آج اور کل

جو دن گذر گيا سو گذر گيا ۔ وہ تو واپس نہیں آ سکتا ۔
آنے والا دن آئے گا يا نہيں ؟ کسے کيا معلوم ۔
اور آئے گا تو کيا ميں اُسے ديکھنے کيلئے موجود ہوں گا ؟
اور اگر موجود ہوا تو اس قابل ہوں گا کہ کچھ کر سکوں ؟
کوئی نہيں بتا سکتا ۔

پھر يہ بھی تو ہے کہ ہر غُنچہ پھُول نہيں بنتا
اور نہ ہر کلی غُنچہ بنتی ہے

اگر کچھ کرنا ہے تو آج ہی کرنا ہے ۔
کل کی انتظار ميں بيٹھنا عقلمندی نہيں ہے

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہيں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہيں

کسی نے کيا خوب کہا ہے

جوانی ہی ميں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شب کو اُٹھتے ہيں جو جانا دور ہوتا ہے

آہ

اِنا للہِ و اِنا اِليہ راجعون

کل صبح ساڑھے نو [پاکستان کے ساڑھے دس] بجے يونہی ٹی وی ڈان نيوز لگايا تو سُرخ پٹی پر لکھا تھا اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں ميں ايمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔ دل دھک سے رہ گيا اور اس ميں سے التجائی آواز نکلی يا اللہ خیر ۔ اس کے بعد جو کچھ ديکھنے ميں آيا وہ آہوں اور آنسوؤں کا ايک سيلاب تھا ۔ سارا دن ٹی وی کے سامنے مبہوت بنا بيٹھا رہا ۔ بار بار کليجہ منہ کو آتا رہا اور آنکھيں آنسو برساتی رہيں ۔ چشم زدن ميں 152 افراد جن ميں 22 عورتيں 8 بچے جن ميں 2 شيرخوار تھے اس فانی دنيا کو چھوڑ گئے ۔ کسی کا بيٹا بيٹی کسی کا بھائی بہن کسی کا ماں باپ بچھڑ گيا ۔ ان ميں سے ہم کسی کو نہيں جانتے مگر يوں محسوس ہو رہا تھا کہ سب ہی اپنے ہيں ۔ ہاں 23 جولائی کو ايئر بليو کی پرواز سے دبئی آتے ہوئے جہاز ميں اعلان کرنے والی ايئر ہوسٹس ام حبيبہ تھيں جو کل کے حادثہ ميں چل بسيں

جس علاقہ ميں کل حادثہ پيش آيا اسی علاقہ ميں 48 سال قبل پاکستان ہوائی فوج کا ايک مال بردار طيارہ حادثہ کا شکار ہوا تھا جس ميں ميرا ايک دوست پرويز جہانگير اور اس کا ساتھی ہلاک ہوئے تھے ۔ ہوا يوں تھا کہ اُن کا طيارہ چکلالہ سے فضا ميں بلند ہوا تو اچانک طوفان آيا ۔ جب طيارہ اسی علاقہ ميں مارگلہ کی پہاڑيوں کے قريب پہنچا تو طوفانی ہوا نے بائيں جانب سے اُسے دھکيل کر داہنی جانب دُور اور نيچے کی طرف پھينکا ۔ طيارے کا داہنا پر پہاڑی کی چوٹی سے ٹکرا کر الگ ہو گيا پھر طيارہ ہوا ميں لٹو کی طرح گھومتا ہوا پہاڑی پر گرا اور اس کے ٹکڑے ميلوں ميں پھيل گئے ۔ حقيقت يہ ہے کہ طيارہ سامنے اور پيچھے کی طرف سے آنے والی تُند و تيز ہواؤں کو برداشت کر ليتا ہے ليکن اگر داہنے يا بائيں سے اچانک طوفانی ہوا طيارے سے ٹکرائے تو طيارے کو ساتھ اُڑا کر لے جاتی ہے اور ساتھ ہی طيارہ بہت نيچے چلا جاتا ہے ۔ ايک دفعہ ميں کراچی سے اسلام آباد جا رہا تھا تو اچانک طيارہ نيچے کی طرف گيا ۔ پائلٹ نے بعد ميں اعلان کيا کہ اللہ نے ہميں بچا ليا ۔ طيارہ بھنور ميں پھنس کر 2000 فٹ نيچے چلا گيا تھا

ميرا ذہن کہتا ہے کہ کل کا حادثہ ٥٨ سال قبل والے حادثہ سے مماثلت رکھتا ہے کيونکہ کل جب طيارہ چکلالہ اترنے لگا تو اسے نمبر 12 پر اترنے کا کہا گيا ۔ پائلٹ نے قبول کرنے کی اطلاع دے کر طيارہ اتارنا شروع کيا تو اسے کہا گيا کہ نمبر 30 پر اُترو ۔ نمبر 30 پر اترنے کيلئے اسے طيارہ کو دُور لے جا کر موڑ کر لانا تھا ۔ عين ممکن ہے طوفانی بارش کی وجہ سے پائلٹ طيارے کو جلد زيادہ اُوپر نہ اُٹھا سکا ہو اور مقررہ 6 ميل کی حد سے آگے نکل گيا ہو اور طيارے کو مڑتے ہوئے طوفانی ہوا نے پہاڑی کی طرف پھينک ديا ہو اور اس طرح طيارہ پہاڑی سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گيا ہو

واللہ اعلم

بيوی ڈانٹتی ہے

خواتين اسے پڑھيں تو اپنے اُوپر لينے کی بجائے اس کی ساخت پر غور کريں بالآخر يہ مذاح ہے

جس خاوند کو بيوی ڈانٹتی ہے وہ شريف مرد ہے
جو خاوند بيوی کو ڈانٹے وہ ظالم ہے

بيوی کے خاوند کو ڈانٹنے کا مطلب ہے کہ وہ خاوند سے پيار کرتی ہے
بيوی کے خاوند کو نہ ڈانٹنے کا مطلب ہے کہ خاوند بيوی سے پيار نہيں کرتا

عربی ميں مذکر کی جمع بھی مؤنث ہوتی ہے اسلئے حقوق صرف عورتوں کے ہوتے ہيں
مرد کا صرف ايک حق ہوتا ہے جو وہ نکاح کے وقت بيوی کے حوالے کر ديتا ہے

کيا حريت کانفرنس ميں تفرقہ ہے ؟

ميں نے تحريک آزادی جموں کشمير ۔ تاريخی پس منظر اور قراداد الحاق پاکستان کا خلاصہ تحرير کيا تو کئی مہربانوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ميں بتاؤں کہ 1989ء ميں تحريک نے کيوں زور پکڑا اور آج کی صورتِ حال کا پس منظر کيا ہے ؟ سوالات کا جواب دينے سے جوابات ايک مرتب تحرير نہيں بنيں گےاسلئے سوچا ہے کہ تاريخی پس منظر اور قراداد الحاق پاکستان کو چھوڑ کر سلسلہ وار خلاصہ پيش کروں

ميں نے کئی دہائيوں کے مشاہدے اور مطالعہ کے بعد تحريک آزادی جموں کشمير کا مختصر خاکہ 2005ء ميں اپنے انگريزی بلاگ پر درجن بھر اقساط ميں کيا تھا جسے ضروری ترميم کے ساتھ اب اس بلاگ پر پيش کرنے کا ارادہ ہے ۔ اللہ اس کوشش ميں ميری مدد فرمائے

ميری پيدائش شہر جموں ضلع جموں رياست جموں کشمير ميں ہوئی ۔ اس لئے مجھے جموں کشمير کی ہر چيز ميں دلچسپی تھی اور ہے ۔ ميں نے نہ صرف جموں کشمير کی تاريخ اور جغرافيہ کا مطالعہ کيا بلکہ اس سے متعلقہ تمام واقعات پر بچپن ہی سے نظر رکھتا رہا ۔ جموں کشمیر کا مسئلہ لاکھوں انسانوں کی 2 صديوں پر محيط جدّ و جہد اور 63 سالوں پر محیط وحشیانہ اذیّتوں کی روئیداد ہے اور اس مسئلہ کو پچھلی آدھی صدی میں گُما پھِرا کر ایسا پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ عام آدمی تو ایک طرف خود جموں کشمیر کے رہنے والوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے ۔ 2005ء کے شروع ميں حریّت کانفرنس کے چند ارکان کے دورہءِ پاکستان کی بہت دھوم تھی ۔ یہ تحریر 64 سال پر محیط میرے ذاتی مشاہدہ متعلقہ اشخاص سے حاصل کردہ معلومات اور میر ے سالہا سال کے مطالعہ کا نچوڑ ہے ۔ مضمون کی طوالت کے مدِنظر کافی اختصار سے کام ليا ہے

حریت کانفرنس کے جو لوگ 2005ء ميں پاکستان آئے تھے ان میں سے سوائے ایک دو کے باقی سب حکومتوں کے بنائے ہوئے لیڈر ہیں اور مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں میں کوئی خاص نمائندگی نہیں رکھتے ۔ پاکستان میں جے کے ایل ایف یعنی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ 1988ء کے آخر میں حکومتِ وقت کی پشت پناہی سے معرض وجود میں آئی ۔ جے کے ایل ایف (پاکستان) کے سربراہ امان اللہ خان نے 25 جون 2005ء کو اپنی کتاب جہد مُسَلْسَلْ حصہ دوم کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے 1988ء میں آئی ایس آئی کی مدد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلح تحریک شروع کی تھی ۔ اس بيان کا ثبوت اور کسی بھی ذريعہ سے سامنے نہ آ سکا ۔ امان اللہ خان کے مقبوضہ جموں کشمیر میں کوئی خاص پیروکار نہیں تھے ۔ متذکّرہ بالا وجوہ کی بناء پر یہ نمائندے پاکستان کے دورہ کے دوران زیادہ تر پاکستان کی حکومت کی ہی تعریفیں کرتے رہے ۔ پاکستان کا دورہ کرنے والوں میں ایک دو کے کچھ پیروکار ہیں ۔ لیکن جو مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کے اصل نمائندے ہیں وہ پاکستان نہیں آئے کیونکہ وہ جنگ بندی لائن جسے 1972ء میں حکومتِ وقت نے لائن آف کنٹرول مان لیا تھا کو نہیں مانتے اور بھارتی بس میں اسے عبور کرنے کو وہ اسے مستقل سرحد قبول کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں ۔ پاکستان میں قیام کے دوران یاسین ملک نے کہا تھا “ہم سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ 2 سال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے ۔ نارائن اور طارق عزیز بڑے فیصلے کر رہے ہیں ۔ سی بی ایمز ہو رہے ہیں ۔ ہمیں کسی نے پوچھا ؟”

واپس جا کر عباس انصاری (پاکستان کی اس وقت کی حکومت کے نمائندہ) نے جو بیان دیا تھا اس کے مطابق جموں کشمیر کا فیصلہ وہاں کے باشندوں کے نمائندوں کی مذاکرات میں شمولیت کے بغیر ہو سکتا ہے ۔ یہ بات کیسے مانی جاسکتی ہے کہ جن کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے اور جنہوں نے اس کے لئے صرف پچھلے پندرہ سال میں لاتعداد اذیّتیں سہیں ۔ جن کے سینکڑوں گھر جلا دیئے گئے ۔ جن کے ایک لاکھ کے قریب پیاروں کو شہید کر دیا گیا اور جن کی ہزاروں ماؤں بہنوں بیویوں بیٹیوں اور بہوؤں کی عزتیں لوٹی گئیں ۔ ان کو شامل کئے بغیر ان کی قسمت کا فیصلہ ایک کافر دشمن اور دوسرا ملٹری جنرل مل کے کر دیں ؟

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جنرل پرويز مشرف کی حکومت کی خفیہ نے حریّت کانفرنس کو کمزور کرنے کے لئے عباس انصاری کو لیڈر بنا کر حریّت کانفرنس میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی ؟ اور پھر مقصد حاصل ہو جانے کے بعد پاکستان بلا کر عمر فاروق کو حرّیت کانفرنس کا سربراہ بنا دیا۔ اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ جو لوگ آئے تھے ان کا اصلی لیڈر کون ہے

گناہ کی تعريف

عام طور پر يہی سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی گناہ ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں عذرا شفيع صاحبہ پروفيسر گورنمنٹ کالج برائے خواتين ۔ اوکاڑہ کی لکھی گناہ کی تعريف نظر پڑی تو پسند آئی

انسان کا اپنے رب کی اطاعت اور فرماں برداری ميں قدرت و استطاعت کے باوجود کوتاہی کرنا
اور
اس کی رضا حاصل کرنے ميں جان بوجھ کر قصور دکھانا گناہ کہلاتا ہے

ماؤنٹ بیٹن کی بھارت نوازی اور قراداد الحاق پاکستان

ماؤنٹ بیٹن کی بھارت نوازی

وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 3 جون 1947 کو نیم خود مختار ریاستوں کے متعلق یہ فیصلہ دیا کہ وہاں کے حاکم جغرافیائی اور آبادی کی اکثریت کے لحاظ سے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں ۔ یہ فیصلہ مبہم تھا اور بھارت اپنی طاقت کے بل بوتے پر بھارت کے اندر یا بھارت کی سرحد پر واقع تمام ریاستوں پر قبضہ کر سکتا تھا اور ہوا بھی ایسے ہی

بھارت نے فوجی طاقت استعمال کر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کرنے والی ریاستوں یعنی حیدر آباد دکن ۔گجرات کاٹھیا واڑ اور مناوادور پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ۔ وجہ یہ بتائی کہ وہاں مسلمان اکثریت میں نہیں تھے ۔ مگر پھر مسلم اکثریت والی ریاستوں کپورتھلہ اور جموں کشمیر پر بھی فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا

قراداد الحاق پاکستان

مسلم کانفرنس کے لیڈروں نے باؤنڈری کمیشن کی ایماء پر دیئے گئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ریاستوں کے متعلق فیصلہ میں چھپی عیّاری کو بھانپ لیا ۔ اس وقت مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس جیل میں تھے ۔ چنانچہ قائم مقام صدر چوہدری حمیداللہ نے مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا جس نے یہ قرار داد منظور کر کے مہاراجہ ہری سنگھ کو بھیجی کہ اگر مہاراجہ نے تقسیم ہند کے اصولوں کے مطابق ریاست جموں کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہ کیا تو مسلمان مسلح تحریک آزادی شروع کر دیں گے ۔

جب جیل میں چوہدری غلام عباس کو اس کا علم ہوا تو وہ ناراض ہوئے ۔ انہوں نے ہدائت کی کہ مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کا اجلاس بلا کر قرارداد الحاق پاکستان پیش کی جائے ۔ چنانچہ 19 جولائی 1947 کو جنرل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی کہ “3 جون 1947 کے باؤنڈری کمیشن کے اعلان سے خود مختار ریاستوں کا مستقبل مخدوش ہو گیا ہے لہذا جموں کشمیر کی سواد اعظم اور واحد پارلیمانی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل بڑے غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ جغرافیائی ۔ اقتصادی ۔ ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے ریاست جموں کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا ناگزیر ہے لہذا یہ اجلاس یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے کہ داخلی معاملات ریاست کے عوام ایک منتخب حکومت کے ذریعہ چلائیں گے جب کہ دفاع ۔ خارجی امور اور کرنسی پاکستان کے ماتحت ہوں گے”

تحريک آزادی جموں کشمير ۔ تاريخی پس منظر اور آغاز

تاريخی پس منظر
پرانی کہانیوں کے مطابق جموں کشمیر اشوک موریہ کے زیر انتظام بھی رہا ۔ اشوک موریہ کا دور حکومت 273 قبل مسیح سے 232 قبل مسیح تک تھا ۔ اس کے بعد 2 قبل مسیح تک 234 سال کا کچھ پتا نہیں پھر کشان 2 قبل مسیح سے 7 عیسوی تک حکمران رہا ۔ اس کے بعد کرکوٹا کا عہد آیا ۔ انہیں 855 عیسوی میں اوتپلاس نے نکال دیا ۔ ان کے بعد تنترین ۔ یسکارا اور گپتا 1003ء تک ایک دوسرے کی جگہ لیتے رہے ۔ پھر لوہارا 1346ء تک جموں کشمیر میں رہے ۔ یہ صحیح طرح معلوم نہیں کہ ان سب کے زیر اثر کتنا علاقہ تھا

سال 1346ء میں شمس الدین التمش (یا تتمش) نے جموں کشمیر کو فتح کیا اور یہاں مسلم ریاست کی بنیاد رکھی ۔ اس سلطنت میں گلگت ۔ بلتستان اور لدّاخ بھی شامل تھے ۔ 1586ء میں شہنشاہ مغلیہ جلال الدین اکبر نے جموں کشمیر کو سلطنت مغلیہ میں شامل کر لیا ۔ اس وقت جموں کشمیر کے 80 فیصد کے لگ بھگ لوگ مسلمان تھے ۔ سال 1757ء میں احمد شاہ درّانی نے جموں کشمیر کو فتح کر کے افغانستان میں شامل کر لیا ۔ مگر مرکز سے دور ہونے کی وجہ سےجموں کشمیر میں آہستہ آہستہ انتظامی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا چنانچہ پونے پانچ سو سال مسلمانوں کی حکومت رہنے کے بعد 1819ء میں رنجیت سنگھ نے جموں کشمیر کو فتح کر کے اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی

حکوت بنانے کے بعد سکھ حکمرانوں نے مسلمانوں پر ناجائز ٹیکس لگائے جس کے نتیجہ میں جموں کشمیر میں آزادی کی پہلی تحریک نے جنم لیا ۔ یہ تحریک 1832ء میں شروع ہوئی اور سکھ حکومت کے جبر و استبداد کے باوجود 1846ء تک جاری رہی جب انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر ان کی سلطنت پر قبضہ کر لیا ۔ انگریزوں نے باقی علاقہ تو اپنے پاس رکھا مگر جموں کشمیر کو 75 لاکھ یعنی ساڑھے سات ملین نانک شاہی سکوں کے عوض اپنے خاص خیرخواہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ بیچ دیا اور اسے جموں کشمیر کا خودمختار مہاراجہ بھی تسلیم کر لیا ۔ اس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے آزادی کی دوسری تحریک شروع کی جس کو کُچلنے کے لئے گلاب سنگھ نے انگریزوں سے مدد مانگی اور اس تحریک کو سختی سے دبا دیا گیا

لدّاخ نہ تو سکھوں کی حکومت میں شامل تھا اور نہ انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا ۔ گلاب سنگھ نے لشکر کشی کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔ 1857ء میں گلاب سنگھ کے مرنے کے بعد رنبیرسنگھ نے 1885ء تک حکومت کی ۔ اس کے بعد پرتاب سنگھ 1925ء تک حکمران رہا اور ہری سنگھ 1949 تک ۔

ڈوگرہ مہاراجوں کا دور جابرانہ اور ظالمانہ تھا ۔ مسلمانوں کو نہ تحریر و تقریر کی آزادی تھی نہ دِینی اور سماجی سرگرمیوں کی ۔ مگر مہاراجہ ہری سنگھ نے تو اِنتہا کر دی ۔ لاؤڈ سپیکر پر اذان اور جمعہ اور عیدین کے خطبہ پر بھی پابندی لگا دی گئی ۔ اس پر پوری ریاست میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ بزرگوں نے جوان قیادت کو آگے لانے کا فیصلہ کیا ۔ اتفاق رائے کے ساتھ جموں سے چوہدری غلام عباس ۔ سردار گوہر رحمان (ہمارے خاندان سے) ۔ شیخ حمید اللہ وغیرہ اور کشمیر سے شیخ محمد عبداللہ ۔ یوسف شاہ (موجودہ میر واعظ عمر فارو‍ق کے دادا) ۔ غلام نبی گُلکار وغیرہ کو چنا گیا ۔ 26 جون 1931ء کو سرینگر کی مسجد شاہ ہمدان میں جموں کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوا جس میں پچاس ہزار مسلمانوں نے شرکت کی ۔ جب لیڈر حضرات آپس میں مشورہ کر رہے تھے تو ایک شخص جسے کوئی نہیں پہچانتا تھا نے اچانک سٹیج پر چڑھ کر بڑی ولولہ انگیز تقریر شروع‏ کر دی ۔اور آخر میں کہا “مسلمانوں اِشتہاروں اور جلسوں سے کچھ نہیں ہوگا اُٹھو اور مہاراجہ ہری سنگھ کے محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دو” ۔ اس شخص کا نام عبدالقدیر تھا وہ امروہہ کا رہنے والا تھا جو یوپی ہندوستان میں واقع ہے اور ایک انگریز سیاح کے ساتھ سرینگر آیا ہوا تھا ۔ اُسے گرفتار کر لیا گیا

عبدالقدیر کے خلاف مقدمہ کی سماعت 13 جولائی 1931 کو سرینگر سینٹرل جیل میں ہو رہی تھی ۔ مسلمانوں کو خیال ہوا کہ باہر سے آیا ہوا ہمارا مسلمان بھائی ہماری وجہ سے گرفتار ہوا ہے ۔ 7000 کے قریب مسلمان جیل کے باہر جمع ہوگئے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں مقدمہ کی کاروائی دیکھنے دی جائے ۔ ڈوگرہ حکمرانوں نے اس کی اجازت نہ دی جس پر تکرار ہو گئی اور ہندو آفیسر نے بغیر وارننگ کے پولیس کو گولی چلانے کا حکم دے دیا ۔ 22 مسلمان شہید اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ شہید ہونے والے ایک شخص نے یہ آخری الفاظ شیخ عبداللہ سے کہے “ہم نے اپنا کام کر دیا اب آپ اپنا کام کریں”۔ اسی شام جموں کے چوہدری غلام عباس ۔ سردار گوہر رحمان ۔ مولوی عبدالرحیم اور شیخ یعقوب علی اور کشمیر کے شیخ محمد عبداللہ اور خواجہ غلام نبی گُلکار کو گرفتار کر لیا گیا

اس پر غلامی کا طوق جھٹک دینے کے لئے جموں سے ایک زور دار تحریک اُٹھی اور جموں کشمیر کے شہروں ۔ قصبوں اور دیہات میں پھیل گئی ۔ اس تحریک کے سربراہ چوہدری غلام عباس تھے ۔ پھر 1932ء میں پہلی سیاسی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس تشکیل دی گئی ۔ شیخ محمد عبداللہ اس کے صدر اور چوہدری غلام عباس جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ یہ تحریک پورے جوش و خروش سے جاری رہی جس کے نتیجہ میں مہاراجہ ہری سنگھ جمہوری نظام قائم کرنے پر مجبور ہوا اور 1934ء میں دستور ساز اسمبلی بنا دی گئی ۔ گو یہ مکمل جمہوریت نہ تھی پھر بھی مسلمانوں کے کچھ حقوق بحال ہوئے ۔ 1934ء 1938ء 1939ء اور شروع 1947ء میں اس اسمبلی کے پورے جموں کشمیر میں انتخابات ہوئے جن میں آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس 80 فیصد یا زائد نشستیں لے کر جیتی