جسٹس رانا بھگوان داس کہاں ہیں ؟

سب جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سب سے سینیئر جج جناب جسٹس رانا بھگوان داس ہیں اور اِس وقت پاکستان میں اُن کی غیر حاضری شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ اتنے سینیئر اور اور نیک نام اور ذمہ داری کا اتنا احساس رکھنے والے جج جنہوں نے علاقہ کے تقاضہ کا احساس کرتے ہوئے ایم اے اسلامیات بھی پاس کیا وہ اس وقت ملک کے اس بد ترین بحران میں بالکل لاتعلق ہو کر سوئے رہیں گے ؟ یہ قرینِ قیاس نہیں ۔

کراچی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسز بھگوان داس نے کہا کہ ان کے شوہر اس وقت بھارت کے شہر لکھنؤ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ جب ان سے جسٹس بھگوان داس کا لکھنؤ میں رابطہ نمبر پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے کہا کہ ان کے پاس نمبر نہیں ہے اور بعد میں کہا کہ وہ دینا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق جسٹس رانا بھگوان داس تین مارچ کو نجی دورے پر بھارت روانہ ہوئے تھے۔ مسز بھگوان داس کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے شوہر سے بات ہوتی رہتی ہے، جو انہیں پبلک کال آفس سے فون کرتے ہیں۔

تبصرہ ۔ اس سے ایک بات واضح ہوئی کہ جسٹس رانا بھگوان داس پاکستان سے رابطہ میں ہیں ۔ تو پھر حکومت نے اُن سے کیوں رابطہ نہ کیا ۔ سندھ اور پنجاب کے چیف جسٹس صاحبان کو فوراً بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد لا کر چند گھینٹوں کے اندر سپریم جوڈیشیل کونسل کا اجلاس کرا دیا گیا لیکن عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج سے رابطہ نہ کیا گیا ۔ کیا یہ قرینِ قیاس یا قرینِ انصاف ہے ؟

بی بی سی کے ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کرنے پر وہاں موجود ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں بھی ہمیں بی بی سی سے ہی پتہ چلا ہے۔‘ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ جسٹس بھگوان داس ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں اور ان کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع ضرور ہوگی لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

لندن سے بی بی سی نے جسٹس بھگوان داس کے بھائی سری چند سے کراچی میں رابطہ کر کے پوچھا کہ ان کے بھائی ہندوستان میں کہاں ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کب تک متعوقع ہے، تاہم سری چند نے کہا کہ ’کراچی سے جہاز تو دلیً گیا تھا، وہ وہاں سے کہاں گئے ہیں مجھے علم نہیں۔‘

ہندوستان میں سرکاری حلقے بھی جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان دورے کے بارے میں خاموش ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت دلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن اس ہوٹل سے رابط قائم کرنے پر معلوم ہوا کہ جسٹس بھگوان داس وہاں نہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان داس ہندوستان دورے پرآئے تھے لیکن اب وہ واپس پاکستان جا چکے ہیں۔

اسی دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف کےذریعہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے تذکرے ہندوستان کے اخبارات میں ہورہے ہیں ۔ اخبارات نے مزید لکھا ہے کہ جسٹس چودھری کو ان کے عہدے سے اس لیے معطل کیا گیا کیوں کہ کیونکہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی نہیں جھجکتے تھے۔

مارچ 2006 کے  آخر  میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر روک دیئے جانے کے بعد جسٹس بھگوان داس نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔

تبصرہ ۔ اُوپر کی خبروں سے واضح ہوتا ہے کہ جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب یا تو ہندوستان گئے ہی نہیں یا واپس آ چکے ہوئے ہیں ۔ اُن کے بھائی سری چند صاحب کے بیان سے یہ گمان اُبھرتا ہے کہ کچھ چھُپایا جا رہا ہے ۔ یہی تأثر جناب جسٹس رانا بھگوان داس کی بیگم صاحبہ کے ٹیلیفون نمبر کے بارے بیان سے بھی ملتا ہے ۔

سوال ۔ کیا جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب بھی درجنوں اُن پاکستانیوں کی طرح لاپتہ ہو گئے ہیں جن کا مقدمہ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سُنا جا رہا تھا ؟

منگل کی کاروائی

اسلام آباد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لپیٹ میں تو جمعہ 9 مارچ ہی سے تھا منگل 13 مارچ کو بعد دوپہر 2 بجے سپریم جوڈیشیل کونسل میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی کاروائی شروع ہونا تھی مگر صبح سے ہی اسلام آباد آنے والی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی ۔ راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والی تمام سڑکوں کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی یہاں تک کہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان واحد بڑی سڑک کو راولپنڈی جنرل ہسپتال اور راول روڈ کے درمیان بند کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں راولپنڈی شہر بھی دو حصوں میں بٹ گیا ۔ ہمارے گھر سے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈکورارٹر ہسپتال تک بھیڑ کے وقت کار میں 45 منٹ کی مسافرت ہے مگر کل میرا بھائی جس کا روزانہ کا یہ راستہ ہے ڈھائی گھینٹے میں پہنچا ۔ عام خیال ہے کہ وکلاء کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں صرف 10 فیصد وکلاء عدالتوں تک پہنچ سکے ۔

دوپہر سے پہلے جن ٹی وی سٹیشنوں نے صورتِ حال دکھانے کی کوشش کی اُن کی ٹرانسمشن میں خلل ڈالا گیا ۔ اسلام آباد کے تین سیکٹر ایف 6 ۔ ایف 7 اور ایف 8 جہاں زیادہ تر سرکاری افسر اور دوسرے با اثر لوگ رہتے ہیں وہاں کی بجلی بعد دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک بند کی گئی تاکہ نہ کوئی ٹی وی دیکھ سکے نہ کمپیوٹر استعمال کر سکے ۔

جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کی رہائش گاہ عدالتِ عظمٰی سے پیدل رستہ پر ہے ۔ چونکہ 9 مارچ کو انہیں محبوس کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ سے تمام گاڑیاں اُٹھا لی گئی تھیں انہوں نے 2 بجے بعد دوپہر پیدل عدالتِ عظمٰی جانا چاہا تو پولیس کمانڈوز نے راستہ روک لیا اور اُنہیں دھکے دے کے گاڑی میں ڈال کر لے گئے ۔ اس دھم پیل کے نتیجہ میں جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کے چہرے پر خراشیں آئیں ۔ عدالتِ عظمٰی کے گرد زبردست پہرہ تھا اور اس کے سامنے وکلاء اور سیاست دان جمع تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ اُن لوگوں نے گاڑی روک لی لیکن جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کہنے پر پیچھے ہٹ گئے ۔

جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کے مطابق اُن کی والدہ پر بھی تشدد کیا گیا ۔ اسلام آباد میں حکومتی نمائندوں کے علاوہ سب یہی کہتے ہیں کہ جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب اور ان کے خاندان کو نظر بند کیا گیا ہے اور ان کا ہر قسم کا ٹیلیفون رابطہ ۔ ٹی کیبل سب کاٹ دیئے گئے ہیں ۔ کوئی اخبار بھی اُن تک پہنچنے نہیں دیا جاتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ حکومت کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر شیر افگن نے کہ ہے کہ نعیم بخاری نے جسٹس افتحار محمد چوہدری کے بیٹے کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ غلط بیانی ہے ۔

واقعات

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف پیر کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں وکلاء نے زبردست احتجاج کیا ۔ بی بی سی پر لاٹھی چارج کے مناظر دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے ۔ لاہور میں احتجاجی مظاہرے پر پولیس کے لاٹھی چارج سے 40 وکلاء زخمی ہوئے اور 25 کے قریب گرفتار کر لئے گئے ۔

Two private TV channels remained off air for some time on Monday after getting a warning from the government’s media regularity authority for showing pictures of police baton-charge on protesting lawyers in Lahore against the suspension of Chief Justice Iftikhar Mohammad Chaudhry.

It was the Aaj TV which first showed the footage of police chasing and beating the protesting lawyers on the streets of Lahore at around 1pm. The TV channel showed senior Supreme Court lawyer Sardar Latif Khosa with a bleeding head being taken by colleagues for medical treatment. After a while, another private TV channel, Geo News, aired the footage of the same incident.

After some time, the two channels went off the air simultaneously. The transmission of the two channels resumed after several minutes with a different footage of the Lahore incident. Sources told Dawn that an official of the Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (Pemra) in Sindh contacted the managements of the channels on telephone and told them not to telecast the scenes of police action against lawyers.

They said the Pemra official was particularly angry over the scenes in which Latif Khosa was shown bleeding from a cut on his head.

بی بی سی کی خبریں اختصار کے ساتھ

تبصرہ خطوط وحدانی یعنی [ ] کے اندر ہے

اگر اس وقت تک سپریم جوڈیشل کونسل غیر مؤثر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکی تو جسٹس بھگوان داس کی موجودگی سے کونسل کی ہیت کے بارے میں آئینی سوالات اٹھ سکتے ہیں اور یہ بات مضحکہ خیز لگے گی کہ ملک کا سب سے سینئر جج کونسل سے باہر بیٹھا ہو‘۔
[اسی لئے جسٹس بھگوان داس کے چھٹھ پر جانے کے بعد یہ قدم اُٹھایا گیا ہے ورنہ ایسی کوئی ایمرجنسی نہ تھی]

انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے اداریے کا عنوان ہے: ’سیاست کون چمکا رھا ہے‘۔
اخبار کی رائے ہے کہ ’ایک جانب تو حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ایک آئینی اور قانونی مسئلے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ارباب غلام رحیم دھڑلے سے غیرمؤثر چیف جسٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
[ملک کے آئین اور قانون کے تحت صدر اور چیف آف آرمی سٹاف دونوں کو سیاسی جلسوں میں میں شرکت کی اجازت نہیں اور پرویز مشرف صاحب سیاسی جلسوں میں باقاعدہ تلقین کرتے پھرتے ہیں کہ اُسے ووٹ دیں جو مجھے صدر بنائے]

اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ ’اگر جسٹس افتخار پر کوئی پابندی نہیں تو ان کی صاحبزادی کو اپنی ایک دوست کو یہ ایس ایم ایس کیوں بھیجنا پڑا کہ گھر میں مسلح افراد گھس آئے ہیں اور ہمیں ایک کمرے تک محدود کردیا گیا ہے‘۔

اخبار ’ایکسپریس‘ نے خبر دی ہے کہ ’حکومتِ سندھ کے سو سے زائد افسران اور ملازمین کی فہرست تیار کی گئی ہے جو طلب کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جسٹس افتخار کے سخت گیر اور نامناسب رویے کے بارے میں گواہی دیں گے۔اس فہرست میں چپڑاسی اور ڈرائیور بھی شامل ہیں‘۔

اخبار دی نیوز میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین میں سے ایک جج کے خلاف مبینہ طور پر زمین کی ہیراپھیری اور دوسرے جج کے خلاف مالیاتی بے قاعدگیوں کا ریفرنس پہلے ہی سے کونسل میں زیرِ التوا ہے۔ جبکہ تیسرے جج کی صاحبزادی کو ایک چیف منسٹر کے کوٹے پر میڈیکل کالج میں داخلہ ملا ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ جسٹس افتخار چوہدری پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ کو بلا استحقاق استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ اس لیے صوبائی چیف جسٹس متاثرہ فریق ہیں اور انہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھنا چاہیے‘۔

’اسی طرح قائمقام چیف جسٹس جاوید اقبال کے غیر مؤثر چیف جسٹس کے خلاف الزامات کی سماعت سے مفادات کا ٹکراؤ ہوسکتا ہے کیونکہ اگر کونسل ان کی صدارت میں جسٹس افتخار کی بحالی کا فیصلہ دیتی ہے تو پھر جسٹس جاوید اقبال کے مستقل چیف جسٹس بننے کے امکانات ختم ہوسکتے ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق ’اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ججوں کے خلاف تیئس ریفرنس اور شکایات پڑی ہیں جن میں سے کئی برسوں پرانی ہیں‘۔

اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ کی شہ سرخی ہے: ’ٹی وی، اخبار اور ٹیلی فون۔ چیف جسٹس کے لئے شجرِ ممنوعہ‘۔
[یہ بھی صرف اُس آئین کا حصہ ہے جس کا نام پرویز مشرف ہے]

اخبار نے وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن کا یہ بیان شائع کیا ہے کہ ’وکیل نعیم بخاری نے اپنے کھلے خط میں جسٹس افتخار کے صاحبزادے سے متعلق کیس کا جو حوالہ دیا ہے وہ سیاق و سباق سے بالکل ہٹ کر ہے اور نعیم بخاری نے اپنے خط کے ذریعے صدر اور چیف جسٹس میں خلیج پیدا کی ہے‘۔
[بھانڈا پھُوٹا چوراہے میں اسی کو کہتے ہیں]

آج کی خبریں

سنا تھا کہ جب ظلم کی انتہاء ہو جائے تو پتھر بھی بول پڑتے ہیں لیکن ہماری قوم نے نہ جانے کونسا نشہ پی رکھا ہے کہ اس کے اْوپر سے شاید ہاتھی بھی گذر جائے تو اسے پتہ نہ چلے ۔ جو کچھ 9 مارچ کو بعد دوپہر اسلام آباد میں ہوا اگر کسی اور ملک میں ہوتا تو وہاں کے تمام باشندے سڑکوں پر نکل آتے ۔ دور کی بات کیا کرنا اگر ایسا واقعہ بنگلہ دیش میں بھی ہوتا تو دو دن کے اندر وہاں کے صدر اور وزیراعظم کو اپنی کرسیاں چھوڑنا پڑ جاتیں ۔

کمال تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ شائع ہونے کا دعوٰی کرنے والے اُردو اخبار “جنگ” اور انگریزی اخبار ” دی نیوز” حکومت کا مؤقف انتہائی جانبداری سے نمایاں طور پر شائع کر رہے ہیں ۔ ڈان اور نیشن نے متوازن خبریں باقاعدہ حوالوں کے ساتھ چھاپی ہیں ۔ پڑھئیے ڈان کی خبریں ۔ اور آخر میں جسارت کی ایک چونکا دینے والی خبر ۔

چیف جسٹس صاحب گھر میں نظربند

چیف جسٹس صاحب کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا

انصاف کے آخری نشانات کی بربادی کی طرف

نعیم بخاری کا وکالت کا لائیسنس کینسل کر دیا گیا

لاپتہ افراد کا معاملہ مت چھیڑو ۔ مجھے حکومت کرنے دو ۔

نوشتۂِ دیوار

عدالتِ عظمٰی کی ہوا کی سِیٹی
نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے


وطن کی ہواؤں کی سَرسراہٹ

ظُلم کا بادل ہر طرف چھایا
اور لُٹ رہا ہے قومی سرمایہ
مسلمانوں اب تو جاگ اُٹھو
کہ پھر وقتِ شہادت ہے آیا
توحید کا پیغام پھیلا دو
اور اسلام کا پرچم لہرا دو
باطل کی دنیا کو بتلا دو
توحید کے ہو متوالے تُم
اسلام کے ہو رکھوالے تُم
تُم پر اللہ کی رحمت کا سایہ
مردِ مُسلماں جاگ بھی اُٹھو
کہ اب وقتِ شہادت ہے آیا

اور اب کُلہاڑا چل گیا

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کر کے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔ محترم جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کے عہدے کی میعاد 2011 عیسوی میں ختم ہونا تھی ۔ 

ذرائع کے مطابق ریفرنس دائر کرنے سے پہلے صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلا کر ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ لیکن جسٹس افتخار چوہدری نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔


ایک ماہ پہلے کی خبر

پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جج میں احساس تحفظ ضروری ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ جج کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ انتظامیہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں بھی دے گا تو اسے برطرف نہیں کیا جا سکے گا اور اس کی مخالفانہ رائے اس کی کسی بلاجواز سزا کا سبب نہیں بنے گی۔

یہ مشترکہ اعلامیہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے پڑھ کر سنایا جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی تین روزہ قومی جوڈیشل کانفرنس سے اختتامی خطاب کر رہے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ججوں کے عہدے کی مقررہ معیاد کی ضمانت ہونی چاہیے تاکہ وہ ان مقدمات میں بھی اپنی دیانتدارانہ رائے دے سکیں جن میں ریاست کا کوئی اہم حصہ فریق ہو۔ تاہم انہوں نے عدلیہ کے خود احتسابی کے کڑے نظام کی موجودگی پر بھی زور دیا۔

کہانی اور مکالمہ

دو ماہ پیشتر ٹماٹر جو دس بارہ روپے کے کلو گرام بِک رہے تھے دو ہفتوں میں بڑھ کر سو روپے فی کلو گرام ہو گئے ۔ ہمارے بادشاہ سلامت الیکشن مہم کے ایک جلسہ سے خطاب کر چکے تو اُن کی توجہ ٹماٹروں کی قیمت کی طرف دلائی گئی ۔ ارشاد ہوا ۔ اگر مہنگے ہیں تو نہ کھائیں ۔ کچھ اور کھا لیں ۔ مجھے یاد آیا کہ مڈل سکول کی انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ملکہ کے محل کے باہر عوام اکٹھے ہو گئے ۔ ملکہ نے پوچھا یہ کیوں آئے ہیں ۔ وزیر نے بتایا کہ کہتے ہے کھانے کو روٹی نہیں ہے تو ملکہ نے کہا ان کو کہیں کہ کیک یا بسکٹ کھا لیں ۔ اس پر سب طلباء ہنستے تھے کہ ایسی بیوقوف ملکہ بھلا ہو سکتی ہے ۔ اب ثابت ہوا کہ بادشاہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

ایک مفروضہ مکالمہ جسے اگر ہمارے موجودہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان سمجھ لیا جائے تو حقیقت معلوم دیتا ہے ۔

“جناب مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ذرائع روزگار کم ہیں ۔ حالات سے تنگ آ کر لوگ خودکُشیاں کر رہے ہیں “

“ہم نے عوام کی سہولت کیلئے انڈر پاس بنائے ہیں”

“وہ کراچی میں کلفٹن والا انڈر پاس جس میں پانی بھر گیا تھا یا وہ راولپنڈی والا جس کے بننے سے پہلے محلہ چوہدری وارث سے لیاقت باغ 10 منٹ میں پہنچتے تھے اور انڈر پاس میں سے گذر کر 20 منٹ میں پہنچتے ہیں کیونکہ کل راستہ پہلے سے تنگ ہوگیا ہے یا اسلام آباد کا انڈر پاس جو 2005 میں مکمل ہونا تھا اور ابھی بن رہا ہے اور ایک وزیر کے پلازہ کی خوبصورتی کو بچانے کیلئے اس کو موجودہ سڑک سے دور بنایا جا رہا ہے ۔ نتیجتاً خرچہ 245 کی بجائے 490 ملین روپے ہو گیا ہے ؟”

“ہم دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بنائیں گے”

” کیا آپ نے کراچی کی 15 منزلہ عمارت میں آگ لگنے کا حال نہیں سنا کہ اُوپر کی 5 منزلیں جلتی رہیں اور فائر بریگیڈ والے حسرت سے دیکھتے رہے کہ ان کے پاس بلند جگہ میں لگی آگ بجھانے کا بندوبست نہ تھا ؟ یا اسلام آباد کے اس پلازہ کا ذکر ہے جس میں ہوٹل سنیما اور امیر و کبیر لوگوں کیلئے شاپنگ سنٹر بنیں گے اور جو رہائشی علاقہ اور ہسپتال کے درمیان بنایا جا رہا ہے جس کے خلاف ہسپتال کے سربراہ اور علاقہ کے رہنے والے سخت احتجاج کر رہے ہیں “

“تم لوگ تو اُلٹی بات کرتے ہو ۔ ہم تو اس عالی شان عمارت کی بات کر رہے ہیں جو کراچی کے پاس جزیرے پر بنے گی”

“اچھا اچھا وہ جزیرہ جہاں سے غریب پاکستانیوں کو زبردستی نکال کر جزیرہ غیر ملکیوں کو بیچ دیا گیا ہے”