منافقت [Hypocrisy] ۔ مزید وضاحت

یہ تو میں واضح کر چکا ہوں کہ منافقت اپنے میں ایسی خصوصیات کا دعوٰی یا تصنع ہے جو موجود نہیں ۔ یا اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خُوبی یا مذہب کی غلط شکل پیش کرنا ۔ منافق میں پائی جانے والی عداوت یا کینہ ویسے ہی ہیں جیسے کہ جھوٹے میں پائے جانے والے ۔ دونوں میں جو آدمی کے دماغ میں ہے یا سوچ ہے اور جو وہ ظاہر کرتا ہے میں تفاوت یا اختلاف ہوتا ہے ۔ البتہ کسی کا اپنے جُرم یا گناہ کو اس وقت تک چھپانا جب تک اس کی تفتیش کوئی شرعی یا قانونی عہدہ یا اختیار رکھنے والا نہ کرے کو ہُپوکریسی یا منافقت نہیں کہا جا سکتا ۔

دو عناصر میں فرق کو سمجھنا از بس ضروری ہے ۔ ایک ہے ۔ نیکی کی خواہش ۔ اور دوسرا ہے ۔ نیکی کی خواہش کا بہانہ کرنا ۔ اور اگر کوئی دونو بیک وقت ہونے کا دعوٰیدار ہو تو وہ بھی منافقت ہے ۔

اس محرک پر تفتیش ضروری ہے جس کی بنا پر کوئی شخص ریاکارانہ یا پُرفریب عمل میں ملوّث ہوتا ہے ۔ اگر وہ کسی کا منظورِ نظر بننے یا کسی کی محبت جیتنے کیلئے اپنے آپ کو غلط طریقہ سے پیش کرتا ہے تو وہ منافقت میں ملوّث ہے

قانونِ قدرت ۔ پریشانی سے نجات

اگر قانونِ قدرت سمجھ آ جائے تو ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں
ہم اپنے آپ کو مظلوم سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں
ہم پیش آنے والے واقعات سے نبٹنا سیکھ لیتے ہیں

قانونِ قدرت کو ذاتی سطح پر لینا درست نہیں ۔
ہمیں اِسے سمجھنا اور اس کے ساتھ چلنا سیکھنا چاہیئے
ظاہر ہے کہ ہم قانونِ قدرت بدل نہیں سکتے
تجربات کا حاصل یہ ہے کہ شکست کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔
کامیاب لوگ زیادہ بار ناکامیوں سے گذرتے ہیں مگر کامیابی کے لئے وہ زیادہ بیج بوتے ہیں

میں کہاں ہوں

میں ممنون ہوں ان سب اصحاب کا جنہوں نے میری غير حاضری کو محسوس کیا بالخصوص ڈ ِ ف ر ۔ عمر احمد بنگش ۔ چوھدری حشمت افضل ۔ معراج خٹک اور کامران صاحبان کا

سب کچھ ایسی عُجلت میں ہوا کہ کچھ کہنے سننے کا وقت ہی نہ ملا۔ کوئی افسانہ نویس ہوتا تو کہتا “آنکھ کھلی تو لاہور میں تھا”۔ میں ایسا نہیں کہوں گا کیونکہ ایسا صرف اغوا کی صورت میں ہو سکتا ہے ۔ تو جناب ۔ بیٹھے بٹھائے ہمیں کیا سوجھی کہ لاہور میں کچھ عرصہ کیلئے رہائش اختیار کر نے کا منصوبہ بنا کر فٹ سے اس پر عمل کر دیا ۔ 17 جون کو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم لاہور کو سدھاريں گے ۔ 17 جولائی کو اسلام آباد سے روانہ ہو کر لاہور پہنچے اور یہاں سکونت اختیار کر لی

کرائے کا مکان ہو اور بندہ پردیسی تو خوامخواہ ہی مت ماری جاتی ہے ۔ اوپر سے بجلی کی آنکھ مچولی اور بلا کی گرمی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ تین دن سے بارشیں شروع ہو گئیں تو موسم کچھ خوشگوار ہو گیا ہے

ابھی تک مکان کے اندر کی ضروریات پوری کرنے میں لگے ہیں اور سب کی دعاؤں کے متمنی ہیں

منافقت [Hypocrisy] کی عملی جہت

قبل اسکے کہ میں منافقت کی عملی صورت بیان کروں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو طاقت کے بل بوتے پر اُس کے ارادے اور مرضی کے خلاف کوئی عمل کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو مجبور کئے گئے شخص کو منافق کہنا زیادتی ہو گی ۔

عمل کی بنیاد پر منافقت کو مندرجہ ذیل شاخوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
1 ۔ جس میں منافق کا مالی فایدہ ہو یا نیک نامی یا ناموری یا شہرت ہو جائے اور کسی دوسرے کا نقصان نہ ہو
2 ۔ جس میں منافق کا فایدہ ہو لیکن حقدار کو نقصان ہو
3 ۔ جس میں منافق کسی دوسرے کی بدنامی کر کے نیک نامی یا شہرت حاصل کرے
4 ۔ جس میں منافق بظاہر کسی کی مدد یا کسی سے انصاف کر رہا ہو مگر حقیقت میں ایسا نہ ہو
5 ۔ مطلب کی خاطر کسی سے وفا یا نمک حلالی جتانا
6 ۔ انتقام لینے کیلئے یا کینہ کی وجہ سے کسی کو بدنام کرنا یا بدنام کرنے کی کوشش کرنا
7 ۔ وقت خوشی یا لذت یا تفننِ طبع کی خاطر کسی کو بیوقوف بنانا یا بنانے کی کوشش کرنا

اِنتباہ ۔ بغیر سوچے سمجھے ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے عمل کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں جو کہ منافقت کا درجہ رکھتا ہے

تخلیق کے متعلق قرآن اور انجیل کا موازنہ پر کلک کر کے پڑھیئے اس بلاگ سے مُختلِف انگريزی میں بلاگ پر

دےمارا پاپڑوالےکو

پاپڑ والا = جنرل پرویز مشرف جو ریٹائر ہونے کے بعد بھگوڑا ہو چکا ہے

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو دس سال پرانے جھوٹے طیارہ سازش کیس میں متفقہ طور پر بری کرتے ہوئے ان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے ۔ طیارہ سازش کیس کے خلاف نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت ، جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کی ۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ناصر الملک ، جسٹس غلام ربانی ، جسٹس موسی کے لغاری اور جسٹس شیخ حاکم علی شامل تھے ۔

اس مقدمے میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اپریل 2002ء میں انہیں دو بار عمر قید اور نا اہلی کی سزا سنائی تھی ۔ اس فیصلہ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جس کے تین رکنی بنچ نے ایک کے مقابلے میں دو کی اکثریت سے نواز شریف کو عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی

میاں نواز شریف نے ان سزاؤں کیخلاف اپیل دائر کی جن کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کے بعد 18جون کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔ جسٹس ناصرالملک نے پانچ رکنی بنچ کی طرف سے آج اس کا متفقہ اور مختصر فیصلہ سنایا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے نواز شریف کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ کے الزامات ثابت نہیں ہوسکے اور میاں نواز شریف کی اپیل منظور کرتے ہوئے انکے خلاف سزائیں کالعدم قرار دیدیں۔

إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ

ایک صاحب نے اپنی پریشانی بیان کی تو بلا اختیار میرے مُنہ سے إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ نکل گیا ۔ موصوف نے اس کا بُرا منایا ۔ میں نے وضاحت کی کوشش کی تو یہ کہہ کر چل دیئے “میں ابھی زندہ ہوں اور تم نے إِنَّا لِلہِ کہہ دیا ہے”

میرے ہموطن مسلمانوں کی اکثریت إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ صرف اُس وقت کہتی ہے جب کوئی مسلمان مر جائے یا اس کے مرنے کی خبر ملے ۔ شاید میرے ہموطنوں کی اکثریت یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں اسلئے ہم چھوٹی موٹی سزا کے بعد بخش دیئے جائیں گے اور جنت میں داخل ہو کر مزے لوٹیں گے اور شاید اسی لئے ہماری اکثریت کوشش ہی نہیں کرتی کہ اللہ کے کلام یعنی قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ معلوم ہو کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے

إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ حصہ ہے سورت البقرہ کی آیت 156 کا جو دراصل چار آیات پر مشتمل اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے ایک پیغام کا حصہ ہے

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیات ۔ 153 تا 156
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں [وہ مردہ نہیں] بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے
اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو [اللہ کی خوشنودی کی] بشارت سنا دو
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

چنانچہ کوئی بھی مُشکل یعنی تنگدستی ۔ بیماری ۔ کوئی چیز کھو گئی ہو ۔ راستہ بھول گیا ہو ۔ کوئی پیارا بچھڑ جائے ۔ کوئی مر جائے ۔ یعنی کسی قسم کی بھی پریشانی ہو تو إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ کہا جا سکتا ہے

آجکل جس طرح کے حالات ہیں ہو پاکستانی مسلمان کو چاہیئے کہ
إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ
اور
سورت ۔ 21 ۔ الانبیاء ۔ آیت 87 ۔ کا آخری حصے ۔ لَّا إِلَہَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّی كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے [اور] بےشک میں قصوروار ہوں
کا ورد کرتا رہے

ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھے اور اس پر عمل کرے ۔ اللہ ہمیں قرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

بلاگسپاٹ بلاگز کا مسئلہ

کچھ بلاگسپاٹ پر بنے بلاگز پر تبصرہ لکھ کر جب شائع کرنے کی کوشش کی جائے تو ناکامی ہوتی ہے ۔ اس مشکل کے کئی رُخ ہیں جن میں دو عمومی یہ ہیں
کچھ بلاگ ایسے ہیں جن پر نام اور یو آر ایل کا اختیار نہیں ہے
کچھ بلاگز پر ورڈ ویریفیکیشن لگایا گیا ہے مگر ایک تو خروف پورے نظر نہیں آتے دوسرے وہ خانہ ہی نہیں جس میں ان کو نقل کیا جائے