اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے مرکز اسلام آباد کے دل ۔ آبپارہ ۔ میں واقع لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر 2 جولائی بعد دوپہر فوج کشی شروع کی او ر اب تک جاری ہے ۔
چند یوم قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور اور صدر جنرل پرویز مشرف کے چہیتے ڈاکٹر عامر لیاقت سے ایک ٹی وی انٹرویو میں پوچھا گیا
“لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر آپریشن ہونا چاہیئے یا نہیں؟”
ڈاکٹر عامر لیاقت نے یہ جانتے ہوئے کہ حکومت اور بالخصوص اسکی اپنی جماعت ایم کیو ایم کی پالیسی سے اختلاف بہت مہنگا پڑ سکتا ہے جواب دیا
“وہ ہمارے بچے بچیاں ہیں ۔ ان کے خلاف کوئی مسلحہ کاروائی نہیں ہونا چاہیئے”
اس نے مزید کہا
” اول اور آخر راستہ مذاکرات کا راستہ ہے”
نتیجہ حسب اُمید تھا اور بہت جلد نکل آیا ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کو فوراً مستعفی ہونا پڑا ۔ اس کے باوجود جن لوگوں کی عقلوں پر پردہ پڑ چکا ہے وہ حکومت کے اس ظالمان بلکہ خونخوار اقدام کو جائز قرار دینے کیلئے مختلف بہانے گڑھ رہے ہیں ۔ اللہ ان لوگوں کو سیدھی راہ دکھائے ۔ آمین ۔