ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی گئے

پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سیعد شیخ نے موجود عدالتی بحران پر احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ۔
آج صبح کے اخبار اوصاف کے مطابق ایک جج لاہور ہائی کورٹ اور ایک سیشن جج کراچی سمیت دس جج صاحبان کل رات تک مستعفی ہو چکے تھے ۔ آج قبل دوپہر ڈپٹی اٹارنی جنرل ان میں شامل ہو گئے

مزید چھ جج مستعفی

عدالتِ عظمٰی کے سربراہ جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کے خلاف حکومتی کاروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بدھ کو بہاولپور کے ایک جج مستعفی ہو گئے تھے ۔

اسی سلسلہ میں آج لاہور ہائی کورٹ کے جج جواد خواجہ کے استعفے کا اعلان ہائی کورٹ بار کے صدر نے کیا اور جواد خواجہ کے قریبی رشتہ داروں نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ۔

آج مزید اسی سلسلہ میں کراچی میں ہائی کورٹ بار کے صدر افتخار جاوید قاضی کے مطابق ضلع کراچی شرقی کے اللہ بچاؤ گبول ۔ اشرف یار خان اور مصطفی صفوی جبکہ ضلع کراچی سینٹرل کے اسد شاہ راشدی اور ملک احسان مستعفی ہو گئے ہیں ۔

اس طرح چھ دنوں میں سات جج صاحبان احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہوئے ہیں

ج جنجوعہ زندہ ہو گیا

جنجوعہ کے نام سے بلاگر واقف ہونگے ۔ وطن واپسی پر حالات میں گم ہو گئے تھے ۔ اب اُنہوں نے ایک تحریر لکھی ہے جس میں مجھے مندرجہ ذیل زیادہ اچھے لگے ۔

ہے حکم ربِ جلال کا .
اُترے گا طوق غلامی کا .
اور اب دور سُنہرا آئے گا .
محکوموں کی شاہانی کا .
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم .
بس چاہتے ہیں انصاف ہو .
تجھ سے کہتے ہیں اے رب .
گھر جمھوریت کا آباد ہو .
اے رب . ابر کرم کا برسادے .
تو ہی اپنا جلوہ دکھلا دے .
جو ہاتھ اُٹھے تیری خلقت پر .
اُسے نشان عبرت کا بنا دے .
گر نہ ملی ۔ جو برحق ہے .
اذانِ جبریل و پیمبر ہے .
پڑھ لو نوشتہءِ دیوار کو .
ہم چھین کے لیں گے آزادی .

میری پسند

سُنا تھا ” عطائے تُو بلقائے تُو ” سو  اظہرالحق صاحب نے میرے ساتھ وہی کیا ہے اور گیند واپس میری طرف پھینک دی ہے اور میری بچپن سے عادت ہے کہ میں اپنی پسند کسی کو نہیں بتاتا اور جو کام دوسرا کرے اور وہ اچھا ہو تو میں کہہ دیتا ہوں یہی مجھے پسند ہے ۔ میری اس عادت کی وجہ سے میں نے کئی بار والد صاحب [اللہ جنت نصیب کرے] سے ڈانٹ کھائی ۔ والدہ محترمہ [اللہ جنت نصیب کرے] میری اس عادت سے بہت تذبذب ہوتی تھیں گو مجھ سے باقی اولاد کی نسبت زیادہ پیار کرتی تھیں ۔ لیکن اب مجبوری ہے کیونکہ جوان کہیں گے پھنس گیا نہ بُڈھا ۔ ہی ہی ہی ہی ہی ۔

سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر مُجھے محبت ہے اور میں غلام ہوں اللہ سُبْحَانُہُ و تَعَالٰی کا جس نے مجھے بیش قیمت اور اَن گِنت نعمتوں سے نوازہ اور مسلسل نوازتا رہتا ہے ۔ اگر ہزاروں سال کی عمر پاؤں اور کُل عمر اللہ کے حضور سجدے میں گِر کر اُس کا شُکر ادا کرتا رہوں تو بھی شُکر کا حق ادا نہ ہو ۔ لیکن میں کتنا ناشُکرا ہوں کہ ایسا نہیں کرتا ۔ میری سب سے  اِستدعا ہے کہ میرے حق میں دعا کریں ۔

سب کچھ دیا ہے اللہ نے مجھ کو میری تو کوئی بھی چیز نہیں ہے
یہ تو کرم ہے میرے اللہ کا مجھ میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے

1 ۔ [پسند] مُحبت مجھے اُن جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
2 ۔ پسند ہے اور عقیدت ہے اُس ماں سے جو اپنی اولاد کو اچھی تربیت دیتی ہے
3 ۔ پسند ہے وہ باپ جو صرف رزقِ حلال کماتا ہے ۔
4 ۔ پسند ہے وہ شخص جو کسی کی دل آزاری نہیں کرتا
5 ۔ پسند ہے وہ جوان جو انسانی خدمت کیلئے آگے بڑھتا ہے
6 ۔ پسند ہے وہ بچہ یا بچی جو خلوصِ نیت سے اچھی تعلیم حاصل کرنے میں سگرداں ہے
7 ۔ پسند ہے وہ اولاد جو اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے
8 ۔ پسند ہے وہ شخص جو بغیر جتائے ضرورتمند کی مدد کرے
9 ۔ پسند ہے اور احترام ہے اُس اُستاذ یا اُستاذہ کا جو خلوص و محنت سے طلباء یا طالبات کو پڑھائے
10 ۔ پسند ہے اور عقیدت ہے ہر اُس بوڑھے مرد یا خاتون سے جو جوانوں کی صحیح سمت راہنمائی کرے

شخص سے مُراد لڑکیاں لڑکے خواتین و حضرات

جیو ٹی وی کے دفتر پر حملہ

آج بعددوپہر ساڑھے چار کے قریب جیو ٹی وی کے دفتر واقع بلیو ایریا اسلام آباد پر مسلح پولیس نے ہلہ بول دیا شیشے توڑ دئیے سٹاف کو گالیاں دی اور  زد و کوب بھی کیا ۔ دفتر کے سربراہ نے وجہ پوچھی تو اسے دھکے دیئے گئے اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کیوں دکھا رہے ہو ؟  پہلے تھوڑے پولیس والے تھے تو سٹاف نے مزاحت کی اور ڈنڈے کھاتے رہے پھر درجنوں پولیس والے آ گئے اور دفتر میں آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے ۔

اسلام آباد میں جی سکس تھری اور جی اور جی سکس فور سے لے کر شاہراہ دستور تک یعنی آبپارہ ۔ لال مسجد ۔ شاہراہ اتاترک ۔ بلیو ایریا کا مشرقی علاقہ وغیرہ میدانِ کارزار بنا ہوا ہے اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان جنگ جاری ہے ۔ پولیس آنسو گیس ۔ ربڑ کی گولیاں اور پتھر استعمال کر رہی ہے جب کہ مظاہرین پتھروں سے جواب دے رہے ہیں ۔ ہر طرف آنسو گیس کا دھوآں دھوآں ہے ۔ یہ سلسلہ جمعہ کی نماز کے بعد یعنی تقریباً 2 بجے بعد دوپہر شروع ہوا تھا ۔ سب سے پہلے قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو جمعہ کی نماز کے بعد گرفتار کیا گیا ۔ اس کے بعد تحریکِ انصاف ۔ مسلم لیگ [نواز] اورمتحدہ مجلس عمل کے کئی لیڈر اور کارکن گرفتار کئے گئے ۔ مظاہرین میں سے ایک کی پولیس تشدد سے ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور کئی زخمی ہوئے ہیں ۔

گرفتاریوں کا سلسلہ جمعرات سے ہی شروع ہو گیا تھا اور مسلم لیگ [نواز] اور متحدہ مجلس عمل کے 100 کے قریب ارکان گرفتار کر لئے گئے تھے ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد آنے والے تمام راستوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی تھی ۔ روالپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والی تمام سڑکوں کی بھی مکمل ناکہ بندی تھی ۔ اسی طرح اسلام آباد کے اندر شاہراہ دستور کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے تھے ۔ لوگ کھائیوں ۔ نالوں اور نامعلوم کہاں کہاں سے ہوتے ہوئے شاہراہ دستور کے قریب پہنچ گئے اور متواتر پہنچتے رہے ۔

آج دوپہر 12 بجے حکومت نے اسلام آباد میں انٹرنیٹ بند کر دیا تھا جو آئی ایس پیز اور کسٹمرز کے شور مچانے پر ایک گھینٹہ بعد بحال ہوا اور 3 بجے بعد دوپہر پھر بند کر دیا گیا پھر میں کمپوٹر بند کر کے ٹی وی دیکھنے لگ گیا ۔ 5 بجے کمپیوٹر چلایا تو انٹرنیٹ بحال ہو چکا تھا ۔