بنیادی مُجرم کون ؟

میں وطنِ عزیز کے حالات اور اس سلسلے میں ہموطنوں کے کردار کے بارے میں گاہے بگاہے لکھتا رہا ہوں ۔ آج جس حال کو وطنِ عزیز پہنچ چکا ہے اس کی ذمہ داری حُکمرانوں اور سیاستدانوں پر بھی عائد ہوتی ہے لیکن اس سب کا بنیادی ذمہ دار کون ہے اس کا ادراک اور اصلاح ازحد ضروری ہے ۔ اصل وجہ کی طرف جانے کیلئے 62 سال کی سیاسی تاریخ کا مختصر سا جائزہ ضروری ہے

قوم 1947ء میں کئے گئے مسلمانوں کے قتل وغارت کے نتائج سے ابھی سنبھلی نہ تھی کہ قائداعظم چل بسے ۔ پھر پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم قتل کر دیئے گئے ۔ پھر پورے ہند کے مسلمانوں کی منتخب کردہ اسمبلی توڑ دی گئی ۔ وہ سیاستدان جنہوں نے صدق دل سے تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا تھا اُنہوں نے قانونی جنگ لڑی جو عدالتِ اعلٰی کی سطح پر جیت لی مگر عدالتِ عظمٰی کا سربراہ منیر جو گورنر جنرل غلام محمد کا ہم نوالا اور ہم پیالہ تھا ڈنڈی مار گیا ۔ اس کے بعد غلام محمد اور سکندر مرزا اپنی باری پر پُتلی کا تماشہ کرتے رہے ۔ 1958ء میں ایک پختون عبدالقیوم خان نے اس مطلق العنانی کے خلاف آواز اُٹھا کر پشاور سے لاہور تک 6 میل لمبا جلوس نکالنے کا اعلان کیا ۔ قوم تحریکِ پاکستان کے بعد پہلی دفعہ اُٹھی ۔ پشاور سے جلوس روانہ ہوا جہلم پہنچنے سے پہلے 21 میل لمبا ہو گیا ۔ حکومت کی مشینری حرکت میں آئی اور مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ۔ ایک بار پھر قانون کا غلط استعمال ہوا اور اسے جائز قرار دیدیا گیا جو کہ آج تک معمول بنا رہا

سیاستدانوں کو سیاست سے باہر کر کے نئی پنیری لگائی گئی ۔ دوستیاں نبھاتے ہوئے نئے چہرے سیاست میں متعارف کرائے گئے جن میں سکندر مرزا کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھا ۔ معاشی منصوبہ بندی کسی طرح پٹڑی پر رہی اور عوام کی معاشی حالت بہتر ہوتی رہی ۔ پھر جنرل ایوب خان کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کے منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے 1965ء میں آپریشن جبرالٹر کیا گیا اور نہ صرف ہزیمت اُٹھانا پڑی بلکہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ افواج قوم کے تعاون سے بے جگری سے لڑیں اور ملک کو بچا لیا ۔ پہلی بار بڑی طاقت سوویٹ روس جو جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیتی تھی اور کئی قراردادوں کو ویٹو کر چکی تھی جموں کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننے پر تیار ہو گئی ۔ یہ بات جنرل ایوب خان کے منہ بولے بیٹے کو پسند نہ آئی جس پر اُسے وزارت سے ہٹایا گیا ۔ اُس نے توڑ پھوڑ کی سیاست شروع کی جس کیلئے طلباء رہنماؤں کو 2000 روپیہ ماہانہ دیا جاتا تھا ۔ ان میں راولپنڈی کا شیخ رشید احمد بھی شامل تھا ۔ مارشل لاء پھر لگا دیا گیا ۔ اس دور میں ترقی رُک گئی اور ملک کے حالات بالخصوص مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہونے شروع ہوئے

ذوالفقار علی بھٹو کو قید کیا گیا تو اُسے غلام مصطفٰے گھر کی صحبت ملی اور وہ لیڈر بن گیا ۔ تمام سیاسی رہنماؤں کے دباؤ میں آ کر اُسے رہا کیا گیا ۔ انتخابات کا اعلان ہونے پر مشرقی پاکستان میں “سونار بنگلہ اور پنجابی کھا گیا” کا نعرہ لگایا گیا اور مغربی پاکستان میں محروم عوام اور مادہ پرست لوگوں نے “روٹی کپڑا مکان” کے نعرے میں بہت کشش محسوس کی ۔ عام تاءثر ہے کہ 1970ء کے انتخابات منصفانہ تھے لیکن جو لوگ اس عمل سے منسلک رہے وہ جانتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن حکومتی اداروں کی بے رُخی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دھونس دھاندلی کے ذریعہ بھاری اکثریت لے گیا ۔ مغربی پاکستان میں باقی علاقوں کا تو مجھے علم نہیں ضلع راولپنڈی کے کچھ علاقوں کا میں شاہد ہوں کہ کس طرح دھمکیوں کے ذریعہ پیپلز پارٹی کو ووٹ ڈلوائے گئے ۔ نتیجہ آیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے نامنظور کرتے ہوئے” اُدھر تُم اِدھر ہم ” کا نعرہ لگا دیا

حُکومتی اداروں کی خودغرضیوں اور بے حِسی کے سبب یحیٰ خان کے تین سالوں میں بھارت نے سرحدوں کی جغرافیائی موافقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مشرقی پاکستان میں اپنے سینکڑوں ایجنٹ اور کمانڈو داخل کر دیئے تھے جن کیلئے مجیب الرحمٰن سودمند ثابت ہوا ۔ یحیٰ بھٹو گٹھ جوڑ کے بعد مجیب الرحمٰن کو حکومت دینے کی بجائے قید کر کے مشرقی پاکستان میں اچھے اور بُرے کی تمیز کے بغیر فوجی کاروائی نے حالات خطرناک بنا دیئے ۔ موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے حملہ کر دیا ۔ نہ صرف حکمران بلکہ پاکستانیوں کی اکثرت امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کا تصور لئے مطمئن بیٹھے رہے ۔ دیسی شیر کہلانے والے جرنیل نے قید کو شہادت پر ترجیح دیتے ہوئے 16 دسمبر 1971ء کو ہتھیار ڈال دیئے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یحیٰ خان کو 12 دسمبر 1971ء کو صدارت سے ہٹا کر حراست میں لے لیا گیا تھا ۔ 12 دسمبر سے ذوالفقار علی بھٹو کے صدر بننے تک کون حکومت چلاتا رہا یہ راز بھی اُسی طرح نہیں کھُل سکا جس طرح غلام محمد کے مکمل مفلوج ہونے کے بعد سے سکندر مرزا کے گورنر جنرل بننے تک گورنر جنرل کے دستخط کون کرتا رہا ۔ قصہ کوتاہ ۔ مشرقی پاکستان میں صفر اور مغربی پاکستان میں سیاستدانوں کی ناچاقی کے نتیجہ میں 33 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا ذوالفقار علی بھٹو بقیہ پاکستان کا اکثریتی راہنما ٹھہرا اور پاکستان کا صدر اور دنیا کا پہلا سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گیا اور بقیہ پاکستان کو بڑا پاکستان [Greater Pakistan] کا نام دیا

عوامی دور میں صنعتی اور تعلیمی ادارے ماسوائے اُن کے جو غیرملکی چلا رہے تھے بغیر مناسب منصوبہ بندی کے قومی تحویل میں لے کر اُنہیں چلانے والوں کو چلتا کیا گیا اور اُن کی جگہ سیاسی بھرتیاں کی گئیں ۔ دفاتر اور عدالتوں میں انتظامی اصلاحات کے نام پر اپنے حمائتیوں کو براہِ راست بھرتی کیا گیا جن کی اکثریت اس قابل نہ تھی ۔ اگلے انتخابات میں باوجود جیتنے کی اُمید ہوتے ہوئے لالچ کے تحت بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کی گئی ۔ احتجاج کو گولی کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی ۔ لاہور میں درجنوں لاشیں گریں ۔ احتجاج زور پکڑ گیا اور پھر مارشل لاء نافذ ہو گیا ۔ ضیاء الحق نے بڑی سیاسی غلطی یہ کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھوا دیا ۔ اس مارشل لاء کے دوران امریکا نے اپنے دیرینہ حریف کو نیچا دکھانے کی خاطر ہماری سرزمین ۔ عوام اور حکومت کو استعمال کیا اور کامیابی حاصل کی ۔ اسی دوران ضیاء الحق نے افغانستان کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تو اُسے مع اُس کے قریبی ساتھیوں کے ہوائی حادثے میں مروا دیا گیا

پھر انتخابات ہوئے اور کوئی جماعت اکثریت حاصل نہ کر سکی ۔ صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے مطابق اکثریت دکھانے کی دعوت دینے کی بجائے بینظیر بھٹو کو وزیراعظم نامزد کر دیا اور بے پیندے کے لوٹے لُڑھک کر اُس کی طرف چلے گئے ۔ ابھی سال ہی گذرا تھا کہ مردِ اول کی کارستانیوں سے لوگ پریشان ہونے لگے ۔ وزیراعظم اور صدر کے اختلافات بڑھے اور حکومت جاتی رہی ۔ اگلے انٹخابات میں میاں محمد نواز شریف اکثریت لے کر آئے مگر جرنیل کی فرماں برداری نہ کرنے پر اُسے اور صدر دونوں کو گھر بھیج دیا گیا ۔ اگلی بار پھر بینظیر بھٹو کی حکومت بنی مگر اپنے بنائے ہوئے صدر اور مردِ اول کی جھڑپ کے نتیجہ میں ختم ہوئی اور نواز شریف تین چوتھائی اکثریت سے سامنے آئے ۔ جرنیل نے قومی سلامتی کونسل کی تجویز پیش کی ۔ سیاستدانوں کو اس کی آڑ میں آئینی فوجی حکمرانی کو تحفظ ملتا محسوس ہوا ۔ اس پر جرنیل کو مستعفی ہونا پڑا ۔ بھارت کے ایٹمی دھماکے کرنے اور پھر پاکستان کو دھمکیاں دینے کے نتیجہ میں ایٹمی دھماکہ کیا اور اور عوام نے بہت سراہا مگر کچھ ہموطنوں اور اُن کے غیرمُلکی آقاؤں کو یہ ادا پسند نہ آئی ۔ جب پرویز مشرف کو فوج کا سربراہ بنایا گیا تو اُسے ہیرو بننے کی سوجھی ۔ کرگل کا محاظ کھول دیا اور ہزیمت اُٹھائی ۔ پارلیمنٹ میں انکوائری کی صدا بلند ہوئی تو ہائی جیکنگ کا جھوٹا بہانہ بنا کر وزیرِ اعظم اور اس کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا گیا ۔ امریکا کی تابعداری اختیار کی اور قوم اور مُلک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔ صرف اسی پر بس نہ کیا ۔ جس کی طرف اشارہ ہوا اُٹھا کر امریکا کے حوالے کر دیا ۔ اپنے آقا کی خوشنودی کیلئے اپنے ہموطنوں کا قتلِ عام شروع کیا یہاں تک کہ ڈاماڈولا کے مدرسہ کے 70 سے زائد کم سن لڑکوں اور اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی سو سے زائد 4 سے 17 سال کی بیگناہ بچیوں کو بھون کے رکھ دیا ۔ چودہ ماہ قبل کے انتخابات سے ایک بار پھر کم از کم نام کی جمہوریت آئی لیکن ابھی تک کوئی جمہوری کام ہوتا نظر نہیں آیا

اس سب ظُلم و ستم اور قوم و مُلک کے انحطاط کا بنیادی ذمہ دار کون ہے ؟

کیا بھارت ہے ؟ یا افغانستان ؟ یا امریکا ؟ ٹھیک ہے کسی حد تک یہ سب بھی ذمہ دار ہیں لیکن اُن کا تو یہ سیاسی منصوبہ اُن کے اپنے قومی یا سیاسی مفاد کیلئے منفی منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔ مگر وہ اپنی ان کاروائیوں میں کامیاب آخر کیونکر ہوئے ؟ اس کا بھی جائزہ ضروری ہے لیکن اب میں تھک گیا ہوں اور کچھ اور کام بھی کرنا ہے ۔ کل میں نے ہفتہ بھر کا سودا لانا ہے اور دوسرے کام بھی ہیں ۔ باقی اِن شاء اللہ بُدھ 29 اپریل کو

کاشی کا جواب

طارق کمال صاحب کی لکھی نظم پڑھتے پڑھتے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرا دماغ ایسا کر دیا کہ اُس کا جواب میرے ذہن میں بنتا گیا جو میں نے تحریر کر دیا ہے ۔ ردیف کافیہ ناپنا شروع نہ کیجئے گا ۔ میں شاعر نہیں ہوں

نہ بھُلا سکوں گی تُجھ کو ۔ نہ کہو کہ بھُول جاؤں
تُم ہو قابل یا نہیں ہو ۔ فیصلہ تُم نے کرنا نہیں

ناراضگی ہے میری اُس اُنس کی بناء پر
جو تُم نے مجھ کو بخشا اُلفتوں کی راہ پر

شگوفے کھِلائے ہوں جس نے دل میں میرے
وہ باغیچہءِ تازہ ۔ کیوں کر ہو سکتا ہے بنجر

میں تمہاری کاشی ۔ تمہارے باغ کی کلی ہوں
کسی اور کے صحن میں ۔ اُگاؤ نہ مجھے تم یوں

تم کبھی اگر بکھرے سنبھالوں گی میں تم کو
آزمانی پڑی جو قسمت ۔ اسے آزماؤں گی تم پر

تمہیں ویران چھوڑ کر کیا میں آباد رہ سکوں گی
کسی اور کی بجائے تیرا آشیانہ کیوں نہ سجاؤں

اگر میں نے دی ہے نفرت تیرے دل کو تو بتا دو
نہا کر میں اپنے خُون میں محبت کا سیلاب لاؤں

تیرے چراغ کی تپش نے مجھے زندگی عطا کی
اس میں جل جو جاؤں مجھے فکر نہیں اس کی

موت ہر ایک کو ہے آنا ۔ اس سے کیوں گھبرانا
تیرے ساتھ مر جو جاؤں میں امر ہی ہو جاؤں

یہ میں نہیں کہتا

جو کچھ وطنِ عزیز کے قبائلی علاقوں میں ہوتا آیا ہے اُس کے متعلق میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہوں اور اِن شاء اللہ جلد پوری صورتِ حال کا مختصر جائزہ اپنے مشاہدات کی روشنی میں لکھوں گا ۔ جو بات میری سمجھ میں نہیں آتی یہ ہے کہ الطاف حسین اور اُس کے چیلوں کو صوبہ سرحد اور پنجاب کی فکر کھائے جا رہی ہے لیکن جہاں اُس کا ایک چیلا گورنر اور باقی چیلے وزراء ہیں اور رہائش پذیر ہین وہا حالات ابتر ہیں ۔ اور کراچی کو طالبان نے گھیر لیا کا شور مچا کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ کسی نے نہ دیکھا اور نہ سُنا ۔

یہ میں نہیں کہتا ۔ کل سارے کراچی میں شور تھا جو میرے کانوں تک بھی پہنچا جس کا خلاصہ یہ ہے

سہیل ظاہر خٹک جمعہ کی شام گاڑی کھاتہ کے علاقے میں واقع ایک پرنٹنگ پریس کے باہر بیٹھا ہوا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اُسے فوری طور پر سول اسپتال لے جایا گیا جہاں بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اسپتال کے سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑکے مطابق مقتول کے سر میں گولی لگی تھی۔ مرحوم سلطان آباد کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق سہیل پر حملے کی خبر پھیلتے ہی تقریباً 3 سے 4 سو افراد سول اسپتال پہنچ گئے جنہوں نے وہاں شدید توڑ پھوڑ کی۔ ڈاکٹرز کو مارا پیٹا جس سے وہ خوفزدہ ہو کر ایمرجنسی وارڈ چھوڑ چلے گئے

پی ایس ایف کے مذکورہ کارکن کی ہلاکت کے بعد لیاری، لی مارکیٹ، کھارادر، کھڈا مارکیٹ، سلطان آباد، آرام باغ، ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ، مائی کلاچی، روڈ، سلطان آباد اور دیگر علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع کر دیا، فائرنگ کی زد میں آکر بہار کالونی میں حمید اللہ، رنچھوڑ لائن میں حبیب اور کھڈا مارکیٹ میں مستان شاہ نامی شخص زخمی ہوگئے۔ جبکہ ہنگامے کے سبب متاثرہ علاقوں میں رات گئے تک کھلنے والے بازار اور دکانیں بند ہوگئیں۔ جبکہ لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔

طارق راحیل صاحب متوجہ ہوں

جب بھی میں آپ کے بلاگ پر اوپن آئی ڈی منتخب کر کے اپنے بلاگ کا یو آر ایل لکھ کر تبصرہ شائع کرتا ہوں تو مندرجہ ذیل لکھا آتا ہے

We’re sorry, but we were unable to complete your request.
When reporting this error to Blogger Support or on the Blogger Help Group, please:
Describe what you were doing when you got this error.
Provide the following error code and additional information.
bX-5q5qoz

میں ایک بار اپنی بہت پرانی گوگل کی آئی ڈی کے ساتھ اور ایک بار گوگل کے بعد والی مگر پھر بھی پرانی آئی ڈی کے ساتھ تبصرہ کر چکا ہوں ۔ میں نے آپ سے درخواست کی تھی کہ متعلقہ خرابی دور کر دیں مگر ۔ ۔ ۔
کل میں نے گوگل اور ورڈ پریس دونوں کے ساتھ کوشش کی تو لکھا آیا ۔

This is not your ID

قدراداں کہاں ؟

یہ گیت چار پانچ دہائیاں قبل لکھا گیا تھا مگر جتنا آج ہمارے معاشرے پر چُست ہوتا ہے اتنا اُن دنوں نہ تھا

محبتوں کے قدر داں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں
حقیقتوں کے پاسباں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

کِیا کئے تمام عُمر ۔ ہم وفا کی آرزُو
ملے دِلوں کے راز داں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

زمین و زر کے حُکمراں ۔ ملے ہمیں گلی گلی
مگر دِلوں کے حُکمراں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

بَن کے جو صدائے دِل ۔ زندگی سنوار دے
وہ اِک نگاہِ مہرباں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

ہیلری کلنٹن مطالبہ

رہنما آدھا سچ بولنے کا رجحان رکھتے ہیں اور سچ بولنے سے خوفزدہ ہیں۔ پس پردہ بریفنگ اور آف دی ریکارڈ گفتگو میں ہر کسی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خرابی کہاں ہے لیکن اپنی عوامی تقاریر میں وہ اپنے حقیقی خیالات بتاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ اس صورتحال میں کنفیوژن بڑھ جاتی ہے اور طالبانائزیشن کا کینسر بڑھتا جارہا ہے جبکہ حکومت مکمل انارکی اور خانہ جنگی کی سی صورتحال سے گریز کے لئے موثر حکمت عملی بنانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ہم اقوام عالم میں ایک اتنا بڑا مذاق بن چکے ہیں کہ آج امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی پاکستان کے عوام سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف کھڑے ہو جائیں تاکہ واشنگٹن کی خواہشات کے مطابق معاشرے میں طالبانائزیشن کا انسداد کیا جاسکے۔ واشنگٹن کے کلنٹنز، ہالبروکس، پیٹرسنز اور مولنز پہلے ہی فیصلہ سازی میں اسلام آباد پر اثر انداز ہورہے ہیں لیکن امریکی وزیر خارجہ کا بیان بہت برے مطالبے کی صورت میں سامنے آیا ہے کہ پاکستانی عوام اسلام آباد کے خلاف بغاوت کردیں۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں اس سے زیادہ بری اور کیا بات ہوسکتی ہے؟

مکمل پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

ایک تبصرہ

میں نے “اصل خطرہ پاکستان” کے عنوان سے جو بی بی سی کی خبر نقل کی تھی اُس پر ایک قاری کا اس تبصرہ اُمید ہے کہ باقی قارئین بھی مستفید ہوں گے

اسرائیل کے بڑوں نے تبھی ہی سے ہمیں اپنا پکے والا دشمن قرار دے دیا تھا جب اقوام متحدہ کا رُکن ہونے کے ناطے پاکستان نے فلسطین کی تقسیم اور اسرائیلی ریاست کے قیام کی شد و مد سے مخالفت کی تھی۔ پاکستان کے شمال اور مشرقی سرحدوں پہ ہونے والی “گریٹ گیم” میں امریکہ ، بھارت اور افغانستان کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی شروع دن سے اپنا لُچ تل رہا ہے۔ خاصکر بھارت کے قبضے میں کشمیر کی وجہ سے آجکل “انڈیا اسرائیل ہنی مون” میں ممبئی دہشت گردی جیسے واقعات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے انڈیا نے اسرائیل کے سامنے مکمل طور پہ گھُٹنے ٹیک دئیے ہیں اور اسرائیل بھارت کا دوسرا بڑا اسلحے کا سپلائیر ہے

ویسے بھی برھمن اور یہودی فطرت ایک جیسی ہے بلکہ یہود بڑے کی افرادی طاقت بہت کم ہونے کی وجہ سے ایک عرصے تک یہود ھنود کو موسٰی علیہ السلام کے دور میں اپنا گمشدہ قبیلہ قرار دیتے رہے ہیں جس میں ھنود کا سبزی خور ہونا ایک بڑی دلیل گردانتے رہے ہیں ۔ بقول یہود کے جب مذکورہ قبیلہ موسٰی علیۃ والسلام سے بد عہدی اور نافرمانی کی وجہ سے صحرا میں گم ہو گیا تھا تو اس وقت بنی اسرائیل پہ گوشت حرام قرار دیا جاچکا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ الگ بحث ہے کہ بھارت کی آزادی کے شروع ادوار میں موہن داس کرم چند گاندھی (جسے ھندو مہاتماکہتے ہیں) اور تب کے کانگریسی رہنماؤں نے معروف “چانکیہ اصولِ سیاست” کے تحت اسرائیلی قیام کی حمایت نہیں کی تھی کیونکہ تب ایک نیا عالم تعمیر ہو رہا تھا جس میں نئی نئی آزاد ہوتی قومیں اور ممالک اسرائیل کے قیام کے سخت مخالف تھے ۔ اس لئے اسرائیل کے گمشدہ قبیلے والا قصہ تب اپنے انجام کو نہ پہنچ سکا ۔ مگر اس کے باوجود اسرائیل نے بھارت سے ایک قدیم یہودی قبیلہ ڈھونڈ نکالا تھا اور یہ سب کو علم ہے کہ وہاں یہود تعطیلات کے نام پہ گلچھڑے اُڑانے جاتے ہیں۔ جس میں شراب و شباب دونوں کا بند وبست ہوتا ہے

اسرائیلی وزیرِ خارجہ افِگدور لِبر مین [Avigdor Liberman] روسی یہودی ہے اور یہ سابقہ سویت یونین مولداویا میں پیدا ہوا اور یہ 1978ء میں روس سے اسرائیل منتقل ہوا۔ روسی یہودی مسلمانوں کے بارے میں انتہائی گھٹیا خیالات رکھتے ہیں۔ لِبرمین انتہائی دائیں بازو کا کٹڑ انتہا پسند ہے اور اس نے اپنے موجودہ الیکشن کمپین [election campaign] میں اسرائیل کے دس لاکھ سے زیادہ عرب اسرائیلی شہریوں کو اسرائیل سے باہر نکال دینے کا انتخابی نعرہ لگایا تھا اور یہ اس کے پارٹی منشور کا حصہ ہے۔ بہر حال یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ کہ کمزور اقلیتوں کو دبانے کے نام پہ الیکشن جیتا جائےاور یہی بھارت کے الیکشن میں ہوتا رہا ہے اور یورپ اور امریکہ میں بھی مسلمانوں کا میڈیا ٹرائیل[media trial] بھی صرف اپنے آڈِئینس [audience] میں اضافے کیلئے کیا جاتا ہے کہ یہ آسان اور کم قیمت نسخہ رہا ہے مگر ان ممالک کے عام عوام کو بھی اس بات کا ادارک ہو چلا ہے کہ یہ صرف الیکشن جیتنے کا ایک مسکینی طریقہ ہے۔ یا اپنے ریڈیو ٹی وی کے ناظرین بڑھانے کا ایک نہائت گھٹیا اور اخلاق سے گرا حربہ ہے۔ اس لئے لِبرمین کی یہ باتیں اور شوشے اپنے ووٹروں اور یہودیوں کے لئے ہیں۔ اس کے اس بیان سے پاکستان کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا

لِبر مین کے پورے بیان میں صرف ایک بات نئی ہے جس پہ ہمارے اربابِ اقتدار و اختیار کو زیادہ غور کرنا چاہیئےکہ اس دفعہ اسرائیل نے پاکستان پہ طالبان کے تخیّلاتی قبضے کے پروپیگنڈے کے پس منظر میں پاکستان کے دیرینہ دوست ملک چین کے ناخوش ہونے کی بات کی ہے۔ جو ایک نئی بات ہے۔ کیا یہ لِبر مین کی لن ترانیوں میں سے ایک ہے یا اس بیان کے پیچھے چین کی تحفظات کی کوئی سنجیدہ صورت ہے ؟ یہ جاننا اور اس کا سدِباب ہمارے ذمہ دار لوگوں کو ابھی سے کرلینا چاہیئے۔ اس پہلے کہ پاکستان مخالف مختلف لابیاں پاکستان کی مخالفت اور چین کی حمایت میں تصوارتی خطرات کے پروپیگنڈا کا آسمان سر پہ اٹھا لیں۔ بھارت اور اسرائیل ۔ ھندو مہاجن اور یہودی کارباری فطری حلیف ہیں۔ اس میں ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے دفاع کی اپنی سی تیاری ہمیشہ رکھنی چاہیئے اور اپنے گھر میں ہر طرف لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا بندوبست بدستور کرتے رہنا چاہیئے

خیراندیش
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

ایک بات جو جاوید گوندل صاحب نے نہیں لکھی یہ ہے کہ جب سیّدنا موسٰی علیہ السلام کسی وجہ سے اپنے علاقہ سے باہر گئے ہوئے تھے تو یہودیوں نے گائے کی پوجا شروع کر دی تھی جس کا مکمل ذکر قرآن شریف میں ہے ۔ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں

میاں نواز شریف نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کرنے سے پہلے امریکہ کے صدر کو کیا لکھا تھا ؟ پہلی دفعہ منظرِ عام پر آتا ہے ۔ یہاں کلِک کر کے پڑھیئے