کون کِس کا ؟

ایک بڑوں کی محفل میں حامد میر کی تحریر ” آستین کے سانپ” پر تبصرہ ہو رہا تھا تو بات یہاں پہنچی کہ کون کس کا آدمی ہے ؟ خلاصہ یہ ہے
صوفی محمد جماعتِ اسلامی میں تھا لیکن کچھ سال قبل جب اُس نے پہلی بار آئین کے خلاف بات کی تھی تو اُسے جماعت اسلامی سے خارج کر دیا گیا تھا
بیت اللہ محسود ۔ “سی آئی اے” اور ” را ” کا
فضل اللہ ۔ “سی آئی اے” کا
رحمن ملک ۔ “سی آئی اے” اور ” ایم آئی 6 ” کا
الطاف حسین ۔ ” ایم آئی 6 ” اور ” را ” کا
میں نے پوچھا ” اور زرداری ؟”
جواب دیا گیا ” آپ خود سمجھدار ہیں “

مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی

یہ کوئی شاعرانہ فقرہ نہیں ہے جیسا کہ عام تاثر لیا جاتا ہے بلکہ یہ فلسفیانہ مقولہ ہے ۔ اگر کسی عارضہ کی درست تشخیص کئے بغیر عام طور طریقہ سے اُس کا علاج شروع کر دیا جائے تو عارضہ بڑھتا جاتا ہے ۔ میں نے “عارضہ” کا لفظ استعمال کیا ہے کہ اس کا مطلب جسمانی یا ذہنی یا نفسیاتی بیماری بھی ہو سکتا ہے اور دکھ یا تکلیف یا پریشانی بھی

ہمارے مُلک کے سابقہ حُکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے حُکم کی اندھا دھند بجا آوری کی جس کے نتیجہ میں مُلک کو طالبان کا عارضہ ہو گیا ۔ وہ تو اپنی نوکری پوری کر کے رُخصت ہوئے اور مُلک میں جمہوریت نام کی چیز نافذ ہوئی جس میں سارے اختیارات فرد واحد کے پاس مجتمع ہیں ۔ مغرب سے پھر پُکار اُٹھی اور جن کا قبلہ کعبہ نہیں مغرب ہے نے ہاہاکار مچا دی کہ ” مُلک کو طالبان ہو گیا ہے ۔ اگر جلد آپریشن کر کے اسے نیست و نابود نہ کیا گیا تو یہ پھیل کر پورے مُلک کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور خدا نخواستہ ملک ختم ہو جائے گا”

طب کا طور طریقہ [Medical procedure] ہے کہ کوئی مریض خطرناک مرض میں مبتلا ہو تو اطِباء کا اجلاس [Medical board] بُلایا جاتا ہے ۔ معمل [laboratory] سے رجوع کر کے مرض کے عوامل معلوم کرنے [diagnosis] کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہسپتال کا سربراہ فوری طور پر جراحی [surgery] کا حُکم صادر کر دے کیونکہ جراحی خواہ کتنی بھی سادہ ہو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے

ہمارے مُلک کا مسیحا جس کے ہاتھ میں مُلک کے تمام اختیارات ہیں نے پہلے آپریشن کا حُکم صادر کر دیا اور جب آپریشن شروع ہو گیا تو اطباء کا اجلاس بُلا کر اپنی مرضی کی سفارش [report] حاصل کر لی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی حکومتی جراح آپریشن میں پھنسے ہوئے تھے کہ سرطان کی طرح بڑھتے ہوئے 26 لاکھ متاءثرین مُلک کے میں پھیلنے شروع ہو گئے جسے سنبھالنا مسیحانِ مُلک کی پہنچ سے بہت باہر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ایک ہفتہ کی تگ و دو اور پوری دنیا کے حکومتی مسیحاؤں کی امداد کے باوجود حکومتی مسیحا 27 لاکھ متاءچرین میں سے 2 لاکھ کی بھی دیکھ بھال نہیں کر پا رہے

چند سو یا چند ہزار نفوس پر مشتمل طالبان تو ابھی مہینوں تک قابو میں آتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ اگر متاءثرین کے ساتھ حکومتی برتاؤ اسی طرح جار ی و ساری رہا تو کوئی عجب نہیں کہ 27 لاکھ متاءثرین جو گذرتے وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں طالبان کا روپ دھار لیں پھر اس عارضہ کا علاج سوائے مکمل تباہی کے کچھ نہ ہو گا

کیا حُکمران صرف بیانات دینے کیلئے ہوتے ہیں ؟ عوام کی گاڑھے پسینے کی کمائی پر پلنے والے ان حکمرانوں پر عوام کے کوئی حقوق نہیں ؟

خودمختاری فروخت ؟

صوبہ سرحد کی حکومت نے جو کرتب دکھایا ہے وہ دوسرے لفظوں میں مُلک کی خودمختاری بیچنا کہا جا سکتا ہے ۔ ہمارے ان ناعاقبت اندیش سیاستدانوں کا خاصہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ذاتی فائدوں کی خاطر قوم کو داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ شائد اسی لئے ایک امریکی صحافی نے پرویز مشرف کے دور میں کہا تھا کہ پاکستانی اپنی ماں کو بھی بیچ ڈالتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو صحافت کا 22 سالہ تجربہ رکھنے والی انجم نیاز کے مضمون سے اقتباس

The government of NWFP in other words has signed away its sovereign rights to the UN agencies, allowing them unhindered access to the militants. The lines below were slyly slipped in the press release thereby authorising the UN to infiltrate and penetrate into the sensitive security issues which currently are no-go areas for even the media. A handful of civilians from NWFP went to Geneva, courtesy the HD with the help of Ambassador Zamir Akram and some would see this as a slight on Pakistan’s sovereignty.

“The HD Centre was able to provide a unique environment for participants to discuss the safe delivery of humanitarian assistance and the security of humanitarian personnel. Participants were able to reach a consensus that effective humanitarian delivery depends on a transparent and structured dialogue with militant actors by humanitarian agencies with the full knowledge, support and agreement of the government.”

پورا مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے

آستین کے سانپ

افغانستان کے راستے سے پاکستان میں آکر نفاذ شریعت کے نام پر قتل عام کرنے والوں کو بھارتی اسلحہ اور روپیہ دیا جارہا ہے اور اس کھیل میں کراچی کے کچھ بڑے سیٹھ بھی ملوث ہیں ۔ ہمارے حکمران مولانا فضل اللہ کو تو کوستے ہیں لیکن بھارت کے بارے میں خاموش ہیں ۔ کچھ دانشور بھی اُچھل اُچھل کر کہتے ہیں کہ طالبان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان میں آگ لگانے والے طالبان کو بارود اور روپیہ کون دے رہا ہے ؟ تو یہ دانشور کھسیانی بلی بن جاتے ہیں

راولپنڈی سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کی تین بیٹیاں ہیں ۔ ایک دن اسلحہ بردار اس کے گھر پہنچے اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تینوں بیٹیوں کا نکاح ان نام نہاد مجاہدین کے ساتھ کردے ۔ اس شخص نے حکمت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ اسے شادی کی تیاری کیلئے ایک دن دیا جائے ۔ اسلحہ بردار دوبارہ شادی کیلئے آئے تو ان کی تاک میں بیٹھے ہوئے مقامی لوگوں نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا ۔ مولانا فضل اللہ ان غنڈوں کے سامنے بے بس تھے یا پھر ان کی ملی بھگت سے یہ سب ہو رہا تھا ؟

پاکستان کے آئین سے انکار کرنے والے طالبان ہمارے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں لیکن ہمیں ایسے دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ کیا امریکی ڈرون حملے ریاست کے آئین اور ریاستی عملداری کیلئے خطرہ نہیں ؟ ان دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے ماضی کو کریدیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے تانے بانے بھی دہلی کے ساتھ ملتے ہیں

یہ شواہد بھی سامنے آنے لگے کہ یہ غیر مقامی اسلحہ بردار باجوڑ کے ہمسائے میں واقع افغان صوبے کنڑ سے رقم اور افرادی قوت حاصل کرتے ہیں اور مولانا فضل اللہ نے انہی عناصر کے دباؤ پر مولانا صوفی محمد اور سرحد حکومت کے درمیان امن معاہدے کو ناکام بنایا ۔ دوسری طرف افغان طالبان کے رہنما مُلّا محمد عمر نے خوست کے راستے سے شمالی وزیرستان کے عسکریت پسندوں کو حال ہی میں پیغام بھیجا کہ پاکستانی فوج کے خلاف لڑنا جہاد نہیں ہے اگر انہیں لڑنا ہے تو افغانستان آکر امریکی فوج سے لڑیں ۔ القاعدہ کی حکمت عملی بھی یہی ہے کہ پاکستان میں لڑنے کی بجائے افغانستان پر توجہ دی جائے

یہ کھیل 1947ء سے جاری ہے ۔ 1947ء میں نفاذ شریعت کیلئے فقیر ایپی کا نام استعمال ہوا اور 2009ء میں مولانا فضل اللہ کا نام استعمال ہوا ۔ دونوں مرتبہ فساد کی جڑ بھارت ہے ۔ تقسیم ہند کے فوری بعد بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت شروع کردی تھی ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کی طرف سے کچھ قبائلی عمائدین کے ذریعے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے ہیرو فقیر ایپی کیساتھ رابطہ قائم کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نہ چہرے پر داڑھی ہے اور نہ اسلام کے بارے میں کچھ جانتے ہیں لہٰذا آپ وزیرستان کو افغانستان میں ضم کردیں یا علیحدہ ریاست کے قیام کا اعلان کردیں

دوسری طرف 17 اپریل 1948ء کو پشاور میں قبائلی علاقوں کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قبائل کشمیر کی آزادی کیلئے جہاد کریں گے۔ اس جرگے میں قائد اعظم سے درخواست کی گئی کہ قبائلی علاقوں کو براہ راست مرکزی حکومت کے تابع رکھا جائے ۔ قائد اعظم نے یہ درخواست تسلیم کرلی ۔ اس دوران بنوں میں فقیر ایپی کے نام سے یہ پمفلٹ تقسیم ہوا کہ جہاد کشمیر حرام ہے بلکہ قائد اعظم کے خلاف جہاد کیا جائے جنہوں نے پاکستان میں شریعت نافذ نہیں کی

اس کے بعد 29 جون 1948ء کو پاکستانی اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ ایک 35 سالہ قبائلی اول حسین کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو فقیر ایپی کے نام پنڈت نہرو کا ایک خطہ دہلی سے لا رہا تھا۔ گیارہ ستمبر 1948ء کو قائد اعظم وفات پا گئے ۔ نہرو کا خیال تھا کہ پاکستان چھ ماہ میں ٹوٹ جائے گا

یہ اقتباس ہے حامد میر کی تحریر قلم کمان سے جو یہاں کلک کر کے پوری پڑھی جا سکتی ہے
بشکریہ ۔ جنگ

حُکمرانوں کی مجبوریاں کب تک ہمیں ستائیں گی ؟

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 22 مئی کے اجلاس میں کافی گرما گرم بحچ کے بعد الزام عائد کیا گیا تھا کہ 2005 میں شوکت عزیز نے کراچی میریٹ ہوٹل سے ملحقہ ڈیڑھ کھرب روپے سے زائد مالیت کی 21 ایکڑ اراضی امریکی قونصل خانے کی تعمیر کیلئے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے میں 99 سال کی لیز پر دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس اراضی کے 5 ایکڑ رقبے پر وزارت خوراک و زراعت کے زیر انتظام پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی لیبارٹریز اور دفاتر قائم تھے۔ یہ زمین 1950 سے 2000 تک وزارت خوراک و زراعت کے پاس لیز پر تھی جسے وزیراعظم شوکت عزیز کے حکم پر 2005 میں 99 سال کی لیز پر امریکی سفارتخانے کو دے دیا گیا تھا۔ اس زمین کی مارکیٹ قیمت 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی مربع گز تھی مگر امریکی حکومت نے اس قیمتی زمین کی قیمت 9 ہزار روپے فی مربع گز ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔ وزیراعظم نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے 15 ہزار روپے فی مربع گزکے حساب امریکیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

موجودہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو حکومت نے اس اراضی کی فروخت اور ڈیل سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ پیش کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی 2008 میں یہ معاملہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو فیصلے کیلئے بھجوایا گیا۔ یوسف رضا گیلانی نے شوکت عزیز کے 19 مئی 2005 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوکت عزیز کے طے کردہ نرخوں پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 21 ایکڑ اراضی امریکی سفارت خانے کو دینے کی منظوری دی۔

وزارت خوراک و زراعت کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی ہے کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کے دفاتر کے قیام کیلئے مزید فنڈز کی فراہمی کی نئی تجویز منظوری کیلئے پیش کی جائے

بشکریہ ۔ جنگ

چور اُچکا چوہدری تے لُنڈی رن پردھان

یہ پنجابی کا مقولہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر چور حکمران ہو تو جرائم پیشی کو فیصلے دینے پر لگا دیا جاتا ہے ۔ اب پڑھیئے حالِ وطن

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ترلائی کا دفتر ہفتے کی صبح خلاف ورزی کرنے والے بااثر افراد کو نوٹس جاری کرنے کیلئے تیار تھا لیکن اسے اعلٰی حکام کی جانب سے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ۔ اسکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چک شہزاد کے فارم ہاؤسز کو فراہم کئے گئے تمام کنکشنز کی جانچ پڑتال کرنے کیلئے ایک ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن جس شخص کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا، وہ وہی شخص ہے جس سے اس بات کی تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ سب کچھ اس کی ناک کے نیچے ہونے کی اجازت کیوں دی گئی۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مطابق متعلقہ ایس ای ٹیم کی قیادت کریگا۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ گھریلو صارفین کو زرعی ٹیرف دے کر غلط استعمال اور چک شہزاد میں بجلی کی چوری اسی ایس ای سیف اللہ جان، متعلقہ ایکس ای این رشید خٹک اور ایس ڈی او میاں جمیل کی نگرانی میں کئی برسوں سے جاری ہے۔ معاملے کی تحقیقات کیلئے کسی با اختیار اور غیر جانبدار ٹیم کے تقرر کی بجائے وہ لوگ جن سے تفتیش کرنے کی ضرورت تھی ان کو اپنے جرائم کیلئے تفتیش کار، جج اور جیوری مقرر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف بھی ایک فارم ہاؤس کے مالک ہیں اور اس کا بہت زیادہ تجارتی استعمال ہوتا ہے جیسے شادی کی تقریبات کیلئے شادی ہال کرائے پر دینا۔ ذرائع نے کہا کہ اگر تمام فارم ہاؤسز کے کنکشن اور بلز کے ریکارڈ کی فزیکل سروے کے بعد چھان بین کی جائے تو یہ کہیں زیادہ بڑا اسکینڈل ہو سکتا ہے۔ تاہم اتھارٹیز معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ کسی خود مختار تفتیش کا مقصد نہ صرف ماضی کے بلکہ موجودہ حکومت کے بھی بااثر ترین افراد کو سزا دینا ہوگا۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں فوج کی قیادت میں واپڈا نے بجلی چوری کرنے کیخلاف مہم شروع کی تھی اور جب کہنہ مشق سیاستدان عابدہ حسین پر بجلی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا تو یہ اخبارات کی سرخیاں بن گیا تھا۔

تحریر انصار عباسی ۔ بشکریہ ۔ جنگ

ہمارے چور حُکمران

ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز، جنہوں نے اسلام آباد سے ملحق چک شہزاد میں فارم ہاؤسز کے نام پر کروڑوں روپے کے محلات تعمیر کئے ہیں، اپنے بجلی کے بلوں پر سبسڈی ( رعایت ) حاصل کر رہے ہیں اور ان پر سستے ترین زراعتی نرخ لاگو کئے جاتے ہیں۔ دیگر انتہائی بااثر اور اچھے روابط کے حامل چک شہزاد کے مکین چند منتخب افراد بھی اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام کی مدد سے سستے ترین نرخوں پر بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں کر رہے ہیں جبکہ پوری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ پرویز مشرف نے سبزیوں اور پولٹری کی افزائش کیلئے حاصل کئے گئے فارم پر جدید طرز کا مکان تعمیر کیا ہے اس کے باوجود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے انہیں پاور کے سستے ترین نرخ ڈی۔ٹو(1) سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوئی ہے یہ ٹیرف زرعی ٹیوب ویلز اور آب پاشی کے لئے پمپس چلانے کے لئے دیا جاتا ہے اور حکومت ٹیکس دہندگان کی رقم سے اس پر زرتلافی بھی دیتی ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی فراخدلی کی وجہ سے پرویز مشرف کو صرف اپریل 2009 کے ماہ میں معمول کے صارف کے مقابلے میں 50 ہزار روپے کم کا بل دیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ کئی سال سے اس نرخ کے حساب سے ادائیگیاں کر رہے ہیں جو اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذرائع کے مطابق غیر قانونی اور دھوکہ دہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ پرویز مشرف درجن بھر بااثر افراد میں سے ایک ہیں جو اپنے متعلقہ فارم ہاؤسز میں ڈی۔ ( 1 ) 2 ٹیرف کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور اسے یا تو رہائشی مقاصد کیلئے اور یا پھر صنعتی و تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسے بااثر افراد میں سے پرویز مشرف اور شوکت عزیز، جو ملک سے فرار ہو چکے ہیں، کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر سیف الرحمن اور اعلیٰ پارلیمنٹرینز اور ریٹائرڈ دفاعی افسران شامل ہیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ، جو اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں، کو مفت ٹرانسفارمر اور پول فراہم کیا گیا ہے جو اس وقت کے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سربراہ بریگیڈئیر شہباز کے حکم پر دیا گیا تھا عام طور سے ہر فارم ہاؤس کو ٹرانسفارمر کیلئے 7 تا 10 لاکھ روپے ادا کرنا ہوتے ہیں جو ہر کنکشن کے لئے لازمی ہے تاہم یہ ریٹائر جنرل معمول کا گھریلو کنکشن استعمال کررہا ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذریعے نے بتایا کہ (ر) جنرل پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کو بھی 2006 میں ٹرانسفارمر اور دیگر آلات مفت فراہم کئے گئے تھے اور جو سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو دئیے جانے والے ٹرانسفارمر سے بھی زیادہ مہنگے تھے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ کچھ سینیٹرز بشمول ایک سابق چیئرمین سینیٹ، ایک ریٹائرڈ ایڈمرل‘ سابق بریگیڈئیر اور ایک کاروباری گروپ بھی رعایتی ٹیرف ڈی۔ٹو(1) کنکشن استعمال کر رہا ہے۔ شوکت عزیز کے معاملے میں اگرچہ معمول کی بجلی خرچ ہو رہی ہے لیکن (ر) جنرل پرویز مشرف اس غیر قانونی رعایت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں اور یہ رعایت انہیں اس وقت دی گئی تھی جب وہ سربراہ مملکت تھے۔ اپریل کے مہینے میں ان کی بجلی کا بل جس کی ریڈنگ 2 مئی کو لی گئی ظاہر کرتا ہے کہ 5 ہزار 6 سو یونٹ استعمال کرنے کے باوجود ان کا بل 25 ہزار 8 سو 41 روپے ہے جو 4 روپے یونٹ کا فلیٹ ریٹ ہے۔ اس رقم میں 2 ہزار 7 سو 63 روپے کا جنرل سیلز ٹیکس بھی شامل ہے۔ مشرف کو اس بل پر 8 ہزار 10 روپے کی سبسڈی ( رعایت ) بھی دی گئی ہے جس کے بعد بل کم ہو کر 17 ہزار 8 سو 31 روپے ہو گیا ہے اور یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہو سکا ہے کہ سابق جنرل کو خصوصی کنکشن دیا گیا تھا اگر کوئی عام گھریلو صارف 5 ہزار 6 سو یونٹ ماہانہ استعمال کرے تو اسے 73 ہزار 4 سو 98 روپے کا بل ادا کرنا ہو گا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرویز مشرف نے صرف ایک ماہ میں اس غیر قانونی کنکشن کی وجہ سے 50 ہزار روپے کی بچت کی ہے

تحریر انصار عباسی ۔ بشکریہ ۔ جنگ