اظہارِ تشکر اور يک نہ شُد دو شُد

جن حضرات نے [پھپھے کُٹنی بھی حضرت ہے] ميرے ساتھ ہمدردی کی ہے اُن کا ميں ممنونِ احسان ہوں ۔ ميں جو کہ اُوندھا پڑا تھا ۔ ان کی حوصلہ افزائی سے اپنے پاؤں پر واپس کھڑا ہو گيا ہوں ۔ اس حادثہ سے ايک بار پھر ثابت ہو گيا ہے کہ اللہ کے کرم سے ميرے سے ناراض رہنے والے صرف چند ايک ہيں جبکہ ہمدرد بہت زيادہ ہيں ۔ اللہ سب کو خوش رکھے ۔ اللہ اُن کو بھی خُوش رکھے جو مجھ سے خُوش نہيں

جناب ۔ ميں نے ہر چيز کا بيک اَپ رکھا ہوتا ہے ۔ آج سے 20 سال پہلے کی بات کچھ اور تھی ۔ اُس وقت ميرا کمپيوٹر کا تجربہ صرف 5 سال تھا ۔ اب يہ ہوا کہ 21 مارچ کو ہم اسلام آباد چلے گئے ۔ واپس آئے تو کراچی اور برطانيہ سے باری باری قريبی عزيز مہمان ہوئے ۔ اس پر طُرّہ يہ کہ بجلی 12 سے 16 گھنٹے بند ہوتی رہی اور ميں بيک اَپ نہ لے سکا ۔ ان پندرہ دنوں کا مجھے اتنا دُکھ نہيں ہے ۔ آؤٹ لُک ايکسپريس ميں پڑی ميری ساری ای ميلز ضائع ہو گئی ہيں جن ميں بہت کچھ تھا

ابھی ميں اپنا سِسٹم بحال کر رہا تھا تو ميرا وائرليس انٹر نيٹ EVO جواب دے گيا ۔ جس کی وجہ سے ميں کچھ بھی نہ کر پايا ۔ آج ورڈ کا ڈی ايس ايل لگوايا ہے اور کام شروع کيا ہے

اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا ہی پڑے گی

کمپيوٹر پر خود کُش حملہ

نہ پوچھ ہوا جو حال ميرا ۔ ميرے کمپيوٹر پر خُودکُش حملے سے

دِل کو سنبھالوں يا دماغ کو قابو کروں ؟ دِل درد سے ايسے اُچھل رہا ہے جيسے ميمنا مَوج ميں آ کر چھلانگيں لگاتا ہے اور دماغ ميں سے اس طرح دھُواں نکل رہا ہے جيسے پرانے ٹرکوں کے پيچھے نکلتا ہے

جناب ميں نے زر کو آگ لگا کر برينڈِڈ يُو پی ايس لگايا ہوا تھا ۔ يُو پی ايس کی بيٹری کيا کرے جب آدھے سے ايک گھنٹے تک بجلی موجود ہو اور ايک سے چار گھنٹے تک غائب رہے ۔ جب بيٹری بيکار ہو گئی تو نئی بيٹری کی تلاش جاری تھی مگر کم طاقت کی مل رہی تھيں جو چند دن بھی بمُشکل نکالتی ۔ اتوار 4 اپريل صبح کمپيوٹر چل رہا تھا کہ بجلی اچانک غائب ہو گئی ۔ جب واپس تشريف لائی تو ميرے کمپيوٹر نے بُوٹ ہونے سے انکار کر ديا

خُود کُش حملہ ميں يہی ہوتا ہے نا کہ حملہ کرنے والا مرتا ہے اور ساتھ دوسروں کو لے مرتا ہے ۔ سو بجلی خود مری اور ميرے کمپيوٹر کی ڈرائيو سی کے سارے ڈاٹا کو لے مری

ميرا نقصان نقد سکہ رائج الوقت مبلغ 3200 روپے جو ہوا اُس کی کوئی وقعت نہيں مگر ميری سالہا سال کی محنت اور تحقيق کے نتيجہ ميں جو تحارير اور پروگرام اس ميں پڑے تھے اُن کی قيمت کوئی ادا نہيں کر سکتا اور نہ ہی مجھ ميں اب اتنی ہمت و استقلال ہے کہ ميں وہ سب کچھ دوبارہ تيار کر سکوں اور نہ ہی ايسا ممکن ہے کيونکہ نہ وہ مواقع اور نہ وہ مناظر دہرائے جا سکتے ہيں اور نہ شايد کبھی اُن تحارير سے متعلق آدميوں سے ميری ملاقات کا کوئی تصوّر ہے

دو دن کی محنت سے اس قابل ہوا ہوں کہ حاضرِ خدمت ہو سکوں ۔ نيک لوگوں کی دعاؤں کا متمنی ہوں کہ سب کچھ نئے سرے سے سيٹ ہو جائے ۔ اگر کسی ہمدرد کی مدد آئے تو بسم اللہ

وہ بھی چھوڑ گئے

اٹارنی جنرل انور منصور جنہوں نے کل عدالتِ عظمٰی ميں بيان ديا تھا کہ وزيرِ قانون اور وزارتِ قانون اُن کی راہ ميں روذے اٹکارہے ہيں ۔ آج وہ اس رويّہ کے خلاف مستعفی ہو گئے ہيں

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
” پچھلے ساڑھے پانچ سال سے معاشرے کے کچھ بھیانک پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے

موبائل فون سے دو دو ہاتھ

موبائل فون کی تين بيمارياں ہيں
1 ۔ مختصر پيغامات ۔ ايک ۔ کمپنی کے اشتہارات ۔ دوسرے ۔ جو فارغ لوگ بھيجتے ہيں
2 ۔ دھوکہ والی کالز
3 ۔ مِسڈ کالز

ميں اُلٹی ترتيب سے چلتا ہوں ۔ ہم رات کو نو دس بجے تک سونے کے عادی ہيں ۔ دو تين رات گيارہ بارہ بجے کے درميان مِسڈ کالز آئيں تو ميں نے صبح کے وقت اُس نمبر پر ٹيليفون کيا ۔ خاتون نے ہيلو کہا ميں نے وجہ بتائی تو کھِلکھلا کر ہنس پريں اور کہنے لگيں “يہاں سے تو کسی نے نہيں کيا ۔ ميں نے کہا “اگر اب اس نمبر سے کال آئی تو اس کی سزا کا بندوبست کرنا پڑے گا”۔ اگلی رات ايک اور دو بجے کے قريب اُسي نمبر سے مسڈ کال آئی ۔ اگلے دن صبح ميں نے پی ٹی اے کے چيئرمين کو ای ميل بھيجی اور اس کا نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ اس طرح ميں پچھلے چار سال ميں چار نمبر بلاک کروا چکا ہوں جن ميں سے تين خواتين کے تھے اور ايک لڑکے کا

ايک سال قبل ايک کال آئی “ميں فلاں کمپنی سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کے نمبر پر انعام نکلا ہے ۔ آپ فلاں نمبر پر کال کيجئے تاکہ انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے اُس کی بجائے جس موبائل کمپنی کا نمبر تھا اُن کو شکائت بھيجی اور نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ 22 مارچ 2010ء کو ايک کال آئی “ميں وارد کے ہيڈ آفس سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کا پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے ۔ آپ اسی نمبر پر کال کيجئے تاکہ آپ کا انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے وارد کے منيجر ريگوليشنز کو ای ميل بھيجی اور دوسرے دن اُس کا جواب آ گيا کہ نمبر بلاک کر ديا گيا ہے

موبائل فون کمپنی کے اپنے اشتہارات کا تو ميں کچھ کر نہيں سکتا ۔ البتہ فارغ لوگوں کو ميں کم ہی جراءت کرنے ديتا ہوں ۔ ايک ميرا ہم زُلف ہے ۔ اُسے اسی ماہ يو فون والوں نے 3000 مختصر پيغامات بھيجنا مُفت کر ديا ۔ اُس نے پچھلے چار دن سے پريشان کيا ہوا ہے ليکن چند پيغامات اس قابل ہيں کہ يہاں لکھے جائيں

سب سے اچھا ہے
ہم تو مِٹ جائيں گے اے ارضِ وطن ليکن تم کو
زندہ رہنا ہے قيامت کی سحر ہونے تک

ايک آدمی نے دريا سے مچھلی پکڑی اور خوش خوش گھر آيا ۔ ديکھا تو بجلی بند ۔ گيس کم ۔ اور تيل بھی ختم ۔ واپس گيا اور مچھلی کو دريا ميں پھينک ديا ۔ مچھلی اُچھل کر پانی سے باہر آئی اور نعرہ لگايا “جيو زرداری”

کون کہتا ہے کہ پاکستان ميں غم ہيں خوشياں نہيں ۔ بجلی آنے کی خوشی ۔ بازار سے ہو کر زندہ واپس گھر آنے کی خوشی ۔ مسجد ميں نماز کے بعد خودکُش حملے سے بچ جانے کی خوشی ۔ بس سے اُترنے کے بعد اپنے موبائل کو اپنی جيب ميں پانے کی خوشی ۔ اتنی خوشياں ہونے کے باوجود پاکستانی عوام خوش نہيں

نيند اور سُستی ہماری بہت بڑی دُشمن ہيں ۔ علامہ اقبال
ہميں اپنے دُشمن سے بھی پيار کرنا چاہيئے ۔ قائد اعظم
دسو ہَن بندہ کِدی منّے

A mistake which makes you sober is much better than an achievement which makes you proud

الطاف بھائی حج کرنے گئے ۔ جب وہ شيطان کو پتھر مارنے لگے تو آواز آئی “بھائی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔ آپ نے يہاں آنے کی زحمت کيوں کی ۔ مجھے لندن بُلوا ليا ہوتا”

فقير “بھوکا ہوں ۔ اللہ کے نام پر تھوڑا سا کھانا دے ديں”
باجی “کھانا ابھی نہيں پکا”
فقير “باجی ۔ نمبر لکھ ليں جب پک جائے تو مِسڈ کال دے دينا”

سال 1990ء
“يار ۔ آج بجلی کيوں بند ہوئی ہے ؟”
“ٹرانسفارمر بدل رہے ہوں گے”

سال 2010ء
“يار ۔ يہ بجلی کب آئے گی ؟”
“جب ہمارے محلے کی بند ہو گی تو تمہارے محلے کی آئے گی”

سال 2020ء
” يار ۔ صبح سے بجلی بند ہے ۔ کب آئے گی”
“آج ملتان کی باری ہے اور کل لاہور کی ۔ سو کل تمہاری بجلی آئے گی اور ملتان کی بند ہو گی”

سال 2030ء
“يار سُنا ہے کہ بجلی نام کی کوئی چيز ہوا کرتی تھی ۔ جس سے گھر جگ مگ کرتے تھے”
“چُپ کر کے سو جا ۔ تمہيں ايسے ہی کسی نے بہکا ديا ہے”

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ خوشی اور صحت کاراز

خاميوں سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے ۔ اس کے بعد اللہ کے برگزيدہ بندے يعنی انبیاء عليہم السلام ہيں ۔ باقی ہر انسان ميں خامياں موجود ہوتی ہيں ۔ اگر غور کيا جائے تو اکثر انسانوں ميں خوبياں اُس کی خاميوں سے زيادہ بلکہ بہت زيادہ ہوتی ہيں

نجانے کيوں انسان کی عادت ہے کہ دوسرے انسانوں کی خاميوں پر نظر رکھتا ہے اور اس کے نتيجہ ميں پریشان ہوتا ہے ۔ فرض کريں کہ انسان کی کُل خواص 100 ہيں ۔ اب اگر ایک آدمی ميں 15 خامياں ہيں تو ان 15 کی وجہ سے پريشان ہونے کی بجائے اُس آدمی کی 85 خُوبيوں پر توجہ مرکوز کی جائے تو اس کا نتيجہ ايک خوشگوار احساس ہو گا جس کا صحت پر اچھا اثر پڑے گا اور ساتھ ہی اچھے تعلقات بھی استوار ہوں گے

خوشی اور صحت دوسروں کی خاميوں کی بجائے اُن کی خوبيوں پر نظر رکھنے سے حاصل ہوتی ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
” پچھلے ساڑھے پانچ سال سے معاشرے کے کچھ بھیانک پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے

اين جی اوز [NGOs] اور حقوقِ نسواں

پچھلے سال 2 اپريل کو برطانيہ کا گارجين اخبار اچانک  ايک وڈيو سامنے لايا کہ طالبان نے ايک 17 سالہ لڑکی کو برسرِ عام کوڑے مارے اور اس کی چيخيں نکلتی رہيں ۔ اس وڈيو کو پاکستان کے ٹی وی چينلز نے بار بار دکھايا ۔ جيو نيوز پر يہ وِڈيو ہر پانچ منٹ کےوقفہ سے سارا دن دکھائی جاتی رہی ۔ لاتعداد مذاکرے اس سلسلہ ميں منعقد کئے گئے اور طالبان کو خُوب خُوب کوسا گيا ۔ حقوقِ نسواں کی ايک نام نہاد علمبردار  ثمر من اللہ نے اس کی چیخ چيخ کر اشتہار بازی کی ۔ اسلام کے نام ليواؤں کی وحشتناکيوں کے خلاف مظاہرے ہوئے اور جلوس نکالے گئے ۔ اس سب غوغا کے نتيجہ ميں عدالتِ عظمٰی نے اس کا ازخود نوٹس لے کر تحقيقات کا حُکم دے ديا

ميں نے اس پر لکھا تو مجھ پر طنز کئے گئے ۔ آخر وہی نکلا جو ميں نے لکھا تھا ” کسی نے کہا کُتا کان لے گيا اور کُتے کے پيچھے بھاگ پڑے يہ ديکھا ہی کہ کان تو دونوں اپنی جگہ پر موجود ہيں”

تحقيقات ہوئيں مگر منظرِ عام پر آنے ميں 10 ماہ لگ گئے ۔ وڈيو کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وہ دو بچے ڈھونڈ نکالے جو موقع پر موجود تھے اور ان کی مدد سے جس شخص نے وڈيو بنائی تھی اور جس عورت کو کوڑے مارے گئے تھے انہيں بھی گرفتار کر ليا ۔ جس شخص نے يہ وڈيو بنائی تھی اُسے ايک اين جی او نے پانچ لاکھ روپے اس ڈرامہ کيلئے ديئے تھے ۔ عورت کو ايک لاکھ اور دونوں بچوں کو پچاس پچاس ہزار روپے ديئے گئے تھے

مکمل خبر يہاں کلک کر کے پڑھيئے

نظامِ تعلیم

عصرِ حاضر میں جدید تعلیم کا بہت غُوغا ہے لیکن جدیدیت کے نام پر نظامِ تعلیم کا اُس سے بھی بُرا حال کر دیا گیا ہے جو انگریز حُکمرانوں نے اُنیسویں صدی میں ہندوستان کو مکمل قابو میں کرنے کیلئے بنایا تھا ۔ ذیل میں اس سلسلہ میں پاکستان بننے سے بہت پہلے لکھی گئی ایک کتاب کے دو اوراق ملاحظہ کیجئے ۔ یہاں میں واضح کر دوں کہ اکبر الٰہ آبادی 16 نومبر 1846ء کو پیدا ہوئے اور 1921ء میں وفات پائی

Education1

Education2
بشکریہ ۔ باذوق صاحب