بد سے بدنام بُرا

جدھر جائيں جہاں جائيں
يہی کچھ سُننے کو ملتا ہے

لڑکے يہ کرتے ہيں
لڑکے وہ کرتے ہيں
لڑکے لڑکيوں کو چھيڑتے ہيں
لڑکے لڑکيوں کو گھُورتے ہيں

مانا کہ اس ميں کچھ حقيقت بھی ہے
ليکن ايک نظر ادھر بھی


میں نے “بے غیرتاں دا ٹولہ” تو نہیں سُنا لیکن ایک دن میں کہیں جا رہا تھا تو 3 نوجوان اکٹھے ٹہل رہے تھے تو کسی نے کہا ڈشکرے ۔ بعد میں میں نے کسی سے ڈشکرے کا مطلب پوچھا تو خطرناک غُنڈے بتایا گیا ۔ یہ واضح کر دوں کہ مجھے تو اُن میں کوئی غلط بات نظر نہیں آئی ۔ اُن کی نظریں بھی جھکی ہوئی تھیں اور مدھم آواز میں آپس میں باتیں کر رہے تھے

قلم منہ ميں نہ ڈالئے ورنہ ۔ ۔ ۔

بر طا نیہ میں ايک 76 سالہ خا تون پیٹ در د اور معدے کے خرابی کا شکا ر تھیں ۔ ڈاکٹروں نے سی ٹی اسکین کروایا تو معلوم ہوا کہ ان کے پیٹ میں ایک عد د قلم مو جو د ہے ۔ خا تون نے بتایا کہ یہ قلم 25 سا ل قبل وہ غلطی سے نگل گئیں تھی

ڈاکٹر وں نے جب آ پریشن کے ذریعے قلم ان کے معدے سے نکا لا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے اس میں سیا ہی ابھی تک موجود تھی اور قلم بالکل صحیح کا م کررہا تھا جس سے ایک ڈاکٹر نے کا غذ پر ہیلو [Hello] کا لفظ بھی تحریر کیا

بشکريہ ۔ جنگ

سوچ معذور بناتی ہے

آئے دن سُنتے ہیں کہ لوگ مختلف طریقوں اور الفاظ سے اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہیں ۔ کہیں جو کالج میں پڑھایا گیا امتحانی پرچہ اس میں سے کچھ باہر ہو خواہ نصاب کے اندر ہو تو جلوس نکالے اور دفاتر جلائے جاتے ہیں ۔ کہیں اپنی محرومیوں کا رونا رو کر مالی امداد مانگی جاتی ہے

تھوڑا سا غور کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ معذوری غلط سوچ اور کاہلی کا نام ہے

بات جسمانی یا دماغی طور پر معذور لوگوں کی نہیں ہو رہی ۔ جسمانی طور پر معذور بھی ایسے ملتے ہیں جو تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر ۔ انجنیئر ۔ وکیل وغیرہ بن گئے اور اپنی روزی کما رہے ہیں ۔ ایسے بھی ہیں جو تعلیم حاصل نہ کر سکے اور اپنے ہُنر سے روزی کما رہے ہیں

اگر ہمت کے ساتھ محنت کی جائے معذوری بھی معذوری نہیں رہتی ۔ ایک طرف مالدار حکومتیں اربوں خرچ کر کے درجنوں انسانوں کی مدد سے جو کرتی ہیں وہ اکیلا آدمی بھی کر سکتا ہے تو دوسری طرف جسمانی اعضاء سے محروم انسان مکمل انسانوں کوپیچھے چھوڑ جاتا ہے

صرف دو مثالیں

1 ۔ رومانیاکے طالب علم رَول اوآئدا (Raul Oaida) نے گھر ميں ليگو سے اُڑن کھٹولا (Space Shuttle) تيار کر کے اسے ہيليم (Helium) گيس سے بھرے غبارے کے ساتھ باندھ کر فضاميں چھو ڑ ديا جو تھوڑے ہی وقت ميں ايک لاکھ چودہ ہزار فٹ کا فاصلہ طے کر کے خلا ميں کاميابی سے پہنچ گيا

2 ۔ کم عمر لڑکی جو بازوؤں سے محروم ہے بہترین مصوّری کرتی ہے

مرد ۔ ۔ ۔ ظُالم ہوتے ہیں ؟

بہت سوں نے سُن یا پڑھ رکھا ہو گا کہ ” ماؤں ۔ بيويوں اور لڑکيوں کے آلام و مصائب کا سبب ظالم مرد ہوتے ہيں”
يہ وقت ہے کہ مرد کے متعلق جانا جائے کہ وہ ہے کيا چيز ؟

مرد اللہ کی ايک عمدہ تخليق ہے

کيسے ؟

چھوٹی سی ہی عمر ميں وہ حالات سے مصالحت کرنا شروع کر ديتا ہے
بہنوں کيلئے اپنی چاکليٹ ۔ دوسری اشياء اور وقت کی قربانی ديتا ہے

جوان ہونے پر والدين کے چہرے پر مُسکراہٹ ديکھنے کی غرض سے اپنی محبت اور آسائش کی قربانی ديتا ہے

اپنے بيوی بچوں کی خاطر زيادہ محنت اور زيادہ وقت کام کر کے اپنا آرام قربان کرتا ہے
بيوی بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر قرض تک اُٹھاتا ہے اور پھر اس کی ادائيگی کيلئے اپنا چين قربان کرتا ہے

اسی طرح وہ اپنی جوانی بغير شکائت کئے قربان کر ديتا ہے

بے تحاشہ محنت اور کوشش کے باوجود اُسے ماں ۔ بيوی اور باس [boss] کی طرف سے سرزنش ۔ طعن و تشنيع برداشت کرنا پڑتی ہے اور پھر بھی اُنہيں شکائت ہی رہتی ہے
يہيں بس نہيں ہوتا اُس کی بيوی دوسروں کی خوشی کيلئے مصالحت کرنے لگتی ہے جس کا بوجھ خاوند يعنی مرد کو ہی اُٹھانا پڑتا ہے

مرد بھی جذبات رکھتے ہيں اور ان کے احترام کے مستحق ہيں

ہو سکے تو شدتِ دباؤ اور کھينچا تانی ميں گھِرے اس انسان کی جسے مرد کہا جاتا ہے اُس کی زندگی ميں کچھ قدر کيجئے
جب وہ شدتِ حالات کے نرغے ميں ٹُوٹ رہا ہو تو اس کی مدد کی کوشش کيجئے

(آزاد خیال ملک کے باشندے کے انگريزی ميں لکھے مضمون کا ترجمہ)

اُميد

جس طرح موسم بدلنے کا ايک وقت ہوتا ہے
اسی طرح وقت کے بدلنے کا بھی ايک موسم ہوتا ہے

حالات بدلتے ہی رہتے ہيں
حالات کے ساتھ حالت بھی بدل جاتی ہے
رات آ جائے تو نيند بھی کہيں سے آ ہی جاتی ہے

انسان وہ کامياب ہوتا ہے
جس نے ابتلاء کی تاريکيوں ميں اُميد کا چراغ روشن رکھا

اُميد اُس خوشی کا نام ہے
جس کے انتظار ميں غم کے ايام کٹ جاتے ہيں

اُميد کسی واقعہ کا نام نہيں
يہ صرف مزاج کی ايک حالت ہے

اللہ کے مہربان ہونے پر يقين کا نام اُميد ہے

سورت 39 الذُّمَر آيت 53 ۔ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ۔ جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ

مياں بيوی ۔ لمحہ فکریہ

6 ستمبر کی شام ہونے کو تھی ۔ عائشہ کا خاوند احمد ابھی دفتر سے واپس نہيں آيا تھا ۔ شادی دونوں کی پسند سے ہوئی تھی ليکن شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی حالات بدل گئے ۔ اب کوئی دن نہ جاتا جب ان ميں تُو تکرار نہ ہوتی ہو ۔ عائشہ سوچ رہی تھی کہ “احمد پہلے تو اُس کا بہت خيال رکھتا تھا ليکن اب چھ سات بجے دفتر سے لوٹتا ہے ۔ اُسے مجھ سے محبت نہيں رہی”

عائشہ اسی سوچ ميں گُم تھی ۔ 5 بجے تھے کہ باہر دروازے کی گھنٹی بجی ۔ عائشہ بھاگی ہوئی گئی ۔ دروازے پر احمد آج خلافِ معمول دفتر سے وقت پر لوٹ آيا تھا ۔ احمد کے ہاتھ ميں گلدستہ تھا اور وہ مسکرا رہا تھا ۔ عائشہ کو يوں محسوس ہوا کہ خواب ديکھ رہی ہے ۔ وہ دونوں اندر آئے ہی تھے کہ ٹيليفون کی گھنٹی بجی ۔ عائشہ بادلِ نخواستہ دوسرے کمرے ميں گئی ۔ ٹيلفون کا چَونگا [Receiver] اُٹھايا تو آواز آئی
“محترمہ ۔ ميں پوليس اسٹيشن سے بول رہا ہوں ۔ کيا يہ نمبر احمد ملک کا ہے ؟”

عائشہ کچھ پريشان ہو کر ” ہاں ۔ کيا؟”

” ايک شخص ٹريفک حادثہ ميں ہلاک ہو گيا ہے ۔ يہ نمبر اُس کے بٹوہ ميں سے ملا ہے ۔ آپ آ کر اُس کی شناخت کر ليں”

عائشہ ” کے يا ا ا ا ا ا ؟ مگر احمد صاحب تو ابھی ميرے پاس تھے ”

” مجھے افسوس ہے محترمہ ليکن يہ حقيقت ہے کہ بعد دوپہر 3 بجے ايک شخص بس پر چڑھنے کی کوشش ميں گر کر ہلاک ہو گيا ۔ ايک بٹوہ اُس کی جيب سے ملا جس ميں سے آپ کا يہ نمبر ملا”

عائشہ کا سر چکرانے لگا ۔ وہ اپنے دِل سے پوچھنے لگی ” کيا وہ ميرا وہم تھا ؟ وہ احمد نہيں تھا ؟”

عائشہ اُس کمرے کی طرف بھاگی جہاں احمد کو چھوڑ کر آئی تھی ۔ احمد کو وہاں نہ پا کر اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھيرا آ گيا اور وہ چکرا کر گر گئی

احمد جو باورچی خانہ ميں پانی پينے گيا تھا دھڑام کی آواز سْن کر بھاگا آيا ۔ بيوی کو اُٹھا کر بستر پر ڈالا اور اُس کے چہرے پر پانی کا چھينٹا ديا ۔ عائشہ نے آنکھيں کھوليں اور احمد کی طرف بِٹر بِٹر ديکھنے لگی

احمد نے مُسکرا کر کہا ” کيا ہوا ؟ کون تھا ٹيليفون پر ؟ کيا کہا تھا اُس نے ؟”

عائشہ نے اُسے بتايا تو احمد بولا ” مجھے معاف کر دو ۔ ميں تمہيں بتانے ہی والا تھا کہ آج ميں دفتر سے کسی کام کيلئے گيا تو کسی نے ميرا بٹوہ نکال ليا تھا”

اِس واقعہ نے عائشہ کو جھنجوڑ کے رکھ ديا ۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ احمد سے اپنی محبت کو حقيقی دنيا سے بہت دُور لے گئی تھی ۔ اُس نے پہلی بار سوچا کہ احمد دفتر ميں محنت اور زيادہ وقت اُسی کی خاطر لگاتا ہے ۔ دونوں نے آپس ميں دُکھ سُکھ پھرولے ۔ احمد نے بھی وعدہ کيا کہ آئندہ وہ دفتر سے حتٰی المقدور جلدی واپس آنے کی کوشش کيا کرے گا يا کم از کم چہرے پر تھکاوٹ کی بجائے مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرے گا

مندرجہ ذیل عنوان پر کلک کر کے اس سلسلے کا ایک اور مضمون پڑھیئے
رشتہ ازدواج

جو پيدا ہوا ہے اُس نے مرنا بھی ہے ليکن جب تک زندہ ہيں کيوں نا ايک دوسرے کی مجبوریوں کا احساس کيا جائے اور زندگی پيار محبت سے گذاری جائے