اللہ حافظ يا خُدا حافظ ؟

ميرے بيٹے زَکَرِيَّا نے لکھا “پاکستان میں عام طور سے اللہ کے لئے خدا کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ مگر کچھ سالوں سے ایک مہم چلی ہوئی ہے کہ خدا کو اردو زبان سے نکال دیا جائے۔ کچھ مسلمان چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کا لفظ استعمال کریں اور انگریزی میں گاڈ اور اردو میں خدا کہنا چھوڑ دیں۔ ادھر آپ کے منہ سے “خدا حافظ” نکلا نہیں اور ادھر یہ حضرات آپ پر حملہ‌آور ہوئے کہ “اللہ حافظ کہا کرو۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ خدا فارسی کا لفظ ہے اور اللہ عربی کا۔ پھر اللہ قرآن میں استعمال ہوا ہے”۔

زَکَرِيَّا نے آخر ميں پوچھا ہے “یہ فرق پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے جب اسلام کے اصولوں کے تحت ایک ہی خدا ہے۔ کیا اس سے فرق پڑتا ہے کہ ہم اسے اللہ کہیں یا خدا یا God ؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ ”

چونکہ يہ صلاحِ عام کا معاملہ ہے اس لئے ميں نے اِس کی وضاحت ضروری سمجھی ۔ قارئين سے درخواست ہے کہ اگر اس سلسلہ ميں مزيد مُستند معلومات رکھتے ہوں تو مجھے مُستفيد فرمائيں ۔ شکريہ پيشگی ۔

ہمارے مُلک ميں آج سے 34 سال قبل تک سکولوں اور کالجوں ميں امتحان ميں نمبر لينے کے علاوہ طُلباء اور طالبات کو معلوماتِ عامہ اور تاريخی حقائق سے بھی روشناس کرايا جاتا تھا ۔ معلوماتِ عامہ کے امتحان بھی ہوا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ فرسٹ ايڈ ۔ رضاکارانہ خدمت اور ہوائی حملہ سے بچاؤ کی تربيت دی جاتی تھی ۔ طلباء اور طالبات کو اساتذہ ہدايت کرتے تھے کہ وھ نصابی کُتب کے علاوہ ہم نصابی اور غير نصابی عُمدہ کُتب کا مطالعہ بھی کيا کريں ۔ 1972 عيسوی ميں تعليمی اصلاحات کے نام پر تعليم کا ستيا ناس شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ۔ ترقی کے نام پر جائزوناجائز مُختصر راستے [short cut] نکال لئے گئے ۔ اب لوگ ڈِگريوں کے حامل تو بن جاتے ہيں مگر تعليم يافتہ نہيں ہو پاتے سوائے اُن چند کے جنہيں خود علم حاصل کرنے کا شوق ہو ۔ فی زمانہ ناول اور ديگر فرضی کہانياں تو بہت پڑھی جاتی ہيں مگر اور تو کُجا نصابی کُتب کو بھی مکمل طور پر پڑھنے کی بجائے Notes پڑھ لئے جاتے ہيں ۔ البتہ بوجوہ يا بلاوجہ تنقيد کا عام رواج ہے ۔ مگر حال ” خود مياں فصيحت دِيگراں را نصيحت” والا ہے ۔

اللہ کو کسی اچھے نام سے پکارنے سے منع کرنا غَلَط ہے ۔اِس سلسلہ ميں ايک واقعہ ۔ حضرت موسٰی عليہ السّلام چلے جا رہے تھے کہ اُنہوں نے سُنا ايک گڈريا کہہ رہا تھا ” ميرے پيارے اللہ اگر تو ميرے پاس آئے ۔ ميں اپنی بکری کے دودھ سے تمہارا سر دھوؤں ۔ تمہارے سر سے جوئيں نکالوں اور تمہارے بالوں ميں کنگھی کرکے مِينڈِياں بناؤں”۔ اُس اَن پڑھ گُڈريئے کيلئے سب سے اچھی بات يہی تھی ۔ حضرت موسٰی عليہ السّلام نے اُسے ناراض ہو کر منع کيا اس پر اللہ تعالٰی کیطرف سے وحی نازل ہوئی “نہ منع کر ميرے بندے کو ۔ وہ جس طرح مجھے پُکارتا ہے پُکارنے دے” ۔ سُبْحَانَ اللہ ۔

اب آتے ہيں لفظ “خُدا” کے ماخذ اور استعمال کی طرف ۔ خُدا کا مطلب آقا يا حاکم ہے ۔ اِس سے مِلتا جُلتا عربی زبان کا لفظ “مولا” ہے ۔ ايک دلچسپ واقعہ ۔ ميں اور ايک پاکستانی ساتھی طرابلس[ليبيا] کے ايک بازار ميں جارہے تھے ۔ ايک لِيبی ايک دُکان کے سامنے کھڑا بلند آواز ميں کہہ رہا تھا ” اَينَ مَولا ؟ اَينَ مَولا ؟” ميرا ساتھی استغفار پڑھنے لگ گيا ۔ ميرے پوچھنے پر کہا ” کتنا بدتميز ہے ۔ کہہ رہا ہے اللہ کہاں ہے ؟ ” دراصل وہ لِيبی کہہ رہا تھا کہ دُکان کا مالک کہاں ہے ؟

لفظ ” اِلَہ” اور اللہ قديم زمانہ سے ہيں اللہ اور اِلَہ اٰلِ ابراہيم ميں استعمال ہوتے آئے ۔ عربی زبان ميں بھی آئے اور قرآن شريف ميں لکھے گئے ۔ اِلَہ کے معنی معبود کے ہيں يعنی جس کی عبادت کی جائے ۔ اللہ اِس کی تخصيص ہے يعنی صرف ايک معبود ۔ چنانچہ اللہ صرف مالک و خالقِ حقيقی کيلئے استعمال ہوتا ہے جو ايک اور يکتا ہے ۔ اُردو سے پہلے ہندوستان ميں فارسی رائج تھی ۔ لفظ خُدا فارسی کا نہيں بلکہ قديم يونانی زبان کا لفظ ہے جو فارسی اور پھر اُردو میں مُستعمل ہوا ۔ اُردو نئی زبان تھی جو تُرکی ۔ فارسی ۔ عربی ۔ سنسکرت اور گورمُکھی کا آميزہ تھی ۔ ميں اِس وقت کوئی دستاويزی ثبوت مہيّا نہيں کر سکتا مگر ميں نے يہ سب کچھ مُستند کُتب ميں پڑھا ہوا ہے ۔ خُدا يا god دوسرے بھی ہو سکتے ہيں ۔ انگريزی ميں تو اللہ کيلئے capital G لکھ کر اللہ کيلئے God اور اُن کے دوسرے خُداؤں کيلئے god لکھ کر ان ميں فرق پيدا کر ديا گيا ليکن اُردو ميں ايسا نہيں ہے ۔

پاکستان بننے سے پہلے ہی لفظ خُدا کے کئی اور استعمال شروع ہو چکے تھے مثلاً مجازی خُدا ۔ ناخُدا ۔ کتخُدا ۔ ايک ضرب المِثل “لکھے مُو سا پڑھے خود آ ” مطلب يہ کہ بالوں کے گُچھے يعنی کاڑا باڑا لکھے تو پھر لکھنے والا خود ہی آ کر پڑھے ۔ کو بنا ديا گيا “لکھے موسٰی پڑھے خُدا “۔ پاکستان بننے کے بعد سنسکرت اور گورمُکھی کے الفاظ کی جگہ عربی کے الفاظ کو فروغ حاصل ہوا ۔ يہ کوئی سوچی سمجھی تبديلی نہ تھی بلکہ غير محسوس طور پر ہوتی چلی گئی ۔ لفظ خُدا کی نسبت اللہ کا استعمال بھی زيادہ ہوا مگر لفظ خُدا بولا جاتا رہا ۔ ايک وقت آيا کہ اپنے آپ کو ترقی پسند کہنے والوں نے لفظ خُدا کا غَلَط استعمال شروع کيا اور انتہائی لَغو شاعری بھی کی گئی ۔ [ميں زيادہ لکھ کر اپنا دماغ پراگندہ نہيں کرنا چاہتا] ۔ اُن دنوں اللہ لکھنے کی تحريک اُٹھی اور کافی حد تک لوگوں نے اُسے قبول کيا ۔ ميں بچپن سے ہی “خُداحافظ” کے علاوہ زيادہ تر اللہ کہتا تھا ۔ جب پرويز مشرف کا دور شروع ہوا اور ہر طرف دين بيزار اور شُترِ بے مہار ثقافت کا دور دورہ شروع ہوا تو مُجھے گذشتہ ترقی پسند دور کی ياد آئی اور ميں نے خُدا حافظ کی جگہ بھی اللہ حافظ کہنا شروع کر ديا ۔

عربی زبان سے مسلمانوں کا لگاؤ عين فطری ہے ۔ پھر ايک زمانہ تھا آج سے 50 تا 70 سال قبل جب بہترين انگريزی ناولوں ميں عربی کے کئی الفاظ استعمال کئے گئے مثلاً اھلاً و سہلاً ۔ مرحبا ۔ معليش ۔ کتر خيرک وغيرہ ۔ عربی زبان کے لفظ دوسری زبانوں ميں بھی ہيں مثلاً تُرکی ۔ جرمن ۔ ہسپانوی ۔

يہ بات غور طلب ہے کہ اللہ سُبْحَانُہَ و تعالٰی نے فرمايا ہے کہ مجھے ميرے اچھے ناموں سے ياد کرو ۔ اللہ تعالٰی کے نام قرآن شريف ميں مرقوم ہيں ليکن لفظ “خُدا” قرآن شريف ميں مرقوم نہيں ہے حالانکہ قرآن شريف ميں کئی ايسے الفاظ ہيں جو عربی زبان کے نہيں ہيں ۔ اِس کی وجہ شائد اُن کا عام فہم ہونا ہی ہے ۔ ويسے بھی ديکھا جائے تو جو بات قرآن شريف ميں مرقوم ہے وہ افضل ہے ۔ اس لئے اللہ حافظ کہنا افضل ہے خُدا حافظ کہنے سے ۔ ليکن خُدا حافظ کہنا معيوب يا قابلِ مذمّت بالکل نہيں ۔

وما علينا الالبلاغ ۔ اللہ سُبْحَانُہَ و تعالٰی ہميں دين اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفيق عطا فرمائے ۔ آمين ۔

پہلی سالگرہ

آج اللہ کے فضل و کرم سے میرے بلاگ ” میں کیا ہوں – What Am I ” کو شروع کئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے ۔ میرے اس بلاگ پر پر عام قارئین کی دلچسپی کے لئے شائد زیادہ مواد نہیں ہوتا ۔ اسی وجہ سے اس کے قارئین کی اس وقت کُل تعداد صرف 8102 ہے جو کہ اوسطاً فی یوم 22 سے زيادہ بنتی ہے ۔ جن لوگوں نے لمحہ بھر کے لئے اسے دیکھا ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔ اِن اعداد و شُمار ميں اشتہار اور سپَيم وغيرہ شامل نہيں ہيں ۔ کيونکہ اُنہيں ميں نے اللہ کے فضل سے بلاک کيا ہوا ہے ۔آجکل ایک سے ایک عمدہ بلاگ موجود ہے لیکن اللہ کی مہربانی سے ابھی تک کوئی دوسرا بلاگ اس طرح مختلف مگر سنجیدہ موضوعات کا احاطہ نہیں کرتا ۔ سچ پوچھیے تو اس بلاگ کی زندگی اور اسکی ترقی قارئین کی رائے کی مرہونِ منّت ہے جنہوں نے وقتاً فوقتاً مُختلف قسم کی آرا دے کر مجھے اپنے دماغ کو کُریدنے اور زيادہ محنت کرنے پر مجبور کیا اور موضوع سے موضوع نکلتا چلا گیا ۔ میری دعا ہے کہ اللہ سُبْحَانُہُ وَ تَعَالٰی تمام قارئین کو صحت و تندرستی اور ہمت عطا فرمائے آمین اور وہ اپنی مفید آرا سے مجھے مُستفید فرماتے رہیں ۔ اللہ سُبْحَانُہُ وَ تَعَالٰی موجودہ قارئین کے دوست و سہیلیوں [نئے قارئین] کو بھی صحت و تندرستی اور ہمت عطا فرمائے آمین اور اُن سے درخواست ہے کہ وہ بھی اپنی مفید آرا سے مجھے مُستفید فرمائیں ۔

سال 2005کی بنياد پر ناکام رياستيں

دی فنڈ فار پيس [The Fund for Peace ] ايک نامور ادارہ ہے جو معلومات اکٹھا کرنے اور اُس کی چھانٹ پھٹک کر کے کارآمد علم حاصل کرنے کا چار دہائيوں سے زائد سالوں کا تجربہ رکھتا ہے نے دنيا کے ممالک کی کارکردگی کے متعلق اپنی دوسری رپورٹ شائع کی ہے ۔ طريقہءِ کار يہ ہے کہ مئی سے دسمبر 2005 تک کے لاکھوں مضامين بين الاقوامی اور مقامی ذرائع سے تھامسن ڈائيلاگ [Thomson DIALOG ] کے استعمال سے حاصل کئے گئے پھر کاسٹ سافٹ ويئر [CAST software] کی مدد سے ان ضخيم دستاويزات کا ابتدائی تجزيہ کيا گيا جس پر ماہرين نے نظرِثانی کی اور نتيجہ ترتيب ديا ۔

۔
مندرجہ ذيل 12 منفی عامِل [Operator] بطور علامت [Index] مقرر کئے گئے ۔ پاکستان کے ان ميںحاصل کردہ نمبر ہر ايک کے سامنے لکھے ہيں

1- Mounting Demographic Pressures – 9.3 Rank 5

2 – Massive Movement of Refugees and IDPs – 9.3 Rank 4

3 – Legacy of Vengeance – Seeking Group Grievance – 8.6 Rank 14

4 – Chronic and Sustained Human Flight – 8.1 Rank 12

5 – Uneven Economic Development along Group Lines – 8.9 Rank 11

6 – Sharp and/or Severe Economic Decline – 7.0 Rank 24

7 – Criminalization or Delegitimization of the State – 8.5 Rank

8 – Progressive Deterioration of Public Services – 7.5 Rank 21

9 – Widespread Violation of Human Rights – 8.5 Rank 13

10 – Security Apparatus as “State within a State” – 9.1 Rank 11

11 – Rise of Factionalized Elites – 9.1 Rank 9

12 – Intervention of Other States or External Actors – 9.2 Rank 9

ہر ايک عامِل کے 10 نمبر مقرر کئے ۔ اس طرح کُل نمبر 120 بنے ۔ سب سے زيادہ نمبر حاصل کرنے والے مُلک کا نام سب سے اُوپر لکھا گيا اس کے بعد بتدريج کم نمبر لينے والے مُلکوں کے نام لکھے گئے ۔ 90 يا زيادہ نمبر لينے والا مُلک ناکام رياست گردانا گيا ۔ اس طرح 2005 کی کارکردگی کی بنياد پر 28 مُلک “ناکام رياستيں” قرار ديئے گئے ۔ نيچے ان ممالک کے نام مع حاصل کردہ نمبروں کے درج ہيں سب سے زيادہ ناکام رياست سوڈان کو اور سب سے کم ناکام رياست کرغزستان قرار ديا گيا ۔ پاکستان نويں نمبر پر ہے ۔ تفصيلات کے لئے عنوان پر کلِک کيجئے ۔

Rank ۔ Country – – – – – – – – – – – – – Marks

1 – – – – Sudan – – – – – – – – – – – – – – 112.3

2 – – – – Democratic Rep of Congo – – – 110.1

3 – – – – Cote d’Ivoire – – – – – – – – – – 109.2

4 – – – – Iraq – – – – – – – – – – – – – – – 109.0

5 – – – – Zimbabwe – – – – – – – – – – – 106.9

6 – – – – Chad – – – – – – – – – – – – – – 105.9

7 – – – – Somalia – – – – – – – – – – – – – 105.9

8 – – – – Haiti – – – – – – – – – – – – – – – 104.6

9 – – – – PAKISTAN – – – – – – – – – – – 103.1

10 – – – Afghanistan – – – – – – – – – – – 99.8

11 – – – Guinea – – – – – – – – – – – – – – 99.0

12 – – – Liberia – – – – – – – – – – – – – – 99.0

13 – – – Central African Republic – – – – 97.5

14 – – – North Korea – – – – – – – – – – – 97.3

15 – – – Burundi – – – – – – – – – – – – – 96.7

16 – – – Yemen – – – – – – – – – – – – – 96.6

17 – – – Sierra Leone – – – – – – – – – – 96.6

18 – – – Burma / Mayanmar – – – – – – – 96.5

19 – – – Bangladesh – – – – – – – – – – – 96.3

20 – – – Nepal – – – – – – – – – – – – – – 95.4

21 – – – Uganda – – – – – – – – – – – – – 94.5

22 – – – Nigeria – – – – – – – – – – – – – 94.4

23 – – – Uzbekistan – – – – – – – – – – – 94.4

24 – – – Rwanda – – – – – – – – – – – – 92.9

25 – – – Sri Lanka – – – – – – – – – – – 92.4

26 – – – Ethiopia – – – – – – – – – – – – 91.9

27 – – – Colombia – – – – – – – – – – – – 91.8

28 – – – Kyrgyzstan – – – – – – – – – – – 90.3

پہلی رپورٹ جو 2005 عيسوی کے شروع ميں شائع ہوئی وہ مئی سے دسمبر 2004 پر مبنی تھی ۔ اس ميں 33 مُلک ناکام رياست قرار ديئے گئے تھے اور پاکستان 89.8 نمبروں کے ساتھ 34ويں نمبر پر آ کر بال بال بچ گيا تھا ۔ ڈيٹيلڈ مارکس شيٹ يہ ہے

Index 1 – 5, Index 2 – 5, Index 3 – 6.9 , Index 4 – 8, Index 5 – 9 , Index 6 – 3.3 , Index 7 – 9.8 , Index 8 – 7.5 , Index 9 – 8.1 , Index 10 – 9, Index 11 – 9.3 , Index 12 – 8.5

مسلمان بدنام کيوں ہيں ۔ لمحہءِ فکريہ

کِسی مُلک کا قانون وہ ہوتا ہے جو کہ اُس مُلک کا مجاز حاکم بناتا ہے اور یہ بھی تمام ممالک کے قوانین کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ قانون سے لاعلمی بریّت یا معافی کا جواز نہیں ۔ کوئی ذی شعور آدمی يہ نہيں کہتا کہ قانون وہ ہے جس طرح لوگ کر رہے ہيں ۔ ايک روزمرّہ کی مثال ديتا ہوں ۔ ہمارے ملک ميں قوانين کی کھُلم کھُلا خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ ٹريفِک کے قوانين ہی کو لے ليجئے ۔ مقررہ رفتار سے تيز گاڑی چلانا ۔ غلط طرف سے اوورٹيک کرنا اور چوراہے ميں بتی سُرخ ہوتے ہوئے گذر جانا عام سی بات ہے ۔ يہی لوگ اگر ٹريفک سارجنٹ موجود ہو تو سب ٹريفک قوانين کی پابندی کرنے لگتے ہيں ۔ 90 فيصد لوگ ٹريفک قوانين کی خلاف ورزی کرتے ہيں مگر کبھی کِسی نے نہيں کہا کہ قانون وہی ہے جيسا لوگ کرتے ہيں ليکن اسلام کا معاملہ ہو تو بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ مسلمان کہلوانے والوں کے کردار کو اسلام کا نام دے کر اسلام کی ملامت کرتے ہيں يا اسے رد کرتے ہيں ۔

اِسلام کے قوانین قرآن الحکیم میں درج ہیں ۔ قرآن شریف میں اللہ کا حُکم ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اِسلئے حدیث اور سنتِ رسول بھی اِسلام کے قوانین کا حصّہ ہيں  ۔ قرآن الحکيم اور حديث کا مطالعہ کيا جائے تو اس میں نہ صرف يہ کہ کوئی بُرائی نظر نہيں آتی بلکہ اچھائياں ہی اچھائياں نظر آتی ہيں اور کئی غيرمُسلم مفکّروں نے بھی اسے بہترين قانون قرار ديا ۔ سياسی ليڈروں ميں چين کے ايک وزيراعظم اور بھارت کے ايک صدر نے دو اميرالمؤمنين اور خليفہ ابوبکر صِدّيق  رضی اللہ عنہ اور عُمر رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کو انسانوں کے لئے بہترين قرار ديا حالانکہ ان دونوں شخصيات کا مسلک اسلام سے عاری تھا ۔ جسٹس کارنيليئس جو عيسائی تھے مگر اعلٰی پائے کے قانون دان تھے نے آسٹريليا ميں ورلڈ چيف جسٹسز کانفرنس ميں کہا تھا کہ دنيا کا بہترين اور قابلِ عمل قانون اسلامی قانون ہے اور يہ انتہائی قابلِ عمل بھی ہے پھر اس کے حق ميں دلائل بھی ديئے ۔ دنيا کے کسی چيف جسٹس نے اُن کے اس استدلال کو رد کرنے کی کوشش نہ کی ۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کا کردار ايسا تھا کہ اُن کے دين کے دُشمن بھی اُنہيں صادق ۔ امين اور مُنصِف سمجھتے تھے ۔ اُن کے پاس اپنی امانتيں رکھتے اُن سے اپنے معاملات ميں فيصلے کرواتے ۔ يہاں تک کہ يہودی اور مُسلمان ميں تنازع ہو جاتا تو يہودی فيصلہ کے لئے  رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے پاس جاتے اور جو وہ فيصلہ کرتے اُسے بخوشی قبول کرتے ۔

خلفائے راشدين کو بھی ديکھئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اميرالمؤمنين اور خليفہ ہيں ۔ ساتويں صدی عيسوی ميں بيت المقدّس پر بازنطینی [عيسائی] حکومت تھی جس نے 636 عیسوی میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے  امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا تھا ۔

اب سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر آج مُسلمان بدنام کيوں ہيں ؟  اگر ديکھا جائے تو اپنے دين اسلام کی بدنامی کا باعث بھی ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ جس طرح کسی مُلک کا قانون وہ نہیں ہوتا جس طرح وہاں کے لوگ عمل کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جو مجاز حاکم بناتا ہے ۔ اسی طرح اِسلام بھی وہ نہیں ہے جس طرح کوئی عمل کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اللہ نے قرآن شریف میں اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ اٰلِہِ و سلّم نے اپنی حدیث اور عمل کے ذریعہ سمجھایا ہے ۔

مُسلمانوں کی بدقسمتی يہ ہے کہ اُنہوں نے دنيا کی ظاہری چکاچوند سے مرغوب ہو کر اپنے دين پر عمل کرنا چھوڑ ديا ہے ۔ ناجائز ذاتی مفاد کيلئے جھوٹی گواہی ديتے ہيں ۔ اپنی خوبی جتانے کيلئے دوسروں کی عيب جوئی کرتے ہيں ۔ نہ تجارت ميں نہ لين دين ميں نہ باہمی سلوک ميں کہيں بھی اسلامی اصولوں کو ياد نہيں رکھا جاتا اور حالت يہ ہو چکی ہے کہ آج کا ايک اچھا مُسلمان تاجر ايک غير مُسلم تاجر پر تو اعتبار کر ليتا ہے مگر مُسلمان تاجر پر نہیں کرتا ۔ مُسلمان اس خام خيالی ميں مبتلا ہو گئے ہيں کہ سب کچھ کرنے کے بعد حج کر ليں گے تو بخش ديئے جائيں گے يا کسی پير صاحب کے پاس جا کر يا کسی قبر پر چڑھاوا چڑھا کر بخشوا ليں گے ۔ ہماری قوم کی اصل بيماری محنت کرنے کا فُقدان ہے ۔ صرف دين ہی نہيں دنيا ميں بھی شارٹ کَٹ ڈھونڈ لئے ہوئے ہيں ۔ امتحان پاس کرنے کيلئے کتابوں کی بجائے نوٹس پڑھ لئے وہ بھی اپنے لکھے ہوئے نہيں فوٹو کاپياں کالجوں ميں بِکتی ہيں ۔ والدين مالدار ہوں تو ممتحن اساتذہ کی جيبيں بھر نے سے بالکل آسانی رہتی ہے ۔ زيادہ مال بنانے کيلئے ہر فعل ہيراپھيری کا کرتے ہيں ۔ تولتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہيں ۔ اشياء خوردنی ميں ملاوٹ کرتے ہيں ۔ افسوس صد افسوس ۔ بننا تو امريکن چاہتے ليکن اتنی تکليف نہيں کرتے کے اُن سے محنت کرنا ہی سِيکھ ليں البتہ اُن کی لغويات سيکھ لی ہيں ۔ 

يہ ہنسنے کی باتيں نہيں پشيمان ہونے اور اپنے آپ کو ٹھيک کرے کی سوچ کی باتيں ہيں ۔ ہم خود تو اپنے کرتوُتوں سے بدنام ہوئے ۔ ہمارے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے ذريعہ آئے ہوئے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے دين کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہيں ۔   

اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے ۔ اس پر عمل کرنے اور اپنے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ومَا عَلَيْنَا اِلْالّبلَاغ

ارونا حقائق سے پردہ اُٹھاتی ہے

پہلے خبر ۔  

جمعہ 21 اپريل کو سندھ ہائی کورٹ کے حيدرآباد سرکٹ بنچ نے ازخود مواخذہ کرتے ہوئے ارونا اور اسکے خاوند معظّم کے خلاف سول جج حيدرآباد کا ديا ہوا پوليس ريمانڈ معطل کرديا  ۔ ہائی کورٹ کا حکم بذريعہ ٹيليفون اور فيکس فيصلہ کے ايک گھينٹے کے اندر تمام متعلقہ آفيسران اور محکموں کو پہنچا ديا گيا ۔ مزيد جوڈيشيل مجسٹريٹ اوکاڑہ نے ارونا اور معظّم کے خلاف تمام کيس ختم کر کے اُن کی رہائی کا حُکم دے ديا ۔ اور وہ دونوں پوليس کی حفاظت ميں حيدرآباد کيلئے روانہ ہوگئے ۔ ارونا نے جوڈيشيل مجسٹريٹ اوکاڑہ کو بتايا کہ دو صوبائی وزيروں نے اُس کے خلاف اُسکے والدين کی اعانت کی ۔ 

واقعہ ۔

 ايک ريٹائرڈ جج عطا محمد کی چوبيس سالہ بيٹی ارونا حيدرآباد کے ايک پرائيوٹ ميڈيکل کالج کی طالبہ تھی اُس نے اگست 2005 ميں پی ٹی سی ايل کے سافٹ ويئر انجنيئر معظّم سے شادی کر لی اور کچھ دن بعد اپنے والدين کو اس سے مطلع کيا ۔ ارونا کی والدہ اپنی نند يا بہن کے ساتھ فوراً حيدرآباد پہنچ گئیں اور ارونا کو حيدرآباد ميں ايک قريبی عزيز فرحان کے ہاں لے گئیں جہاں ارونا نے ساری تفصيلات بيان کيں ۔ ميزبانوں نے مشروب پيش کيا جسے پی کر ارونا بيہوش ہو گئی ۔ جب اُس کی آنکھ کھُلی تو وہ سکھر ميں تھی ۔ پھر اُسے ساہيوال ليجايا گيا جہاں اُسے اپنے خاوند معظم سے عليحدگی پر مجبور کيا گيا اور تين دن تک مارا پيٹا گيا مگر وہ نہ مانی ۔ پھر اُسے اسلام آباد لے گئے جہاں چار ماہ تک اُس پر يہی دباء ڈالا جاتا رہا ۔ ايک دن وہ کسی طرح بس اڈا پير ودھائی پہنچنے ميں کامياب ہو گئی جہاں سے وہ بس میں سوار ہو کر ملتان پہنچی اور دوسرے دن ميں حيدرآباد معظّم کے پاس پہنچ گئی ۔  

ارونا کے والد نے حدود قوانين کے تحت رينالہ خورد پوليس سٹيشن ميں کيس رجسٹر کرا ديا کہ "ميں اپنی والدہ کے گاؤں رينالہ خورد جا رہا تھا کہ معظم ۔ اُسکا بھائی جنيد ۔ شاہد اور اُنکے دو ساتھيوں نے ميری بيٹی ارونا کو اغواء کر ليا" ۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد اوکاڑہ پوليس 19 اپريل کو حيدرآباد پہنچی ۔ اُنہيں گرفتار کر کے سول جج حيدرآباد سے اُنہيں جيل بھيجنے کي درخواست کی ۔ سول جج حيدرآباد نے ريمانڈ دے ديا ۔ چنانچہ وہ اُنہيں اپنے ساتھ لے گئے ۔ ارونا کے والد کے وکيل نے عدالت ميں بيان کيا کہ ارونا نے سول جج کی عدالت ميں خُلا کی درخواست دی ہوئی تھی اور خُلا کا فيصلہ ہو چکا ہے مگر ارونا نے اس کی ترديد کی ۔

بد قسمتی سے ہمارے مُلک ميں کچھ ايسے لوگ ہيں جو ہر خبر کو اپنی مقصد براری کيلئے استعمال کرتے ہيں اوراسکے لئے خبر کو توڑ مروڑ کر پيش کرنے کے بھی ماہر ہيں ۔ ميری ايسے حضرات سے درخواست ہے کہ صرف اتنا ياد رکھنے کی کوشش کريں کہ اللہ سب ديکھ رہا ہے اور سب جانتا ہے ۔ اللہ ظاہر تو کيا دِلوں کے بھيد بھی جانتا ہے ۔  

" اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤ "  سُورة 2 الْبَقَرَة آيت  42    

اللہ ہميں نيک عمل کی توفيق عطا فرمائے آمين ۔   وَمَا عَلَينَا اِلَّالّبلاغ ۔