کہتے ہیں کہ ظلم حد سے بڑھ جانا ہے دوا ہو جانا ۔ ظلم تو حد سے بہت آگے بڑھ چکا ۔ اب اس کے دوا ہونے کی انتظار ہے ۔ آج لال مسجد کے چند زخمی طلباء جو تا حال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں کا کچھ احوال معلوم ہوا ۔ دو تین طلباء کے بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں اور ایک کے پیٹ میں کئی گولیاں لگی تھیں ۔ پیٹ میں گولیاں لگنے والے لڑکے کے متعلق ڈاکٹر نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ یہ اب تک زندہ کیسے ہے ۔ طلباء نے بتایا کہ جب اعلان ہوا کہ جو باہر نکلے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور 5000 روپیہ فی کس گھر جانے کا خرچہ بھی دیا جائے گا تو وہ باہر نکلے لیکن باہر نکلتے ہی ان پر فائر کھول دیا گیا جس سے کئی طلباء زخمی ہوئے اور ہو سکتا ہے شہید بھی ہوئے ہوں کیونکہ یہ لوگ زخمی ہو کر گر گئے تھے اور کسی کو ایک دوسرے کا ہوش نہ تھا ۔ جب وہاں کوئی سرکاری آدمی موجود نہ تھا تو ایک زخمی نے منت کی کہ ہمیں کسی طرح ہسپتال سے نکال لے جائیں ۔ جس زخمی کو ہسپتال والے فارغ کرتے ہیں اسے ہتھکڑیاں لگا کر پتہ نہیں کہاں لے جاتے ہیں کہ پھر اس کی کوئی خبر نہیں آتی ۔
حکومت نے اپنے ظلم کے نشانات مٹانے کیلئے دن رات کام کیا ۔ 1500 سے زائد طالبات کے جلے ہوئے جسموں کو راتوں کی تاریکی میں کسی نامعلوم غیرآباد جگہ یا کئی جگہوں پر بڑے بڑے گڑھے کھود کر دبا دیا گیا ۔ طالبات کاسامان ٹرکوں میں بھر کر مختلف غیرآباد جگوں پر پھینکا گیا ۔ مندرجہ ذیل وڈیو میں صرف ایک جگہ [جی سیون ٹو کے گندے نالے] کی چھوٹی سی جھلک دیکھئے کہ وہاں سے کیا ملا ۔ اس مقام پر بھی اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس جلد ہی پہنچ گئی تھی اور انہوں نے قرآن شریف اور حدیث کی کتابوں کے اوراق اور انسانی جسموں کے ٹکرے جو اس وقت تک لوگوں نے علیحدہ کئے تھے یہ کہہ کر اٹھا لئے کہ دفن کریں گے ۔ پھر عام آدمیوں کو وہاں سے ہٹا کر پہرہ لگا دیا گیا ۔ بعد میں بقایا ملبہ 4 ٹرکوں میں بھر کر اٹھا لیا گیا جس کے متعلق کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لیجا کر اسلام آباد کے کسی جنگل میں بکھیر دیا گیا ۔
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=Gzv0lFnwjbs]