غور کیوں نہیں کرتے ؟

قرآن شریف کی تلاوت کارِ ثواب ہے لیکن قرآن شریف کا مقصد اِسے سمجھنا اور اِس کے مطابق عمل کرنا ہے ( سورت 39 الزُمَر ۔ آیت 9 ۔ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‌ؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ۔ (کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں) دین کی بات نہ بھی کریں تو عِلم والے کا مطلب رَٹا لگانے والا نہیں ہے بلکہ سمجھ کر اُس پر عمل کرنے والا ہے

اللہ نے انسان کو غور کرنے کا سبق بار بار دیا ہے کیونکہ غور کرنے سے ہی درست سمجھ آ سکتی ہے

سورت 6 الانعام ۔ آیت 50 میں یہ کہا ہے
ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ
بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟
مزید 9 جگہ کا تو میرے عِلم میں ہے
سُوۡرَةُ 2 البَقَرَة آية 219
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَۙ ۔ (اس طرح الله تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو)
سُوۡرَةُ 2 البَقَرَة آية 266
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَ ۔ (اس طرح الله تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو اور سمجھو)
سُوۡرَةُ 10 یُونس آية 3
اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۔ (بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟)
سُوۡرَةُ 11 هُود آية 24
اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۔ (پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟)
سُوۡرَةُ 11 هُود آية 30
اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۔ (بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟)
سُوۡرَةُ 16 النّحل آية 17
اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۔ (پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟)
سُوۡرَةُ 23 المؤمنون آية 85
قُلۡ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۔ (کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟)
سُوۡرَةُ 37 الصَّافات آية 155
اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ‌ۚ ۔ (بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟)
سُوۡرَةُ 45 الجَاثیَة آية 23
اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۔ (پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟)

ایک غیر مُسلم آئزک نِیوٹَن (1643ء ۔ 1727ء) جو مشہور ماہر طبیعات و ریاضی تھے اِن الفاظ میں غور کرنے کو اُجاگر کیا تھا
”ایک انگھوٹھے کی ایک پَور کا مطالعہ ہی یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ خدا ہے“۔

ہم سِینہ ٹھَونک کر مسلمان ہونے کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن اللہ کا فرمان (قرآن شریف) احترام کی خاطر ہم مخمل میں لپیٹ کر اُونچی جگہ پر رکھتے ہیں لیکن اُسے سمجھنے اور اُس پر غور و فکر کرنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا
حد تو یہ ہے کہ ہم دُنیاوی معاملات میں بھی صورتِ حال اور معاملہ کا مکمل جائزہ لئے بغیر فتوٰی صادر کر دیتے ہیں
اللہ ہمیں اپنے کلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

ہيرو ہو تو ايسا

مجھے مووی فلميں ديکھے آدھی صدی ہو گئی ہے اور اس سے پيشتر بھی سال ميں ايک يا دو بار ديکھتا تھا جو کوئی معلوماتی يا مزاحيہ [نرالا کی نہيں] ہوتی ۔ لوگ کہتے ہيں کہ ميں نے کچھ بھی نہيں ديکھا ۔ اُس زمانے میں ہالی وُڈ کا نام سُنا تھا لیکن اب سُنا ہے کہ بالی وُڈ اور لالی وُڈ کی فلميں بڑی زبردست اور ہيرو بے مثال ہوتے ہيں ۔ مجھے لالچ دلانے کيلئے کسی نے چند مناظر کی وِڈیوز بھيجيں جنہيں دیکھ کر سمجھ آئی کہ دنيا بہت ترقی کر گئی ہے ۔ ان فلموں کو ديکھنے کے بعد جو کچھ ہمارے مُلک ميں ہو رہا ہے وہ بھی کچھ کم لگتا ہے

1 ۔ ہيرو کو برين ٹيومر [brain tumor] ہو جاتا ہے ۔ ڈاکٹر لاعلاج قرار دے ديتا ہے ۔ موت يقينی ہے ۔ ايک دن ہيرو کا دشمن ہيرو پر گولی چلاتا ہے ۔ گولی ايک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جاتی ہے اور اپنے ساتھ ٹيومر کو بھی لے جاتی ہے

2 ۔ ہيرو کا اپنے دُشمن 3 بدمعاشوں سے سامنا ہو جاتا ہے ۔ ہيرو کے پاس چاقو اور بندوق ہے مگر گولی ايک ہی ہوتی ہے ۔ ہيرو درميان والے بدمعاش کی طرف چاقو پھينکتا ہے اور پھر اس کا نشانہ لے کر گولی چلاتا ہے ۔ گولی چاقو کو لگ کر دو ٹکڑے ہو جاتی ہے ايک داہنے والے کو لگتا ہے اور بائيں والے کو اور وہ ڈھير ہو جاتے ہيں درميان والے کو چاقو لگتا ہے اور وہ بھی ڈھير ہو جاتا ہے

3 ۔ ہيرو کے دشمن اور ہيرو کے درميان اتنی اُونچی ديوار ہے کہ ہيرو کسی طرح اُس کے اُوپر سے گذر نہيں سکتا ۔ ہيرو کے پاس دو پستول ہيں ۔ وہ ايک پستول ہوا ميں پوری قوت سے اُچھالتا ہے ۔ جب پستول ديوار کی اُونچائی سے اُوپر پہنچ جاتا ہے تو ہيرو دوسرے پستول سے اُس پستول کے گھوڑے (trigger) کو نشانہ بناتا ہے ۔ بلندی پر پستول چل جاتا ہے اور اُس ميں سے نکلنے والی گولی ديوار کے دوسری طرف ہيرو کے دُشمن کو ڈھير کر ديتی ہے

ان فلموں کے اداکار ہدائتکار اور فلمساز نامعلوم کونسی دنيا کے باشندے ہيں

باغِ دنیا

ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز
دیکھ لو اس کا تماشہ چند روز
لاکھ دارا اور سکندر ہو گئے
آج بولو وہ کہاں سب کھو گئے
آئی ہچکی موت کی اور سو گئے
ہر کسی کا ہے بسیرا چند روز
کل تلک رنگیں بہاریں تھیں جہاں
آج قبروں کے وہاں دیکھے نشاں
رنگ بدلے ہر گھڑی یہ آسماں
عیش و غم جو کچھ بھی دیکھا چند روز
کیا ملے گا دل کسی کا توڑ کے
لے دعا ٹوٹے دلوں کو جوڑ کے
جا مگر کچھ یاد اپنی چھوڑ کے
ہو تیرا دنیا میں چرچا چند روز
ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز
دیکھ لو اس کا تماشہ چند روز

عمل ۔ نہ کہ حسب نسب

نوح علیہ السلام کا بیٹا جہنم میں گیا
ابراھیم علیہ السلام کا والد جہنم میں گیا
لوط علیہ السلام کی بیوی جہنم میں گئی
اور
فرعونِ مصر کی بیوی جنت میں گئی

یہ مشاہدات اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہمیں اس لئے کرائے کہ ہم سمجھ جائیں کہ ہر آدمی کے کام صرف اُس کے اپنے اعمال آئیں گے نہ کہ کسی بخشے ہوئے اللہ کے نیک بندے سے تعلق یا نیک آدمی کی اولاد ہونا

جیسا میرا دماغ اُلٹ پَلَٹ ویسے میرے الفاظ اُلٹ پَلَٹ

پتھر سے نہیں مجھے پتھروں پر چلنے والے باہِمتوں سے عقیدت ہے
تصویروں سے نہیں مجھے تصویر میں نظر آنے والوں سے محبت ہے
جو ہستیاں چلی گئیں ۔ مجھے اب اُن کی یادوں سے بھی اُلفت ہے
جو راستے وہ دِکھا گئیں ۔ مجھے اُن راہوں پہ چلنے سے رَغبت ہے