اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق

اِنّا لِلہِ وَ اِنّا اِلیہِ راجِعُون

اسلام آباد کے کل کے دھماکے کے کچھ پریشان کُن حقائق ہیں مگر اس سے پہلے وقوعہ کا مختصر خاکہ ضروری ہے ۔ اربابِ اختیار کو اب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی عینک اُتار کر شفاف عینک پہننا ہو گی تاکہ وطنِ عزیز کی تباہی میں کوشاں اصل مُجرموں تک پہنچ سکیں ورنہ “دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے نعرے لگاتے لگاتے ۔ اللہ بچائے ۔ یہ مُلک خس و خاشاک ہو جائے گا ۔ اللہ بچائے ۔

امریکہ کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ جب سے شروع ہوئی ہے میرا وطن آئے دن آگ اور خون سے نہا رہا ہے اور انسان اور انسانیت کے چیتھڑے اُڑ رہے ہیں ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ اس کا شکار معاشی لحاظ سے درمیانے اور نچلے طبقہ کے ہموطن ہو رہے ہیں ۔ پرائی آگ میں اپنے وطن کو جھونکنے والے حکمران پہلی ہی سوچ میں ہر دھماکہ کا ذمہ دار طالبان ۔ انتہاء پسندوں یا عسکریت پسندوں کو ٹھہرا دیتے ہیں اور بیان داغتے ہیں جو ذرائع ابلاغ کو تو چارہ مہیاء کر دیتے ہیں لیکن دھماکے پر دھماکہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

“انتہاء پسندو ں یا عسکریت پسندوں یا دہشتگردوں سے سختی سے نبٹا جائے گا ”
“دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی”

20 ستمبر 2008ء کا سورج غروب ہوتے ہی ہم نے روزہ افطار کیا اور مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر ٹی وی لگایا کہ خبریں سُنی جائیں ۔ کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ایک زوردار آواز سے ہم اُچھل پڑے ۔ میں گھر سے باہر نکلا کہ دیکھوں کیا ہوا ۔ کچھ پتہ نہ چلا ۔ چھوٹا بھائی مُلحقہ مکان میں رہتا ہے اسے پوچھا “یہ کیا آواز تھی ؟” وہ بولا “بہت زوردار آواز تھی ۔ ضرور کہیں قریب ہی دھماکہ ہوا ہے”۔ میں واپس آ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پٹی آئی “اسلام آباد میں دھماکہ”۔ پھر لمحہ لمحہ بعد خبریں آتی رہیں اور واضح ہوا کہ اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان میں محفوظ ترین سمجھا جانے والے میریئٹ ہوٹل کے گیٹ کے پاس دھماکہ ہوا ہے ۔ ہمارے گھر سے میریئٹ ہوٹل تک سیدھی لکیر کھنچی جائے تو فاصلہ ساڑھے چار یا پانچ کلو میٹر بنتا ہے ۔ بیچ میں عمارات اور درخت ہیں جو دھمک اور آواز کو جذب کر لیتے ہیں پھر بھی دھمک اتنی شدید تھی کہ دل نے کہا “یا اللہ خیر”۔

پریشان کُن حقائق

1 ۔ ایک چھوٹی گاڑی آ کر میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر لگے بیریئر سے ٹکرائی ۔ اس میں سے ایک شخص نکل کر چیخا

“جس نے نکلنا ہے نکل جائے ۔ تم لوگوں کے پاس صرف تین منٹ ہیں”۔

اس کے بعد سائرن کی آواز گونجی اور تین منٹ بعد ایک ڈَمپَر [dumper] ٹرک ہوٹل کے گیٹ کے سامنے رکھے کنکریٹ کے بلاکس [concrete blocks] سے ٹکرایا ۔ اُس کے انجن سے آگ نکلی ۔ پھر اُس پر لَدے ڈبوں سے شعلہ بلند ہوا اور ساتھ ہی قیامت خیز دھماکہ ہو گیا ۔ سڑک پر پندرہ فُٹ گہرا اور پچیس تیس فُٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا اور چاروں طرف انسانی اعضاء بکھر گئے
[ترمیم ۔ چھوٹی گاڑی جو پہلے داخل ہوئی وہ بیریئر سے نہیں ٹکرائی ۔ وہ ہوٹل کی گاڑی تھی تیزی سے آئی اور ایک دم سے بیریئر کھول کے بند کر دیا گیا ۔ نکل جانے کا اعلان ہوٹل کی سکیورٹی والے نے کیا اور سائرن بھی بجایا ۔ ڈمپر ٹرک کیلئے بیریئر نہ کھولا گیا اور وہ اس ڑکرا گیا ۔ ہوٹل کی سکیورٹی والے ٹرک کی آگ بجانے کی کوشش کرتے رہے اور سب سب شہید ہو گئے]

2 ۔ دھماکے کی وجہ سے قدرتی گیس کا پائپ پھٹنا اور آگ لگنا تو عین ممکن ہے لیکن پریشان کُن حقیقت یہ ہے کہ آگ جس کمرے سے شروع ہوئی وہ پانچویں منزل [4th floor] پر ہے اور ہوٹل کے کمروں میں گیس کی سپلائی نہیں ہے کیونکہ ٹھنڈا اور گرم کرنے کا نظام مرکزی [4th floor] ہے ۔ صرف چند دن پہلے کے ایک واقعہ کا اس سے گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے ۔

جس دن امریکی ایڈمرل مائیک میولن وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی اور دیگر سے ملے تھے اُسی دن آدھی رات کے وقت امریکی سفارتخانے کا ایک بڑا سفید ٹرک میریئٹ ہوٹل آیا تھا ۔ اس ٹرک سے آہنی صندوق اُتارے گئے اور انہیں میریٹ ہوٹل کے اندر منتقل کر دیا گیا ۔ اس کاروائی کے دوران ہوٹل کے دونوں مرکزی دروازے بند کردیئے گئے تھے اور امریکی میرینز [American Marines] کے علاوہ کسی کو ٹرک کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ یہ صندوق ان سکینرز [scanners] سے بھی نہیں گزارے گئے تھے جو کہ ہوٹل کی لابی [lobby] کے داخلی راستے پر نصب تھے ۔ ان بکسوں کو ہوٹل کی پانچویں منزل [4th floor] پر منتقل کر دیا گیا تھا ۔ ان صندوقوں میں کیا تھا ؟ ان کو اندر لیجانے کیلئے سارے سکیورٹی سسٹم کو کیوں معطل کیا گیا ؟ ان کو ہوٹل میں لیجانے کا مقصد کیا تھا ؟ کیا پانچویں منزل کے کمرہ میں آگ لگنے کا سبب ان صندوقوں کے اندر تھا ؟

3 ۔ کچھ دن قبل خفیہ والوں نے وزارتِ داخلہ کو مطلع کیا تھا کہ اسلام آباد میں خاص طور پر 20 ستمبر کو دہشتگردی کی بڑی کاروائی متوقع ہے ۔ اس کاروائی میں ایک ٹینکر استعمال ہو گا جس کے آگے ایک چھوٹی گاڑی ہو گی ۔ وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی تھی اور خاص کر 20 ستمبر کو کوئی ٹینکر اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروائی اسلام آباد کے اندر ہی سے کی گئی ۔ اتنا ہائی ایکسپلوسِو مواد [High Explosive material] کہاں سے آیا ؟

4 ۔ غیر ممالک سے آنے والے تاجر اور کارخانہ دار یا دوسرے سرمایہ کار میریئٹ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں ۔ سرمایہ کاروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اس ملک میں آپ کے سرمائے اور آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔ یہ سب کچھ وطنِ عزیز کو معاشی لحاظ سے تباہ کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ عراق اور افغانستان کو تو فوجی طاقت سے تباہ کیا گیا جس میں تباہ کرنے والوں کا مالی کے ساتھ بہت سا جانی نقصان بھی ہوا ۔ پاکستان کو بغیر اپنی فوجی قوت کو استعمال کئے تباہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے ۔

5 ۔ اطلاع واضح طور پر مل چکی تھی اور پارلمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر پولیس ۔ خفیہ والے اور ٹرِپل ون بریگیڈ [Brigade-111] کے کمانڈو تعینات کر دیئے گئے تھے لیکن عوام کو بالخصوص بڑے ہوٹلوں یا دوسری عمومی جگہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔

پڑے پالا مریں غریب ۔ پڑے گرمی مریں غریب
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
میرے مولا تو ہی بتا ۔ میں کس سے کروں شکوہ
میں کدھر جاؤں تیرے سوا ۔ کس سے مدد مانگوں
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
تو رحیم ہے کریم ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہءِ مزدور کے اوقات

موت کی تیاری

معاندانہ پروپیگنڈہ اور کج بحثی تو ہمیشہ سے ہے لیکن وطنِ عزیز میں ہموطن اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف صرف یہ نہیں کہ معاندانہ اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں بلکہ بغیر کسی ثبوت کے اس پر بحث بھی کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں ایک پڑھے لکھے اور بظاہر ذہین جدّت پسند شخص نے میرے داہنے بائیں اُوپر نیچے تیز و طرار جملے اس طرح مارنے شروع کئے جیسے پولیس تھانے میں کسی بے سہارا آدمی سے ناکردہ گناہ کا اقبالِ جُرم کروایا جاتا ہے ۔ میں نے اُنہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ گویا ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے اور کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھے ۔ چند لمحوں میں اُنہوں نے مدعی ۔ وکیل اور مُنصف کا کردار ادا کرتے ہوئے فیصلہ بھی سُنا دیا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ طالبان اور دہشتگرد ہیں وہ تعلیم ۔ ترقی اور عورتوں کے دُشمن ہیں انہوں نے لڑکیوں کے سکول جلا دئیے ہیں ۔

میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوا کہ میری معلومات محدود ہیں ۔ تعلیم اور سائنس کے سہارے جدید لوگ چاند اور مریخ سے ہوتے ہوئے آسمان کے پاس پہنچ گئے ہوئے ہیں اور میں ابھی تک کسی غار میں بیٹھا پتھروں سے کھیل رہا ہوں ۔ اُن پڑھے لکھے سائنسی جدّت پسند روشن خیال صاحب کے جانے کے بعد میں نے اپنا کمپیوٹر چلایا اور لگا انٹرنیٹ کھنگالنے ۔ میری تو پریشانی اور بڑھی جب میں نے دیکھا کہ تعلیمیافتہ اور باعلم ہونے کے دعویدار کئی بلاگرز کی تحاریر اور دنیا بھر کے اخبار بھی متذکرہ بالا تاءثر لئے ہوئے تھے

غیروں کو تو کیا کہنا کہ آخر غیر ہیں ۔ اپنے ہموطنوں کے باعلم ہونے کے دعویدار جدت پسند گروہ کے جاہلانہ رویّہ پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے ۔ ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ آج تک وزیرستان اور باجوڑ سمیت کسی قبائلی علاقہ میں کوئی سکول نہیں جلا اور نہ طالبان نے کوئی سکول جلایا ہے ۔ جو سکول جلے ہیں یا جلائے گئے ہیں وہ سوات کے سَیٹلڈ [settled] علاقہ میں واقع ہیں جو صوبہ سرحد کی حکومت کے زیرِ انتظام ہے جبکہ قبائلی علاقے براہِ راست وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہیں ۔ اس حقیقت سے متعلقہ وفاقی وزیر بھی متفق ہیں ۔

قبائلی علاقوں میں لڑی جانے والی احمقانہ جنگ میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں محبِ وطن اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور سب پاکستانی ہیں ۔ یہ جنگ وطن کو محفوظ بنانے کی بجائے پوری قوم کو تیزی سے تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور فائدہ صرف پاکستان کے دشمنوں کو ہو رہا ہے ۔

جس طرح سے وطنِ عزیز میں بے بنیاد اور معاندانہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قوم خود اپنی قبر کھود کر اس میں دفن ہو جانے کی تیاری بڑے زور شور سے کر رہی ہے ۔

اللہ ہمارے حکمرانوں اور عوام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے اور سیدھی راہ پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین

قوم کے سوداگر

میں شاید ساتویں جماعت میں تھا [آج سے 57 سال قبل] جب میں نے ایک کتاب بعنوان ” قوم کے سوداگر ” پڑھی تھی ۔ مجھے یاد نہیں کہ یہ کوئی تاریخی واقعہ تھا یا کہانی اور نہ ہی مصنف کا نام یاد ہے کیونکہ اس واقعہ یا کہانی کو میرے ذہن نے قبول نہ کیا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کا سربراہ جو اسی قوم کا فرد ہے اپنی ہی قوم کو غیروں کے ہاتھ بیچ سکتا ہے ۔ میرا متذکرہ تصوّر آہستہ آہستہ متزلزل ہونے لگا ۔ متعلقہ واقعات کی تاریخ طوالتٍ تحریر کا باعث بنے گی اسلئے اسے کسی اگلی نشست کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں ۔ آج صرف اُس مطلق العنان آمر کی بات جس نے ۔ قومے فروختند و جہ ارزاں فروختند ۔ کے مصداق اندر ہی اندر قوم کا سب کچھ غیروں کو نہیں بلکہ دشمنوں کو بیچ دیا ۔ میں اُن 600 سے زائد بیگناہ پاکستانیوں کی بات نہیں کر رہا جو پانچ یا چھ ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے امریکہ کو فروخت کئے گئے ۔ اور نہ اُس آگ کی جس میں ملک کا شمال مغربی سرحدی علاقہ ۔جھونک دیا گیا اور اس کے نتیجہ میں ہزاروں بیگناہ فوجی ۔ امن پسند سویلین اور پاکستان کے خیرخواہ قبائلی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ بلکہ یہ خبر ان سب خبروں سے بھیانک ہے اور پرویز مشرف ہماری قوم کا بستر ہی گول کرنے کا بندوبست کر گیا ۔

کل اور آج کی خبریں پڑھ کر شاید کوئی قاری یہ سوچے کہ ایسا اچانک ہو گیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ آج سے سوا تین سال قبل میں نے اپنی ایک تحریر میں پیشگوئی نہیں بلکہ پرویز مشرف کے اقدام کا منطقی نتیجہ [logical or calculated result] بیان کر دیا تھا ۔ بہت پرانی ضرب المثل ہے

اب پچھتائے کیا ہوئے جب چڑیاں چُگ کئیں کھیت ۔

زیرِ نظر خبر

بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی روکے جانے کے معاملے پر اجلاس وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا ۔ اجلاس میں انڈس واٹر کمشنر، چیئرمین واپڈا، چیئرمین ارسا اور وزارت کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت نے بگلیہار ڈیم میں پانی ذخیرہ کر کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف وزی کی ہے، یہ معاملہ انڈس واٹر کمیشن کی سطح پر اٹھایا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈس واٹر کمشنر بگلیہار ڈیم کا دورہ بھی کریں گے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بند نہ کی تو ثالثی عدالت سے رجوع کرنے اور غیر جانبدار مبصرین کی تعیناتی کے آپشن موجود ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصان کے ازالے کے لئے بھارت سے پانی کے بدلے میں پانی یا معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا

مندرجہ بالا بیان کی حثیت شعیب صفدر صاحب کی تحریر کردہ فارمیلیٹی [formality] سے زیادہ کچھ نہیں ہے

اب پڑھیئے میری 27 جون 2005ء کی تحریر سے اقتباس

جو کھیل ہماری حکومت اپنے آقاؤں [امریکی حکومت] کے اشارہ پر کھیل رہی ہے اس کا ذاتی فائدہ پرویز مشرف کو اور سیاسی فائدہ بھارت کو ہو رہا ہے ۔ نہ صرف جموں کشمیر کے لوگ بلکہ پاکستانی عوام بھی خسارے میں ہیں ۔ پرویز مشرف نے یک طرفہ جنگ بندی اختیار کی جس کے نتیجہ میں ۔ ۔ ۔

بھارت نے پوری جنگ بندی لائین پر جہاں دیوار بنانا آسان تھی وہاں دیوار بنا دی باقی جگہ کانٹے دار تاریں بچھا دیں یعنی جو سرحد بین الاقوامی طور پر عارضی تھی اسے مستقل سرحد بنا دیا ۔

سرحدوں سے فارغ ہو کر بھارتی فوجیوں نے آواز اٹھانے والے کشمیری مسلمانوں کا تیزی سے قتل عام شروع کر دیا اور متواتر روزانہ دس سے بیس افراد شہید کئے جارہے ہیں ۔ معصوم خواتین کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں اور گھروں کو جلا کر خاکستر کیا کیا جا رہا ہے ۔ کئی گاؤں کے گاؤں فصلوں سمیت جلا دیئے گئے ہیں ۔

بگلیہار ڈیم جس پر [تحریکِ آزادی کی وجہ سے] کام رُکا پڑا تھا جنگ بندی ہونے کے باعث بھارت بڑی تیزی سے تقریبا مکمل کر چکا ہے اور تین اور ڈیموں کی بھی تعمیر شروع کر دی گئی ہے ۔

اللہ سبحانہ و تعالی ہماری مدد فرمائے اور ایسا نہ ہو آمین مگر آثار یہی ہیں کہ جب متذکّرہ بالا ڈیم مکمل ہو جائیں گے تو کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر دے گا اور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک لے گا ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرویز مشرف نے منگلا ڈیم کو دس میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی اُمید نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اُونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ کیوں ضائع کیا جا رہا ہے ؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔ ایک ضمنی بات ۔ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اُونچائی سے دس میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962ء میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی سیفٹی [safety] کو مدنظر رکھتے ہوئے اُونچائی دس میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اُونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو کسی کی پرواہ نہیں ۔

ہِبہ

دیکھنے میں آیا ہے کہ لفظ “ہِبہ ” کا کئی دوسرے الفاظ کی طرح غلط استعمال کیا جانے لگا ہے ۔ یہاں تک کہ ہِبہ نام کی دُکانیں تک کھول دی گئی ہیں جن میں ہِبہ نہیں ہوتا بلکہ چیزیں فروخت کی جاتی ہیں ۔ کچھ بے عقل لوگ اپنی بہن یا بیٹی کسی کے حوالے کر کے اسے ہِبہ کا نام دیتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ۔

ہبہ وہ چیز ہے جو ایک شخص کی خالص اپنی ملکیت ہو اور وہ بغیر معاوضہ اور بغیر کسی لالچ کے دوسرے شخص کی ملکیت میں دے دے خواہ لینے والا شخص مالدار ہو یا غریب ۔

اگر کوئی شخص اپنا قرض مقروض کو ہِبہ کر دے تو مقروض کا وہ قرض معاف ہو جاتا ہے اور قرض دینے والا پھر اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ۔

عورت اپنے خاوند کو حق مہر اپنی مرضی سے معاف کر دے تو یہ ہِبہ کہلاسکتا ہے

ہبہ نہ تو صدقہ ہے اور نہ ہدیہ ۔

صدقہ صرف مستحق یعنی غریب کو صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے دیا جاتا ہے

ہدیہ آپس کے تعلقات قائم کرنے یا بہتر بنانے کیلئے دیا جاتا ہے ۔ کسی ناحق مطلب براری کیلئے نہیں

ہبہ اور ہدیہ میں ایک قدرِ مشترک ہے کہ رشتہ دار بشمول بیوی یا خاوند ۔ دوست محلے دار وغیرہ کو کوئی چیز ہبہ کر سکتے ہیں اور تحفہ یعنی ہدیہ بھی دے سکتے ہیں ۔ ان میں دینے اور لینے والا مالدار بھی ہو سکتا ہے اور غریب بھی ۔ یعنی ایک گداگر بھی کسی مالدار کو کوئی چیز ہبہ کر سکتا ہے یا ہدیہ دے سکتا ہے ۔

ایک بار جو چیز ہِبہ کر دی جائے اس کا واپس لینا ممنوع ہے

ہِبہ نام بھی رکھا جاتا ہے جس کے معنی اللہ کا دیا ہوا تحفہ لئے جاتے ہیں ۔

اسماء الحسنہ میں ایک وہاب بھی ہے جس کے معنی ہیں ہِبہ کرنے والا

اشیاء ۔ مال اور مویشی ہِبہ کئے جا سکتے ہیں انسان نہیں

تن آسانی دُشمن ہے خودداری و غیرت کی

کچھ روز قبل ٹی وی پر ایک با ہمت اور خوددار لڑکے کودیکھ یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔ خودداری اور غیرت وہ صفات ہیں جو انسان کو بلند و بالا کر دیتی ہیں لیکن ہماری قوم ہولناک گہرے کھڈ کی طرف پھسلتی جا رہی ہے ۔ ہموطنوں نے خودغرضی کو غیرت کا نام دے دیا ہے اور وطنِ عزیز میں [جھوٹی] غیرت کے نام پر قتل کے واقعات نے غیرت کا تصور ہی مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔

وطن عزیز میں ہمیں ہر گلی ہر سڑک پر بھکاری نظر آتے ہیں ۔ عورتیں مرد بچے ۔ جن کو اللہ تعالٰی نے کامل جسم کے ساتھ صحت بھی دی ہوتی ہے لیکن وہ محنت کرنے کی بجائے بھیک مانگتے ہیں ۔ ان کے مختلف عُذر ہوتے ہیں جو درُست بھی ہو سکتے ہیں ۔ کوئی اپنے آپ یا اپنے باپ یا ماں کو مریض بتاتا ہے تو کوئی ملازمت یا مزدوری نہ ملنے کا بہانہ بناتا ہے ۔

یہ عِلّت صرف وطنِ عزیز ہی میں نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں بھی ہے مگر بھیک مانگنے کے طریقے مختلف ہیں ۔ مثال کے طور پر یورپ میں بھیک مانگنا چونکہ جُرم ہے وہاں بھکاری کوئی ساز لے کر بازار میں بیٹھ جاتا ہے ۔ اپنے سامنے ایک کپڑا بچھا دیتا ہے اور ساز بجانا شروع کر دیتا ہے ۔ لوگ بھیک دینے کی بجائے اسے موسیقی کا نذرانہ دیتے ہیں گو سب جانتے ہیں کہ وہ بھیک مانگ رہا ہے اور وہ بھیک دے رہے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ٹوپی اُلٹی کر کے خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں اور راہگذر اس میں کچھ ڈالتے رہتے ہیں ۔

اب بات اللہ کے خود دار اور غیرتمند بندوں کی ۔یہ لوگ جو کہ تعداد میں اتنے کم ہیں کہ انگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں بلند ہمت اور مضبوط قوتِ ارادی سے اپنی مجبوریوں پر فتح پالیتے ہیں ۔ انہیں دیکھ کر آدمی ماشاء اللہ اور سُبحان اللہ کہتے ہوئے اپنے اعضاء سلامت ہونے پر اللہ کا شکر ادا نہ کرے تو اَس جیسا بدقسمت کم ہی ہو گا

کچھ روز قبل ٹی وی پر ایک لڑکے کو دکھایا گیا جس کے دونوں بازو کٹے ہوئے تھے اور وھ کٹے ہوئے بازوؤں کے سِروں میں قلم دبوچ کر لکھ رہا تھا ۔ ماشاء اللہ سُبحان اللہ و الحمد للہ رب العالمین

دس بارہ سال قبل میں نے ایک ایسا شخص دیکھا تھا جس کے دونوں بازو کُہنیوں کے اُوپر سے کٹے ہوئے تھے اور وہ سلائی کا کام کرتا تھا ۔ ایک پاؤں سے وہ کپڑے کو قابو رکھتا اور دوسرےپاؤں سے سلائی کی مشین چلاتا جس میں بجلی کی موٹر نہیں لگی تھی ۔ وہ بائیسائکل بھی اس طرح چلاتا تھا کہ ایک پاؤں سے ہینڈل کو سنبھالتا اور دوسرے سے پیڈل کو گھماتا ۔ وہ پاؤں کی انگلیوں میں قلم پکڑ کر لکھ بھی لیتا تھا ۔ ماشاء اللہ سُبحان اللہ و الحمد للہ رب العالمین

فرق صرف سوچ کا ہے

زندگی 10 فیصد وہ ہے جو کوئی شخص بناتا ہے اور 90 فیصد وہ جو اس شخص کی سوچ ہوتی ہے ۔

ایک شخص کا بیان کردہ واقعہ جس نے اس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا

میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا ۔

بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا ۔

میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا “اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا ؟”

ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے ۔ ”

میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے ۔

مسلمانوں پر امریکی حملہ کی خُفیہ اجازت ؟

امریکن ری پبلیکن پارٹی نے اپنے سیاسی حریف جماعت امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دینے کیلئے تخلیقی [produced or manufatured] القاعدہ و طالبان تحریک کی جو سیاسی حکمت اپنا رکھی ہے کہ اس تحریک کو تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ عوام کو ڈرانے و دھمکانے کیلئے اجاگر کیا جاتا ہے۔ اور پھر اس سے عالم کے مسلمانوں پر رعب جمانے کیلئے اس کا دھشت گرد چہرہ پیش کرکے اس پر زبردشت حملہ کردیا جاتا ہے۔ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ملکوں کو امداد کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ تخلیقی القاعدہ و طالبان تحریک کو پوری دنیا میں زندہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس امداد کی حصولیابی کیلئے ملکوں میں مداخلت کرکے ان ملکوں کو مذکورہ تحریک سے تحفظ کے نام پر وہاں اپنی افواج مسلط کرکے اپنی افواج کی تنخواہوں کا بوجھ ان پر ڈال کر ۔ دی گئی امداد سے سات گنا زیادہ وصول کرلیا جاتا ہے۔ امریکہ کی نصف افواج کا خرچہ بیرونی ملکوں سے اس کو حاصل ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی امداد کا بدل خوبصورت طریقہ سے واپس لے لیتا ہے۔ ہر دو یا تین سال بعد کسی نہ کسی ملک کے حصہ کی پنجرہ نما آزادی دلانے کی تحریک سرگرم عمل ہوتی ہے۔ اور وہ تحریک اس پنجرہ نما ملک میں امریکی افواج کی تعیناتی سے ہوتی ہے۔ پھر اس پنجرہ نما آزادی والے ملک کے پنجرہ کو اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر ٹانگ دیا جاتا ہے۔ اور اس کا انسانیت کے خون سے لت پت جھنڈا اقوام متحدہ کے دفتر پر لہراتا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکن ری پبلیکن پارٹی نے کامیاب حریت کی ڈکیتی کو پایہ تکمیل تک پہنچادیا ہے۔

مذکورہ ملکوں کے حصہ کے لوگوں کے پَر کُتر کر ا س پنجرہ نما آزادی کے اس خوبصورت پنجرہ میں آزادی کے نام پر قید کردیا جاتا ہے۔ وہ وہاں سے بھاگنے کی جسارت نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ وہ اب اڑنے کے قابل بھی نہیں رہے ہوتے۔ ان کو آزادی کے نام پر معاہدے کرکے اپنی خدمات کی طویل فہرست ان کے سامنے رکھ دی جاتی ہے۔

امریکن ری پبلیکن پارٹی تخلیقی دھشت گردی کے عنوان سے پنجرہ نما آزادی کو پکاتی ہے۔ دلائی لامہ ، یاسر عرفات ، میر واعظ طرح کے لوگ اس بے نظیر تحریک کے ساتھ پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنے اپنے ملکوں کے حصوں میں امریکہ کیلئے فصل تیار کرتے ہیں۔ اور اس فصل کو امریکہ کی قیادت پنجرہ نما آزادی کے عنوان سے کاٹ کر لے جاتی ہے۔ اس لئے دھشت گردوں و دھشت گردی کا وجود ایک طے شدہ حکمت عملی ہے۔ جو امریکہ کو دھمکیاں دینے کیلئے وجود میں لائی جاتی ہیں۔ القاعدہ و طالبان کے یہ تخلیقی دھشت گرد تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ کو جب دھمکیاں دیتے ہیں۔ تو پتہ چلتا ہے۔ کہ یہ اسی کی خوبصورت حکمت عملی ہے۔ اور اس حکمت عملی کی زد پر مسلمان ہیں ۔ اور پھر ان پر امریکی حملوں کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

امریکن ری پبلیکن پارٹی نے اپنے سیاسی حریف جماعت امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دینے کیلئے تخلیقی طور پر القاعدہ و طالبان کا پلان تیار کیا گیا کہ افغانستان کے پہاڑی علاقے اور پاکستان کے قبائلی علاقے پر مذکورہ جماعت کی قیادت کے حکم پر امریکہ کے صدارتی الیکشن سے عین قبل شدید و بھیانک حملہ ہوگا۔ اس سے قبل مشق کے طور پر چھوٹے موٹے حملے ہوتے رہیں گے۔ اور ان حملوں کیلئے افغانستان اور پاکستان کی سرکاروں سے منظوری لی جائے گی۔

اب اُگائی کا وقت ہے۔ یہ اگائی کا سلسلہ شروع ہوا ہی تھا کہ پاکستان میں جمہوری انقلاب کی آمد سے حالات بدل گئے۔ پاکستان کی نئی حکومت اس حکمت عملی میں امریکہ کا ساتھ دینے سے پرہیز کررہی ہے۔ اس لئے کہ اس پر میاں نواز شریف صاحب اور وہاں کے عوام کا
زبردشت دباؤ ہے کہ امریکہ کو مسلمانوں پر حملہ کی اجازت کسی طور پر نہ دی جائے۔

تخلیقی القاعدہ وطالبان تحریک امریکن ری پبلیکن پارٹی کا محض ایک تخلیق [product] اور سیاسی پروپیگنڈہ ہے۔ اس پروپیگنڈے کی تشہیر کیلئے الجزیرہ کے عربی چینل کو وجود میں لایا گیا ہے۔ اس خاص فائدے کے تحت مسٹر جارج بش کی ہدایت پر امریکہ میں خصوصی طور پر الجزیرہ کا انگریزی چینل قائم ہوا۔ جہاں سے تخلیقی کیسٹوں کے ذریعہ القاعدہ وطالبان کی دھمکیاں میں منظر عام پر آئیں۔ منصوبہ بندی ہوئی کہ تخلیقی القاعدہ و طالبان کو امریکہ پر حملہ آور دِکھاکر پاکستان و افغانستان کے علاقوں پر حملے کئے جائیں جس سے امریکی عوام کو اپنا ہمنوا بناتے ہوئے مسٹربارک اوبامہ کی امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو اس ایشو کو سامنے رکھ کر شرمناک شکست دی جاسکے ۔

اس حکمت میں تعاون کیلئے پاکستان کا اشتراک ضروری تھا۔ اس کیلئے پاکستان کا جمہوری اتحاد کمزور کیا گیا۔ اور حالات ایسے پید ا کئے گئے۔ کہ نواز لیگ حکومت سے از خود ہی الگ ہوجائے۔ عوام کی بھرپور مخالفت کے نتیجہ میں پرویز مشرف کو اقتدار سے اس لئے الگ کیا گیا کہ اس کی جگہ پی پی پی کو ملے اور پی پی پی سے اعلانیہ نہیں تو خفیہ مفاہمت ہوسکتی ہے ۔ اور یہ خفیہ مفاہمت کا ہی نتیجہ ہے۔ کہ پاکستان کے مذہبی مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں۔ ان حملوں کیلئے خفیہ اجازت پی پی پی کی حکومت نے امریکہ کو دے دی ہے۔ گویا اب مسٹر آصف علی زرداری کی جماعت مسٹر بارک اوبامہ کو شکست دینے کے لئے مسٹر جارج بش کے ساتھ کھڑی ہے۔اسی لئے ان کو صدارت کے عہدہ کا تاج مسلمانوں پر حملہ کرانے کیلئے پہنایا جارہاہے۔

بہر حال حکومت پاکستان کی طرف سے مذہبی مسلمانوں پر امریکہ کے خفیہ حملوں کی اجازت افسوس ناک ہے۔ اگر پاکستان میں اسی طرح دھشت گردی پھیلتی رہی اور مذہبی مسلمانوں پر حملہ ہوتے رہے ۔ تو پھر ان میں اور پرویز مشرف میں کیا فرق رہ گیا؟

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی پر حالیہ حملہ کو دنیا اس طورپر دیکھ رہی ہے کہ ان کو مجبور کیا جارہا ہے کہ مذہبی مسلمانوں پر امریکی حملہ میں معاون بنیں ورنہ انجام بے نظیر کی طرح قتل ۔۔۔۔۔۔؟

دنیا کے عوا م یہ جاننے کے خواہش مند ہیں کہ امریکہ کے پاکستان میں خفیہ حملے کی اجازت کے پیچھے کون ہے؟
زرداری یا گیلانی؟
آخر امریکہ اب کس کی اجازت سے مذہبی مسلمانوں پر حملہ کررہا ہے۔ پاکستان میں مذہبی مسلمانوں کا اصل اور خفیہ قاتل کون ہے؟ گیلانی پر یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے۔ جب انہوں نے کہا تھا۔ کہ وہ امریکہ کے آگے نہیں جھکیں گے۔ کہیں یہ حملہ ان کو امریکہ کے آگے جھکنے پر مجبور کرنے کیلئے تو نہیں ہوا؟

بشکریہ ۔ ایاز محمود صاحب ۔ قلمکار القمر آن لائین

شاید ایاز محمود صاحب کے علم میں نہیں ہے کہ افغانی مسلمانوں پر بم اور گولیاں برسانے والے امریکی اور اُن کے اتحادی فوجیوں کیلئے رسد [supplies] پاکستان سے جاتی ہیں جو قبائلی علاقہ سے گذرتی ہیں ۔ پاکستان کے اندر افغانستان کی سرحد تک ان کی حفاظت پاکستانی فوجی کرتے ہیں ۔ پاکستانی فوج اور پاکستان کے قبائلیوں کی آپس میں جنگ اسی وجہ سے شروع ہوئی کہ قبائلی ان سپلائیز کے ٹرکوں پر حملے کرنے لگے ۔ قبائلیوں کا مسلک یہ تھا اور ہے کہ پاکستانی فوجی اپنے مسلم افغان بھائیوں کو ہلاک کرنے میں امریکہ کی مدد کیوں کر رہے ہیں ؟