نہ جانے کیوں

نہ جانے کیوں آج میرا دل یہ آدھی صدی پرانا گیت گانے کو چاہ رہا ہے ۔

اے میرے دل کہیں اور چل
غم کی دنیا سے دل بھر گیا
ڈھونڈ لے اب کوئی شہر نیا
اے میرے دل کہیں اور چل

چل جہاں غم کے مارے نہ ہوں
جھوٹی آشا کے تارے نہ ہوں
ان بہاروں سے کیا فائدہ ؟
جن میں دل کی کلی جل گئی
زخم پھر سے ہرا ہو گیا
اے میرے دل کہیں اور چل

چار آنسو کوئی رو دیا
پھیر کے منہ کوئی چل دیا
لُٹ رہا تھا کسی کا جہاں
دیکھتی رہ گئی یہ زمیں
چُپ رہا بے رحم یہ زماں
اے میرے دل کہیں اور چل

ماہر بلاگر کی مدد درکار ہے

ضرورت ہے ضرورت ہے ضرورت ہے ۔ ایک سمجھدار ماہر بلاگر کی جو مجھے یہ سمجھائے کہ

[1] ۔ میں اپنے بلاگ کے تبصرہ کے خانے میں لکھائی کے ڈبے ڈبے کیسے دُور کروں ؟
[2] ۔ تبصرہ کے خانے میں فونٹ کا سائز کیسے بڑا کروں ؟

میرا بلاگ ورڈپریس پر ہے ۔

کام ٹھیک ہو گیا تو میرے گھر آنے پر کھلا پلا دوں گا ۔ بصورتِ دیگر دعا دوں گا ۔

ترقی پسند حکومت کا ایک اور وار

خبر ملی ہے کہ پی ٹی سی ایل نے ملک بھر میں انٹرنیٹ ڈائل اَپ کے کال غیر محدود دورانیہ کے موجودہ نظام کو ختم کر کے نئے ریٹس کے تحت فی کال 15 منٹ کرنے کیلئے پی ٹی اے سے اجازت طلب کرلی ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کو 15 منٹ کال یونٹ چارج کی جائے گی اور فی یونٹ 21 روپے کال ریٹ مقرر کیا ہے جو ٹیکس ملا کر 24 روپے 15 پیسے ہو جائے گا ۔ یعنی ہر 15 منٹ کے 24 روپے 15 پیسے چارج ہوں گے جیسے آجکل لوکل کال کے ہر 5 منٹ کے 2 روپے 30 پیسے چارج ہوتے ہیں ۔ پی ٹی سی ایل کے اس فیصلہ پر اتھارٹی نے تمام نجی کمپنیوں سے اس حوالے سے 30 ستمبر تک سفارشات طلب کرلی ہیں ۔ اندازہ ہے کہ اس سے ملک بھر کے 45 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ صارفین کو براہ راست نقصان ہوگا اور اس سے ملک کے دور دراز علاقوں کے عوام انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے ۔

قوم کی حالت

میرے موبائل فون پر ایک پیغام آیا ہے جس کا ترجمہ حاضر ہے ۔

صدر جنرل پرویز مشرف کمانڈو نے مرغیوں کو حُکم دیا ” اگر کل تم سب نے دو دو انڈے نہ دیئے تو سب کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلباء و طالبات کی طرح فوج سے ذبح کروا دوں گا ”

دوسرے دن اس نے دیکھا کہ سب مرغیوں نے دو دو انڈے دئیے سوائے ایک کے جس نے ایک انڈہ دیا ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس کے پاس جا کر پوچھا ” تم نے ایک انڈہ کیوں دیا ؟ ”

جواب ملا “جناب ۔ جامعہ حفصہ کی طالبات کا جو حشر ہوا اسکے ڈر سے ایک انڈہ دیدیا ہے ۔ میں تو مرغا ہوں”

اِنّا لِلہِ و اِنّا اِلہِ رَجِعُون

شاہدہ اکرم صاحبہ نے 15 ستمبر کو میری بیاض کے تبصرہ کے خانہ کے ذریعہ مجھے اطلاع دی تھی کہ ان کی والدہ محترمہ کے بعد خالہ صاحب بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں ۔ میرے کمپیوٹر میں کچھ خرابی کی وجہ سے میں جلد اسے یہاں نقل نہ کر پایا ۔ شاہدہ اکرم صاحبہ کا رابطہ یہ ہے

shahidaakram@hotmail.com
shahidaakram1@gmail.com

محترم اجمل انکل اور جُملہ قارئين محترم

السلامُ عليکُم

آپ سب سے ايک دُکھ شيئر کرنا چاہتی ہُوں کہ کُچھ مرحلے ايسے ہوتے ہيں جہاں آنسُو ؤں کی برسات کے پيچھے سے اپنوں کی تسلی بہت بڑا مرہم محسُوس ہوتی ہے

” ميری ماں کے بعد ميری ماں سی بھی چلی گئ “

لکھتے ہُوۓ ہاتھ اتنی بُری طرح کانپ رہے ہيں کہ سمجھ ميں نہيں آ رہا دل زيادہ کپکپا رہا ہے يا جسم ،کوئ ايک بات نہيں ہزاروں باتيں ہيں جو ايک فلم کی طرح مُستقل چلتی رہتی ہيں امّی کے بعد اتنا آسرا تھا کہ ماں نہيں تو ماں کی جگہ ماں سی ہے جو ماں سے بڑھ کر سہارا ديتی تھيں ليکن اب لگتا ہے سب کُچھ ختم ہو گيا ہے گو ايک مُسلم ہونے کی حيثيت سے جانتی ہُوں کہ موت برحق ہے پھر بھی دل اپنے پياروں سے ہميشہ کی جُدائ کے لۓ کبھی بھی تيّار نہيں ہوتا ميں وہ لمحات کبھی نہيں بُھول سکتی کہ ميں نے ايک ہی زندگی ميں دو دفعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ماں کو جاتے ديکھا ہے ايک سا حال ايک سی سچوئيشن بہت مُشکل ہے بُھول پانا کيا کہُوں کہ بند اور کُھلی آنکھوں ميں وہ منظر ٹھہر گيا ہے دل بہت بے چين اور ازحد دُکھی ہے آپ سب سے استدعا ہے کہ دُعا کريں ميرے دل کی بے قراری کو صبر ملے،سکُون ملے

مع السلام
شاہدہ اکرم

دلچسپ حقائق

صدر جنرل پرویز مشرف نے 1961ء میں ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخلہ لیا جس کے نتیجے میں انہیں 1964 میں آرمی میں کمیشن ملی

35 سالہ سروس مد ت کے مطابق صدر پرویز مشرف 1999 میں ریٹائر ہو چکے ہیں

صدر جنرل پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998ء کوفل جنرل اور آرمی چیف بنے تھے ۔ آرمی چیف کے عہدے کی معیاد تین سال ہوتی ہے اسلئے 6 اکتوبر 2001ء کو آرمی چیف کی حیثیت سے ان کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی

صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو پیدا ہوئے اور 10 اگست 2003ء کو 60 سال کے ہوگئے تھے اسلئے انہیں ایک سویلین سرکاری ملازم کی حیثیت سے 10 اگست 2003ء کو 60 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہو جانا چاہیے تھا

ایس ایم ظفر کی کتاب کے مطابق صدر کی فوجی وردی کو تحفظ دینے والی آئینی کی دفعہ 63 ۔ 1 ۔ ڈی کو 31 دسمبر 2004ء تک نافذ العمل رہنا تھا ۔ اسلئے 31 دسمبر 2004ء کے بعد وہ وردی میں نہیں رہ سکتے تھے

صدر جنرل پرویز مشرف نے نومبر 2003ء میں پی ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ 31 دسمبر 2004ء کے بعد وہ وردی اُتار دیں گے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے کئے گئے وعدہ کو توڑ دیا

صدارتی حلف نامہ میں درج ہے کہ صدر سیاسی سرگرمیوں میں کسی بھی طور شامل نہیں ہوں گے۔

فوج کے قوانین کے مطابق کوئی فوجی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا ۔