آزاد يا کَٹھ پُتلی ؟

آزادیءِ نسواں ايک پُر کشش نعرہ ہے جو عورتوں کے دِل موہ ليتا ہے اور وہ مردوں کی غلامی سے نجات کے شوق ميں مردوں کی کٹھ پُتلی بن جاتی ہيں ۔ کيا يہ حقيقت نہيں کہ آج مغربی دُنيا کی نام نہاد آزاد عورت کی حيثيت ايک کٹھ پُتلی کی سی ہے جس کا ہر عمل مرد کی خواہشات کا مرہونِ منت ہے ؟   

عورت کی عُمدگی کو اس کی عقل و فہم کی بجائے  اس کے جسمانی خدوخال اور جِنسی کشش سے ناپا جانے لگا  ۔ عورت سے اس کا قدرتی منصب و کردار [ماں ۔ بہن ۔ بيوی ۔بيٹی] چھين کر اسے اشتہاروں ۔ سينماؤں ۔  سٹيج اور محفل کی زينت بنا ديا گيا تاکہ وہ مرد کی تفننِ طبع کا سامان مہياء کر سکے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے عطا کردہ تمام حقوق جن کی رو سے وہ گھر کی مالکن اور قابلِ احترام بنتی ہے عورت سے چھين کر نہ صرف روزی کمانے کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی بلکہ مرد گاہکوں کی خوشنودی کی خاطر دفاتر اور ہوٹلوں کی زينت بنايا گيا ۔ عورت کو آزادی کا چکمہ دے کر مرد نے اسے اپنی نفسانی خواہشات کا کھلونا بنا ديا اور اب عورت کو اس جال سے باہر نکلنے کا راستہ بھی ميسّر نہيں ۔  

آخر ايسا کيوں ہے کہ اشتہار موبائل فون کا ہو ۔ کار ۔ ٹيليويزن حتٰی کہ  ريزر بليڈ کا ۔ اس ميں تصوير عورت کی ہوتی ہے ۔ نيم عُرياں يا عُرياں ناچ ہو تو عورت کا ۔ کپڑوں کے اشتہار ہوں يا کوئی اور اُن ميں سب سے بڑا عنصر عورت کے جسم کی نمائش کا ہوتا ہے ۔ کيا نيم عُرياں نوجوان عورت کا کُولہے مٹکا کر مردوں سے داد و تحسين پانا آزادیءِ نسواں کہلاتا ہے ؟  

مغربی دنيا ميں مرد جب چاہتا ہے عورت سے لُطف اُٹھاتا ہے اور اس کے نتيجہ ميں بچہ جننا يا ضائع کرنا مرد کے حُکم کا تابع ہوتا ہے جبکہ ساری تکليف يا زحمت عورت اُٹھاتی ہے ۔ خاوند کے ساتھ ساتھ بيوی بھی گھر کے خرچ کيلئے پيسہ کماتی ہے اور امورِ خانہ داری اور بچوں کی پرورش عورت کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ کيا يہی مساوات يا مساوی حقوق ہيں ؟  اگر مادی مساوات ہی کرنا ہے تو پھر مردوں کو بھی امورِ خانہ داری کے علاوہ بچوں کی پرورش کرنا چاہيئے ۔ اس کے علاوہ مردوں کے بھی نيم عُرہاں يا عُرہاں ناچ ہونا چاہئيں تھے اور بچہ جننے کی تکليف عورت اور مرد باری باری اُٹھاتے ۔ ليکن ايسا نہيں ہے اور نہ ہو گا ۔  

مغربی معاشرہ جہاں عورت کی آزادی کا ڈھنڈورہ پيٹا جاتا ہے وہاں عورت کی بے بسی قابلِ رحم ہے ۔ عورت مرد کو خوش کرتے ہوئے عام طور پر شادی سے پہلے حاملہ ہو جاتی ہے اور پھر اسی مرد کی خوشنودی کی خاطر حمل ضائع کر کے جسمانی اور ذہنی اذيّت سے گذرتی ہے ۔ شادی کے بعد اپنے خاوند کے بچہ پيدا کرنا يا  ضائع کرنا بھی خاوند کے حُکم سے ہوتا ہے ۔  

آج تو حالات بالکل ہی دِگرگُوں ہو چکے ہيں ۔ لگ بھگ چار دہائياں پہلے کی بات ہے ميں اس زمانہ ميں مغربی جرمنی ميں تھا ۔ ايک ہم عمر آسٹروی نزاد جرمن ميرا دوست بن گيا ۔ ہم اکٹھے گومتے پھرتے ۔ جب میرا  واپسی کا سلسلہ ہوا تو کہنے لگا "اجمل ميرے لئے کسی دن بہت سا وقت نکالو ميں تمہارے ساتھ بہت سی باتيں کرنا چاہتا ہوں"۔ اگلے اتوار کو سارا دن اکٹھے گذارا ۔ اُس نے اپنی پيدائش سے ليکر اُس دن تک کی آپ بيتی اور اپنے خيالات بتائے ۔ آخر ميں کہنے لگا " اجمل ۔ ميں مسلمانوں کی بہت عزت کرتا ہوں ۔ ميں نے آسٹريا ۔جرمنی اور تُرکی ميں تعليم حاصل کی ہے ۔ ميں دو سال انقرہ يونيورسٹی ميں رہا ۔ وہاں تُرکوں کی تمام عادتيں يورپ کے لوگوں کی طرح تھيں ۔ شراب پيتے ۔ لحم الخنزير کھاتے ۔ ناچتے گاتے مگر ايک عجيب بات تھی وہاں بہت ڈھونڈنے سے شائد کوئی عورت ملے جو شادی سے پہلے کسی مرد کے ساتھ سوئی ہو جبکہ يورپ ميں بہت ڈھونڈنے سے شائد کوئی عورت ملے جو شادی سے پہلے کسی مرد کے ساتھ نہ سوئی ہو ۔ وہاں سے آنے کے بعد ميں بالکل بدل گيا ۔ ميں نے الکُحل بلکہ بيئر پينا بھی چھوڑ دی ۔ لڑکيوں کے ساتھ ناچنا بھی چھوڑ ديا ۔ اب ميں اپنے وطن ميں اجنبی ہوں ۔ مسلمان جيسے کيسے بھی ہيں ميرے دل ميں اُن کيلئے بہت عزت ہے"۔ کيا يہی ہے آزادیءِ نسواں جس کا پرچار مغرب والے کرتے ہيں ؟ 

ہمارے ہم وطن "کوا دُم ميں مور کا پنکھ لگا کر لگا تھا مور بننے ۔ نہ تو مور بنا نہ کوّوں ميں واپس آ سکا" کی مثال بن رہے ہيں ۔ ہمارا مسئلہ آزادیءِ نسواں نہيں بلکہ عورت کا جو احترام اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مردوں پر واجب کيا ہے اُسے بحال کرنا ہمارا اصل مسئلہ اور ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ نہ تو اللہ نے عورت کو قيد کرنے کا حُکم ديا ہے اور نہ آوارہ گردی کی اجازت ۔ 

حقيقت يہ ہے کہ آزادیءِ نسواں کا نعرہ مردوں نے روشناس کروايا اور عورتوں کو ماں بہن بيوی اور بيٹی کے پاکيزہ اور مقدّس مقام سے دھکيل کر جِنسِ نمائش اور مردوں کی خواہشات کی کٹھ پُتلی بنا ديا ۔  اصل ميں تو  يہ آزاریءِ نسواں کی بجائے مرد کو کھُلی چھُٹی ہے ۔ اے مُسلماں ۔ کھول آنکھ کہ زمانہ چال قيامت کی چل گيا ۔

    * 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com  – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

لاثانی

اپنی زوجہ کے تعارف میں کہا اِک شخص نے

دِل سے ان کا معترف ہوں میں زبانی ہی نہیں

چائے بھی اچھی  بناتی ہیں  میری  بیگم  مگر

مُنہ  بنانے  میں  تو   ان  کا  کوئی  ثانی  نہیں

 

انور مسعود

 * 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – –   یہ منافقت نہیں ہے کیا

عشق و محبت

لیلٰی و قیس [مجنوں] ۔ شیریں و فرہاد ۔ ہیر و رانجا ۔ سوہنی و مہیں وال ۔ سسّی و پُنُوں ۔ سہتی و مُراد وغیرہ کے عِشقیہ افسانے کون نہیں جانتا ۔ لیلٰی کو حاصل نہ کر سکنے کے نتیجہ میں شہزادہ قیس پاگل [مجنوں] ہو گیا اور جنگلوں میں بھٹکتا رہا ۔ شیریں کی قُربت کیلئے فرہاد پتھر کے پہاڑوں میں نہر کھودتا رہا ۔ ہیر کو حاصل کرنے کیلئے تخت ہزارہ کے شہزادے نے رانجا کا روپ دھار کر ہیر کے باپ کا کمّی [غلام] بننا قبول کیا ۔ سوہنی کے عشق میں ایک زمیندار سب کچھ چھوڑ کر سوہنی کے باپ کا مہیں وال [بھنسیں چرانے والا] بنا ۔ سسّی کو پانے کیلئے شہزادہ پُنّوں صحراؤں کی گردش میں گم ہو گیا ۔ بلوچستان کے نواب کا بیٹا مُراد جھنگ سے گذرتے ہوئے سہتی کے عشق میں گرفتار ہوا ۔ سہتی کے خاندان کے بلوچوں میں لڑکی بیاہنے سے انکار کے باوجود جھنگ میں ہی الغوزہ بجاتا رہا ۔

اُردو کاایک مصدر ہے تسلیم کرنا ; یعنی مان لینا ۔ اِ سکا اِسم فاعل ہے مُسلِم چنانچہ مُسلم وہ ہوتا ہے جو تسلیم کرے یا مانے ۔ اب فرض کیجئے کہ ایک شخص کو بُخار ہے اور وہ تسلیم کرتا ہے یا مانتا ہے کہ بُخار پَیناڈول کھانے سے بخار اُتر جائے گا تو ضروری بات ہے کہ وہ پَیناڈول کھا لے گا ۔ اور اگر نہیں کھائے گا تو اِس کا مطلب ہو گا کہ وہ کہہ تو رہا ہے کہ مانتا ہوں کہ پيناڈول سے بخار اُتر جائے گا لیکن حقیقتا میں مانتا نہیں ہے ۔

مُسلِم کے لُغوی معنی تو اُوپر لکھ دیئے مگر اِصطلاحی طور پر مُسلِم یا مُسلمان اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ سُبْحَانُہُ وَ تَعَالٰی کی اطاعت قبول کرتا ہے یعنی اللہ کا ہر حُکم مانتا یا کم از کم ماننے کا دعویدار ہوتا ہے ۔ ايک مُسلم يا مُسلمان اللہ کا حُکم تب ہی ماننے کے قابل ہو گا جب اُسے معلوم ہو گا کہ اللہ کا حُکم کیا ہے ۔ اللہ کے حُکم کو جاننے کے لئے اُسے قرآن الحکیم کو پڑھ کر اسکے معنی سمجھنا پڑیں گے ۔

قرآن شریف میں سب سے پہلی شرط اللہ کو یکتا معبود ماننے کی ہے ۔ مندرجہ بالایعنی محبوب یا معشوق وقتی اور محدود فائدہ والے لوگ ہیں ۔ معبود وہ ہوتا ہے جِسے دل اور عقل دونوں اپنا محبوب مانيں چنانچہ معبود کا درجہ محبوب یا معشوق سے بہت بُلند ہوتا ہے مگر معبود کے لئے مُسلم یا مُسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے کيا کرتے ہيں کبھی سوچا ہم نے ؟

چلئے ليلٰی مجنوں شيريں فرہاد کے تو پُرانے قصّے ہیں ۔ آجکل لوگوں کا عام طور پر رویّہ یہ ہوتا ہے کہ جس کسی سے کسی وقتی فائدہ کی اُمید ہو اُس کی خدمت کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں اور اُسے خوش رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش میں جو سب کو فائدہ پہنچانے والا ہے اور بے حساب فائدہ پہنچاتا ہے اُس کو بھول جاتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ ہم مُسلمان ہیں ۔

آج کے مُسلمان کا حال يہ ہے کہ تجارت ۔ لين دين ۔ انصاف ۔ رشتہ داروں سے سلوک ۔ محلہ داروں سے سلوک ۔ غريبوں يا مِسکينوں سے سلوک سب ميں اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے اصولوں کی بجائے صرف اپنی خودغرضی ياد رکھتا ہے ۔ يہ بھی خيال نہيں کرتا کہ اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ ايسا کرے تو وہ کيا محسوس کرے گا ۔ يہ کوتاہ انديشی ہے جسے ہوشياری سمجھ ليا گيا ہے ۔
اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

ميرے بچپن کی شاعری

ہمارے بچپن میں ہماری والدہ (الله اُنہيں جنّت ميں اعلٰی مقام عطا فرمائے) ميرے چھوٹے بھائی بہنوں کو لوری دے کر سُلاتی تھیں ۔ کبھی لوری عربی ميں ہوتی کبھی اُردو اور کبھی پنجابی میں ۔ پنجابی ميں لوری يہ تھی
االله وی تُوں ۔ بيلی وی تُوں
حاذق وی تُوں ۔ رازق وی تُوں
دِتا ای تے پالیں ويں تُوں
الله ای ۔ الله ای
الله ای ۔ الله ای

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کو ايک ايسا ہر فن مولا کمپيوٹر بنايا ہے کہ جو چاہے محنت اور ہمت کے ذريعے بنا سکتا ہے يا حاصل کر سکتا ہے ۔جب ميں نويں جماعت ميں تھا ميں نے اس لوری کی طرز پر يہ شعر بنائے ۔
ميں سو جاواں ۔ جگاويں تُوں
ميں ڈھے جاواں ۔ اُٹھاويں تُوں
ميں کھُب جاواں ۔اُبھاريں تُوں
ميں وگاڑ ديواں ۔ سنواريں تُوں
الله ای ۔ الله ای
الله وی تُوں مولا وی تُوں
حاذق وی تُوں ۔ رازق وی تُوں
الله ای ۔ الله ای
اُپر وی تُوں ۔ نیچے وی توں
سجّے وی تُوں ۔ کھبّے وی تُوں
اَگے وی تُوں ۔ پِچھے وی تُوں
جِدھر ويکھاں ۔ تُوں ای تُوں
الله ای ۔ الله ای

لائِينَکس کہاں ہو ؟

لائينکس عام بِلّيوں سے تو بہت مُختلف تھا ہی اپنی نسل ميں بھی مُنفرد تھا ۔ وہ سيامِيز نَسَل سے تھا اور اُس کے آباؤ اجداد صديوں سے تہذِيب يافتہ گھرانوں ميں پَلتے آ رہے تھے ۔ ميں نے اُس کی تربيّت پر بہت سمجھداری سے محنت کی مگر سب سے بڑھ کر حقيقت يہ ہے کہ اُسے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بہت سمجھ دے رکھی تھی اُس کے ڈاکٹر صاحب کہتے “ميں نے بہت سياميز بِلّياں ديکھی ہيں مگر ايسی سمجھدار اور سُلجھی ہوئی بِلّی آج تک نہيں ديکھی”۔ اُس کے اغواء ہونے پر ڈاکٹر صاحب بھی کئی دن تک اُس کی تلاش ميں سرگرداں رہے ۔linux

پونے تين سال ہوئے وہ دروازے سے باہر نکلا ۔ وہ عام طور پر سير کرنے جاتا اور اِردگِرد پھر کر واپس آ جاتا ۔ اُس روز وہ گيا اور واپس نہ آيا ۔ دير ہوئی تو پريشانی بڑھی ۔ گھر کے اِردگِرد سب سے پوچھا مگر کچھ پتہ نہ چلا ۔ ناجانے کون ظالم اُسے اغواء کر کے لے کيا ۔کُل 3 سال کا تھا ليکن اللہ نے اُسے بہت ذہانت عطا کی تھی ۔ اُس کی حرکات ديکھ کر کوئی بھی سُبحان اللہ کہے بغير نہ رہتا ۔ Table Tennis کی بال سے فُٹبال وہ اتنی اچھی کھيلتا کہ عقل دنگ رہ جاتی ۔ خاص طور سے اُس کا Deep Freezer کے نيچے ايک طرف سے بال کو kick لگا کر تيزی سے دوسری طرف جا کر روکنا اور واپس لا کر پھر Deep Freezer کے نيچے kick لگانا ۔

جب اُسے شرارت سوجھتی تو کوئی ہمارے استعمال کی چيز چھُپا ديتا ۔ ايک دن ميں باہر سے آيا اور آ کر بوٹ جرابيں اُتاريں کچھ دير بعد مجھے پھر باہر جانا پڑ گيا ۔ ميں جرابيں پہننے لگا تو جراب کا ايک پاؤں غائب ۔ ميں نے کہا “ميری ايک جراب کہاں گئی”۔ ميری بيٹی بولی “يہ لائينکس کا کام ہو گا ” ميں نے لائينکس کو آواز دی مگر وہ نہ آيا ۔ ميں اپنے سونے کے کمرہ ميں گيا اور دوسرا جوڑا جرابوں کا لے کر واپس آيا تو کيا ديکھا کہ ميری دونوں جرابيں ميرے بوٹوں کے پاس پڑی ہيں ۔ ميری بيگم کہنے لگيں “ابھی لائينکس بہت تيز بھاگتا ہوا آيا تھا اور يہاں skid مار کر تيزی سے واپس بھاگ گيا ہے ۔ يعنی ميری جراب اُس نے چھُپائی ہوئی تھی اور واپس رکھ کر بھاگ گيا ۔

رات کو عام طور پر اپنے بستر پر سوتا ۔اگر سردی زيادہ ہو تو ميرے ساتھ سوتا ۔ شائد اُسے اپنے بستر پر سردی لگتی تھی ۔ سرديوں ميں ہم لاؤنج ميں گيس ہيٹر جلا کر بيٹتے تھے ۔ ايک دن شام ہو گئی اور ہم نے ہيٹر نہ جلايا ۔ میں لاؤنج ميں آيا تو مجھے اشاروں سے سمجھايا کہ ہيٹر جلاؤ ۔

ميرا کہا بہت مانتا تھا ۔ ميں بُلاؤں تو جہاں بھی ہو بھاگ کر آ جاتا ۔ کبھی کبھی ميں اپنے ساتھ کار ميں لے جاتا ۔ کبھی ميں نہ ليجاتا تو وہ ناراض ہو جاتا ۔ جب ميں واپس آتا تو ميرے سامنے آتا مگر منہ دوسری طرف کر کے بيٹھ جاتا يعنی کہ “ميں ناراض ہوں”۔ پھر اُسے منانا پڑتا ۔

اُسے گھر کے ہر فرد سے پيار تھا مگر ميرے ساتھ بہت پيار تھا ۔ ايک دن ميں بعد دوپہر کہيں گيا اور رات گئے واپس لوٹا ۔ گھر پہنچنے پر بيگم نے بتايا کہ ” لائينکس نے کھانا نہيں کھايا اور سہ پہر سے آپ کی انتظار ميں کھڑکی کے سامنے بيٹھا تھا ۔ میں نے ديکھا تو لائينکس کھانے کی ميز کے ساتھ ميری کُرسی پر بيٹھا ميری طرف ديکھ رہا ہے يعنی کہ ” آؤ کھانا کھاؤ”۔ ايک دفعہ ميں بيمار ہو گيا اور کمبل اوڑھے ليٹا تھا ۔ نمعلوم وہ کب آ کر ميرے پلنگ کے قريب قالين پر بيٹھ کر متواتر ميری طرف ديکھے جا رہا تھا ۔ ميں نے اُس کی طرف غور سے ديکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ ميں نے اُسے اُٹھا کر پيار کيا تو اُس کی آنکھيں متحرک ہوئيں اور چمکنے لگيں ۔ يہ خوشی کا اِظہار تھا ۔

جب لائينکس مياؤں مياؤں کر رہا ہوتا اور ميں اُسے کہتا “چُپ کر جاؤ ” يا ميں اپنے ہونٹوں پر اُنگلی رکھتا تو وہ فوراً خاموش ہو جاتا ۔ جب ميرا بيٹا دفتر سے آتا تو لائينکس سيڑھيوں کے نيچے چھُپ جاتا ۔ جب بيٹا اُوپر اپنے کمرہ ميں جانے کيلئے سيڑھياں چڑھتا تو لائينکس اس کی ٹانگ پکڑ ليتا ۔ يہ لائينکس کاروزانہ کا معمول تھا ۔

لائينکس عام بِلّيوں سے تو بہت مُختلف تھا ہی اپنی نسل ميں بھی مُنفرد تھا ۔ وہ سيامِيز نَسَل سے تھا اور اُس کے آباؤ اجداد صديوں سے تہذِيب يافتہ گھرانوں ميں پَلتے آ رہے تھے ۔ ميں نے اُس کی تربيّت پر بہت سمجھداری سے محنت کی مگر سب سے بڑھ کر حقيقت يہ ہے کہ اُسے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بہت سمجھ دے رکھی تھی اُس کے ڈاکٹر صاحب کہتے “ميں نے بہت سياميز بِلّياں ديکھی ہيں مگر ايسی سمجھدار اور سُلجھی ہوئی بِلّی آج تک نہيں ديکھی”۔ اُس کے اغواء ہونے پر ڈاکٹر صاحب بھی کئی دن تک اُس کی تلاش ميں سرگرداں رہے ۔

لائِينَکس تم کہاں ہو ؟ ميں تمہيں بہت ياد کرتا ہوں ۔

راستہ صرف ایک ۔ نہ کہ تين

میں سوچا کرتا تھا کہ مسلمان تنزّل کا شکار کیوں ہیں جبکہ غیر مُسلم ترقی کر رہے ہیں ؟
مارچ 1983ء سے ستمبر 1985ء تک میں پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ تھا ۔ 1983ء میں جدید ٹیکنالوجی سے لَیس انسٹیٹوٹ کی منصوبہ بندی کے دوران متذکرہ بالا سوال نے میرا ذہن کئی دنوں سے پریشان کر رکھا تھا کہ ایک دن مجھے آواز آئی ” اگر تُو نے اللہ کے خوف کو دل میں بٹھا کر پڑھی تو وہ ہے تیری نماز“۔

بولنے والا میرا چپڑاسی محمد شکیل تھا جو چوتھی جماعت پاس سابق فوجی تھا ۔ اللہ کریم نے مجھے بابا شکیل کے ذریعہ وہ بات سمجھا دی تھی جو کوئی پڑھا لکھا مجھے نہ سمجھا سکا تھا ۔ بلا شُبہ بابا شکیل دُنیاوی عِلم اور مال سے محروم تھا لیکن اللہ نے اُسے دینی عِلم و عمل سے مالا مال کر رکھا تھا

اللہ سُبحانُہُ و تَعالٰی نے ہمیں ایک راستہ دِکھایا [صِراطُ المُستَقِیم] اور ہدائت کی کہ ہمارا کھانا ۔ پینا ۔ اُٹھنا ۔ بیٹھنا ۔ سونا ۔ جاگنا ۔ مِلنا ۔ جُلنا ۔ اِخلاق ۔ لین ۔ دین ۔ کاروبار غرضیکہ ہر عمل دین اِسلام کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ ویسے تو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کہتے ہیں ِاھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم یعنی دِکھا ہم کو راہ سیدھی جو کہ ایک ہی ہو سکتی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں ہم نے تین راستے بنا رکھے ہیں ۔Three Paths

1 ۔ خانگی یا خاندانی معاملات کو ہم ایک طریقہ سے حل کرتے ہیں ۔

2 ۔ دفتر یا کاروبار کے معاملات کو ہم کسی اور نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔

3 ۔ دین کو ہم نے بالکل الگ کر کے مسجد میں بند کر دیا ہے اور مسجد سے باہر صرف کسی کی موت یا نکاح پر استعمال کرتے ہیں ۔

ہماری حالت اُس شخص کی سی ہے جو ایک مقام سے ایک سِمت چلا ۔ بعد میں اُسے ایک اور کام یاد آیا ۔ چونکہ دوسرے کام کا راستہ مختلف تھا چنانچہ وہ واپس ہوا اور دوسرے کام میں لگ گیا ۔ پھر اُسے تیسرا کام یاد آیا اور اِس کا راستہ پہلے دو کاموں سے مختلف تھا چنانچہ وہ پھر مُڑا اور تیسرے کام کی طرف چل دیا ۔ اِس طرح وہ جس مقام سے چلا تھا اُسی کے گرد مُنڈلاتا رہا اور کسی سمت میں زیادہ پیشقدمی نہ کر سکا ۔
One Path
متذکّرہ بالا آدمی کے بر عکس ایک شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سارے کام ایک ہی طریقہ سے سرانجام دے گا چنانچہ وہ ایک ہی سِمت میں آگے بڑھتا گیا اور بہت آگے نکل گیا ۔ ملاحظہ ہوں دونوں صورتیں علمِ ہندسہ کی مدد سے ۔

غیرمُسلموں نے دین کو چھوڑ دیا اور اپنے خانگی اور کاروباری معاملات کو صرف نفع اور نقصان کی بُنیاد پر اُستوار کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے گو دین کو چھوڑنے کے باعث اخلاقی اِنحطاط کا شکار ہوئے ۔ جب کہ بے عمل مسلمان نہ دین کے رہے نہ دُنیاوی کاموں میں ترقی کر سکے ۔ بقول شاعر ۔

نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔ ۔ ۔ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔