس ٹربائن پاور سٹيشن کورنگی۔ 80 ميگا واٹ
گيس ٹربائن پاور سٹيشن سائٹ۔ 100 ميگا واٹ
تھرمال پاور سٹيشن بِن قاسم ۔ 1260 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کراچی اليکٹرک سپلائی کمپنی کی کُل بجلی کی پيداواری صلاحيت ۔ 1756 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان اٹامِک انرجی کميشن

کَينُوپ ۔ 137 ميگا واٹ
چَشنوپ ۔ 325 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نيوکليئر پاور کُل پيداواری صلاحيت ۔ 462 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آئی پی پيز

حب پاور پروجيکٹ ۔ 1292 ميگا واٹ
گُل احمد انرجی لميٹڈ کورنگی ۔ 136 ميگا واٹ
حبيب اللہ کوسٹل پاور لميٹڈ ۔ 140 ميگا واٹ
لبرٹی پاور لميٹڈ گوٹکی ۔ 232 ميگا واٹ
ٹپال انرجی لميٹڈ کراچی ۔ 126 ميگا واٹ
اينرگو انرجی لميٹڈ کراچی ۔ 217 ميگا واٹ
اے ای ايس لال پير لميٹڈ محمود کوٹ مظفر گڑھ ۔ 362 ميگا واٹ
اے ای ايس پاک جنريشن لميٹڈ ۔ محمود کوٹ مظفر گڑھ ۔ 365 ميگا واٹ
الترن انرجی لميٹڈ ۔ اٹک ۔ 29 ميگا واٹ
فوجی کبير والا پاور کمپنی خانيوال ۔ 157 ميگا واٹ
جاپان پاور جنريشن لاہور ۔ 120 ميگا واٹ
کوہِ کور انرجی لميٹڈ لاہور ۔ 131 ميگا واٹ
رؤش پاور خانيوال ۔ 412 ميگا واٹ
سبا پاور کمپنی شيخو پورہ ۔ 114 ميگا واٹ
سدرن اليکٹرک پاور کمپنی لميٹڈ رائے وِنڈ ۔ 135 ميگا واٹ
اٹک جنريشن لميٹڈ مورگاہ راولپنڈی ۔ 165 ميگا واٹ
اٹلس پاور شيخو پورہ ۔ 225 ميگا واٹ
کوٹ ادُو پاور لميٹڈ ۔ کوٹ ادُو [بينظير کے دور ميں بيچی گئی] ۔ 1638 ميگا واٹ
اُچ پاور لميٹڈ ڈيرا مُراد جمالی نصير آباد ۔ 586 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آئی پی پيز کی کُل پيداواری صلاحيت ۔ 6582 ميگا واٹ
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پانی کے بہاؤ ميں کمی بيشی کے ساتھ واپڈا کی پن بجلی کی پيداواری صلاحيت کم از کم 2414 ميگا واٹ اور زيادہ سے زيادہ 6465 ميگا واٹ ہوتی ہے يعنی ان دو حدود کے درميان اُوپر نيچے ہوتی رہتی ہے
اسطرح اگر پن بجلی کی کم سے کم پيداواری صلاحيت کو ہی گِنا جائے تو وطنِ عزيز ميں

بجلی کی کم از کم پيداواری صلاحيت 16339 ميگا واٹ ہے
اور جب درياؤں ميں مناسب پانی ہو تو 20165 ميگا واٹ ہوتی ہے

يہ ساری بجلی پيپکو حاصل کرتا ہے اور صارفين [consumers] کو مہيا [supply] کرتا ہے

پورے مُلک کی بجلی کی طلب جو 20 اپريل 2010ء کو ناپی گئی 14500 ميگا واٹ تھی
چنانچہ وطنِ عزيز ميں بجلی کی کم از کم پيداواری صلاحيت کُل موجودہ طلب يا کھپت سے 1839 ميگا واٹ زيادہ ہے
مگر پيپکو صرف 10000 ميگاواٹ بجلی مہيا کرتا ہے يعنی طلب سے 4500 ميگا واٹ کم

آخر ايسا کيوں ہے ؟

اس سے واضح ہوتا ہے کہ 8 سے 18 گھنٹے روزانہ کی بجلی کی بندش [load shedding] جو وطنِ عزيز ميں ہوتی آرہی ہے اس کا سبب پيداواری صلاحيت کا کم ہونا نہيں ہے جس کی بنياد پر مہنگے داموں رينٹل پاور سٹيشن لگائے جا رہے ہيں بلکہ آئی ايم ايف اور ورڈ بنک سے جو آنکھيں بند کر کے قرضے لئے جا رہے ہيں اُن کے ساتھ شرائط کے زيرِ اثر کم بجلی پيدا کی جا رہی ہے ۔ آئی ايم ايف اور ورڈ بنک کی شرائط ميں ايک کڑی شرط يہ ہے کہ خام تيل [crude oil] کی درآمد کم رکھی جائے

مزيد يہ کہ بجلی پيدا کرنے والی کمپنياں پی ايس او سے يہ کہہ کر فرنس آئل نہيں خريد رہيں کہ اُن کے پاس پيسے نہيں ہيں ۔ بجلی پيدا کرنے والی بڑی بڑی کمپنياں اپنی پيداواری صلاحيت کا صرف 40 فيصد بجلی پيدا کر رہی ہيں ۔ وجہ يہ کہ حکومت اُنہيں خريدی گئی بجلی کی ادائيگی نہيں کر رہی ۔ صورتِ حال يہ ہے کہ پنجاب کے سوا باقی تينوں صوبوں اور وفاقی حکومت کے ذمے اربوں روپے واجب الادا ہيں ۔ صرف سندھ ہی 22.8 ارب روپے ادا کرنے سے يہ کہہ کر انکاری ہے کہ يہ بجلی سندھ کی حکومت نے استعمال ہی نہيں کی ۔ ايک لحاظ سے وہ سچے ہيں کہ حکومت نے يہ بجلی استعمال نہيں کی مگر يہ بجلی سندھ ہی ميں چوری ہوئی ہے اور مزيد ہو رہی ہے ۔ حکومت سندھ بجلی کی چوری کا سدِباب نہيں کرتی ليکن اس کی قيمت ادا کرنے سے انکاری ہے ۔ صوبہ سرحد [خيبر پختونخواہ] اور بلوچستان کے ذمہ بھی بڑی بڑی رقميں واجب الادا ہيں چنانچہ پيپکو کے پاس بھی پيسہ نہيں ہے کہ آئی پی پيز کو ادائيگی کرے اور ضرورت کے مطابق فرنس آئل خريدے

متذکرہ بالا وجوہ کے نتيجہ ميں نہ صرف بجلی کی پيداوار کم ہو رہی ہے بلکہ وطنِ عزيز کی صنعت بھی تباہ ہو رہی ہے جس کے نتيجہ ميں مُلکی معيشت مزيد خسارے ميں جائے گی اور آئی ايم ايف اور ورڈ بنک سے مستقبل ميں مزيد قرضے لينا پڑيں گے ۔ اس طرح وطنِ عزيز کی معيشت مزيد برباد ہو گی اور مُلک ان قرضوں کے نيچے دب کر خدا نخواستہ ختم ہو جائے گا ۔ وفاقی حکومت کے مشير ماليات کے مطابق حکومت پر اس وقت 8160 ارب روپے قرض ہے ۔ اسے ہندسوں ميں لکھوں تو 8160000000000 روپے بنتا ہے

وفاقی حکمران اسلئے خاموش ہيں کہ وہ آئی ايم ايف اور ورڈ بنک کی برکتوں سے نوازے جا چکے ہيں اربوں روپيہ سالانہ حکمرانوں کی بود و باش اور عياشيوں پر خرچ کيا جا رہا ہے مگر ضروريات زندگی کا کوئی پُرسانِ حال نہيں

کيا ہموطن صرف سختياں سہتے اور آپس ميں دست و گريباں ہوتے رہيں گے اُس وقت تک کہ جب پانی سر سے گذر جائے گا اور سب ڈوب چکے ہوں گے ؟

اب جوش ميں آکر بسيں جلانے اور لوگوں کے گھروں اور گاڑيوں کے شيشے توڑنے کا وقت نہيں ہے بلکہ ان کی اور ان ميں موجود ہموطنوں کی زندگيوں کی حفاظت کيلئے کام کرنے کا وقت ہے

شايد کہ کسی کے دِل ميں اُتر جائے ميری بات

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

15 thoughts on “پڑھيئے اور سوچئے

  1. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » پڑھيئے اور سوچئے -- Topsy.com

  2. جاویداقبال

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    دراصل اس بجلی کی کمی ایک منصوبےکےتحت کم کی جارہی ہےکہ پاکستان میں پہلےبھی صعنتی طورپربہت زیادہ لاگت ہےاس کواورزیادہ کیاجائےجبکہ کالاباغ ڈیم کوپس پشت ڈالاگیاجوکہ پاکستان کی گرتی مشعیت کوسنبھال سکتاہےلیکن حکمران انتہائی بےشرمی سےاس کی مخالفت کررہےہیں۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم کرم کرے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  3. فارغ

    محنت سے کیا گیا تجزیہ ہے مگر وہ کیا کہتے ہیں کہ پرنالہ وہیں پر گرتا ہے ۔ آئل کی درآمد کم رکھنے کی شرط مالیاتی اداروں نے اس لئے لگائی کہ ملکی خزانے سے اس کی ادائگی کرنا حکومت کے لئے مشکل ہے۔ اس لئے مالیاتی اداروں کی سخت شرائط کی وجہ ہماری نااھلی ہی ہے۔
    آخر میں مجھے اس زہنیت کی سمجھ نہیں آتی کہ لے دے کر کچھ لوگوں کے زہن میں حل صرف کالا باغ ہی کیوں آتا ہے؟ اس چکر میں پہلے ہی 30 سال ضائع ہو چکے ہیں آخر اس کے علاوہ بھی تو حل ہیں جیسے بھاشا اور چھوٹے ڈیم۔

  4. وھاج احمد

    میری تو آنکھیں کھل گئیں
    کون اس اوںٹ کو سیدھی کروٹ بٹھائے گا
    اللہ اس ملک کےحکمرانوں کو سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فارغ صاحب
    بھاشا کونسا بنا ليا ہے ؟ کالا باغ ہو يا بھاشا بننا تو دريائے سندھ کے اوپر ہے ۔ تو اگر ميں يہ کہوں کہ کالاباغ کيوں نہيں اور بھاشا ميں کيا بہتر ہے تو آپ کے پاس اس کا کيا جواب ہے ؟

  6. محمّد نعمان

    السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ،

    جناب بھوپال صاحب آپکا تجزیہ بہت صحیح اور مختلف حضرات کے پہلے سے پیش کے گے تجزیوں کی تائید کرتا ہے .
    آپکو ایک مزے کی بات بتاؤں . جیسے کے آپ کو پتا ہے ہماری ELITE کلاس کے لئے یوروپ دوسرے گھر کی طرح ہے . ایک جرنل retd یہاں کے family دورےپے تھے ان سے ایسی ہی بات کی گئی خوب اعداد و شمار دیکھا کے . انکا جواب تھا یہ سب لغو، گھڑی ہوئی باتیں ہیں .
    آپ اور آپ جیسے ہی نجانے کتنے اصحاب ملک و قوم کے غم میں ایسے حالات بتا کر اسکا حل پیش کرتے ہیں
    اور صاحب اقتدار (جرنیل اور سیاستداں ) ان سب باتوں کو مانتے ہی نہیں ہیں . ان کے لئے سب ٹھیک ہے اور اس سے بہتر حکومت ہو ہی نہیں سکتی تھی .

    الله ہمیں اول درجے میں ایسے حکمران تو دے جو مسائل کو سمجھ سکیں اور سب ٹھیک ہے کی بانسری بجانا چھوڑ دیں.

    وسّلام

  7. محمداسد

    اعداد و شمار کو یکجا کرنا اور بڑے مسائل کے حل کی طرف توجہ دلانا واقعی قابل تعریف ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ہمارا خود غرض حکمران طبقہ ایسے کسی حل کی طرف توجہ نہیں کرتا جس میں خود ان کا کمیشن یا مفاد ہو۔ غرض یہ کہ بہت سے لوگ قومی مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں، لیکن ان کی راہ میں سینکڑوں رکاوٹیں بھی ہیں :-?

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد عثمان صاحب
    آپ کا تبصرہ پڑھتے پڑھتے مجھے کالج کے زمانہ ميں ديکھی ايک پنجابی فلم کا ايک سين ياد آ گيا ۔ گاؤں ميں ايک شخص تھا بے لوث ۔ وہ لوگوں کے جھگڑوں کے فيصلے کرتا تھا ۔ ايک بار مدعی اور مدعا عليہ دونوں اپنی بات پر اڑے رہے تو اس نے کہا “تم بناتے رہو اور تم گراتے رہو”۔ اس زمانہ ميں فلمی کہانيوں ميں بھی سبق ہوتا تھا ۔
    سو بات يہ ہے اگر کسی کام بگاڑنا ہے تو بگاڑتا رہے ۔ مجھے تو ہے حکمِ اذاں لا الہ الاللہ
    ميں اپنی کی سی کوشش جاری رکھوں گا ۔ اب تو ميں آزاد ہوں اور زندگی کی سات دہائياں گذار چکا ۔ ملازمت کے دوران بہت مشکلات کا سامنا رہا اسی عادت کی وجہ سے اور ملازمت سے ريٹائرمنٹ وقت سے سات سال قبل لے لی تھی کہ مزيد بک بک کا حوصلہ نہيں رہا تھا

  9. فارغ

    کمال ہے کہ آپ کو رکاوٹوں کا علم نہیں، صوبہ سندھ اور صوبہ سرحد کو اس پر بہت سارے اعتراضات ہیں اور یہ پہلے ہی ٹوٹے پھوٹے پاکستان میں مزید انتشار لائے گا

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فارغ صاحب
    يہ اعتراضات عقل اور حقيقت پر مبنی نہيں ہيں بلکہ ذاتيات پر ان کی بنياد ہے ۔ اور اسے صوبائی نعرہ بنا ديا گيا ہے اسلئے اب پچھے ہٹنے کا مطلب متعلقہ سياستدانوں کی بدنامی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کميشن کھانے کيلئے عبدالولی خان کے شور سے فائدہ اُٹھا کر تربيلا ڈيم بنايا تھا جس کی پاکستان انجنيئرنگ کانگرس نے سخت مخالفت کی تھی ۔ خيال رہے پاکستان انجيئرنگ کانگرس ميں بھاری تعداد کراچی والوں کی تھی ۔ عبدالولی خان کو يہ تکليف تھی کہ سندھ کا کچے کا علاقہ جو صوبہ سرحد ميں تھا وہاں عبدالولی خان کے خاندان کی اجاراداری تھی ۔ وہ علاقہ جھيل ميں چلا جاتا تو وہاں ان کے زيرِ اثر بسنے والے وہاں سے چلے جاتے يا خوشحال ہو جاتے تو عبدالولی خان کی سياست دم توڑ جاتی

  11. فرحان دانش

    انکل اس اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان میں بجلی کی پيداوار کم نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس کو زبردستی کم کیا جارہا ہے۔

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فرحان دانش صاحب
    يہی تو ميں نے بتانے کی کوشش کی ہے ۔ نصب شدہ پيداواری صلاحيت کی تمام معلومات پيپکو کی سرکاری ويب سائيٹ پر موجود ہيں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.