تصحيح

ميری تحرير ” چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہندسے” کے متعلق سعادت صاحب کے توجہ دلانے پر ميں نے ديکھا کہ ميں نے اُردو لکھنے ميں غلطی کر دی تھی ۔ اب درست کر ديا ہے جو کہ اس طرح ہے ۔

ان پر مزید کام کرتے ہوئے ایک معروف مُسلم سائنسدان ابو عبداللہ محمد ابن موسٰی الخوارزمی نے صفر کو بھی قیمت عطا کی ۔ اکائی کے حصے اعشاریہ کی صورت ميں کئے اور ریاضی کے دو ایسے نظام وضع کئے جنہيں ايلگورتھم [algorithm] اور لوگرتھم [logrithm] کے ناموں سے جانا پہچانا جاتا ہے

لو کر لو بات

بقلم خود
عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر تعلیم قاضی اسد کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ايک اور رکن سرحد اسمبلی گوہر نواز نے بھی ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے لئے اسمبلی سیکریٹریٹ میں قرارداد جمع کرا دی ہے

اب قائد صرف ايک کيا کريں گے؟
کراچی سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں واقع عدالت نے غیرقانونی اسلحہ اوردھماکہ خیزموادرکھنے کے مقدمے میں مہاجر قومی مومنٹ پاکستان کے چئیرمین آفاق احمد کو ناکافی شہادتوں کی بنا پر بری کردیا۔ آفاق احمد پر یہ مقدمہ 5 اگست 2004ء کو قائم کیا گیا تھا

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہندسے

عصرِ حاضر میں تعلیم بہت ترقی کر چکی ہے ۔ معیار کی ضمانت کا اصول ہے کہ پیداوار جتنی زیادہ ہو گی معیار اتنا ہی گِر جائے گا ۔ کسی حد تک یہ اصول عصرِ حاضر پر بھی لاگو ہوا ہے ۔ آجکل مضامین بہت ہیں اور لوگوں کو بہت کچھ معلوم ہے لیکن عام طور پر دیکھا گیا کہ معلومات زیادہ تر سطحی ہیں

آج سے چودہ صدیاں قبل یورپ اور ملحقہ علاقوں میں رومن ہندسے مروج تھے ۔ مسلمانوں نے عربی کے اُن ہندسوں کو رواج دیا جو آجکل انگریزی میں مستعمل ہیں اور ساری دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں [1 ۔ 2 ۔ 3 ۔ 4 ۔ 5 ۔ 6 ۔ 7 ۔ 8 ۔ 9]۔ اگر یہ ہندسے رواج نہ پاتےتو نہ الجبرا اور علمِ ہِندسہ [جیومیٹری] بنتے اور نہ ہی آج کمپیوٹر ہوتا ۔ نیچے رومن ہندسے اور عربی کے ہندسوں کا تقابلی جائزہ دیکھ کر میرے متذکرہ استدلال کی تصدیق کی جا سکتی ہے

عربی گنتی کی بنیاد اعشاری نظام تھا ۔ ان پر مزید کام کرتے ہوئے ایک معروف مُسلم سائنسدان ابو عبداللہ محمد ابن موسٰی الخوارزمی نے صفر کو بھی قیمت عطا کی ۔ اکائی کے حصے اعشاریہ کی صورت ميں کئے اور ریاضی کے دو ایسے نظام وضع کئے جنہيں ايلگورتھم [algorithm] اور لوگرتھم [logrithm] کے ناموں سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔ میں مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ اس وقت زیر نظر گنتی کے ہندسے ہیں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ایک ارب کتنا ہوتا ہے

جانتے ہیں ایک ارب میں کتنے صفرے ہوتے ہیں ؟ مشکل سوال ہے ؟ چلئے حساب لگاتے ہیں

ایک ارب ثانیئے [seconds] کا مطلب ہے 38 سال

ایک ارب دقیقے [minutes] کا مطلب ہے 19ہزار 2 سال

ایک ارب گھنٹےکا مطلب ہے ايک لاکھ 14 ہزار ايک سو 55 سال

ایک ارب دنوں کا مطلب ہے 27 لاکھ 39 ہزار 7 سو 26 سال

مگر ہمارے سیاستدانوں کیلئے ایک ارب روپے کا مطلب ہے چند دن کا خرچ

جواب

مجھے ياد نہيں آ رہا کب مگر پہلے بھی ذکر ہوا تھا کہ لفظ ” نکتہ ” درست ہے يا ” نقطہ “۔ اب شاہدہ اکرم صاحبہ نے يہ سوال اُٹھا يا ہے ۔

اُردو ہماری قومی زبان ہے مگر جتنا بُرا سلوک ہماری قوم نے اس کے ساتھ پچھلی چار دہائيوں ميں کيا ہے ايسا کسی قوم نے اپنی زبان کے ساتھ نہيں کيا ہو گا ۔ نہ صرف بودے طريقہ سے اس ميں انگريزی کا جڑاؤ بلکہ الفاظ کا غلط استعمال اور غلط ہِجے ۔ ايک روز مرّہ کی مثال ہے کہ” طالب ” کی جمع ” طلباء ” ہے مگر دورِ جديد کے تمام علوم سے ليس لوگ ” طلبہ ” لکھتے ہيں ۔ اسی طرح ” طالب علم ” کی جمع ” طالب علموں ” لکھی جاتی ہے ۔ مُستقبَل کو مُستقبِل کہا جاتا ہے ۔ خير آتے ہيں اصل موضوع کی طرف ۔

” نُکتہ ” اور ” نُقطہ ” دونوں ہی درست ہيں ليکن دونوں کا مطلب مُختلف ہے ۔ ميں ان کے فقروں ميں استعمال سے معنی واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں

نُکتہ چِينی اچھی عادت نہيں
شاہدہ اکرم صاحبہ نے خُوب نُکتہ نکالا ہے
سيّد حيدرآبادی صاحب بہت نُکتہ داں ہيں

. . . . ميں نے چار نُقطے ڈالے ہيں
ب کے نيچے ايک نقطہ ۔ ت کے اُوپر دو نقطے
کسی چيز کی بہت ہی کم تعداد بتانے کيلئے مبالغہ آرائی کرتے ہوئے نُقطہ کا لفظ استعمال کيا جاتا ہے

ذاتی التماس
ميرے عِلم کے مطابق شاہدہ اکرم صاحبہ ايک تابعدار بيٹی ۔ جانثار بہن ۔ وفادار بيوی ۔ سمجھدار ماں اور صُلح جُو فردِ قوم ہيں اور سب سے بڑھ کر اچھی عورت کی مثال ہيں چنانچہ حسّاس بھی بہت ہيں اور برداشت کی قوت بھی بہت رکھتی ہيں ۔ اللہ اُنہيں سدا تندرُست و صحتمند ۔ خوش و خُوشحال رکھے ۔ اپنے قارئين سے بھی ميری درخواست ہے کے اُن کيلئے يہی دعا کريں

امریکی اخبار ۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دِکھانے کے اور

امریکی عدلیہ کی آزادی پر فخر کا دم بھرنے والے امریکی میڈیا جو کسی صورت میں اپنے سرکاری عہدیدار پر کرپشن کا الزام تک برداشت نہیں کرتا کی جانب سے امریکا کے بڑے اخبارات میں پاکستانی عدلیہ کے خلاف اور اس کے این آر او کے متعلق فیصلے کے حوالے سے جو کچھ بھی شایع ہوا ہے وہ سب غلط، آدھا سچ اور انتہائی حد تک متعصبانہ اور حقیقت سے انتہائی دور ہے ۔ کئی رپورٹس نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دی گئی ہیں اور ان میں پیپلز پارٹی کے حوالہ جات بھی شامل ہیں

صحافت کے اعلیٰ ترین معیارات کی پیروی کرنے کے دعوے کرنے والے ٹائم میگزین نے ڈھٹائی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے آئینی پیکیج کی حالیہ مخالفت چیف جسٹس کے دباؤ کا نتیجہ تھی ۔ میگزین کے مطابق چیف جسٹس نے نواز شریف کو دھمکی دی تھی کہ بصورت دیگر عدالتیں ان کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولیں گی

کئی اعلیٰ ترین وکلاء یہ سمجھتے ہیں کہ ٹائم میگزین میں جو کچھ شایع ہوا ہے وہ پروپیگنڈہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران چیف جسٹس سے دو مرتبہ ملاقات کی ہے ججوں کے تقرر کے معاملے پر نواز شریف کے مؤقف کے مخالف ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چیف جسٹس ایسے کسی معاملے پر مشاورت کے خواہاں نہیں ہیں جو پارلیمنٹ کا اثاثہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ٹائم میگزین یہ نوٹ کرنے میں ناکام ہوگیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے حال ہی میں سینیٹر رضا ربانی کی زیر قیادت پارلیمانی کمیٹی کے کام کی تعریف کی گئی ہے ۔

واشنگٹن سے شائع ہونے والے ایک اور جريدہ ”دی ہل” میں جارج برونو نے پاکستان میں ہونے والی ایک بغاوت کا ذکر کیا ہے ۔ بے وقوفی سے بھرپور اس تحریر میں پروپیگنڈہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور یہ مضمون پاکستانی لابِسٹس کے زیر اثر تحریر کیا گیا ہے ۔ اس مضمون میں پاکستانی عدلیہ کے سیاست زدہ ہونے کی بھی بات کی گئی ہے ۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے آئین کی مخالفت میں نہ صرف عدالتوں میں پیدا ہونے والی اسامیوں پر تقرر کا وزیراعظم کا اختیار چھین لیا ہے بلکہ ایگزیکٹو برانچ کی طاقت بھی چھین لی ہے ۔ “دی ہل” کی جانب سے شائع کی گئی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ اسے ان معاملات میں آئینی شقوں کا علم ہی نہیں ہے ۔

تحریر میں جارج برونو نے خود کو یونیورسٹی آف نیو ہمپشائر کے “پارٹرنز فار پیس” پروگرام کے شریک ڈائریکٹر کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔ انہوں نے خود کو سابق امریکی سفیر بتانے کے علاوہ کلنٹن انتظامیہ میں خدمات انجام دینے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ تاہم انہوں نے پاکستان کی عدلیہ کے خلاف جو کچھ بھی لکھا ہے اس کے بعد ان کی ساکھ کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے پاکستان میں جاری حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان کے موقف اور سوئس پراسیکیوٹر جنرل کے بیان کے بعد سے پاکستان میں کرپشن کے کیسز پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ۔ جبکہ ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار اور صدر زرداری کے قریبی دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار کو بتایا کہ جہاں تک میرا خیال ہے سپریم کورٹ میں ساری کارروائی ایک تماشہ اور سیاسی نمبر بڑھانے کا عمل دکھائی دیتی ہے کیونکہ چیف جسٹس اس قانونی صورتحال سے لاعلم نہیں رہے سکتے کہ درحقیقت سوئٹزرلینڈ میں اس کیس پر کارروائی نہیں ہوسکتی

بنیادی طورپر یہ امریکی میڈیا ہی تھا جس نے مقدمہ چلنے یا مؤاخذہ ہونے سے قبل ہی صدر رچرڈ نکسن کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا ۔ امریکی میڈیا یہ بات بھی بھول جاتا ہے کہ پاکستان کے منتخب سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور ماضی کے حکمرانوں، بشمول موجودہ صدرِ پاکستان، کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کرانے کی خاطر این آر او کے اجراء میں امریکا اور برطانیہ کا ہی ہاتھ تھا ۔ پارلیمنٹ کی جانب سے این آر او کو منظور کرنے سے انکار کرنے کے بعد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے کالعدم قرار دیا ۔ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ کیا امریکا اپنے ملک میں ایسا غلیظ قانون منظور ہونے دے سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو امریکی میڈیا ایسی چیز کو ہمارے لئے اچھا کیوں سمجھتا ہے جو اس کے اپنے ملک کے لئے ناپسندیدہ ہو

بشکريہ ۔ جنگ