Category Archives: روز و شب

بھارت پاکستان اور امريکہ

 بيٹھے بيٹھے ميرے ذہن ميں آيا ۔ سوچا قارئين کی نذر کيا جائے 

بھارت کے گائک نے گايا

دَم مارو دَم م م م

مِٹيں سارے غم م م م

بولو صبح شام

ہری کرِشن ہری رام  

ہماری موجودہ حکومت کہتی ہے 

ڈَم ڈما ڈَم م م م 

مِٹے سارے غم م م م

کھاؤ صبح شام

ہری مرچ ہرا بادام 

امريکی حکومت کہتی ہے  

بَم مارو بَم م م م

مٹيں سارے مُسلِم م م م

کرتے جاؤ اعلان

امن امان ۔ امن امان ۔

علّامہ محمد اقبال کی ياد ميں

علّامہ محمد اقبال ايک فلسفی اور مُفکّر تھے جنہوں نے پہلے سب اہلِ ہندوستان اور بعد ميں مسلمانانِ ہند ميں مِلّی اور سياسی شعور بيدار کيا ۔ بعض اوقات وہ خود ہی سوال کرتے اور خود ہی جواب لکھ کر صورتِ حال کو واضح کرتے ۔ شکوہ اور جواب شکوہ اس کی بہت عمدہ مثال ہيں ۔ اللہ سے شکوہ کا آغاز يوں کرتے ہيں ۔

کيوں زياں کار بنوں ۔ سود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں ۔ محوِ غمِ دوش رہوں ؟
نالے بُلبُل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا ميں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
جُرأت آموز ميری تابِ سُخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ۔ خاکم بدہن ۔ ہے مجھ کو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اے خدا ۔ شکوۂِ اربابِ وفا بھی سن لے
خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

اس پر ہندوستان کے کانگرسی مولويوں نے علّامہ پر مقدمہ کر ديا اور تاجدارِ برطانيہ نے علامہ کو قيد ميں ڈال ديا ۔ پھر جواب ميں مسلمانانِ ہند کی حالت کا خوب نقشہ بيان کرتے ہيں

ناز ہے طاقتِ گُفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سليقہ نہيں نادانوں کو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہم تو مائل بہ کرم ہيں کوئی سائل ہی نہيں
راہ دِکھلائيں کسے ۔ راہروِ منزل ہی نہیں
تربيت عام تو ہے ۔ جوہرِ قابل ہی نہيں
جس سے تعمير ہو آدم کی يہ وہ گِل ہی نہيں
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی ديتے ہيں
ڈھونڈنے والوں کو دنيا بھی نئی ديتے ہيں
ہاتھ بے زور ہيں ۔ الحاد سے دل خُوگر ہيں
اُمتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبر ہیں
بُت شکن اُٹھ گئے ۔ باقی جو رہے بُت گر ہيں
تھا ابراھيم پِدر ۔ اور پِسر آزر ہيں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بيداری ہے
ہم سے کب پيار ہے ہاں نيند تمہيں پياری ہے
طبعِ آزاد پہ قيدِ رمضاں بھاری ہے
تمہیں کہہ دو يہ آئينِ وفاداری ہے ؟
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہيں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہيں ۔ محفلِ انجم بھی نہيں
جن کو آتا نہيں دنيا ميں کوئی فن ۔ تم ہو
نہيں جس قوم کو پروائے نشيمن ۔ تم ہو
بِجلياں جن ميں ہوں آسودہ وہ خرمن ۔ تم ہو
بيچ کھاتے ہيں جو اسلاف کے مَدفَن ۔ تم ہوہو
ہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے
کيا نہ بيچو گے جو مل جائيں صنم پتھر کے ؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

منفعت ايک ہے اس قوم کی نقصان بھی ايک
ايک ہی سب کا نبی دين بھی ايمان بھی ايک
حرمِ پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ايک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہيں اور کہيں ذاتيں ہيں
کيا زمانے ميں پنپنے کی يہی باتيں ہيں
قلب ميں سَوز نہيں ۔ رُوح ميں احساس نہيں
کچھ بھی پيغامِ محمد کا تمہيں پاس نہيں
جا کے ہوتے ہيں مساجد ميں صف آرا تو غريب
زحمتِ روزہ جو کرتے ہيں گوارا تو غريب
نام ليتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غريب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غريب

جھگڑے اور شرمندگی سے نجات

ہماری ہر بات اور عمل اپنا اثر رکھتے ہيں جس طرح پانی ميں پتھر پھينکا جائے تو لہريں پيدا ہوتی ہيں جو دور تک جاتی ہيں ۔ ہميں اپنی مرضی کے مطابق بولنے اور عمل کرنے کا حق ضرور ہے ليکن ہمارے بولے ہوئے الفاظ اور ہمارے عمل کے نتيجہ کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ جلدی ميں بولے ہوئے الفاظ نے متعدد بار پيار کرنے والے مياں بيوی يا دوستوں کے درميان ديوار کھڑی کی ہے ۔

بعض اوقات ہم کسی کے متعلق غلط سوچ قائم کرتے ہيں اور پھر غُصّے يا جذبات ميں آ کر جو منہ ميں آتا ہے کہہ ڈالتے ہيں ۔ ايسے ميں اگر ہم توقّف کريں تو جلد ہی غصہ يا جذبات دھيمے پڑ جاتے ہيں اور اس کی جگہ رحمدلی يا تدبّر لے ليتا ہے ۔ اسلئے غصے يا جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ بولنا يا کوئی قدم اُٹھانا بڑی غلطی ہے۔ بہتر يہ ہے کہ غصہ يا جذبات کے زيرِ اثر نہ کوئی بات کی جائے اور نہ کوئی عملی کام ۔ عين ممکن ہے ايک آدھ دن ميں يا تو غصے کا سبب ہی ختم ہو جائے يا کوئی بہتر صورت نکل آئے ۔ بالفرضِ محال اگر صورتِ حال جوں کی توں رہتی ہے تو کم از کم بہتر اقدام کے بارے ميں سوچنے کا وقت تو مل گيا ہو گا ۔ زيادہ قياس يہی ہے کہ غصہ کھانے کی وجہ ہی نہيں رہی ہو گی ۔

سُورة 41 فُصِّلَت / حٰم السَّجْدَ آيت 34

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا

اُردو کا حشر نشر

کسی زبان کی ترقی کيلئے پُر مغز اور محنتی زبان دانوں کی ضرورت سے انکار نہيں کيا جا سکتا ۔ بّرِ صغير ميں ايسی ہستياں ايک ايک کر کے مُلکِ عدم کو سدھاريں اور اُردو يتيم ہو کر رہ گئی ۔ دہی مذکر ہے يا مؤنث ۔ اس پر بحث تو 1945 عيسوی ميں شروع ہو گئی تھی ۔ دہلی والے دہی کو مؤنث اور دوسرے مذکر کہتے ۔  اُميد تھی کہ آزادی کے بعد اُردو پروان چڑھنے لگے گی ليکن 1947 کے بعد بھارت نے سنسکرت جس سے خود ہندو نابلد تھے عام کرنے کی سعی شروع کر دی اور پاکستان ميں لياقت علی خان کے قتل کے بعد عنانِ حکومت انگريز کے پِٹھوؤں کے ہاتھ آگيا اور وہ اُردو کو ثانوی حثيت دے کر انگريزی سے محبت کو اُجاگر کرنے لگے کہ شائد گورا مرغوب ہو کر نذر نياز کرنے لگے ۔

پاکستان بننے کے بعد يہ سوال بھی پيدا ہوا کہ اُردو مذکر ہے يا مؤنث ۔ اُردو زبان يا بولی ہے ۔ زبان اور بولی دونوں مؤنث ہيں اسلئے اُردو کو ہونا تو مؤنث چاہيئے ۔ خير ۔ يہ پُرانی بات ہے ۔

آجکل بالخصوص جوان طبقہ ميں اس طرح کی اُردو سننے ميں آتی ہے ۔ 

نَٹ [not] يار ۔ ايسا تو نہيں بولو ۔
تُو پھر مجھے ملنے ضرور آئِيں ۔
اوہ يار ايمان سے وَٹ شُڈ آئی ٹَيل يُو [what should I tell you] ۔ ۔ ہے نا فنٹاسٹک [fantastic] ؟
تُم آنا شام کو دھَين وِی گو [then we go] نا ۔ ٹھيک ؟

فارسی کا مصدر ہے آمدَن جس کا مطلب ہے آنا ۔ اس سے بنا آمدَيد يعنی آپ آئے ۔ اس سے بنا خُوش آمدَيد ۔ مگر ہوتے ہوتے يہ بن گيا خُوش آمدِيد ۔ يعنی درميانی د پر زبر کی بجائے نيچے زير آ گئی ۔ 

فارسی کا مصدر ہےنوشيِدَن جس کا مطلب ہے پِينا ۔ اس سے بنا نَوش يعنی پينے کا فعل ۔ کسی کو مشروب پيش کيا جائے تو کہا جاتا تھا نوش فرمائيے اور اگر کھانے کی چيز پيش کی جائے تو کہا جاتا تھا تناول فرمائيے ۔ اب اتنے الفاظ کا بوجھ کون اُٹھائے ۔ عام ديکھا ہے کہ کھانے کی اشياء پيش کر کے کہا جا تا ہے نوش فرمائيے ۔

ميز جو انگريزی ميں ٹيبل [table] ہوتی ہے سے بنا ميزبان جو انگريزی ميں ہَوسٹ [host] ہوتا ہے ليکن نمعلوم کيسے يہ مِيزبان بن گيا يعنی م پر زبر کی بجائے نيچے زير بن گئی جبکہ ميز ابھی مِيز نہيں بنی ۔

عربی زبان ميں دوسرے کو ثانی اور دوسری کو ثانيہ کہتے ہيں مگر ث کو ت بولتے ہيں ۔ کسی نے تانيہ سُنا جو کہ دراصل ثانيہ تھا اور اپنی بيٹی کا نام تانيہ رکھ ديا ۔

مصر ميں ق کو آف اور ج کو گِيم بولا جاتا ہے چنانچہ ہند و پاکستان ميں جن لڑکيوں يا خواتين کا نام ادريہ ہے دراصل وہ عربی کا نام قدريہ اور اسی طرح گيلانی دراصل جيلانی ہی ہے ۔

ميرے بڑے بيٹے کا نام ہے زَکَرِيَّا ۔ اس نام کے ايک نبی ہوئے ہيں جو حضرت مريم کے ماموں يا خالو تھے ۔ 40 سال سے زائد پہلے ميرے ماتحت ايک فورمين تھے وہ اپنا نام ذِکرِيہ لکھتے اور اِسی طرح بولتے ۔ جب 1985عيسوی ميں ميری تبديلی بطور جنرل مينجر ايم آئی ايس ہوئی تو محکمہ ميں ايک ڈاٹا اينٹری آپريٹر تھے وہ اپنا نام ذِکرِيا لکھتے تھے ۔ ميرے چھوٹے بيٹے کی شادی ہوئی تو کراچی ميں نکاح رجسٹرار صاحب نے ميرے بيٹے کا نام بطور گواہ ذِکريا ذال سے لکھا ۔ ميں نےکہا کہ زے سے لکھيئے تو فرمانے لگے ۔ يہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ آپ نہيں جانتے ۔ اب اُنہيں کون سمجھاتا کہ حضور قرآن شريف کھول کر سورت مريم پڑھيئے اُس ميں زَکَرِيَّا  زے سے لکھا ہوا ہے اور يہ عربی زبان کا نہيں بلکہ کسی قديم زبان کا لفظ ہے جو قرآن شريف ميں زَکَرِيَّا لکھا گيا ہے ۔ شائد نيم مُلا خطرہءِ اِيمان اِسی لئے کہتے ہيں

بيوی بندوق کی گوليوں ۔ ۔ ۔

دن بھر کا تھکا ہارا مرد گھر لوٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی دير کيوں لگا دی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں چلے گئے تھے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے پاس چلے گئے تھے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ يا گھر ميں آٹا نہيں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دال نہيں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچے کو بُخار ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغيرہ وغيرہ ۔

ذرا سوچئے تو اگر اسی طرح روزانہ بيوی بندوق کی گوليوں کی طرح برستی رہے تو اس کا نتيجہ کيا ہو گا ؟

یہ بھی حقيقت ہے کہ مرد سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے اور قہقنے لگاتے رہتے ہيں ۔ کسی نے چوکڑی جما کر تاش کھيلتے آدھی رات گذار دی تو کوئی کلب ميں بيٹھ کر تکّے کباب اُڑاتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مکمل صورتِ حال جاننے کيلئے پڑھئے ہمارے معاشرہ کا ايک نفسياتی جائزہ اُوپر رشتہءِ اِزدواج پر کلِک کر کے ۔

آرزو اور انتظار

عمر اُدھار مانگ کے لائے تھے چار دن

دو  آرزو  ميں کٹ گئے دو  انتظار ميں

ٹھيک ہی کہا تھا بہادر شاہ ظفر نے ۔ زندگی ميں ہے ہی کيا ؟  بس آرزو اور انتظار ۔ ۔ ۔

عورت کی زندگی کے سفر کا خاکہ

ڈيرہ غازی خان سے اپنا ڈيرہ والے منير احمد طاہر صاحب کے شکريہ کے ساتھ

بچہ جب ليٹے ہوئےبڑوں کو بيٹھا يا کھڑا ديکھتا ہے تو اُس کے دل ميں اُٹھ بيٹھنے کی آرزو پيدا ہوتی ہے اور وہ سر آُٹھانے کی کوشش بھی کرتا ہے پھر اسی انتظار ميں رہتا ہے کہ کس دن وہ بيٹھنے لگے گا ۔ بيٹھنے لگتا ہے تو چلنے والوں کو ديکھ کر کھڑے ہو کر چلنے کی آرزو کرتا ہے اور اسی انتظار ميں وقت گذارتا ہے ۔ چلنے لگتا ہے تو گھر سے باہر جانے کی آرزو لے بيٹھتا ہے اور انتظار ميں رہتا ہے کہ کب وہ خود دروازہ کھولنے کے قابل ہو گا ۔  

باہر جانے کے قابل ہو جاتا ہے تو وہ جوان ہونے کی آرزو ميں دن گذارنے لگتا ہے اور چھُپ چھُپ کر آئينے ميں ديکھتا رہتا ہے کہ کب موچھيں اور داڑھی نکليں گی ۔ تعليم حاصل کرنے کے دوران کوئی اس انتظار ميں رہتا ہے کہ چھُٹياں ہوں تو سير و سياحت کی آرزو پوری کرے ۔ کوئی امتحان کی انتظار ميں رہتا ہے کہ اپنی محنت کا پھَل حاصل کرے ۔

جوان ہو کر ايک ساتھی کی آرزو دل ميں چُٹکياں لينے لگتی ہے اور وہ اس آرزو کی تکميل کا بيقراری سے انتظار کرتا ہے ۔ شادی کے بعد ماں يا باپ بننے کی آرزو جنم ليتی ہے اور وہ اُس خوش آئيند گھڑی کی انتظار ميں دن گننے لگتا ہے ۔ بچہ مل جاتا ہے تو اُسے آرزو ہوتی ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کر قابل بن جائے تو اس وقت کی انتظار ميں دن مہينے اور سال گذرنے لگتے ہيں ۔ پھر بچوں کی شادی کی آرزو جکڑ ليتی ہے اور اچھے رشتوں کی انتظار ميں رہتا ہے ۔ 

ملازمت کرے تو بڑا افسر بننے کی آرزو ہر وقت دامنگير رہتی ہے اور ايک کے بعد دوسری ترقی کی انتظار ميں سال پہ سال گذارتا ہے ۔ تجارت کرے تو زيادہ سے زيادہ امير بننے کی آرزو نہيں چھوڑتی اور اُس دن کی انتظار ميں رہتا ہے جب اُسے زندگی کی تمام آسائشيں حاصل ہو جائيں ۔

بچوں کی شادياں ہو جانے پر بچے اپنے اپنے کاموں ميں مصروف ہو جاتے ہيں اور وہ والديا والدہ سے بوڑھا دادا يا دادی بن جاتا ہے ۔ ايسے ميں وہ ايک آرزو دل ميں بسا ليتا ہے کہ بچے خوش رہيں اور اپنی خوشيوں ميں اُسے بھی شريک کر ليا کريں ۔ اگر اس کا بچہ بہت دُور چلا جائے تو بھی تمام تر حقائق جانتے ہوئے اُس کے ديدار کی آرزو دِل ميں لئے اُس کی انتظار ميں سال يا مہينے نہيں بلکہ دن گنتا رہتا ہے ۔  

بہت خوش قسمت ہوتا ہے وہ شخص جس کی يہ آخری آرزو پوری ہوتی ہے ۔ اور اس سے بھی زيادہ خوش قسمت وہ شخص ہوتا ہے جس کے بچے اُس کا صرف خيال ہی نہيں رکھتے بلکہ اُس کی خدمت بھی کرتے ہيں ورنہ بعض اِنہی  آرزوؤں  اور انتظار کو سينے سے لگائے اس دنيا سے کُوچ کر جاتے ہيں ۔ 

* 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

– – Hypocrisy Thy Name    http://iabhopal.wordpress.com  يہ منافقت نہيں ہے کيا ۔ ۔ 

چُٹکلے

ہفتہ کو اسلام آباد ميں درجہ حرارت 43 ڈگری سيلسِيئس تک گيا اتوار کو صبح نو بجے ہی بہت گرمی تھی ۔ اتوار بازار ہمارے گھر سے ايک ڈيڑھ کلوميٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ ميں سودا لينے گيا تو وہاں ايک دکان پر کچھ لوگ گرمی کی شدّت کا ذکر کر رہے تھے ۔ مجھے آمد ہوئی ميں نے ايک صاحب کو مُخاطب کر کے پوچھا “بھائی صاحب ۔ اگر آپ کے ساتھ کو ہيراپھيری کرے تو؟” وہ صاحب کچھ پريشان ہوئے پھر بولے “ظاہر ہے گرمی آئے گی” ميں بولا “جب سب ہيراپھيری ميں لگے ہيں تو گرمی کی شکائت کيوں ؟”

اتوار بازار سے واپسی پر ايک کرائے کی پِک اَپ پر لکھا شعر پڑھا ۔

ميرے خلوص کی قيمت بھی کم نہ تھی
وہ کم انديش لوگ تھے سو دولت پہ مرگئے

ايک شعر ميرے بچپن کا

ہو جُون کا مہينہ خُنکی سی پڑ رہی ہو
بارہ بجے ہوں دن کے اور اوس پڑ رہی ہو