Category Archives: روز و شب

چیف جسٹس دہشتگردوں کے حمائتی

کسی مُلک کا صدر صرف اپنی کُرسی بچانے کیلئے اخلاقی طور پر اتنا گر جائے شاید دنیا کا ہوئی راہنما ماننے کیلئے تیار نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ پرویز مشرف نے ایسا کیا اور اپنے 3 نومبر 2007ء کا غیر قانونی اور غیر آئینی قدم اُٹھانے سے قبل انتہائی عیّاری اور مکّاری سے امریکی حکمرانوں کو باور کرایا کہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری دہشتگردو کے حمائتی ہیں ۔

پرویز مشرف نے اس کیلئے کیا طریقہ اختیار کیا ؟ یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

کیا امریکا جنت نما ہے ؟

امریکا کے اندرونی حالات کے متعلق ہمارے ہموطنوں میں بہت آسودگی کا تصور پایا جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں بے تحاشہ دولتمند [جسے میرا ایک جرمن دوست کہا کرتا تھا filthy rich] بھی بستے ہیں اور دوسری طرف دو وقت کی روٹی کے محتاج بھی ۔ اگر ایک طرف علم کی بلندیوں کو پہنچ رہے ہیں تو دوسری طرف علم کے حصول کی طاقت نہ رکھنے والے بھی ہیں ۔ فحاشی عام ہے لیکن فحاشی سے نفرت کرنے والے بھی پیدا ہو گئے ہیں ۔ میرے پاس مختلف قسم کی ای میلز آتی رہتی ہیں ۔ مگر پہلی بار ایسا ہوا کہ مجھے کسی کی ای میل کا کچھ حصہ شائع کرنے کی اجازت مل گئی ۔ یہ 50 سالہ عورت جو اصلی امریکن ہے ایک بالغ بچی کی ماں ہے اور اپنے خاوند [بچی کے باپ] کے ساتھ ہی رہتی ہے ۔

I was told by an engineer’s wife when I arrived here, to expect appliances that touch the water to be replaced every two years. That means hot water heater, washing machine….even the faucets. This last machine lasted two months longer.

I knew about the arsenic (percentage in water) but the same engineer’s wife who informed me about my appliances also let me know the arsenic levels in the water. We try to have as little as possible to do with the water. We drink and cook with bottled water.

America is misunderstood worldwide. It is not what people think it is globally. I spent a month trying to explain the school system to a woman in India who insisted that everything was free as far as education went….and wanted India to follow the footsteps of American schools. It was as if she did not believe me how the taxes are distributed as to the population of an area. I told her that those school lunches that she thinks are free….are not free….and they are so loaded with fat and salt it would make the angels cry. They make the fast food restaurants look good. If I had a choice of serving my child school cafeteria food or McDonalds…..I would take her to McDonalds and get a salad. That is not saying anything good.

Our water system has been on the books for years, for filtration……..but due to greed…..the budget never seems to be able to handle the filtration system that would take the arsenic out or at least reduce it down.

The U.S. only cares about money….not people, not resources….nothing but money. What the U.S. has forgotten about since about the 1980’s is that it is people who built the country…..and companies used to be family oriented. That is no more.

Anyway….I am tired of American lifestyles….I cannot handle much more. The stress of everything is beginning to wear on me. My own family is falling apart. My daughter is doing her own thing….My husband is so obsessed with gambling that he got a special credit card for doing it. I have no choice but to leave….and to where I do not know….but America is killing me. I have to get out of here. I have done what I can.

کیا ہو گا کیسے ہوگا

ہم لوگ ہرروز کہتے اور سوچتے رہتے ہیں کہ “یہ ہو جائے گا ۔ وہ ہو جائے گا ۔ یہ کیسے ہو گا ؟ وہ کیسے ہو گا ؟ پتہ نہیں امریکہ کیا کرے گا ؟ پتہ نہیں ہماری حکومت کیا کرے گی ؟ پتہ نہیں ہمارے مُلک کا کیا بنے گا ؟ ” ایسے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ

سورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان ۔ آیات ۔ 26 تا 28
کہہ دو ۔ “اے اﷲ ۔ سلطنت کے مالک ۔ تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے
چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے ۔ ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے ۔ بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے ۔
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تُو ہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اورمُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے [اپنی نوازشات سے] بہرہ اندوز کرتا ہے”۔
مسلمانوں کو چاہیئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ [کی دوستی میں] سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان [کے شر] سے بچنا چاہو ۔ اور اﷲ تمہیں اپنی ذات [کے غضب] سے ڈراتا ہے ۔ اور اﷲ ہی کی
طرف لوٹ کر جانا ہے

لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ

سورت ۔ 53 ۔ النَّجْم ۔ آیات ۔ 38 تا 41
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی ۔
اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی ۔
پھر اُسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔

نُقطہ اور نُکتہ

کچھ تو اُردودانوں نے ہی الفاظ کے استعمال میں احتیاط نہ برتی ۔ مثال کے طور پر لفظ “دقیانوسی” اس کی ایک مثال ہے ۔ دقیانوسی بنا ہے دقیانوس سے جو پرانے زمانہ میں بہت ظالم و جابر اور پتھر دل بادشاہ تھا ۔ دقیانوس ہر شخص کو اپنا مکمل تابع رکھتا ۔ ایسا نہ کرنے والے انسان کو وہ اذیتیں دے دے کر مارتا تھا ۔ کچھ نیک لوگوں [اصحابِ کَہْف] کو اسی کے ظُلم سے بچانے کیلئے اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے ایک صدی سے زائد ایک غار میں سُلا کر چھُپا دیا تھا ۔ دقیانوسی کا مطلب پُرانا یا پُرانے زمانے کا لینا کہاں تک درست ہے ؟

مگر ہماری قوم نے تو کسی بھی قومی چیز کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔ اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو کسی سڑک ۔ گلی ۔ محلہ ۔ باغ یا عوامی عمارت میں چلے جائیے اور وہاں فرزندانِ قوم کی کارستانیاں ملاحظہ فرمائیے ۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کارستانیاں اَن پڑھ یا غریب لوگ کرتے ہوں گے لیکن تجربہ نے بتایا کہ یہ کارنامے کرنے والوں کی اکثریت پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے لوگوں پر مشتمل ہے اور ان میں صرف مرد اور لڑکے ہی نہیں صنفِ نازک بھی برابر کی شریک ہے ۔ سب اپنی اپنی حسرتیں اس مُلک کی بگاڑ پر نکالتے ہیں ۔ کوئی پودا ۔ کوئی درخت ۔ کوئی کھمبا ۔ کوئی دیوار ۔ کوئی خالی پلاٹ حتٰی کہ کوئی چیز یا جگہ محفوظ نہیں ۔ معاف کیجئے گا ۔ شاید بوڑھا ہو گیا ہوں اسلئے بھولنے لگا ہوں ۔ کوئی شریف لڑکی لڑکا عورت یا مرد بھی محفوظ نہیں رہا ۔ 

قومی زبان پر بھی ہماری قوم کی اکثریت نے زور آزمائی کی ہے اور متواتر پچھلے ساٹھ سال سے کی ہے ۔ معلوم نہیں سندھی اور پشتو کا کیا حال ہے البتہ اب صحیح پنجابی بولنے والے بھی خال خال ہی ملتے ہیں ۔ یہ تو ایک طویل مضمون ہے فی الحال بات صرف نُقطہ اور نُکتہ کی جو اُردو کے اُن الفاظ میں سے ہیں جن کا استعمال آجکل عام طور پر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا اور سمجھا جاتا ہے کہ ایک غلط ہے یا دوسرا ۔

عدم توجہی کی وجہ سے اُردو لغت بجائے افزائش کے انحطاط کا شکار ہو چکی ہے ۔ ہمارے ذرائع ابلاغ بالخصوص اخبارات اور رسائل صرف اُردو ہی نہیں انگریزی بھی غلط لکھتے ہیں ۔ اس کا مجموعی اثر عام آدمی پر ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں زبان بارے علم محدود ہو گیا ہے اور لوگ الفاظ کے صحیح استعمال سے بیگانہ ہو گئے ہیں ۔

میں ان دو لفظوں میں فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ نقطہ وہ چیز ہے جسے انگریزی میں پوائنٹ [point] کہتے ہیں ۔ اُردو کی طرف سے لاپرواہی کے نتیجہ میں آج سے چار یا پانچ دہائیاں قبل مرتب ہونے والی فیروزاللغات سے بہتر کوئی اُردو کی قاموس [dictionary] نہیں ہے اور فیروزاللغات بھی ایک پہلی کوشش سے زیادہ نہیں ۔ بہر حال فیروزاللغات نقطہ کی تشریح یوں کرتی ہے ۔

نقطہ کا مطلب ہے ۔ بِندی ۔ صفر ۔
نقطہ اشتعال کا مطلب ہے ۔ گرمی اور کھولاؤ کا وہ نقطہ جس پر آگ بھڑک اُٹھے ۔
نقطہ انتخاب کا مطلب ہے ۔ وہ نقطہ جو کسی کتاب کے حاشیہ پر یا کسی عبارت یا شعر پر پسندیدگی کے طور پر لگایا جائے ۔
نقطہ عروج کا مطلب ہے ۔ کمال ۔ انتہاء ۔ انتہائی بلندی ۔
نقطہ کا فرق نہ ہونا کا مطلب ہے ۔ ذرابھی فرق نہ ہونا ۔
نقطہ گاہ کا مطلب ہے ۔ دائرہ کا مرکز ۔
نقطہ لگانا کا مطلب ہے ۔ عیب لگانا ۔ دھبّہ لگانا ۔
نقطہ نظر کا مطلب ہے ۔ دیکھنے یا سوچنے کا انداز ۔

نقطہ کا ہم عصر انگریزی میں پوآئنٹ [point] ہے جس کی انگریزی کی قاموس میں لمبی تفسیریں ہیں جن میں سے چند موٹی موٹی یہ ہیں

(1) an individual detail (2) a distinguishing detail (3) the most important essential in a discussion or matter (4) a geometric element that has zero dimensions (5) a particular place (6) an exact moment (7) a particular step, stage, or degree in development (8) a definite position in a scale

مندرجہ بالا انگریزی تفسیر کا اُردو ترجمہ حسبِ ذیل ہے
1 ۔ ایک انفرادی تفصیل۔ 2 ۔ ایک منفرد تفصیل ۔ 3 ۔ ایک بحث میں سب سے اہم معاملہ ۔ 4 ۔ علمِ ہندسہ کا ایک جُزو جس کی پیمائش صفر ہو ۔ 5 ۔ ایک خاص جگہ ۔ 6 ۔ ایک خاص وقت ۔ 7 ۔ ایک خاص اقدام ۔ 8 ۔ ایک پیمانے میں ایک خاص مقام ۔

نُکتہ کی فیروزاللغات یوں تشریح کرتی ہے ۔

نکتہ کا مطلب ہے ۔ باریک بات ۔ تہہ کی بات ۔ لطیفہ ۔ چٹکلہ ۔ رخنہ ۔ عیب ۔ چمڑا جو گھوڑے کے منہ پر رہتا ہے ۔
نکتہ بیں کا مطلب ہے ۔ نازک خیال ۔
نکتہ چیں کا مطلب ہے ۔ عیب ڈھونڈنے والا ۔
نکتہ دان کا مطلب ہے ۔ ذہین ۔
نکتہ شناس کا مطلب ہے ۔ جچی تُلی بات کرنے والا ۔ ہوشیار ۔ عقلمند ۔

شاید کہ تیرے دِل میں اُتر جائے میری بات

افراطِ زر ۔ اثاثے اور زرِ مبادلہ

میں بار بار کوشش کرتا ہوں کہ صُلح جُو اور ترقی پسند بن جاؤں لیکن وقفہ وقفہ سے کوئی صاحب یا صاحبہ کوئی ذکر چھیڑ کر مجھے ماضی کے راز افشاء کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ 11 روز قبل محمد شاکر عزیز صاحب نے اپنی بلکہ صرف اپنی نہیں میرے سمیت اپنے جیسے لاکھوں نہیں کروڑوں پاکستانیوں کی بِبتا بیان کی ۔

محمد شاکر عزیز صاحب کی ایک بھولی بھالی ننھی بہن نے کہا ” نوٹ تو ہم خود چھاپتے ہیں تو انھیں زیادہ سے زیادہ کیوں نہیں چھاپا جاتا تاکہ سب امیر ہوجائیں؟” ماشاء اللہ کتنا سادہ مگر بہت ہی گہرا سوال ہے ۔ محمد شاکر عزیز صاحب نے جواب دیا ” نوٹ چھاپنے سے پہلے ان کے پیچھے بطور ضمانت سونا رکھا جاتا ہے یا ڈالر یورو رکھے جاتے ہیں”۔ معاشیات کے اصول کے مطابق جواب بالکل درست ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہو رہا ۔ یہاں اثاثوں سے کئی گنا نوٹ گردش میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ڈالر جو دسمبر 1971ء سے قبل پونے پانچ روپے کا تھا وہ اب 63 روپے کا ہے ۔ یعنی پاکستانی ایک روپے کی اصل قیمت ساڑھے سات پیسے رہ گئی ہے ۔

میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ 1952ء میں ہمارے ایک اُستاذ کہا کرتے تھے “مسلمانوں کی تاریخ بڑی کمزور ہے”۔ ان کا مطلب تاریخ کا مضمون تھا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا فرمان ہے کہ “مسلمان ایک بِل سے دو بار ڈسا نہیں جاتا” یعنی مسلمان ایک ہی قسم کا دھوکہ ایک سے زائد بار نہیں کھاتا ۔ ہماری قوم کی اکثریت کو گذرے کل کی بات یاد نہیں رہتی اسی لئے بار بار دھوکہ کھاتے ہیں ۔

میں بھی سرکاری ملازم رہا لیکن کھُلے ذہن کے ساتھ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی بڑی کرم نوازی ہے کہ مجھے غلط کاموں سے بچائے رکھا گو اس کیلئے مجھے دنیاوی طور پر کئی مصائب جھیلنا پڑے ۔ جب بھی بات افراطِ زر کی ہو یا قومی اثاثہ کی تو میرے ذہن میں ایک مووی فلم چلنا شروع ہو جاتی ہے کہ ہمارے مُلک کے سربراہوں اور سرکاری اہلکاروں نے اصل صورتِ حال کو عوام سے مخفی رکھنے کیلئے کیا کیا جتن کئے ۔

مجھے معاشیات کے مضمون سے تھوڑا سا شغف اسلئے ہے کہ جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا تو مکینکل انجنیئرنگ پڑھنے والوں کو معاشیات کا مضمون بھی پڑھنا پڑھتا تھا ۔ اس کے سالانہ امتحان میں ایک سوال مُلک کے اثاثہ جات اور ذمہ داریوں [Assets and Liabilities ] کے متعلق بھی ہوتا تھا ۔ اُس زمانہ میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے ہر ہفتے کے شروع میں ایک اطلاع نامہ [report] شائع کیا جاتا تھا جس میں پاکستان کے کُل اثاثوں اور ذمہ داریوں کا مدوار [heading-wise] میزان اور میزانِ کُل [sub-totals and grand total] دیا ہوتا تھا ۔ مجھے مکمل تو شاید یاد نہیں کیونکہ یہ اطلاع نامہ پچھلے 34 یا 35 سال سے شائع نہیں ہوا مگر اس کی موٹی موٹی مدات مندرجہ ذیل ہوتی تھیں

Statement of Assets and Liabilities

Assets

Reserves
Gold = ———-
Silver = ———
Foreign currency (owned by Government) = ———-
Other = ———

Receivable
Share on partition yet to be paid by India = ———-
Bills = ———-
Loans = ———-
Other = ———-

Total = ———-


Liabilities

Notes in circulation = ———-
Loans = ———-
Payments due = ———-
Other = ———-

Total = ———-

اصول یہ تھا کہ کُل ذمہ داریوں [Total liabilities] کو کُل اثاثہ جات [Total assets] سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ اگر کسی وقت کُل ذمہ داریاں کُل اثاثہ جات سے زیادہ ہو جائیں تو اس کا جواز بھی اس اطلاع نامہ میں لکھنا ضروری تھا ۔ اور یہ بھی لکھنا کہ صورتِ حال کو کس طرح صحیح حدود میں لایا جائے گا ۔

ہمیں جو سوال امتحان میں دیا جاتا تھا اس میں اس معاشی اطلاع نامہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے پاکستان کی مجموعی معاشی صورتِ حال پر تبصرہ کر کے بتانا ہوتا تھا کہ پاکستان معاشی لحاظ سے کیسا جا رہا ہے ؟ اور ہم مزید بہتری کیلئے کیا تجویز کرتے ہیں ۔ دسمبر 1971ء سے قبل ہمارے ملک کی معیشت اتنی مضبوط تھی کہ آپ کسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں چلے جائیں تو پاکستانی کرنسی نوٹ ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا ۔ 1967ء میں میں جرمنی میں تھا تو صرف آزمانے کیلئے میں ڈریسنر بنک گیا اور وہاں پاکستانی ایک روپے کے نوٹ دکھا کر کہا “مجھے اس کے بدلے جرمن مارک مل جائیں گے ؟” آفیسر نے فوراً میرے ہاتھ سے نوٹ لے کر مجھے ایک روپیہ 18 پیسے کے حساب سے جرمن مار دے دیئے ۔ اس سے قبل ہمارے ایک عزیز حج کرنے گئے تو ایک روپے کا سوا ریال ملا تھا ۔ ایک ہندوستانی روپیہ پاکستانی 80 سے 90 پیسے کا رہتا تھا ۔

یہ اطلاع نامہ جو عوام کو مُلک کی معاشی صورتِ حال سے آگاہ رکھتا تھا آج سے 34 یا 35 سال قبل حاکمِ وقت کے حُکم سے نہ صرف شائع کرنا بند کر دیا گیا بلکہ ان معلومات کو خفیہ کا درجہ دے دیا گیا ۔ اس کے بعد مصنوعی [manufactured] اعداد و شمار کے ذریعہ قوم کو بیوقوف بنانے کا عمل شروع ہوا جو موجودہ دور میں انتہائی عروج پر ہے ۔

قوم کو غلط اعداد و شمار دینے والے ان مجرموں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس سلسلہ میں میرے ذاتی تجربات میں سے صرف ایک یہ ہے ۔ یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کے ایک سرکاری کارخانے کا پروڈکشن منیجر لگا دیا گیا ۔ 1970ء میں میرے جنرل منیجر کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ دوسرے صاحب تعینات کر دیئے گئے ۔ سرکاری دفاتر اور کارخانوں میں سیاست گھُس آنے اور اعلٰی سطح کی منیجمنٹ کے غلط اقدامات کی وجہ سے پیداوار کم ہو چکی تھی ۔ پیداوار کی جو رپورٹ اُوپر بھیجی جاتی تھی اس پر میرے دستخط ہوتے تھے ۔ نئے جنرل منیجر صاحب اپنی واہ واہ کروانا چاہتے تھے ۔ اُنہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں پیداوار کی رپورٹ میں اُن پرزوں [components] کو بھی شامل کروں جو ابھی اسیمبل [assemble] ہونا تھے ۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ صرف وہ مال گِنا جاتا ہے جسے مکمل اسیمبل ہونے کے بعد حتمی طور پر [finally] آرمی انسپکٹرز [Army Inspectors] نے قبول [pass] کیا ہو ۔ دوسرے آج اگر ہم ان پرزوں کو گِن لیں گے تو کل کیا کریں گے ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے میرا تبادلہ کروا دیا اور میری جگہ ایک جی حضوریہ [yes man] لگوا لیا ۔ پھر پیدا وار کی بڑھا چڑھا کر مصنوئی [manufactured] رپورٹیں بھیجی جاتی رہیں ۔ چھ سات ماہ بعد فوج کے متعلقہ محکمہ سے فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر سے ہوتا ہوا خط پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے چیئرمین کو آیا کہ جتنی پیداوار رپورٹوں میں دکھائی گئی ہے اس سے بہت کم ہمیں موصول ہوئی ہے اسلئے بقایا مال فوری طور پر بھیجا جائے ۔ یہ چٹھی چلتے چلتے میرے انہی جنرل منیجر صاحب کے پاس پہنچ گئی ۔ اُن جنرل منیجر صاحب کو سزا یہ دی گئی کہ اُنہیں ڈیپوٹیشن [deputation] پر سعودی عرب بھیج دیا گیا جہاں سے وہ 9 سال کے بعد کروڑ پتی بن کر لوٹے اور واپس آتے ہی انہیں ایک ترقی دے دی گئی ۔

کیا یہی عُمدہ حکمرانیgood governance ہے ؟

پرویز مشرف جس کو 9 مارچ 2008ء کے میثاقِ مری کے بعد بھی اپنی تا موت حُکمرانی کی قوی اُمید ہے نے پچھلے سوا آٹھ سال میں روشن خیالی کی جو ضخیم کتاب مرتب کی ہے اس کا صرف ایک صفحہ حاضر ہے ۔ ایسے کئی باب ہمارے ملک کے ہر شہر میں لکھے جانا روزانہ کا معمول رہا ہے لیکن آج سے پہلے سرکاری پولیس کو اِسے اُجاگر کرنے کی توفیق نہ ہوئی تھی ۔ البتہ اہالیانِ اسلام آباد کی درخواست پر لال مسجد سے متعلق لوگوں نے پچھلے سال ایک صفحہ کھولنے کی جراءت کی تھی اور اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں ۔

اسلام آباد کے سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اطلاعات مل رہی تھیں کہ مکان نمبر 221 ۔ گلی نمبر 3 ۔ سیکٹر ایف 10/3 میں بااثر لوگ بِلّیاں دی سراں [Cat House] چلا رہے ہیں ۔ پنجابی میں براتھل ہاؤس [Brothel House] کو بِلّیاں دی سراں یعنی بِلّیوں کی سرائے کہا جاتا ہے ۔ ہفتہ 8 مارچ اور اتوار 9 مارچ کی درمیانی شب پولیس نے چھاپہ مار کر وہاں 19 عورتوں اور 34 مردوں کو گرفتار کر لیا جو شراب نوشی اور مخلوط ناچ میں مصروف تھے ۔ عورتوں میں 3 چینی اور 3 روسی تھیں ۔ اس مکان سے شراب کی 66 بوتلیں ۔ بیئر کے 88 ڈبے ۔ ایک 7 ایم ایم کی بندوق ۔ ایک 12 بور کی بندوق ۔ ایک 44 بور کی بندوق ۔ تین 222 بور کی بندوقیں اور گولیوں کی بھاری مقدار بھی برآمد ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ ظفر شاہد نامی ایک بااثر شخص اس گھر کو بلّیاں دی سراں [Brothel House] کے طور پر چلا رہا تھا ۔