پچھلے ماہ صدرِ پاکستان اور معاون صدر پیپلز پارٹی آصف علی زرداری صاحب نے کہا کہ مسئلہ جموں کشمیر اُن کے لئے اول حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اُجاگر کیا تھا ۔
ایک بات جو بہت سے ہموطن نہیں جانتے یا بھول چکے ہیں یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی عبدالرحیم تھے جنہوں نے اس کی صدارت کیلئے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا انتخاب کیا تھا اور بعد میں بھٹو صاحب نے عبدالرحیم صاحب کو بے عزت کر کے نکال باہر کیا ۔ خیر ۔ واپس آتے ہیں اصلی موضوع کی طرف کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مسئلہ جموں کشمیر کو کتنا اُجاگر کیا ۔
آصف علی زرداری صاحب کیلئے مسئلہ جموں کشمیر کتنی حیثیت رکھتا ہے وہ تو اس سے ہی واضح ہو گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران صدر آصف علی زرداری نے جموں کشمیر کا نام تک نہ لیا ۔اور پھر کچھ دن بعد امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے “ستم رسیدہ مقبوضہ جموں کشمیر کے باشندےجو اپنی آزادی کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں کو دہشتگرد قرار دے دیا”۔
جموں کشمیر میں ستمبر 1947ء میں شروع ہونے والی مسلح جدوجہد آزادی دسمبر 1947ء میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کو تھی ۔ آزادی کے متوالے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے جب کٹھوعہ کے قریب پہنچ گئے تو اُس وقت بھارت کے وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو امریکہ دوڑے ۔ بھارت کو جموں کشمیر سے ملانے والا واحد راستہ پٹھانکوٹ سے جموں کے ضلع کٹھوعہ میں داخل ہوتا تھا جو ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن نے گورداسپور کو بھارت میں شامل کر کے بھارت کو مہیا کیا تھا ۔ بھارت نے خطرے کو بھانپ لیا کہ مجاہدین نے کٹھوعہ پر قبضہ کر لیا تو بھارت کے لاکھوں فوجی جو جموں کشمیر میں داخل ہو چکے ہیں محصور ہو جائیں گے اور خموں کشمیر کا قدرتی الحاق پاکستان سے ہو جائے گا چنانچہ بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رحم کی بھیک مانگی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے پنڈت نہرو نے یقین دہانی کرائی کہ امن قائم ہوتے ہی رائے شماری کرائی جائے گی اور جو فیصلہ عوام کریں گے اس پر عمل کیا جائے گا اور فوری جنگ بندی کی درخواست کی ۔ اس معاملہ میں پاکستان کی رائے پوچھی گئی ۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان جنگ بندی کے حق میں نہ تھے مگر وزیرِ خارجہ سر ظفراللہ نے کسی طرح ان کو راضی کر لیا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوری 1948 میں جنگ بندی کی قرارداد اس شرط کے ساتھ منظور کی کہ اس کے بعد رائے شماری کرائی جائے گی اور عوام کی خواہش کے مطابق پاکستان یا بھارت سے ریاست کا الحاق کیا جائے گا ۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی قرار دادیں اس سلسلہ میں منظور کی گئیں ۔ مجاہدین جموں کشمیر نے پاکستان کی عزت کا خیال کرتے ہوئے جنگ بندی قبول کر لی ۔ بعد میں نہ تو بھارت نے یہ وعدہ پورا کیا نہ اقوام متحدہ کی اصل طاقتوں نے اس قرارداد پر عمل کرانے کی کوشش کی ۔
آپریشن جبرالٹر جو اگست 1965ء میں کیا گیا یہ اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز پر اور جنرل ایوب خان کی ہدائت پر کشمیر سیل نے تیار کیا تھا ۔ آپریشن جبرالٹر کی بنیاد جن اطلاعات پر رکھی گئی تھی وہ پیسہ بٹور قسم کے چند لوگوں کی مہیّا کردہ تھیں جو مقبوضہ کشمیر کے کسی سستے اخبار میں اپنی تصویر چھپوا کر خبر لگواتے کہ یہ پاکستانی جاسوس مطلوب ہے اور پاکستان آ کر وہ اخبار کشمیر سیل کے آفیسران کو دکھاتے اور بھاری رقوم وصول کرتے کہ وہ جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے کوشش کر رہے ہیں ۔ کچھ ماہ بعد وہ اسی طرح پاکستان کے کسی سستے اخبار میں اپنی تصویر کے ساتھ خبر لگواتے کہ یہ بھارتی جاسوس مطلوب ہے اور جا کر بھارتی حکومت سے انعام وصول کرتے ۔ اس کھیل کی وجہ سے مقبول بٹ پاکستان میں گرفتار ہوا لیکن بعد میں نمعلوم کس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اسے رہا کروا لیا ۔
ذوالفقار علی بھٹو جب 1972ء میں پاکستان کا حکمران بنا تو شملہ معاہدہ کے تحت نہ صرف شمالی علاقہ جات کا کچھ حصہ بھارت کو دے دیا بلکہ جموں کشمیر کی جنگ بندی لائین کو لائین آف کنٹرول مان کر اسے ملکی سرحد کا درجہ دے دیا ۔
بےنظیر بھٹو نے 1988ء کے آخر میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر بھارت کے ظُلم و ستم کے باعث مقبوضہ جموں کشمیر سے سرحد پار کر کے آزاد جموں کشمیر آنے والے بے خانماں کشمیری مسلمانوں کی امداد بند کر دی ۔ اس کے علاوہ جن دُشوار گذار راستوں سے یہ لوگ مقبوضہ جموں کشمیر سے آزاد جموں کشمیر میں داخل ہوتے تھے اُن کی نشان دہی بھارت کو کر دی ۔ بھارتی فوج نے اُن راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی جس کے نتیجہ میں 500 سے زائد بے خانماں کشمیری شہید ہوئے اور اس کے بعد کشمیریوں کی اپنی جان بچا کر پاکستان آنے کی اُمید بھی ختم ہو گئی ۔
بینظیر بھٹو نے اپنے دونوں ادوارِ حکومت میں جموں کشمیر کے باشندوں سے اظہارِ یکجہتی تو کُجا اُلٹا بھارت سے محبت کی پینگیں بڑائیں اور موجودہ صدر آصف علی زرداری بھی بڑھ چڑھ کر بھارت سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں
یہ ہے وہ حمائت جو پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک جموں کشمیر کے لوگوں کو تحفے میں دی ۔
