پاکستان ٹی وی اور پاکستان ریڈیو کی تمام شاخوں پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے ۔
شاہراہ دستور پر رینجرز کا قبضہ ہے
اسلام آباد کے کئی علاقوں مین تمام ٹیلیفون بند ہونے کی اطلاع ہے
پی سی او [Provisional Constitutional Order] چیف آف آرمی سٹاف نے جاری کیا ہے ۔ صدر نے جاری نہیں کیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں باقاعدہ مارشل لاء لگ چکا ہے ۔
چیف جسٹس صاحب اور عدالتِ عظمٰی کے 8 جج صاحبان نے پی سی او کے مطابق حلف اَٹھانے یا اس پر دستخط کرنے انکار کر دیا ہے ۔
چیف جسٹس گرفتار
پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری اور بیرسٹر اعتزاز احسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
تمام موبائل فون کا بین الاقوامی رابطہ [international calls] منقطع کیا جا چکا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی وقت مقامی رابطہ [local calls] بھی منقطع کر دیا جائے گا
اسلام آباد میں انٹرنیٹ پر تمام پاکستانی ٹی وی چینلز اور پاکستانی آن لائین اخبار بلاک کر دئیے گئے ہیں
عدالتِ عظمٰی پر فوج کا قبضہ
عدالتِ عظمٰی کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دئیے گئے ہیں ۔ عدالتِ عظمٰی پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے ۔
پاکستان کے چیف جسٹس کو کہہ دیا گیا ہے کہ تماری ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ چیف جسٹس کو زبردستی سپریم کورٹ کی عمارت سے نکال دیا گیا ۔
پاکستان بار کونسل نے مارشل لاء اور ایمرجنسی کی مخالف کا فیصلہ کیا ہے
عدالتِ عظمٰی کے آٹھ ارکان کے بنچ نے ایمر جنسی کو کالعدم قرار دے دیا ہے
آئین معطل کر دیا گیا ہے
ایمرجنسی نافذ
آج مغرب کے بعد اسلام آباد میں خبروں والے تمام ٹی وی چینل بند کر دئے گئے تھے ۔ شام 6 بجے کے قریب معلوم ہوا کہ پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جس میں پرویز مشرف کو ایکسٹرا جوڈیشیل پاورز دی گئی ہیں ۔
یا اللہ ہمارےگناہ معاف فرما اور ہمارے ملک کو ان مطلب پرست شیطانوں سے بچا ۔
یا اللہ مظلوموں کیلئے رحیم و کریم اور ظالموں کیلئے جبّار و قہّار بن جا ۔
اے مددگارِ غریباں اے پناہِ بے کساں
اے نصیرِ عاجزاں اے مایہ بے مائیگاں
خلق کے راندے ہوئے دنیا کے ٹھُکرائے ہوئے
آئے ہیں آج در پہ تیرے ہاتھ پھیلائے ہوئے
خوار ہیں بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلّت میں ہیں
کچھ بھی ہو لیکن تیرے محبوب کی اُمت میں ہیں
رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا
مغربی طرز کی آزادی نسواں
ایک سروےسے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں ہر 100 میں سے 60 عورتیں دفاتر یا کام پر کسی نہ کسی ساتھی کے ساتھ خفیہ معاشقہ کرتی ہیں جن میں سے 53 کا کہنا ہے کہ وہ اس معاشقہ پر نادم نہیں ۔ 30 اپنی جنسی خواہش کام کی جگہ پر پوری کر لیتی ہیں ۔ اب باس کے ساتھ معاشقہ بھی قابل قبول ہو رہا ہے اور 75 فیصد عورتیں ایسا کرنا چاہیں گی ۔ کام پر معاشقہ کرنے والی عورتیں شراب خانوں ۔ ڈنر پارٹیوں یا انٹرنیٹ ڈیٹنگ کا سہارا نہیں لیتیں ۔
سروے کے مطابق برطانوی مرد اور عورتیں اب یورپ میں لمبے اوقات کام کرتے ہیں اور وہ جاپان سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ عورتوں کو کام پر پیٹرن میں بڑی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1992ء کے بعد سے 52 فیصد اب 48 گھنٹے ہفتہ کام کرنے کی توقع کرتی ہیں ۔ 64 فیصدکا کہنا ہے کہ وہ کام پر مرد ساتھیوں سے فلرٹ کرتی ہیں ۔ 80 فیصد کو کام پر کسی نہ کسی سے دلکشی رہی ہے ۔ ان کا ہدف اعلیٰ عہدوں پر معمور مرد ہوتے ہیں اور ان کی تعداد 61 فیصد ہے۔ جن کا معاشقہ ہوتا ہے ان میں سے بہت کم کی ملازمت ختم ہوئی ہے ۔ فلرٹ کرنے کا عام طریقہ ای میل یا چائے کے وقفہ میں ہوتا ہے ۔ 70 فیصد کے نزدیک فلرٹ کرنا کام کو دلچسپ بناتا ہے
کیا ملک میں مارشل لاء نہیں ؟
اگر آپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مارشل لاء نہیں تو یہ خبر پڑھ لیجئے ۔
حکومت ایک آرڈیننس جاری کر رہی ہے جس کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت شہریوں کاکورٹ مارشل کیاجاسکے گا ۔ آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کے تحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مزید اختیارات بھی مل جائیں گے اور وہ شہریوں کوکوئی الزام عاید کئے بغیرغیر معینہ مدت تک عبوری حراست میں رکھ سکیں گی ۔ [خیال رہے چند دن قبل کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے ایجنسیوں کے اختیارات کم کرنے کا حکم دیا ہے ]
اس بات کی تصدیق اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بدھ کے روز دی نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کی ۔ انہوں نے آرڈیننس کے آئندہ چندروز میں سامنے آنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ شہریوں کو آرمی ایکٹ کے دائرہ کا ر میں لانے کیلئے اس میں کچھ نئے جرائم کو شامل کیا جا ئیگا ۔ اٹارنی جنرل کے مطابق آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم میں ایجنسیوں کو عبوری حراست سے متعلق مزید اختیارات دیکر ان کے کردارکا ازسرنو تعین کیا جائیگا ۔ آرمی ایکٹ میں مزید جرائم کی شمولیت کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان میں اغواء ہتھیاروں کا استعمال ۔ دہشتگردی اور دیگر جرائم شامل ہیں ۔ ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیمی ایکٹ یقینی طورپر قبائلی جنگجوؤں اور دیگر لوگوں پر لا گو ہوگا ۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس معاملے سے اپنی لاعلمی کا اظہارکیا۔
سیکرٹری دفاع نے بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے یہ نہیں کہاتھاکہ ایجنسیاں کسی مخصوص مدت تک کسی بھی مشتبہ شخص کو کوئی الزام عائد کئے بغیر حراست میں رکھ سکیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دراصل امریکا اور برطانیہ کی مثال دے رہے تھے جہاں انسداددہشتگردی کے قانون کے تحت اس طرح کی حراست کیلئے مخصوص مدت کا تعین کیا گیا ہے ۔
وزارت دفاع کے ایک اوراعلی اہلکار نے سیکرٹری کے نکتہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے مزید انکشاف کیاکہ آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو وسیع تر اختیارات حاصل ہوجائیں گے جن کے تحت یہ ایجنسیاں مشتبہ افرادکو محض مخصوص مدت تک ہی حراست میں رکھنے کی پابند نہیں رہیں گی ۔ 1977ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب آرمی ایکٹ میں شہریوں کو شامل کرنے کیلئے موجودہ قانون میں ترمیم کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کورٹ مارشل کے مقدمات سے نمٹنے والے ایک وکیل نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے آرمی ایکٹ میں اس طرح کی ترمیم کو لاہورہائی کورٹ غیرقانونی قرار دے چکی ہے ۔
تصنیف اور صحافت
یہ دیباچہ ہے اس سلسلہ تحریر کا جو میں قارئین کی فرمائش پر انشاء اللہ جلد شروع کرنے والا ہوں ۔ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ مضامین لکھنے کی عادت مجھے اس وقت سے ہے جب میں نے فقرے لکھنا سیکھے تھے لیکن مجھ میں وہ خوبی پیدا نہ ہو سکی جو مصنف یا صحافی کہلانے کیلئے شائد ضروری ہوتی ہے ۔ چار دہائیاں پرانی بات ہے کہ میں نے عمیق تحقیق کے بعد ایک مقالہ لکھا جو ایک دوست کے مشورہ پر ایک مشہور رسالے میں چھابنے کیلئے بھیجا چند ہفتے بعد رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ میرا مضمون ان کے معیار پر پورا نہیں اُترتا ۔ دو تین ماہ بعد میں کسی کے گھر میں بیٹھا تھا ۔ وقت گذارنے کیلئے میز پر پڑے رسالے کو اُٹھایا اور پڑھنے لگا ۔ دیکھتا کیا ہوں کہ میرا مضمون اس میں من و عن چھپا ہے لیکن کسی اور کے نام سے ۔
ساٹھ کی دہائی میں فالتو وقت [Part-time ] میں انجیئرنگ ڈپلومہ کلاسز کو کچھ مضامین پڑھاتا تھا ۔ پھر جب میں مشین گن ڈویلوپمنٹ پراجیکٹ [Machine Gun Development Project] میں بہت مصروف ہو گیا تو یہ کام چھوڑ دیا ۔ ایک کولیگ [colleague] میرے پاس آیا اورکہنے لگا “مجھے تھیوری آف مشینز [Theory of Machines] کے اپنے نوٹس [notes] دیدیں میں نے پرچہ بنانا ہے ۔ دو تین دن میں واپس کر دوں گا”۔ تھیوری آف مشینز مشکل مضمون ہے اور میں نے بڑی محنت سے اس کے نوٹس تیار کئے تھے ۔ ایک ہفتہ کے اندر واپسی کے وعدہ پر میں نے نوٹس ان کو دیدئیے ۔ وہ نوٹس باوجود بار بار مطالبہ کرنے کے واپس نہ ملے ۔ کچھ عرصہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ موصوف نے میرے نوٹس اپنے نام سے چھپوا کر مال کمایا ۔
میں نے اپنا پہلا بلاگ ستمبر 2004 میں اور دوسرا مئی 2005 میں شروع کیا ۔ پچھلے سال سرفنگ [surfing] کرتے اپنے کچھ مضامین دوسرے بلاگز پر لکھے پائے مگر میرا حوالہ موجود نہ تھا ۔ متعلقہ بلاگرز سے استفسار کیا ۔ سوائے ایک کے کسی نے جواب دینے کی تکلیف گوارا نہ کی اور اس نے بھی یہ کہا “مجھے پسند آیا تو میں نے لکھ دیا”۔
ایک دن میں نے اپنے اردو بلاگ کے تبصرہ میں لکھا پایا “ہم آپ کا فلاں مضمون اپنے رسالہ میں چھاپ رہے ہیں۔ وقت کی کمی کے باعث آپ سے اجازت نہ لی ۔ سپیشل نمبر نکل رہا تھا ۔ اُمید ہے آپ اجازت دے دیں گے”۔ دو ماہ قبل پھر ایک اسی طرح کا تبصرہ اپنے بلاگ پر دیکھ کر میں نے تبصرہ نگار کو ای میل بھیجی کہ کم از کم اپنا اور اپنے مجلہ کا نام تو بتا دیں ۔ انہوں نے ایک امیج [image] بھیجا جسے کھولنے کی میرے پاس سافٹ ویئر [software
] نہ تھی ۔ بڑی مشکل سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر سافٹ ویئر نصب کی ۔ اتفاق سے اس پر ان کا ٹیلیفون نمبر بھی درج تھا ۔ ان سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ میرا ایک مضمون وہ کچھ ماہ قبل بھی چھاپ چکے ہیں ۔ میں نے صرف اتنا عرض کیا کہ مجھے ان دونوں پرچوں کی ایک ایک کاپی بھیج دیں ۔ انہوں نے میرا پتہ لے لیا اور بھیجھنے کا وعدہ کیا ۔ دو ماہ گذرنے کے بعد بھی مجھے کچھ نہیں ملا ۔ ہو سکتا ہے ان صاحب نے میرے مضامین اپنے نام سے چھاپ دیئے ہوں ۔ گویا میرے بلاگ پر لکھ کر انہوں نے اپنا گناہ معاف کرا لیا ۔
اللہ کے اچھے بندے بھی اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔ میرے انگریزی بلاگ پر کسی نے لکھا کہ انہیں میری کچھ پوسٹس پسند آئی ہیں اسلئے وہ اپنے بلاگ پر ان کا اپنی زبان میں ترجمہ شائع کرنا چاہتے ہیں اور میری اجازت چاہیئے ۔ میرا دل بلیوں اُچھلا اور میں فوراً ان کے بلاگ پر پہنچ گیا ۔ زبان سمجھ نہ آئی ۔ دماغ پر زور دینے سے معلوم ہوا کہ انڈونیشیا ہے ۔ میں نے اجازت دیتے ہوئے بڑی خوشی کا اظہار کیا ۔ کچھ عرصہ بعد میں نے ان کے بلاگ پر اپنے متعلق ایک مضمون دیکھا جس کی مجھے صرف اتنی سمجھ آئی کہ انہوں نے میرا اور میرے بلاگ کا تعارف کرایا ہوا تھا ۔ اس کے بعد میری ایک پوسٹ انڈونیشی زبان میں لکھی تھی اور اس پوسٹ کا میرے بلاگ سے ربط دیا تھا ۔
بھی اللہ کے بندے ہیں ۔ میں نے ایک فورم پر علم کے ایک موضوع بارے اپنی کم مائیگی کا اظہار کیا تو دو جوانوں نے مجھ سے میرا ڈاک کا پتہ مانگا ۔ ایک راولپنڈی میں رہتے ہیں ۔ ہمارے علاقہ میں راولپنڈی سے آنا ہو تو دو تین بار گاڑی بدلنا پڑتی ہے اور اس کے باوجود پیدل بھی چلنا پرتا ہے ۔ وہ بچارے نمعلوم کس طرح میرے گھر پہنچے اور تین کتابوں کا تحفہ دے گئے ۔ دوسرے صاحب کراچی میں رہتے ہیں ۔ انہوں نے ٹی سی ایس کے ذریعہ پانچ کتابیں مجھے بھیج دیں ۔ سبحان اللہ کیسے کیسے اچھے لوگ بھی پائے جاتے ہیں ہمارے وطن میں ۔ کاش میں بھی کبھی ان جوانوں کے کام آ سکوں ۔