نواز شریف گرفتار

کمانڈوز کے ذریعہ نواز شریف سے پاسپورٹ لینے کی ناکام کوشس کے بعد اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا گیا مگر اس نے حکومت کی مہیا کردہ گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دی ۔ بعد میں ارائیول لاؤنج میں تین سعودی اور سات سرکاری اہلکارو کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے ۔ نوازشریف نے حکومت کی کوئی شرط ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد نواز شریف کو گرفتار کر کے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔ ابھی معلوم نہیں کہ اسے کہاں لیجایا جائے گا

کمانڈوز جہاز میں داخل

ایک امریکی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ کمانڈوز پی آئی اے کی پروازپی کے786میں داخل ہو گئے ہیں جہاں انہوں نے نواز شریف سے ان کا پاسپورٹ طلب کیا تاہم نواز شریف نے اپنا پاسپورٹ کمانڈوز کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے نواز شریف کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

پرویز مشرف بمقابلہ نواز شریف

پی آئی اے کی پرواز جس میں نواز شریف سفر کر رہے تھے 8 بج کر 40 منٹ پر اسلام آباد اترا ۔

پچھلے ہفتہ حکومت نے راولپنڈی کے تمام تعلیمی اداروں ۔ دوسرے اداروں اور ہسپتالوں میں 10 ستمبر کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد کے بھی متعلقہ نجی اداروں نے بھی 10 ستمبر کو چھٹی کا اعلان کر دیا ۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کی ناکہ بندی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہی کر دی گئی تھی یعنی 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی رات کو ۔ کوئی عام آدمی ان شہروں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ناکہ بندی زیادہ سخت ہوتی گئی

سندھ سے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور رینجر 8 ستمبر کو راولپنڈی پہنچ گئے اور اسلام آباد ایئر پورت کے گرد 5 کلومیٹر کے علاقہ میں انہیں تعینات کر دیا گیا یعنی ایئرپورٹ کا محاصرہ ہو گیا اور علاقہ میں کرفیو کی سی صورتِ حال ہو گئی ۔ 8 ستمبر کو ہی غروبِ آفتاب کے بعد ایئرپورٹ کے علاقہ سے سوائے سول ایوی ایشن کے تمام گاڑیاں ہٹا دی گئیں ۔ اور ایئرپورٹ کی طرف جانے والے تمام راستے بلاک کر دیئے گئے ۔ گویا اس گنجان آباد علاقے کے لوگ قید ہو کر رہ گئے ۔ تمام صحافیوں کو اس پانچ کلو میٹر کے علاقہ سے نکال دیا گیا ۔

ہفتہ اور اتوار یعنی 8 اور 9 ستمبر کی درمیانی رات بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کر کے راولپنڈی اور اسلام آباد کو آنے والے تمام راستے بند کر دئیے گئے ۔ صوبہ سرحد اور پنجاب کے درمیان دریائے سندھ کا پُل بند کر دیا گیا ۔ دریائے جہلم ۔ چناب اور راوی پر بھی راولپنڈی کی طرف جانے والی سڑکیں بند کر دی گئیں ۔

پچھلے تین دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں مسلم لیگ ن کے کارکن اپنے گھروں سے گرفتار کر لئے گئے اور حکم دیا گیا کہ پاکستان کے کسی بھی حصہ میں جس کے پاس مسلم لیگ ن کا جھنڈا ہو یا نواز شریف کی تصویر ہو اسے گرفتار کر لیا جائے اگر تصویر گاڑی پر لگائی ہو تو گاڑی ضبط کر کے سواریوں کو گرفتار کر لیا جائے ۔ اس وقت تک مسلم لیگ ن کے علاوہ ان کی حمائت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور دیگر لیڈر گرفتار کئے جا چکے ہیں جن میں حماعتی جماعتوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے بیرسٹر سلطان محمود ۔ خاکسار تحریک کے لیڈر اور عیسائی لیڈر جے سالک بھی شامل ہیں

نواز شریف کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر اغواۓ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام ہو گئی ۔ ایئرپورٹ اور اردگرد 5 کلو میٹر کے علاقہ کے زبردست محاصرہ کے باوجود چند چھوٹی چھوٹی ٹولیاں جن میں وکلاء بھی شامل تھے ایئرپورٹ کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں گرفتار کر لئے گئے ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی جگہ نواز شریف کے حق میں اور حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں جن کے شرکاء پر پولیس بیدردی سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کر رہی ہے مگر منتشر کرنے میں ناکام ہے ۔ اور مظاہرین کو گرفتار کر کر کے لے جا رہی ہے ۔ اندازہ ہے کہ 3000 سے زائد کارکن گرفتار کئے جا چکے ہیں

ارتقاء ۔ انڈے سے چوزے تک

عمومی خیال یہی ہے کہ مرغی کے نیچے انڈے رکھے اور 21 دن بعد چوزے تیار ۔ سائنس ترقی کر گئی ہے جس نے مرغی کو باہر کر دیا ہے اور یہ کام ایک ڈبّے سے لیا جاتا ہے جسے Incubator کہا جاتا ہے لیکن انڈے سے چوزہ بنانا صرف اُس ذاتِ باری کا کام ہے جس نے اس پوری کائنات کی تخلیق کی ہے ۔ دوسرا کوئی ایسا نہیں کر سکتا ۔ اللہ کی قدرت انڈے کے اندر کیا تبدیلیاں لاتی ہے اس کا جزوی مشاہدہ کیجئے ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ تصاویر بنانے کیلئے کتنے درجن چوزے نکالنے والے انڈے توڑے گئے ہوں گے ۔ میرے اندازے کے مطابق ان میں 20 دن بعد والی حالت نہیں دکھائی گئی اور آخری 21 دن بعد والی حالت ہے یعنی مکمل چوزہ انڈے سے باہر ۔

Hypocrisy Defined منافقت کا الجبرا۔

سطحی نظر انسان کو حقیقت سے روشناس نہیں ہونے دیتی اور اس کی سوچ کو اس طرح ڈھال دیتی ہے کہ اسے اپنی بولی یا زبان بھی ناقص لگنے لگتی ہے ۔ یعنی ایک لفظ اس کی اپنی زبان میں بولا جائے تو اس کو فحش یا غیر مہذّب محسوس ہوتا ہے خواہ وہ خود اسی لفظ کو انگریزی میں کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہ کرتا ہو ۔ یہ بھی منافقت کی ایک قسم ہے ۔ اسی طرح میں اگر کسی فعل کو منافقت کہوں تو کئی صاحبان مجھ سے ناراض ہو جائیں گے مگر ہِپوکریسی [hypocrisy] کہنے سے ناراض ہونے کا امکان بہت کم ہو گا ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کا ذہن ایسے تخلیق کیا ہے کہ بنیادی طور پر وہ اپنا عمل اور عقیدہ یا سوچ ایک رکھنا چاہتا ہے یعنی منافقت سے دور رہنا چاہتا ہے ۔ اسی وجہ سے بچوں کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ سب بچے جنت میں جائیں گے ۔

الجبراء کے قاعدہ سے
اگر سوچ = عمل تو منافقت = صفر

منافقت کی ایک شکل یہ ہے کہ بیان کردہ عقائد کا عمل کے ساتھ ٹکراؤ ہو
منافقت کی دوسری شکل یہ ہے کہ بیان کردہ عقائد وہی نہ ہوں جو کہ حقیقی دِلی عقائد ہیں
منافقت کی تیسری شکل یہ ہے کہ حقیقی دِلی عقائد کا عمل کے ساتھ ٹکراؤ ہو

جتنی عقائد اور عمل میں تفاوت ہو گی منافقت اتنی ہی زیادہ اور گہری ہو گی

علاج

انہماک کے ساتھ حقائق کا ادراک کرنا چاہیئے
خلوصِ نیّت سے سچ کو ڈھونڈنا اور سمجھنا چاہیئے
اخلاقیات اور فرائضِ انسانی کا حقیقی ادراک کرنا چاہیئے

اسلام آبادکی بولی ۔ بازار ۔ ہسپتال اور تہوار

آج ہم اپنے ضمیر کی کی فرمائش پہ چند دیگر ادا روں کا ذکر کریں گے ۔ چونکہ ہمارے ہاں کرپشن میں بڑی یونٹی پائی جاتی ہے چنانچہ آپ کو یوں لگے گا جیسے یہ سارے واقعات آپ کے شہرکے ہی ہیں۔

انکل سرگم کے مطابق اسلام آباد ایک عجیب و غریب شہر ہے ۔ اس میں عجیب لوگ وہ ہیں جوسرکاری بنگلوں کے اند رہتے ہیں اور غریب وہ ہیں جو ان بنگلوں کے باہر رہ کر ان کی چوکیداری کرتے ہیں۔اس شہر میں کوئی کلچر نہیں دکھائی دیتاالبتہ ہارٹی کلچر ہر طرف نظر آتا ہے۔شہر میں کوئی سینما ہال نہیں لہذا لوگ تفریح کیلئے اسمبلی ہال چلے جاتے ہیں۔ شہر میں شاہی افسروں کی ریل پیل توہے مگر ریلوے اسٹیشن کوئی نہیں۔ سیاسی اڈے تو ہیں مگر بسوں اور ہوائی جہاز کا کوئی اڈہ نہیں۔ یہاں نہ رکشہ ہے نہ تانگہ ہے نہ احتجاج ہے نہ ہنگامہ ہے۔


اسلام آباد کی بولی:
چونکہ اسلام آباد میں پاکستان کے مختلف شہروں کے لوگ آباد ہیں چنانچہ ا اس شہر کی اپنی کوئی بولی نہیں، ہر کوئی دوسرے کی بولی ہی بولتاہے جس میں حاکم وقت کی بولی بولنا یہاں کے لوگ اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ الیکشن میں اسلام آباد ایک سیاسی منڈی بن جاتا ہے ،جہاں دوسرے علاقوں سے آنے والے سیاسی تاجر جمع ہو کر سیاسی گھوڑوں کی خریداری پہ اپنی اپنی بولیاں لگاتے ہیں اوراونچی بولی لگانے والے کمزور کی بولتی بندکروادیتے ہیں۔بقول انکل سرگم، اسلام آباد میں زیادہ تر حاکم وقت کی بولی کا بول بالا رہتا ہے یعنی جو حاکم وقت“ بولتا ہے وہ ”وقت کا حکم“ بن جاتا ہے۔ دیگرمسلوں کی طرح پاکستانی تماش بین بولی کے مسئلے پہ بھی یک زباں نہیں ہوسکے۔ یہاں عوام گھر میں مادری بولی بولتے ہیں، دفتری زبان انگلش ہے، قومی زبان اردو ہے، مذہبی زبان عربی ہے اور ترانہ فارسی
زبان میں ہے۔


اسلام آباد کے بازار:
سرگم کے ذاتی مشاہدے کے مطابق کراچی بیداروں کا شہر ہے، لاہور بازاروں کا اور اسلام آباد بے زاروں کا شہرکہلاتا ہے۔ یہاں بہت عرصہ پہلے والیٴ شہر یعنی چیئر مین سی ڈی اے نے ایک اتوار بازار لگوایا تھا۔ بعد میں آنے والی حکومتیں بازار میں اضافہ تو نہ کر سکیں البتہ انہوں نے دنوں میں اضافہ کیا چنانچہ اب ہفتے میں تین دن بازار گرم رہتا ہے۔ ان بازاروں کا فائدہ اُن دوکانداروں کو ہوتا ہے جنکی سبزی شہروں میں نہیں بکتی اور نقصان اُن سرکاری اداروں کو ہوتاہے جن کے افسران کی بیگمات سرکاری گاڑیوں میں سرکاری پٹرول پہ ”اتوار بازاریاں“ کرتی ہیں۔ اس بازاری لوٹ مار میں سی ڈی اے کے تنخواہ دار ملازم بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بازار سی ڈی اے کے ملازمین کے کنٹرول میں ہوتے ہیں ۔ ان ملازمین کی مٹھی گرم کرنے سے اُنکی دکھاوے کی سختی اور کنٹرول کو نرمی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں مہنگائی کے مارے لوگ ہفتے بھر کی سبزی سستی سمجھ کر خریدتے ہیں اور پھر ہفتہ بھرباسی سبزی کھاتے رہتے ہیں۔ بقول سرگم ، اسلام آباد کے بازار اتنے حسین ہیں کہ یہاں کا ہر بازار ”بازار حُسن“ لگتا ہے۔


اسلام آباد کے ہسپتال:
اسلام آباد میں چند سرکاری اور کئی بیوپاری ہسپتال ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں دعائیں کام آتی ہیں اور بیوپاری یعنی پرائیویٹ ہسپتالوں میں دوائیں۔سرکاری ہسپتال کو چند من چلے اور من جلے ’سرکاری ہنس کے ٹال‘ بھی کہہ کر پکارتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ اگر مریض چھوٹے گریڈ کا ہو تو اُسے ”ہنس کے ٹال“ دیا جاتا ہے جبکہ اونچے گریڈ کے اشرف المخلوقات کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ دی جاتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں عام مریض کا داخلہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ کسی سکول میں۔ بونگا اس بات پہ حیران ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں ”مینٹل ہاسپٹل“ کوئی نہیں ہے۔ انکل سرگم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے شہری مہنگائی سے اسقدر بے حس ہوچکے ہیں کہ انہیں نہ تو کسی حادثے سے صدمہ پہنچتا ہے اور نہ ہی کسی بات پہ خوشی محسوس ہوتی ہے لہذا جب انکے پاگل ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا تو پھرپاگل خانے کی کیا ضرورت؟ سرکاری ہسپتال میں مریض ڈاکٹر کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور ڈاکٹر چھٹی ہونے کا۔کچھ دانشمند ڈاکٹر سرکاری ہسپتال میں مریض کو ”چیک“ کرتے ہیں اور اپنی پرائیویٹ کلینک میں اُسے ”کیش“ کرجاتے ہیں۔ اس ”چیک اور کیش“ میں ڈاکٹروں کا کوئی قصور نہیں۔ ڈاکٹروں کی تنخواہیں اتنی کم ہیں کہ اگر کوئی سولہ گریڈ کا ملازم ڈاکٹر کی تنخواہ سنے تو وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجائے۔ ان سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینس کی حالت کسی چھوٹے گریڈ کے مریض کی حالت جیسی ہوتی ہے جو اپنی تنخواہ رگڑ رگڑ کے چلتی ہے۔ ایمبولینس چونکہ اسلام آباد کی سڑکوں پہ کم ہی دوڑتی نظر آتی ہے اسلئے غیر ملکیوں کو یہی لگتا ہے کہ ”بیمار کا حال اچھا ہے“۔ ان ہسپتالوں میں ”بخشیش“ کا زبانی قانون نافذ ہے جس پہ سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے۔خاکروب سے لیکر ایکسرے اور ٹیسٹ لیبارٹریوں تک بغیر بخشیش کے کام نہیں چلتا البتہ مریض چل دیتا ہے۔ بقول سرگم ، اگر اسلام آباد کے ہسپتالوں کی دن بھر کی بخشیش کو ہسپتال کے فنڈ میں جمع کرادیا جائے تو اس سے ہسپتال اور مریض دونوں اپنے پیروں پہ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ ان سرکاری ہسپتالوں میں عوام اپناسب کچھ لگاکرآتے ہیں اور اپنا سب کچھ گنوا کر جاتے ہیں۔ ا ن ہسپتالوں کے بارے میں یہ شعر مناسبت رکھتا ہے کہ “جائے گا جب یہاں سے کچھ بھی نہ پاس ہوگا، دو گز کفن کا ٹکڑا تیر ا لباس ہوگا”۔


اسلام آباد کے تہوار:
اسلام آباد میں چونکہ ابھی اپنا کوئی تہوار نہیں بنا اسلئے یہاں کے لوگ تہوار منانے اپنے آبائی شہروں کو چلے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے لوگ دوسرے ملکوں کے تہوار بڑ ے انہماک سے مناتے ہیں۔ چنانچہ مدر ڈے، فادر ڈے، گرینڈ فادر ڈے اور ویلن ٹائن ڈے، کرسمس نائٹ اور نیوٴ ایر نائٹ انکے پسندیدہ تہوار کہلاتے ہیں۔ ان کے علاوہ بڑے بڑے لوگ غیر اسلامی ملکوں کی ایمبیسوں کے خاص تہواروں اور خاص دنوں میں بھی بڑے شوق سے جاتے ہیں جہاں ٹیشو پیپر میں ڈھکے ہوئے گلاسوں میں ”مشروب ِ مغرب“پیتے ہیں جسکے اثر سے ہونے والی گفتگو کو غیر ملکی انجائے [enjoy] کرتے ہیں۔ مذہبی تہواروں میں بری امام اور گولڑہ شریف کے عرس بھی بڑے شوق و عقیدت سے منائے جاتے ہیں، جن میں غریب نوجوان نواح میں ہونے والے ڈانس، جوئے ا اور نشے سے اپنا ”شو ق او ر عقیدت“ پورا کر لیتے ہیں ۔

تحریر ۔ فاروق قیصر ۔ ۔ ۔ بشکریہ جنگ