سپریم کورٹ نے توہین آمیزخاکوں کے خلاف دائرآئینی درخواستوں پر وفاقی حکومت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اگر ان کے دائرہ اختیار میں ہے تو انٹرنیٹ پر موجود توہین آمیزخاکوں والی ویب سائٹس کوبلاک کر دیں۔فاضل عدالت نے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کو ہدایت کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے قانون کی وضاحت کے لئے فنی ماہرین سے رابطہ کرکے آگاہ کریں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کو کس طرح عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ سماعت کے بعد فاضل بنچ نے اٹارنی جنرل چیئرمین پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ یہ پوری امت مسلمہ کا معاملہ ہے ان درخواستوں پر کسی بھی قسم کا فنی اعتراض قبول نہیں کیا جائے گا۔ فاضل عدالت میں انٹرنیٹ پر توہین آمیزخاکوں کی ویب سائٹ کو بلاک کرنے کیلئے ڈاکٹر محمد عمران نے درخواست دائر کی تھی جبکہ دوسرے درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکتے ہیں۔آئینی درخواستوں میں وفاقی حکومت ۔ وزارتِ ٹیلی مواصلات ۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ۔ یاہوُ [یو ایس اے] ۔ آئی اینڈ آئی کو اور متعلقہ ویب سائٹس کو مدعا علیہ بنایا گیا ہے ۔
انتہاء پسند کون ؟
مغربی ملکوں میں آج کی دنیا کے تمام تر بُحرانوں کا ذمہ دار مسلمانوں کی بنیاد پرستی کو ٹھیرایا جا رہا ہے ۔ اِسرائیل کی اِنتہاء پسندی سے قطعِ نظر آجکل نام نہاد سَیکُولرزِم کے بُلند بانگ دعوے کرنے والے بھی تعصُب کی اِنتہا کو پہنچ چکے ہیں ۔ دوسری طرف اگر امریکہ میں عیسائیت کا بغور مطالع کیا جائے تو بنیادپرست عیسائیت ایک طاقتور اِنتہاء پسند تحریک نظر آتی ہے جو دنیا میں امن کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔ پچھلے چند سالوں سے امریکہ بتدریج ایک اِنتہاء پسند عیسائی ریاست بنتا جا رہا ہے اور اب تو امریکہ کے سیاسی معاملات کو بھی عیسائیت کی آنکھ سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ اِس ماحول نے بُنیادپرست عیسائیت اور اِنتہاء پسندی کو اُبھارا ہے اور ساری دنیا پر چھا جانے کی تحریک کو جنم دیا ہے ۔ امریکہ میں عیسائی بنیادپرستی اور اِنتہاء پسندی کا اِتنا غلبہ آج سے پہلے کبھی نہ تھا ۔نعیم الحق صاحب نے (انگریزی میں) صورتِ حال کا عمدہ تجزیہ کیا ہے ۔ خلاصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے اور اگر مکمل مضمون پڑھنا چاہیں تو یہاں کلک کیجئے
اِظہار خیال کی آزادی کا بھانڈا پھر پھُوٹ گیا ۔ لندن کے میئر کو سزا ۔
میں نے 11 فروری کو لکھا تھا “ایک برطانوی اخبار کا یہودی رپورٹر لندن کے میئر کے لتے لیتا تھا ۔ میئر نے ایک دفعہ اُسے کنسنٹریشن کیمپ گارڈ [concentration camp guard] کہہ دیا ۔ پھر کیا تھا یہودی برادری نے طوفان کھڑا کر دیا اور میئر کو اپنے الفاظ واپس لینے کو کہا ۔ برطانیہ کے وزیراعظم بھی یہودیوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور میئر کو معافی مانگنے کا کہا”ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لندن کے میئر کن لِوِنگسٹون نے معافی نہیں مانگی تو اُسے 4 ہفتے کے لئے معطل کر دیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ میئر سرکاری ملازم نہیں بلکہ عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے ۔ کن لِوِنگسٹون چونکہ کیس ہار گیا ہے اسلئے اُسے اپنے اخراجات بھی دینا پڑیں گے جو تقریباً 80000 پونڈ بنتے ہیں ۔
یہ کاروائی اُسی ٹونی بلیئر صاحب نے کی ہے جو توہین آمیز خاکوں کو جائز حق قرار دے چکے ہیں ۔
ایک شخص کی معمولی دِل آزاری کرنے والے کو اِتنی بڑی سزا اور جس نے ۱یک ارب بیس کروڑ مسلمانوں کے پیغمبر کی بلاوجہ اور ناجائز توہین کی وہ حق پر ہیں ۔ یہی ہیں فرنگیوں کے اسلوب
ہند و پاکستان سے تعلق رکھنے والوں سے اِلتماس
نہ تو کارواں کی تلاش ہے ۔ نہ تو راہگزر کی تلاش ہے
میرے عشقِ خانہ خراب کو اِک نامہ بَر کی تلاش ہےہند و پاکستان بالخصوص ہندوستان سے تعلق رکھنے والے صاحبِ عِلم آگے بڑھیں اور بکھَیر دیں پھُول اپنے عِلم کے اپنی معلومات کے ؟
1 ۔ قدیم زمانہ میں ہندوستان میں تین ایسے حکمران ہوئے جنہیں راجہ بھَوج کہا گیا ۔ اُن میں سے کِسی کا نام بھَوج نہیں تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ پہلا راجہ بھَوج رَسُول اللہ صلّی اللہُ علیہِ و اٰلِہِ و سلَّم کی پیدائش سے پہلے ہو گذرا تھا ۔ آخری راجہ بھَوج کا دورِ حکومت گیارہویں صدی عیسوی میں تھا ۔ اِس آخری راجہ بھَوج نے جنوبی ہندوستان کے ایک علاقہ میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے دو پہاڑوں کے درمیان ایک پال [ڈیم] بنوایا ۔ چنانچہ اُس علاقہ کا نام بھَوجپال پڑ گیا جس میں سے ج بعد میں حذف ہو گیا اور وہ علاقہ بھَوپال کے نام سے آج بھی موجود ہے ۔
سوال یہ ہے کہ بھَوج کا مطلب کیا ہے اور اُن تین حکمرانوں کو بھَوج کیوں کہا گیا ؟
2 ۔ موجودہ صورتِ حال مجھے معلوم نہیں ۔ ہند و پاک کی آزادی سے پہلے مَندروں میں بھَوجن دیا جاتا تھا یا بھَوجن بانٹا جاتا تھا ۔ البتہ آجکل بَھوجن عام کھانے کو کہا جا رہا ہے ۔ میری تحقیق کے مطابق بھَوجن اِسم مَفعُول ہے اور اِس کا اِسم فاعل بھَوج ہے ۔
سوال یہ ہے کہ لفظ بھَوجن کا مَنبع کیا ہے اور مَندر میں بانٹے جانے والے کھانے کو بھَوجن کیوں کہا گیا ؟
سب سے اِلتماس ہے کہ اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ لمحات نکال کر اِس حقیقت کو اُجاگر کرنے میں میری مدد فرمائیے ۔ میں آپ کا پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں اور تبصرہ کے بعد پھر آپ کا شکریہ ادا کروں گا ۔
کون اور کیوں ؟ ؟ ؟
14 فروری کو میں لاہور میں تھا ۔ مجھے ایک دوست کے گھر جانا تھا ۔ اُسے ٹیلیفون کیا تو اُس نے کہا “ٹیکسی پر مت آؤ ۔ میرا بیٹا کار میں لینے آ رہا ہے ۔ ہم 10 بجے صبح گُلبرگ 3 سے روانہ ہوئے اور چوہدری ظہور الٰہی روڈ ۔ کینال بینک ۔ فیروزپور روڈ اور اِچھرہ سے ہوتے رحمٰن پورہ پہنچے ۔ راستہ میں وزیرِ اعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کے گھر کے سامنے کوئی درجن جیپوں اور ایک ٹرک میں سوار اسلحہ بردار پولیس دیکھی ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وزیرِ اعلٰی اُس وقت دفتر جا چکے تھے اور دفتر پر اس سے زیادہ پولیس معمور تھی ۔ دوست کا بڑا بیٹا جو ملتان روڈ پر اپنی دُکان کے پیچھے تعمیراتی کام کروا رہا تھا دوپہر کا کھانا کھانے گھر آیا اور بتایا “لاہور میں مکمل ہڑتال ہے”۔ گڑبڑ کا پوچھا تو کہا ” راستہ میں دو ٹائر جلتے دیکھے ہیں اور کوئی گڑبڑ نہیں تھی ۔ پرائیویٹ گاڑیاں بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی تھیں”۔ 3 بجے بعد دوپہر دوست کی کار میں واپس گُلبرگ پہنچا ۔ راستہ میں کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس سے کسی گڑبڑ کا شُبہ ہو ۔میرے بہنوئی نے بتایا کہ اُنہیں کسی نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ کچھ جوانوں نے جن کی تعداد سو ڈیڑھ سو کے درمیان ہے مال پر توڑ پھوڑ شروع کر دی ہے جبکہ جلوس کا ابھی کچھ پتہ نہیں ۔ پی ٹی وی لگایا تو کوئی خبر نہ تھی ۔ اے آر وائی ٹی وی لگایا تو کچھ جوان ایک کار توڑتے دیکھے ۔ اے آر وائی کے مطابق سو ڈیڑھ سو جوان 2 بجے بعد دوپہر اچانک مال روڈ پر نمودار ہوئے اور توڑپھوڑ شروع کر دی ۔ ان کے پاس کوئی جھنڈا یا پلے کارڈ نہ تھا اور نہ وہ کارٹونوں کے خلاف کوئی نعرہ لگا رہے تھے ۔ اصل جلوس پونے تین بجے مال پر آیا ۔ اُس وقت کچھ گاڑیوں کو آگ لگی ہوئی تھی ۔ اس کے بعد اے آر وائی سب کچھ دِکھاتا رہا ۔ رپورٹرز کا کہنا تھا کہ توڑپھوڑ اور جلانے کے اس عمل میں پولیس نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔ یہ حقیقت براہِ راست دِکھائے جانے والے مناظر سے بھی واضح تھی ۔
کچھ منظر اے آر وائی والے باربار دِکھا رہے تھے ۔ ان میں سے دو منظر میرے لئے ابھی تک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں ۔
[1] اِس منظر میں ایک جوان کے ہاتھ میں ایک تین چار اِنچ چوڑا اور 2 فٹ لمبا کالے رنگ کا لوہے یا لکڑی کا ٹکڑا ہے اور وہ اِس کی ساتھ اسمبلی ہال کے گِرد 4 فٹ اُونچے ستونوں پر لگے ہوئے شیشے کے گلوب بڑے اِطمنان سے توڑتا جا رہا ہے اور کوئی اُسے روکنے والا نہیں ۔
[2] دوسرے منظر میں چار پانچ موٹر سائیکل نیچے اُوپر گرے پڑے ہیں ۔ نیچے والے دو تین موٹرسائیکلوں کے درمیان والے حصے سے چھوٹے چھوٹے شعلے اُٹھ رہے ہیں ۔ ایک پولیس والا سب سے اُوپر والے موٹر سائیکل کو اُٹھا کر دیکھتا ہے ۔ صاف نظر آتا ہے کہ اسے آگ نہیں لگی ہوئی ۔ پولیس والا اسے گھسیٹ کر جلتے ہوئے موٹرسائیکل کے اُوپر کر دیتا ہے ۔
توڑپھوڑ اور آگ لگانے کا سلسہ بعد دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک بلا روک ٹوک جاری رہا ۔ پولیس کی نفری بہت کم تھی اور جو تھی وہ زیادہ تر تماشائی بنی ہوئی تھی ۔ اِس سے مندرجہ ذیل سوال اُبھرتے ہیں :
[1] متذکّرہ جوان کون تھے ؟
[2] محرّم کے جلوس میں بم دھماکہ کے پیشِ نظر جلوس کے شُرکاء اور سرکاری اور نجّی املاک کی حفاظت کا بندوبست کیوں نہیں کیا گیا ؟
[3] پولیس کی اِتنی کم نفری [200 سے کم] کیوں لگائی گئی ؟ جبکہ چند دن قبل مَیراتھان کے وقت دوڑنے والوں کے تمام راستہ کو جس میں مال بھی شامل تھی پولیس نے گھیرے میں لئے رکھا تھا ۔ مال کے تو کوئی انسان قریب بھی نہیں آ سکتا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ مَیراتھان کی حفاظت کے لئے 2500 پولیس والوں کو معمور کیا گیا تھا
[4] مال پر 4 گھینٹے مکمل لاقانونیت رہی ۔ توڑپھوڑ اور آگ لگانے سے روکنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی اور اِس کے لئے فوری طور پر مزید پولیس کیوں نہ بلائی گئی ؟
قصّہ میری گُمشُدگی کا
میں آٹھ نو دِن بلاگ سے غیرحاضر رہا ۔ کچھ حضرات کو میری صحت بارے فکر ہوئی اور اُنہوں نے میری خیریت دریافت کی ۔ ان میں سب سے پہلے دُبئی والے شعیب صاحب نے تشویش کا اِظہار کیا ۔ میں اِن حضرات کا تہہ دل سے ممنون ہوں اور اللہ کا بھی شکرگذار ہوں جس نے مجھے یہ بے لوث چاہنے والے بخشے ۔ اس دوران مجھے 16 سے 19 فروری تک ایک پینٹیم 2 کمپیوٹر کی مرافقت حاصل ہو سکی جس پر آدھی ونڈوز ایکس پی نصب تھی چنانچہ میں صرف انگریزی کی ای میل پڑھ کے جواب دے سکا ۔ اپنے بلاگ پر قارئین کے تبصرے میں نے بغیر پڑھے شائع کئے مگر ان کے جواب نہیں لکھ سکتا تھا ۔12 فروری کو میری بیوی کے بڑے بھائی [میرے خالہ زاد] کے بیٹے کی منگنی تھی ۔ 12 آدمیوں نے جانا تھا ۔ ایک وین کرایہ پر لی گئی ۔ ہم لوگ صبح 7 بجے روانہ ہوئے اور گُوجرانوالہ کے راستے 12 بجے دوپہر سیالکوٹ پہنچے ۔ لڑکے کے ماموں کے گھر جا کر تازہ دم ہوئے اور ایک بجے لڑکی والوں کے گھر پہنچے ۔ کچھ دیر سستانے کے بعد کوٹھی کے پائیں باغ میں سب نے باجماعت نمازِ ظُہر ادا کی پھر کھانا کھایا جس کے بعد رسم ہوئی ۔ میں اور میرے دو ہم زُلف خواتین والے کمرہ میں نہیں گئے اسلئے معلوم نہیں کہ رسم میں کیا ہوا ۔ لاہور سے میری بیوی کی بہن اور بہنوئی بھی آئے ہوئے تھے ۔ لاہور میں 18 فروری کو میری بیوی کے چھوٹے بھائی کی بیٹی کی شادی تھی چنانچہ ہم واپس اسلام آباد آنے کی بجائے 4 بجے بعد دوپہر اُن کے ساتھ لاہور چلے ۔ راستہ میں گوجرانوالہ میں اُن کی بیٹی کے ہاں قیام کیا اور لاہور ڈیفنس میں اُن کے گھر رات 10 بجے پہنچے ۔
13 فروری کو ہم نے ہونے والی دُلہن اور اُس کے گھر والوں سے کینال ویو جا کر ملاقات کی ۔ وہ لوگ برطانیہ سے آئے ہوئے ہیں اور ہونے والی دُلہن کی خالہ کے گھر ٹھیرے ہوئے ہیں ۔ دوپہر کا کھانا اُن کے ساتھ کھایا پھر گُلبرگ گئے اور میرے بیوی کی بھانجی کے گھر چائے پی پھر رات تک میری بیوی اور اُس کی بہن نے ہونے والی دُلہن اور دولہا کے لئے تحائف خریدے ۔ اس کے بعد ہمیں گُلبرگ میں میری بڑی بہن کے گھر اُتار کر وہ ڈیفنس میں اپنے گھر چلے گئے ۔
14 فروری کی صبح میرے ایک انجنیئرنگ کالج کے ہم جماعت اور دوست کا بیٹا آ کر اپنے گھر رحمٰن پورہ اِچھرہ لے گیا ۔ دوپہر کا کھانا اپنے دوست کے ساتھ کھا کر واپس ہوا ۔ رات کو میرے ایک دوست جو مغل پورہ کے قریب رہتے ہیں نے مدعو کیا ہوا تھا مگر شہر میں توڑپھوڑ اور آگ کا کھیل شروع ہو جانے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا ۔ چنانچہ بہن کے گھر اے آر وائی ٹی وی سے صورتِ حال دیکھتے رہے ۔
15 فروری کی صبح میرے دوست آ کر مغلپورہ لے گئے ۔ دوپہر کا کھانا ہوٹل میں کھلا کے واپس چھوڑ گئے ۔
16 فروری کی صبح ہم پھر ڈیفنس میں میری بیوی کی بہن کے گھر چلے گئے ۔ ہونے والے دولہا کے گھر والے گُلبرگ میں دولہا کی دادی کے بھائی کے گھر ٹھیرے ہوئے تھے جو کہ میرے پھوپھی زاد اور میری بیوی کے چچازاد ہیں ۔ بعد دوپہر دولہا کو ملنے گئے ۔ رات کو دُلہن کے والدین نے کینال ویو میں مدعو کیا ہوا تھا سو وہاں مغرب سے پہلے پہنچ گئے ۔
17 فروری کی رات کو مہندی کے نام سے دُلہن کے والدین کی طرف سے اُن کے اپنے اور دولہا کے مہمانوں کو گُلبرگ کے شادمانی ویڈنگ ہال میں مدعو کیا گیا تھا ۔ وہاں دو ڈھول والے آئے ہوئے تھے جو ہال میں داخل ہو کر پورے شدّومد کے ساتھ ڈھول بجانے لگے ۔ مجھے یوں لگا کہ کانوں کے پردے پھَٹ جائیں گے ۔ میں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس دیں تو محسوس ہوا کہ میری پسلیاں تھرک رہی ہیں اور دل پھٹنے کو ہے ۔ میں فوراً ہال سے باہر نکل کر دور جا کھڑا ہوا اور ڈھول بجنا بند ہونے پر 40 منٹ بعد واپس آیا ۔
18 فروری کو شادی گُلبرگ کے قصرِ نُور ویڈنگ ہال میں ہوئی ۔ بارات کا وقت 9 بجے رات کا تھا ۔ لڑکی والے 8 بجے پہنچ گئے ۔ بارات 10 بجے آئی ۔ وہاں بھی ڈھول والے موجود تھے لیکن اُن کو ہال میں گھُسنے نہ دیا گیا ۔
19 فروری کو ولیمہ پھر شادمانی ویڈنگ ہال میں تھا ۔ 16 سے 19 فروری تک ہم لوگ رات کو سونے کی بجائے اگلے دن کی فجر کی نماز پڑھ کر سوتے رہے ۔ 20 فروری کو ساڑھے دس بجے صبح ڈیفنس لاہور سے روانہ ہو کر 4 بجے بعد دوپہر ایف ۔ 8 اسلام آباد اپنے گھر پہنچے ۔
تازہ ترین ثبوت
ملاحظہ ہو تازہ ترین ثبوت اِس بات کا کہ آزادء اِظہارِ خیال صرف اِسلام دُشمنی کیلئے جائز ہے ۔
“ڈنمارک کے اخبارا یالند پوستن کے کلچرایڈیٹر فلیمنگ روز کو ان کے اس اعلان کے بعد کہ وہ ایران کی طرف سے یورپ میں یہودیوں کی نسل کُشی کے کارٹون بھی چھاپ دیں گے اخبار کی انتظامیہ کی طرف سے چھٹیوں پر جانے کا حکم ملا”۔ بی بی سی