میری ڈائری ۔ کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں

میں پہلے بھی اپنی ڈائری سے فیض احمد فیض کے اشعار نقل کر چکا ہوں ۔ میں دسمبر 1964ء اور جنوری 1965ء میں ایک دوائی کے شدید ردِ عمل کے سبب 4 ہفتے ہسپتال میں صاحبِ فراش تھا ۔ وقت گذارنے کیلئے ایک ڈاکٹر صاحب نے فیض احمد فیض کا مجموعہ اشعار ”زنداں نامہ“ لا دیا تھا کہ وقت بھی گذرے اور ذہن پر بوجھ بھی نہ پڑے ۔ فیض احمد فیض نے یہ اشعار جیل میں عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے اپنی یورپین بیوی کی یاد میں لکھے تھے ۔ اہم بات یہ ہے کہ 1972ء میں شروع ہونے والے دور میں علامہ اقبال ۔ الطاف حسین حالی وغیرہ کو تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ سے نکال کر فیض احمد فیض صاحب کے اشعار کو وطن کی محبت قرار دیتے ہوئے ٹی وی اور دوسرے ذرائع پر پیش کیا جاتا رہا
1965, 130-132

تاریخی حقائق ۔ سابق سینیٹر کی زبانی

میں خود اس معاملہ میں ذاتی طور پر شریک تھا اور اس معاہدہ کو برادرم محمد خان جونیجو صاحب اور ان کے وزیر خارجہ اور دوسرے رفقائے کار کی ہمالیہ سے بڑی غلطی سمجھتا ہوں

آج افغان جہاد اور اس کے مضمرات کے بارے میں جس کا جو دل چاہتا ہے گوہر ا فشانی کرتا ہے لیکن انہیں تاریخی حقائق اور پالیسی کے اہم امور اور دلائل دونوں سے اتنی بے اعتنائی کا شکار نہیں ہونا چاہیئے

جنیوا معاہدہ پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث ہوئی تھی ۔ پارلیمنٹ کے ارکان کی بریفنگ کے لئے بھی ان کیمرہ (in camera) اہتمام کیا گیا تھا اور اس میں اصل پیش کار (Presentator) مرحوم جنرل حمید گل صاحب تھے جس کو جونیجو صاحب نے درمیان میں اچانک مداخلت (Abraptly intercept) کرکے رکوادیا تھا جس پر ہم نے احتجاج بھی کیا تھا۔ اس پرِیزینٹیشن (Presentation
) میں جو دلائل اور حقائق بڑے محکم انداز میں پیش کئے جارہے تھے وہ جونیجو صاحب کی خواہش کے خلاف تھے اور ارکان پارلیمنٹ پر اس کا گہرا اثر دیکھا جارہا تھا ۔ جینوا معاہدہ کے سلسلے میں ان کے موقف کو سراسر غلط اور ملک اور پورے علاقے کے لئے تباہ کن سمجھتا تھا اور سمجھتا ہوں مگر ان کی نیت پر شبہ نہیں کرتا۔ ان کو غلط مشورہ دیا گیا۔ ان کو خود ان معاملات کا وہ ادراک نہیں تھا جو ایک وزیر اعظم کو ہونا چاہئے اور وہ ملک کو مارشل لاء اور فوج کی بالا دستی کے نظام سے نکالنے میں جلدی میں تھے جس کا دوسروں نے فائدہ اٹھایا۔

صاحبزادہ یعقوب خان صاحب ان معاملات پر بے حد مضطرب پریشان اور دل گرفتہ تھے۔ لیکن بڑے دکھ سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم صاحب نے ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دیا۔ حد یہ ہے کہ جنیوا معاہدہ کا اصل مسودہ بھی ان کو نہ دیا گیا۔ دفتر خارجہ کے لوگ بلاشبہ ان کا بہت احترام کرتے تھے لیکن ان میں یہ خوش خلقی (Courtesy) نہیں تھی کہ اپنے سابق وزیر خارجہ کو وہ مسودہ دے سکیں

جنیوا معاہدہ افغانستان میں تنازع کے اصل فریقوں کے درمیان نہیں تھا بلکہ ان کو الگ (Side step) کرکے کیا جارہا تھا۔ تحریکات آزادی میں حکومت وقت اور مزاحم قوتوں کا کردار اصل ہوتا ہے۔ جنیوا معاہدہ میں اصل کردار اقوام متحدہ، روس، امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کا تھا مگر مسئلہ کے اصل فریق اس میں بھی نہ تھےجس نے سارے مجوزہ انتظام کو صرف روس اور امریکہ کے مذاکرات کے تابع کردیا۔ پاکستان اور افغان عوام اور مجاہدین کے مفاد کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔ ہم نے بار بار متوجہ کیا اور صاحبزادہ صاحب اس میں پیش پیش تھے اور یہی موقف جنرل ضیاء الحق کا اور آئی ایس آئی کا تھا کہ اصل مسئلہ صرف روسی فوجوں کے انخلاء کا نہیں۔ بلاشبہ وہ بہت ہی اہم اور اولین ضرورت ہے مگر یہ کافی یا لازمی نہیں ہے

دوسرا مرکزی مسئلہ جو شاید سب سے اہم افغانستان میں حکمرانی کے نئے بندوبست کا ہے اور اس کے طے کئے بغیر فوجوں کا انخلاء نئے مصائب کا باعث ،خانہ جنگی کا سبب اور پورے علاقے کے لئے تباہی کا باعث ہوگا اور سب سے زیادہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرے گا جس کی زمین پر اس وقت تیس سے چالیس لاکھ افغان مہاجر موجود تھے ۔ ہمیں یقین تھا کہ کابل میں نئے اور اصل فریقین کے درمیان سیاسی انتظام کے بغیر نہ افغانستان میں امن آسکتا ہے اور نہ پاکستان سے مہاجرین کی واپسی ممکن ہوگی

لیکن جنیوا معاہدہ میں ان تمام پہلوئوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور افغانستان میں تصادم، خلفشار اور خانہ جنگی کے جاری رہتے ہوئے پاکستان کے لئے آزمائش اور جو کچھ حاصل ہوا تھا اس کو نہ صرف خاک میں ملانے بلکہ نئی دشمنیاں پیدا کرنے اور دوستوں کو دشمنوں میں اور محسنوں کو مخالفین میں تبدیل کرنے کا نسخہ تھا جس پر اس وقت کی قیادت نے امریکی اور روسی منصوبہ میں شریک کار بن کر فاش
غلطی کی اور آج تک اس کے نتائج کو پاکستان اور افغانستان دونوں مظلوم قومیں بھگت رہی ہیں

بشکریہ ۔ حامد میر

ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات

اسلام آباد کے سیکٹر آئی 9 میں گھر سے باہر کھیلتی ہوئی ماشاء اللہ ہونہار بچیذہین اور ہُنرمند بچیوں کو دیکھیئے کیسے شامیانہ بنایا ہے ۔ ہمارے مُلک کے بچے ماشاء اللہ ذہین اور ہُنرمند ہیں ۔ انہیں صرف مناسب رہبری کی ضرورت ہے اپنے گھر میں اور سکول میں بھی اور باقی ہموطنوں سے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔ علامہ اقبال نے سچ کہا تھا
نہیں ہے نا امید اقبال اپنے کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

سوچ کا ایک زاویہ

حنیف کے گھر کے قریب ایک بیکری تھی ۔ حنیف اکثر شام کے وقت کام سے واپسی پر وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا تھا ۔ ایک دن حنیف سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ اُس کا پڑوسی عرفان مل گیا ۔ وہ بھی بیکری سے باہر آرہا تھا ۔ حنیف نے سلام کے بعد پوچھا “کیا لے لیا عرفان بھائی؟”
عرفان “کچھ نہیں بھائی ۔ چکن پیٹس اور جلیبیاں بیگم اور بچوں کے لئے”
حنیف ہنستے ہوئے “کیوں ؟ آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا ؟”
عرفان “نہیں نہیں بھائی ۔ یہ بات نہیں ہے ۔ دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ۔ میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی ۔ اس کے لئے بھی لے لوں ۔ یہ تو مناسب نہ ہوا نا کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں”
حنیف حیرت سے عرفان کا منہ تکتے ہوئے بولا “اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی ۔ آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے”
عرفان “نہیں نہیں بھائی ۔ وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے ۔ یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کوئی چیز آئے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے بعد میں بچوں کو دیتی ہے ۔ اب یہ تو خود غرضی ہوئی نا کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں”
حنیف نے حیرت سے کہا “گل چھڑے اڑاؤں ۔ یہ چکن پیٹس ۔ یہ جلیبیاں ۔ یہ گل چھڑے اُڑانا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں”
عرفان ” کچھ بھی ہے حنیف بھائی ۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے ۔ خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی ۔ دیکھئے ۔ ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا ۔ وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے ۔ اسے بھی بھوک لگتی ہے ۔ اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں ۔ اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کو ۔ پہننے اوڑھنے کا ۔گھومنے پھرنے کا ۔ اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا اور دو وقت کی روٹی دے کے اِترانا کہ بڑا تیر مارا ۔ یہ انسانیت نہیں ۔ یہ خود غرضی ہے اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے”
ان کے آخری جُملے نے حنیف کو ہلا کے رکھ دیا کیونکہ اُس نے کبھی اس انداز سے سوچا نہیں تھا ۔ بولا ” آفرین ہے عرفان بھائی ۔ آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا ”
حنیف واپس پلٹا تو عرفان بولا” آپ کہاں جارہے ہیں؟”
حنیف نے کہا” آئسکریم لینے ۔ وہ آج دوپہر میں نے آفس میں آئسکریم کھائی تھی”

مہنگائی کیوں ؟

مہنگائی کا شور شرابا بہت ہوتا ہے لیکن اسے کم کرنے کا سوچنا ہم اپنے ذمہ نہیں سمجھتے
عام آدمی کے متعلق کہا جا تا ہے کہ اُسے روٹی کمانے سے فرصت نہیں مُلک کا کیا سوچے
جنہیں عام آدمی بڑی دھوم دھام سے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں اُنہیں مُلک کے سارے حالات کا عِلم ہوتا ہے مگر وہ معیشت کو درست کرنے کی بجائے جھوٹے نعروں اور وعدوں سے اپنے ووٹ زیادہ کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں
جو مُنتخب نہ ہوں یا ہو بھی جائیں مگر حکومت میں نہ ہوں اُن کا وطیرہ حکومت کے ہر اچھے یا بُرے کام کی مخالفت ہوتا ہے اور اپنی مخالفت کو زور دار بنانے کیلئے جلسے جلوس اور توڑ پھوڑ کرواتے ہیں کیونکہ اس سے اُنہیں خاص نقصان نہیں ہوتا

معاشی بدحالی کی دوسری بڑی وجہ چوری ہے یعنی ۔ بجلی ۔ گیس اور نہری یا پینے کے پانی کی چوری ۔ ان چوریوں کو روکنا مشکل اسلئے ہے کہ چوری کرنے والے سرکاری اہلکاروں یا عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کے پروردہ ہوتے ہیں

معاشی بدحالی کی تیسری بڑی وجہ ہے ٹیکس چوری یعنی ہم اللہ سے بھی نہیں ڈرتے اور برملا جھوٹ بولتے ہوئے اپنی اصل آمدن سے بہت کم بتاتے ہیں

معاشی بدحالی کی چوتھی بڑی وجہ رشوت ستانی ہے جس کا شور ہم بہت کرتے ہیں لیکن خود رشوت دے کر اپنے غلط کام کرواتے ہیں ۔ حتٰی کہ ایف 8 کے قومی بچت مرکز جہاں آدمی 5 سے 20 منٹ میں پیسے لے کر چلا جاتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ چند سوٹِڈ بُوٹِڈ حضرات چپڑاسی کو پیسے دے کر کام جلدی کرواتے ہیں

معاشی بدحالی کی پانچویں بڑی وجہ ۔ جلوس نکلے ۔ توڑ پھوڑ ہو یا ہڑتال ہو ۔ ان کی وجہ سے جو نقصان ہوتا ہے اُس کا ازالہ کرنے کیلئے حکومت جو اخراجات کرتی ہے وہ ٹیکسوں کے ذریعہ عوام نے ہی دینا ہوتے ہیں

معاشی بدحالی کی چھٹی بڑی وجہ ۔ احتجاجوں ۔ ہڑتالوں وغیرہ کے نتیجہ میں ماضی میں کئی سرکاری اداروں اور حکمرانوں نے غلط مطالبات ماننے کی وجہ سے مُلک اور قوم کو جو لگاتار بھاری نقصان ہو رہا ہے اُس کی مثال تمام سرکاری کارخانے یا کمرشل ادارے ہیں جو کسی زمانے میں فعال ہوا کرتے تھے اور اب سب کے سب نقصان میں چل رہے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ وہ منافع کما کر مُلکی معیشت کو بہتر بنائیں اُلٹا ہر سال اربوں روپے ان کی امداد کرنا پڑتی ہے تاکہ چلتے رہیں ۔ یہ اربوں روپیہ بھی عوام پر ٹیکس لگا کر ہی پورا کرنا پڑتا ہے یا پھر اُدھار لے کر جسے ادا کرنے کیلئے بھی عوام پر ٹیکس لگانا پڑتا ہے

مُلکی معیشت کی زبوں حالی کا سبب اداروں میں سے نمونے کے طور پر 2 مثالیں

میں نے ایک سرکاری ادارے کے جس کارخانے میں ملازمت کی اُس کی منیجمنٹ 1975ء تک یہ تھی ۔ جنرل منیجر (گریڈ 19) ایک عدد ۔ منیجر (گریڈ 18) 3 عدد ۔ اسسٹنٹ منیجر (گریڈ 17) 9 عدد ۔ ان کے ماتحت فورمین ۔ اسسٹنٹ فور مین اور چارج مین اسی تناسب سے
1976ء میں جب پرانے افسران وہاں سے تبدیل کئے جا چکے تھے اور نہ کارخانہ بڑا ہوا نہ پیداوار (پروڈکشن) زیادہ ہوئی لیکن نفری بڑھنے لگی اور چند سالوں میں ہو گئے ۔ منیجنگ ڈائریکٹر (گریڈ 20) ایک عدد ۔ جنرل منیجر (گریڈ 19) 3 عدد ۔ منیجر (گریڈ 18) 7 عدد ۔ اسسٹنٹ منیجر (گریڈ 17) 22 عدد ۔ اس کے علاوہ فورمین ۔ اسسٹنٹ فورمین اور چارجمین بھی اسی تناسب سے

آجکل پی آئی اے کا بہت شور شرابا ہے ۔ پی آئی اے 1971ء تک بہت فعال ادارہ تھا اور قوم کیلئے منافع کما رہا تھا ۔ اس کا جو حال اب ہو چکا ہے وہ ملاحظہ فرمایئے
PIA Fact Sheet