پرویز مشرف کے حق میں مظاہرہ ؟

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے حق میں ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ مظاہرہ میں شریک بعض لوگ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کس مقصد کے لئے اسلام آباد لائے گئے ہیں۔کئی ایک مظاہرین صرف ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت پر اسلام آباد دیکھنے چلے آئے ۔

سیالکوٹ سے آنے والے نوجوانوں کے ایک ٹولے نے بتایا کہ ان کو کہا گیا تھا کہ مناکا پاکستان والے بسوں کا ایک قافلہ لے کر اسلام آباد جا رہے ہیں جس کسی نے بھی جانا ہو وہ مفت آ سکتا ہے ۔ لیکن راستہ میں ہی بس کے اوپر جنرل مشرف کے حق میں بینر لگا دیا ۔ انہوں نے بتایا کے ان کو مشرف کے حق میں ہونے والے مظاہرے کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا جبکہ ہم میں سے کوئی بھی مشرف کے حق میں نہیں بلکہ بعض کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور بعض کا مسلم لیگ نواز سے ہے ۔ اور وہ صرف سیرو تفریح کے لیے یہاں آئے ہیں ۔

فیصل آباد کی تحصیل سانگلہ ہل سے آنے والے ایک شخص نے بتایا کے مسلم لیگ ق کے مقامی رہنماء نے مساجد سے اعلانات کروائے کہ اسلام آباد میں واقع درگاہ بری امام میں حاضری کے لیے ایک قافلہ جا رہا ہے اور اس میں مفت جایا جا سکتا ہے اور کھانا بھی ملے گا ۔ لیکن یہاں پر آ کر نہ تو کھانا ملا اور نہ ہی کوئی دربار لے کر گیا بلکہ مظاہرے میں شامل ہونے کو کہا گیا اور کھانا تک نہیں ملا ۔

فیصل آباد سے آنے والے ایک نوجوان سے جب پوچھا گیا کہ وہ کس کے حق میں مظاہرہ کرنے آئے ہیں تو اس نے کہا کہ اس کو تھوڑی دیر پہلے تو یاد تھا لیکن اب یاد نہیں ہے ۔اب میں نے کافی سیر کی ہے اور نام بھول چکا ہوں۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی لیکن اسے صدر مشرف کا نام یاد نہ آ سکا ۔

سرکاری جگا ٹیکس

پرویز مشرف کو لوگوں نے قائدِ قلّت تو کہنا شروع کر دیا ہے لیکن اُس کے بڑے کارنامے پر نظر نہیں ڈالی ۔ وہ ہے سرکاری جگا ٹیکس ۔ جو صرف ایک یا دو جگہ نہیں کئی جگہ اور کئی بار وصولنے کا بندوبست ہے ۔

پاسپورٹ فیس کو مختلف بہانوں سے 10 گنا کر دیا گیا

نادرا قائم کر کے شناختی کارڈ فیس 17 گنا کر دی گئی اور شناختی کارڈ دائمی ہوتا تھا ۔ اس کی معیاد اسطرح مقرر کی گئی کہ اگر کوئی شخص 80 سال زندہ رہے تو وہ 12 دفعہ شناختی کارڈ بنوائے اور اسطرح ساری عمر جگا ٹیکس ادا کرتا رہے ۔

جب نادرا کا بنایا ہوا شناختی کارڈ متعارف کرایا گیا تو سال دو سال تک اس کے غیرمتنازع ہونے کے دعوے کئے جاتے رہے ۔ پرویزی حکومت نے پچھلے سال تمام محکموں کو حکمنامہ جاری کیا کہ نادرا کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی لی جائے اور اس کے ساتھ سائل کو نادرا سے اپنے نادرا کے بنائے ہوئے شناختی کارڈ کی تصدیق لانے کا کہا جائے ۔ نادرہ کے صرف چند دفاتر تصدیق کرنے کے مجاز ہیں ۔ چنانچہ سائل کو پہلے نادرا کی متعلقہ برانچ تلاش کرنا پڑتی ہے اور پھر لمبی قطار میں کھڑے ہو کر 50 روپے کے عوض ایک تصدیقی پرچی لینا پڑتی ہے جو ہر بار نئی لینا ہو گی ۔

اگر کسی پاکستانی کو ملک سے باہر ملازمت مل جائے تو پاسپورٹ پر ویزہ لگوانے کے بعد ضروری ہے کہ امیگریشن اتھارٹی سے منظوری لی جائے جس کیلئے فیس جمع کرانا ہوتی ہے ۔ امیگریشن اتھارٹی جانے والے کو روک بھی سکتی ہے جس سے بچنے کیلئے کسی کی مُٹھی گرم کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔

تمام اشیاء پر بشمول خوردنی اور ادویاء پر 10 سے 30 فیصد ٹیکس

پٹرول پر پٹرول کی قیمت سے 2 گنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔ خیال رہے کہ اکتوبر 1999ء میں پٹرول کی قیمت بشمول ٹیکس سوا 22 روپے فی لیٹر تھی جو کئی سالوں سے 53 روپے 77 پیسے ہے اور اب حکومت چھ سات روپے فی لیٹر بڑھانا چاہتی ہے لیکن الیکشن میں کیو لیگ کے کلین بولڈ ہونے کے ڈر سے نہیں بڑھا رہی ۔

بجلی ۔ گیس اور ٹیلیفون کے بِلوں پر 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد ہے

کہا جاتا ہے کہ انکم ٹیکس آمدن پر لگایا جاتا ہے مگر پرویزی حکومت بجلی ۔ گیس اور ٹیلیفون کے بِل جو آمدن نہیں ہوتے بلکہ خرچہ ہوتے ہیں پر جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ انکم ٹیکس بھی کئی سال سے وصول کر رہی ہے ۔

روشن خیالوں سے زیادہ روشن خیال

انصار عباسی ایک تعلیم یافتہ ۔ کُہنہ مشق اور  روشن خیال صحافی ہیں ۔ ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو میں ان پر کیا بیتی یہ ہر پاکستانی کو جاننا چاہیئے اور سوچنا چاہیئے کہ ہمیں کہاں لیجانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ جاننے کیلئے یہاں کلک کیجئے ۔

خوش قسمت

جس کے بنک اکاؤنٹ میں اور بٹوے میں رقم ہے وہ دنیا کے صرف 8 فیصد امیر ترین لوگوں میں سے ہے

جس کے والدین زندہ ہیں اور اس کے پاس ہیں وہ دنیا کے قلیل خوش اخلاق لوگوں میں سے ہے

جو شخص یہ تحریر پڑھ سکتا ہے وہ دنیا کے دو ارب لوگوں سے زیادہ خوش قسمت ہے جو کہ پڑھ نہیں سکتے

جو کسی کا ہاتھ تھام سکتا ہے ۔ کسی کو گلے لگا سکتا ہے ۔ کسی کے کاندھے پر تھپکی دے سکتا ہے اُسے مبارک ہو کہ وہ ہردم اللہ کی خوشنودی کماتا ہے

اہلیانِ جموں کشمیر کی پُکار


انشاء اللہ العزيز

ستم شعار سے تجھ کو چھُڑائيں گے اِک دن
ميرے وطن تيری جنّت ميں آئيں گے اِک دن
ميرے وطن ميرے وطن ميرے وطن ميرے وطن


ہم کيا چاہتے ہيں ؟

آزادی آزادی آزادی

آج یومِ یکجہتیءِ جموں کشمیر ہے

یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا ۔ میں پہلے اس سلسلہ میں کئی بار لکھ چکا ہوں ۔

1 ۔ جموں کشمیر آزاد کیوں نہ ہوا ۔ پہلی قسط ۔ دوسری قسط اور تیسری قسط
2 ۔ یومِ یکجہتی ءِ جموں کشمیر کیوں منایا جاتا ہے

سروے کیا کہتا ہے

میری ایک تحریر پر ابو شامل صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام کرائے گئے ایک سروے کا حوالہ دیا ۔ اس ویب سائٹ پر دیئے گئے اعداد و شمار کو آسان فہم بنا کر میں نے اپنے بلاگ “حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ Reality is Often Bitter پر شائع کیا ہے ۔ ان اعداد و شمار کا پاکستان میں متعلقہ واداتوں کے ساتھ موازنہ کرنے پر ہی معلوم ہو گا کہ ہمارے مُلک کا کیا حال ہے ۔