حکومتی منافقت

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں 2010 تک ملک بھر میں 5 لاکھ ڈی ایس ایل کنکشن کا اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لیکن اس حوالہ سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا ہے جبکہ دینی مدارس کو براڈ بینڈ نیٹ ورک میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین اتھارٹی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کمپنیوں سافٹ ویئر ہاؤسز وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام اور یونیورسل سروس فنڈز کے عہدیداروں نے شرکت کی ہے۔ براڈ بینڈ اسٹیک ہولڈرز گروپ (بی ایس جی) کی رپورٹ میں براڈ بینڈ سیکٹر کی ترقی کے چار شعبوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور تجاویز دی گئی ہیں ان میں براڈ بینڈ انفرااسٹرکچر‘ نیٹ جنریشن براڈ بینڈ‘ براڈ بینڈ پالیسی اور ریگولیشن فریم ورک رابطے اور نیٹ ورک کا فروغ دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ کی توسیع جیسے امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔

البتہ براڈ بینڈ کو ترقی دینے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ دینی مدارس کو براڈ بینڈ نیٹ ورک میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے حالانکہ ملک بھر میں 12 لاکھ سے زیادہ مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات ہر سطح پر کی جارہی ہے

تصویر کا دوسرا رُخ

زبیر سے میری پہلی ملاقات مارچ 2004ء میں ہوئی تھی۔ وہ راولپنڈی کے ایک کالج میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ اس کا باپ پیرودہائی اڈے پر ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم تھا اور وہ حصول تعلیم کی غرض سے اپنے باپ کے ساتھ راولپنڈی میں مقیم تھا۔ ایک دن زبیر کو خبر ملی کہ کلوشہ میں اس کی ماں اور چھوٹا بھائی فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں۔ زبیر کے چھوٹے بھائی کی عمر صرف دس سال تھی اور وہ اپنی ماں کے ہمراہ بازار جا رہا تھا کہ آرٹلری فائر کی زد میں آ گیا۔ دونوں ماں بیٹا موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد زبیر نے اپنی تعلیم چھوڑ دی اور عسکریت پسندوں کے ساتھ جا ملا۔ اس کے باپ نے بڑی مشکل کے ساتھ اسے واپس بلایا اور اپنے ساتھ راولپنڈی لے آیا

مجھے صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ 28 فروری 2004ء کو فرنٹیئر کانسٹیبلری نے غلطی سے وانا میں ایک مسافر ویگن پر فائرنگ کی جس میں 13 مرد و خواتین جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد وانا کے اردگرد سیکورٹی فورسز پر حملے شروع ہو گئے اور یوں وزیرستان میں جگہ جگہ بمباری شروع ہو گئی۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس بمباری کا نشانہ القاعدہ اور طالبان ہیں لیکن اس بمباری میں زبیر کی ماں اور بھائی جیسے کئی بے گناہ بھی مارے گئے

اس نے کہا امیر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ اگر تمہارا والد تمہیں جہاد کی اجازت نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ انصاف مل جائے گا تو اپنے والد کی تسلی کیلئے اس کے ساتھ راولپنڈی چلے جاؤ، انصاف مل جائے تو واپس نہ آنا اور اگر انصاف نہ ملے تو واپسی کا راستہ کھلا ہے

میں نے زبیر سے پوچھا کہ تم جہاد کیلئے جا رہے ہو یا انتقام کیلئے؟ وہ بالکل کنفیوژ نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ وہ انتقام کیلئے جائے گا، البتہ اس کے ساتھی اس انتقام کو جہاد سمجھتے ہیں کیونکہ پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں آپریشن امریکہ کے دباؤ پر شروع کیا

جون 2007ء میں زبیر نے طویل عرصے کے بعد مجھے ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ اسلام آباد کی لال مسجد میں قبائلی علاقوں کی بہت سی طالبات محصور ہیں۔ ان طالبات کو بحفاظت نکالنے کا راستہ تلاش کیا جائے، اگر ان طالبات کی جانیں چلی گئیں تو قبائلی علاقوں کے نوجوان اپنی انتقامی کارروائیاں اسلام آباد اور لاہور تک پھیلا سکتے ہیں۔ میں نے یہ خط چوہدری شجاعت حسین کو دکھایا۔ انہوں نے مذاکرات کے ذریعہ لال مسجد آپریشن کے بغیر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن پرویز مشرف سیاسی مقاصد کیلئے آپریشن کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اس آپریشن کے بعد ملک بھر میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا

یہ اقتباسات ہیں حامد میر کی تحریر سے جو یہاں پر کلِک کر کے پڑی جا سکتی ہے

میں اِک اجنبی

میں ہوں اِک اجنبی اپنے ہی اس شہر میں
ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تُجھے مجھ کو آواز دے
اے دیانت ۔ اے امانت تو کہاں ہے کہاں ہے ؟

اثرو رسوخ سے کینیڈا میں کمرشل قونصلر کا عہدہ حاصل کرنے والی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی خاتون کلکٹر رفعت عابدی نے محکمہ کسٹم کے برطرف شدہ انسپکٹر کی بنائی گئی کاغذی فرموں کو 28کروڑ روپے کا ریفنڈ جاری کیا ۔ ریفنڈ کیس قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہونے کی بناء پر ایف بی آر نے مذکورہ کمرشل قونصلر کو سزا کے طور پر وطن بلانے کی سمری وزیراعظم سیکرٹریٹ بھجوا دی

خاتون کلکٹر رفعت عابدی نے اِس سمری کو وزیراعظم سیکرٹریٹ کے سرد خانے میں ڈلوا دیا ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سفارشات پیش کرکے آرڈرز حاصل نہیں کئے گئے ۔اس واقعہ کی باضابطہ انکوائری مکمل کرا لی گئی ہے ۔ وطن واپسی کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو رفعت عابدی کو چارج شیٹ دیگا۔ یہ چارج شیٹ تیار کر لی گئی ہے۔

رفعت عابدی کی وطن واپسی کی راہ میں کراچی کی ایک سیاسی جماعت کا دباؤ حائل ہے۔ وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی غیرملکی دورے سے واپسی پر اِس اسکینڈل کی بنیادی کردار رفعت عابدی کمرشل قونصلر کی کینیڈا میں تعیناتی کے احکامات واپس لینے کا جائزہ لیں گے

اب کے آ

وزارت داخلہ نے سکیورٹی فورسز اور عوامی قائدین کیخلاف پروپیگنڈا مہم کا نوٹس لیتے ہوئے نازیبا ای میلز اور ایس ایم ایس کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور ایف آئی اے کو سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ ایسے ای میلز اور ایس ایم ایس کرنے والوں کو 14 سال قید تک کی سزا اور جائیداد کی قرقی بھی ہوسکے گی

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ “اس سلسلے میں انٹرپول سے بھی مدد لی جائے گی اور بیرون ملک مطلوبہ افراد کو انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔ پروپیگنڈا ایس ایم ایس نے اسٹاک مارکیٹ کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا ۔ خواتین ارکان اسمبلی نے بھی نازیبا ایس ایم ایس کی شکایات کیں ۔ اس حوالے سے ایف آئی اے نے آزاد کشمیر سے ایک شخص کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ نازیبا ای میلز اور ایس ایم ایس سکیورٹی فورسز اور عوامی قائدین کیخلاف بھی کئے گئے۔ پوری دنیا سائبر کرائمز کیخلاف ہے اور ایس ایم ایس اور ویب سائٹ کے بارے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اسی طرح کی ایک مہم سکیورٹی فورسز کے خلاف انٹرنیٹ پر مذموم پروپیگنڈا کرنے والی بعض تنظیموں کے خلاف بھی شروع کی گئی ہے”

وزارت داخلہ کی طرف سے اتوار کو جاری کئے گئے بیان کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو اس طرح کی خبروں اور پیغامات کی نگرانی و چیکنگ اور سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایف آئی اے نے اس حوالے سے اقدامات کئے ہیں اور اس طرح کے عناصر کے خلاف آئندہ چند دنوں میں کارروائی کی جائے گی

اصلاح کے اشارے

جو اچھائی دوسرے میں نظر آتی ہے وہ دراصل اپنے اندر ہوتی ہے
جو غلطی دوسرے میں نظر آتی ہے وہ اپنے اندر ہو تی ہے
جو کام دوسرے کیلئے ممکن محسوس ہوتا ہے وہ اپنے لئے بھی ممکن ہے
دوسرے کی بات غور سے سننے والے کی باتیں دوسرے بھی سمجھنے لگتے ہیں

ظاہر ہے کہ کسی چیز کو پہچاننے کیلئے اس کا جاننا ضروری ہے
دنیا ايک آئینہ ہے جو ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھاتا ہے

جو دنیا کو بہتر بنانے کی تمنا رکھتا ہے اُس کیلئے لازم ہے کہ پہلے خود کو بہتر کرے

سانپ کی دوستی

سُنا ہے کہ سپیرے اس وقت سانپ کے ڈسنے سے مرتے ہیں جب سانپ سے پیار کرنے لگ جاتے ہیں ۔ پرویز مشرف نے بھارت سے دوستی کی خاطر يکطرفہ جنگ بندی کی اور بھارت نے پاکستان میں آنے والے دریاؤں پر بند باندھ لئے جس کا نتیجہ قوم بھگت رہی ہے ۔ زرداری بھی بھارت کی دوستی کا دم بھرتے ہیں اور پاکستان کے اندر کی گئی کاروائیوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں کہ کہیں بھارت ناراض نہ ہو جائے ۔ بھارت ہمارے حکمرانوں کی مہربانیوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک بہت خطرناک چال چل چکا ہے جس کا احوال لکھتے ہیں احمد قریشی

بھارت نے اپنے سرمائے اور وسائل سے کم و بیش پانچ سو دہشت گردوں کا ایک جتھہ تیار کیا ہے۔ ان دہشت گردوں کو افغانستان میں زبردست نوعیت کی خصوصی ٹریننگ سے آراستہ کیا گیا ہے اس فورس کی تیاری کا کام ”را“ اور حامد کرزئی کے گرگوں کے تعاون سے کیا گیا جس کے لئے بھارت نے ڈھائی کروڑ ڈالر فراہم کئے۔ پانچ سو کی ایک خصوصی تربیت یافتہ فورس میں پاکستانی، افغان اور کچھ بھارتی بھی شامل ہیں۔ یہ فورس ایک ایسے منصوبے پر عمل درآمد میں مرکزی کردار ادا کرے گی جس کے خدوخال بڑی ہنرمندی سے تیار کر لئے گئے ہیں۔ منصوبہ ان اجزاء پر مشتمل ہے

1 ۔ ایک ٹیم یا کئی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں پاکستان کی مختلف ایٹمی تنصیبات پر اچانک یلغار کریں گی اور کوشش کریں گی کہ ان کے اندر گھس جائیں
2 ۔ دہشت گردوں کی ان ٹولیوں میں چند ایک جدید ترین ہتھیاروں سے لیس اور خصوصی تربیت سے آراستہ ہوں گے تاکہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں
3 ۔ جہاں کہیں ممکن ہوا، یہ دہشت گرد ممبئی حملوں کے انداز میں عمارت کے اندر جاکر مورچے سنبھال لیں گے۔ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس دوران عالمی میڈیا اس خوفناک واقعے پر توجہ مرکوز رکھے اور پاکستان کی رسوائی کے چرچے ہوتے رہیں۔
4 ۔ بین الاقومی ذرائع ابلاغ خصوصاً امریکی اور برطانوی نشریاتی ادارے اسے ایک ”عالمی بحران“ کا درجہ دیتے ہوئے آسمان سر پر اٹھالیں گے
5 ۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر ہیجان بپا کردے گا جس کے نتیجے میں یہ تاثر پایہ ثبوت کو پہنچ جائے گا کہ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتا لہٰذا اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ان تنصیبات کے تحفظ کے بین الاقوامی بندوبست کو قبول کرلے
6 ۔ اس واقعے کے چند دنوں یا چند ہفتوں بعد، افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کے خلاف یا کسی اور مقام پر ایک چھوٹا سا ایٹمی ہتھیار استعمال کیا جائے گا تاکہ اس امر کا ٹھوس ثبوت ”فراہم کردیا جائے کہ عالمی خدشات کے عین مطابق پاکستان کے ایٹمی ہتھیار اسلامی عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں

اس چھ نکاتی منصوبے کا مرکزی سوال یہ ہے کہ وہ چھوٹا سا جوہری ہتھیارکہاں سے آئے گا جسے ”اسلامی عسکریت پسند“ امریکی یا نیٹو افواج کے خلاف استعمال کریں گے؟ ظاہر ہے کہ اس کا اہتمام بھی منصوبہ ساز ہی کریں گے۔کچھ عرصہ قبل بھارت کا ایک سینئر ایٹمی سائنسدان لوکاناتھن مہالنگم لاپتہ ہوگیا۔ مئی میں سینتالیس سالہ سائنسدان کی لاش ایک تالاب سے برآمد ہوئی۔ اس پر نہ تو بھارتی حکومت نے کوئی طوفان اٹھایا نہ میڈیا نے زیادہ اہمیت دی۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ شاید اس سائنسدان کو منصوبے کی بھنک پڑ گئی تھی اور وہ جان گیا تھا کہ بھارتی جوہری اسلحہ خانہ سے ایک یا اس سے زیادہ چھوٹے جوہری ہتھیار چوری ہونے والے ہیں

اسرائیل اس منصوبے میں پوری طرح شامل ہے۔ ماضی میں اسرائیل اور بھارت پاکستان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مشترکہ کوششیں کرچکے ہیں۔ کیا امریکہ اس پلان سے بے خبر ہے؟ کیا اسرائیل اور بھارت ، امریکیوں کو اعتماد میں لئے بغیر کسی ایسے منصوبے کو بروئے کار لاسکتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لئے ہمیں بہت زیادہ غور و فکر اور عرق ریزی کی ضرورت نہیں۔ 16 مئی کو اسرائیلی سیکورٹی ویب سائٹ نے ایک اسٹوری جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ”بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے امریکی صدر بارک حسین اوباما کو بتادیا ہے کہ صوبہ سرحد میں واقع پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پہلے ہی جزوی طور پر”اسلامی انتہا پسندوں“ کے ہاتھ لگ چکی ہیں۔ یہ اسٹوری معروف بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ میں شائع ہوچکی ہے جس کی تردید بھارت کی طرف سے نہیں کی گئی۔ چند دن قبل صدر اوباما کے مشیر بروس رائیڈل کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں ہیں۔ بروس رائیڈل نے راولپنڈی میں ایک بس پر خودکش حملے کو ”کے آر ایل“کی بس پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لحاظ سے پاکستان کی جوہری صلاحیت پہلے ہی انتہاپسندوں کے نشانے پر ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کے اس بیان کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ”ہم نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے لئے ایک خصوصی پلان تیار کرلیا ہے لیکن فی الحال اس کی تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں“

مجھے یقین ہے کہ قومی سلامتی کے متعلقہ ادارے اس صورت حال سے پوری طرح باخبر ہوں گے۔ انہوں نے اس مکروہ منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھی تیاری کر لی ہوگی۔ ماضی میں اسرائیل اور بھارتی گٹھ جوڑ کی ریشہ دوانیاں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ کہوٹہ پر فضائی حملہ عین وقت پر ناکام بنادیا گیا۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہائی موثر اور جامع کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں۔ پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لئے تمام دیگر ایٹمی ممالک سے کہیں زیادہ کڑا بندوبست کر رکھا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے دشمن پہلے ہی کی طرح اب بھی ناکام رہیں گے

لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو ”دشمن“ کا پتہ بھی ہے؟ آئے دن کسی نہ کسی دربار سے یہ بیان جاری ہوتا ہے کہ ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ یہ شگوفہ سب سے پہلے مشرف کے ذہن میں پھوٹا تھا اور اب تو یہ پورا چمنستان بن چکا ہے۔ پہلے امریکہ سے صدا بلند ہوتی ہے ”پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ نہیں“۔ پھر اس صدا کی گونج برطانیہ سے بلند ہوتی ہے، پھر چابی بھرے کھلونوں کی طرح ہمارے حکمران بولنے لگتے ہیں ”ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں، صرف دہشت گردوں سے ہے“

امریکی کروسیڈ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ دوست دشمن کی پہچان تک جاتی رہی ہے۔ زیاں کاری اور سود فراموشی کے ان موسموں میں یہ بنیادی حقیقت بھی بھلادی گئی کہ بھارت کا خبثِ باطن پہلے کیا کچھ کرچکا ہے، اب کیا کچھ کررہا ہے اور آئندہ کیا کچھ کرنے کے ناپاک منصوبے بنارہا ہے؟ کیا دنیا بھر میں کوئی قوم ایسی بھی ہوگی جس کے رہنما دوستوں اور دشمنوں کا تعین بھی دوسروں کے اشارے پر کریں؟

تلخ حقیقت

تلخ حقیقت یہ ہے کہ خودمُختار ہونا تو دُور کی بات ہے پاکستان کو ایک ھرکارے کی صورت میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قائد اعظم کا پاکستان خودمُختار ریاست نہیں رہ گیا بلکہ یہ ایک غلام مُلک ہے جس کی کٹھ پتلی حکومت امریکا کی بنائی ہوئی ہے ۔ ہماری افواج کے سربراہان کیوں ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتے ؟ وہ مُلک کی مغربی سرحدوں پر اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف جنگ کر کے یقینی طور پر نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں لیکن ۔ ۔ ۔

یہ ہے ایک چھوٹا سا اقتباس ایک ہوشرُبا مضمون سے جو يہاں کلِک کر کے پڑھا جا سکتا ہے