
Category Archives: روز و شب
پکی بات
کوئی ہے جو روزانہ بیان بازی کرنے والے اِن نام نہاد سیاسی لیڈروں کو سمجھائے کہ تقریر کرنے بیان داغنے اور الز امات لگانے سے صرف ماحول پراگندہ ہوتا ہے ۔ کچھ حاصل کرنے کے لئے خود کام کرنا پڑتا ہے
خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو دوست تا دیر ہلانا ہو گا
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا سب کو خود ہی جلانا ہو کا
درگذر اور اتحاد کِسے کہتے ہیں
ہمارے دانت کئی بار ہماری زبان کو زخمی کر دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود دونوں ہمارے منہ میں اکٹھے ہی رہتے ہیں
یہی درگذر کی روح ہے
ہماری دونوں آنکھیں ایک دوسری کو دیکھتی نہیں ہیں لیکن دونوں ہر چیز کو اکٹھے دیکھتی ہیں ۔ اکٹھے جھپکتی ہیں اور اکٹھے آنسو بہاتی ہیں
اِس کو باہمی اتحاد کہتے ہیں
اللہ کریم میرے ہموطنوں کو درگذر اور آپس میں اتحاد کی توفیق عطا فرمائے
میں نہیں ۔ وہ کہتے ہیں
یہ 1950ء تا 1956ء کے دوران کی بات ہے ۔ 



نرنکاری بازار ۔ راولپنڈی میں ایک عمر رسیدہ شخص بھیک مانگنے کی بجائے کچھ بیچا کرتے تھے ۔ خاصے پڑھے لکھے لگتے تھے کیونکہ اُن کا کلام بہت شُستہ اور عِلم کا آئینہ دار تھا ۔ بازار میں چلتے ہوئے اچھی اچھی باتیں سناتے جاتے تھے اور اپنے کلام میں اشعار اور محاوروں کا استعمال نہائت خُوبی سے کرتے ۔ ایک شعر یہ پڑھا کرتے
بشر رازِ دِلی کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے
نکل جاتی ہے خُشبُو تو گُل بیکار ہوتا ہے
آج میں اپنے متعلق فیس بُکی عالِموں ک طرف سے 12 فروری 2017ء کو کی گئی راز افشانی نقل کر رہا ہوں
>
ایتھے رَکھ یعنی اب کے آ

یاد رکھنے کی باتیں
1 ۔ ماضی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا
2۔ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت ظاہر نہیں کرتی
3 ۔ ہر کسی کی زندگی کا سفر مختلف ہوتا ہے
4 ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ چیزیں بہتر ہوتی جاتی ہیں
5۔ دوسروں کے متعلق فیصلے دینا اپنے کردار کا اعتراف ہوتا ہے
6 ۔ زیادہ سوچنا اُداسی ۔ رنج یا ملامت کی طرف لے جاتا ہے
7 ۔ خوشی اپنے اندر سے پیدا ہوتی ہے
8 ۔ مثبت خیالات کا نتیجہ مثبت ہوتا ہے
9 ۔ مُسکراہٹ متعدی ہوتی ہے یعنی ایک مُسکراہٹ مزید مُسکراہٹیں لاتی ہے
10 ۔ کسی سے رحمدلی برتنے یا کسی پر نوازش کرنے پر کچھ نقصان نہیں ہوتا لیکن فائدہ ہو سکتا ہے
11 ۔ کسی کام کو چھوڑ دینے کا نتیجہ ناکامی ہوتا ہے
12 ۔ آدمی جیسا دوسروں کے ساتھ کرتا ہے بالآخر ویسا ہی اُس کے ساتھ ہوتا ہے
وہ جاہل بمقابلہ ہم پڑھے لکھے
میں انگلستان ۔ جرمنی ۔ بیلجیئم ۔ ہالینڈ ۔ فرانس ۔ امریکہ ۔ ترکی ۔ لبیا ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب عمارات میں رہا ہوں ۔ میری عادت تھی کہ بڑے شہروں میں اندرونِ شہر کے چکر لگانے کے ساتھ بیرونِ شہر ۔ چھوٹے شہروں اور دیہات میں بھی گھومتا تھا ۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ وہاں کے لوگوں کا اصلی طور طریقہ دیکھ کر اگر کوئی اچھی عادت نظر آئے تو اسے اپنانے کی کوشش کروں ۔ اس سے مجھے وہاں کی شہری اور دیہاتی آبادی میں تفاوت بھی نظر آتی ۔ میں نے جرمنی ۔ بیلجیئم ۔ ہالینڈ ۔ ترکی اور عرب ممالک میں دیہات یا چھوٹے شہروں کے باشندوں کو سادہ طبعیت پایا ۔ شہروں میں ز یادہ تر دکھاوا اور تعصب دیکھنے کو ملتا تھا جس کی ایک وجہ ذرائع ابلاغ اور دوسری وجہ غیر ممالک سے آئے لوگوں کی موجودگی یا طور طریقہ تھا
میں نے ہر مُلک میں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کا بھی مطالعہ کیا ۔ سوائے 2 ممالک کے لوگوں کے باقی سب اپنے مُلک اور اپنے ہموطنوں کا دفاع کرتے تھے ۔ فرق رویئے والے پاکستانی اور فلسطینی تھے جو اپنے مُلک کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ ان میں میرے ہموطن اوّل نمبر پر تھے کہ وہ اپنے ہموطنوں میں بھی کیڑے نکالتے تھے ۔ عرب ممالک میں میرے ہموطن عربوں کو جاہل و بیوقوف گردانتے تھے اور کچھ دلیر اپنی اس سوچ کا اظہار عربوں پر بھی کرتے تھے ۔ عربوں کے متعلق خود بنائی ہوئی ایسی ایسی باتیں بھی مجھے سُنائی گئیں جو عملی طور پر ممکن ہی نہ تھیں

یہ تو تھا میرا تجربہ ۔ اب ذرا 6 فروی کو شائع ہونے والی ایک خبر پڑھیئے جو شاید جنگ اخبار کے پاکستان ایڈیشن میں بھی شائع ہوئی ہو اور اس کا مقابلہ اپنے وطن کے حالات سے کیجئے جہاں مسجد کے لاؤڈ سپیکر کے خلاف آواز تو اُٹھتی ہے لیکن گھروں اور گاڑیوں میں جو دماغ پھاڑ قسم کی موسیقی بجائی جاتی ہے اُسے کوئی کچھ نہیں کہتا