Category Archives: روز و شب

توقعات یا پریشانی ؟

جب بات دسترست سے باہر ہو تو پریشانیوں سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کیجئے

دنیا کیسی ہونا چاہیئے ؟ اس کا فیصلہ آپ کے ذمّہ نہیں
دوسروں کے چال چلن اور برتاؤ کے اصول مرتّب کرنا آپ کی ذمّہ داری نہیں

کيونکہ جب دنیا آپ کے بنائے اصولوں پر نہیں چلتی تو آپ کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ۔

ہم لوگوں کی پریشانی کی وجہ عام طور پر یہی ہوتی ہے ۔ اِس پریشانی سے بچئیے

محنت ؟ ؟ ؟

ہم جب بچے تھے تو ایک مووی فلم بنی تھی جسے لوگ اشتراکیت کا پروپیگنڈہ کہتے تھے ۔ فلم تو میں نے نہیں دیکھی لیکن اس میں ایک گانے کے بول مجھے پسند تھے

محنت کی اِک سوکھی روٹی ۔ ہاں بھئی ہاں ہے
اور مُفت کی دودھ ملائی ۔ نہ بھئی نہ رے

“محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے” ۔ “محنت رائیگاں نہیں جاتی”۔ یہ محاورے نہ صرف وطنِ عزیز کی قومی زبان میں بلکہ تمام علاقائی زبانوں میں بھی مختلف طریقوں سے موجود ہیں ۔ شاید ہی کوئی ہموطن ایسا ہو جس نے یہ محاورے پڑھے یا سُنے نہ ہوں ۔ تعجب کی بات یہ ہے قوم کی اکثریت ان محاوروں کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتی ۔ اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محنت کا راستہ دُشوار گذار لگتا ہے ۔ شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ انہیں ایک دوسرے محاورے نے زیادہ متاثر کیا ہے جو ہے “گھی سیدھی اُنگلی سے نہیں نکلتا”یعنی گھی نکالنے کیلئے اُنگلی ٹیڑھی کرنا پڑتی ہے ۔ آجکل تو اُنگلی سے گھی کوئی نکالتا ہی نہیں بلکہ اشتہاربازی کے زیرِ اثر زیادہ لوگ گھی کھاتے ہی نہیں ۔ تیل اور وہ بھی جس کے ساتھ کینولا لگا ہو استعمال کرتے ہیں ۔ مجھے اس سے نیولا یاد آتا ہے جو بڑی مہارت سے بڑے سے بڑے سانپ کو مات کر دیتا ہے ۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ محنت کرنے والے کی قدر آج کی دنیا میں بہت کم رہ گئی ہے اور محنت کرنے والے کو کئی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن محنت کرنے والا شخص جتنی پُراعتماد اور ذہنی سکون کی زندگی گذارتا ہے محنت کا راستہ اختیار نہ کرنے والا ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

لگ بھگ 4 دہائیاں پہلے کی بات ہے میرے محکمہ کے ایک ساتھی میرے دفتر میں آئے اور مجھے کہنے لگے “اجمل ۔ آپ صرف محنت کرتے ہو ۔ آج کی دنیا اشتہاربازی کی ہے ۔ میں تو ایک ہاتھ سے کام کرتا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے ڈفلی بجاتا ہوں ۔ یہ افسران مجمع کے لوگ ہیں ۔ ان کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ڈفلی بجا کر مجمع لگانا ضروری ہے”۔

میں علامہ اقبال صاحب کو فلسفی سمجھتا ہوں ۔ اُن کا ایک شعر آٹھویں جماعت سے میرے لئے مشعلِ راہ رہا ہے

تُندیٔ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لئے

چنانچہ میں نے اپنے محکمہ کے بظاہر کامیاب ساتھی کی بات نہ مانی اور اپنا سفر آہستہ آہستہ جاری رکھا ۔ تُند و تیز ہواؤں کا مقابلہ کرتے کرتے کبھی کبھی میرا جسم شَل ہو جاتا ۔ ساتھی ڈِپلومیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ۔ میں اُن کی نصیحت کا شکریہ ادا کر دیتا لیکن جس خُو کو ساتھی ڈپلومیسی کا نام دیتے تھے وہ میرے لئے دوغلاپن یا منافقت تھی ۔ میرے دماغ اور دِل نے کبھی ہمت نہ ہاری اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمیشہ سُکھ کی نیند سویا ۔ مجھے نان و نُفقہ کی کبھی فکر نہ ہوئی ۔ اگر کبھی فکر ہوئی تو صرف اس کی کہ میرے بچے کامیابی سے اپنے تعلیمی منازل طے کر لیں ۔ میں مالدار آدمی نہ تھا اور نہ ہوں لیکن اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرے ہر آڑے وقت کو کامیابی سے گذار دیا اور ہمیشہ آزادانہ زندگی بسر کی ۔ الحمدللہ رب العالمین کہ

یہ کرم ہے میرے اللہ کا مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے

محاورے جو پہلے سمجھ نہ آئے تھے

ہمیں سکول کے زمانہ میں اُردو اور انگریزی میں بہت سے ضرب المثل پڑھائے گئے تھے جن میں کچھ ایسے تھے جو مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری سمجھ میں نہیں آئے تھے ۔ ان میں سے اُردو کے مندرجہ ذیل اکیسویں صدی میں یعنی پچھلے سات آٹھ سالوں میں سمجھ میں آئے ہیں

اُلٹی گنگا
اُلٹے بانس بریلی کو
اُلٹا چور کتوال کو ڈانٹے
سُنیں سب اُسکی جو ڈُگڈُگی بجائے
آنکھ کے اندھے نام نین سُکھ
چور اُچکا چوہدری ۔ لُنڈی رَن پردان
اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی
ناچ نہ جانے ۔ آنگن ٹیڑا
کوّا گیا مور بننے ۔ نہ مور بنا نہ کوا رہا
پڑے گرمی مریں غریب ۔ پڑے پالا مریں غریب
[سخت سردی میں گھاس پر رات کے وقت برف سی جم جاتی ہے اسے پالا کہتے ہیں

مسلمان بخشےجائینگے

دوسرے ممالک کے مُسلمانوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میرے ہموطنوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین ہے کہ

“ہم مُسلمان ہیں ۔ ہم بخشے جائینگے”

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں ایسے لوگوں کا نظریہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ ذہین سے ذہین طالب علم کے متعلق بھی یہ کوئی نہیں کہے گا کہ وہ بغیر تمام مضامین اچھی طرح سے پڑھے کامیاب ہو جائے گا ۔ یا کوئی شخص بغیر محنت کئے تجارت میں منافع حاصل کرے گا ۔ یا بغیر محنت سے کام کئے دفتر میں ترقی پا جائے گا

قرآن شریف کے ذریعہ عمل کیلئے دیئے گئے تمام احکامات کے ساتھ کوئی نا کوئی شرط ہے جس کی وجہ سے کُلی یا جزوی یا وقتی استثنٰی مِل جاتا ہے سوائے نماز کے جس کی سوائے بیہوشی کی حالت کے کسی صورت معافی نہیں ۔ ہمارے ہموطن ایسے بھی ہیں جو نماز نہیں پڑھتے اور دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور چونکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اسلئے اُنہیں کوئی کچھ نہیں سِکھا سکتا ۔ کیا اس سائنسی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریاضی اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی ریاضی دان بن جائے یا کیمسٹری اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی کیمسٹ بن جائے ۔ علٰی ھٰذالقیاس ؟

اگر ہم اللہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو ہم ہر لغو خیال سے بچ سکتے ہیں ۔

سُورة 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیۃ 45 ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّہِ أَكْبَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔

ترجمہ ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں ۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔ بیشک اﷲ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اﷲ خبردار ہے

تبصرہ ۔ اگر نماز پڑھنے والا بے حیائی اور بُرائی میں ملوث رہتا ہے تو اس میں نماز کا نہیں بلکہ نماز پڑھنے والے کا قصور ہے یعنی وہ نماز صرف عادت کے طور پر یا بے مقصد پڑھتا ہے ۔ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اُسے سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔

مسلمان ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کی بجا آوری میں ہو اور اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے ہو یہاں تک کہ وہ مَرے بھی تو اللہ کی خوشنودی کیلئے ۔

سُورۃ ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیۃ ۔ 162 ۔ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ ۔ کہہ دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اﷲ ہی کا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے

سورۃ ۔ 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیۃ 2 ۔ أحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَھمْ لَا يُفْتَنُونَ
ترجمہ ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔

تبصرہ ۔ یہاں آزمانے سے مُراد امتحان لینا ہی ہے جس میں کامیابی کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے ہر دنیاوی کام یا علم کیلئے امتحان اور مشکل مراحل میں صبر و تحمل اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم دین کو اس سے مستثنٰی کیوں سمجھتے ہیں ؟

سورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیۃ 208 ۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّہُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو ۔ بیشک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے

وضاحت ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے تمام احکامات کی پابندی کرو ۔

حرفِ آخر ۔ میں نے مُسلمان کے فرائض کا احاطہ نہیں کیا وہ پوری زندگی ۔ سلوک اور لین دین کے متعلق ہیں اور قرآن شریف میں واضح طور پر مرقوم ہیں ۔

ماوراء صاحبہ کا سوال

میری 2 جولائی 2008ء کی تحریر “ایسا کیوں ” پر تبصرہ کرتے ہوئے ماوراء صاحبہ نے لکھا “اللہ نے ایک ہی مذہب دنیا میں کیوں نہ بنایا ؟”
ماوراء صاحبہ کے اس سوال نے مجھے باور کرایا کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے مسلمان جنہیں میں نے ہمیشہ عقلمند سمجھا یا تو قرآن شریف پڑھتے نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ چنانچہ اس سوال کا جواب میں نے سرِ ورق پر لکھنا مناسب سمجھا تاکہ باقی قارئین بھی اس سے مستفید ہو سکیں ۔ ماوراء صاحبہ سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ذاتی مصروفیات اور بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے جواب پیر 7 جولائی کو نہ لکھ سکا ۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیات 124 تا 126 ۔یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ اُن سب میں پورا اُتر گیا تو اللہ نے فرمایا “میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا “۔ ابراہیم نے عرض کیا “اور میری اولاد کو بھی ؟” فرمایا “میرا وعدہ ظالمو سے نہیں” ۔
ہم نے اس گھر [کعبہ] کو لوگوں کیلئے ثواب اور امن کی جگہ بنایا ۔ تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور رقوع سجدہ کرنے والوں کیلئے پاک صاف رکھو ۔
اور یہ کہ ابراہیم نے دُعا کی “اے میرے رب ۔ اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے”۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا “میں کافروں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا پھر اُنہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا ۔ یہ پہنچنے کی جگہ بُری ہے”۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیات 127 تا 134 ۔اور یاد کرو ابراہیم اور اسماعیل جب اس گھر [کعبہ] کی دیواریں اُٹھا رہے تھے تو دُعا کرتے جاتے تھے ” اے ہمارے رب ۔ ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے ۔ تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔
اے رب ۔ ہم دونوں کو اپنا مُسلِم [فرمابردار] بنا ۔ ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اُٹھا جو تیری مُسلِم ہو ۔ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ۔اور ہماری کوتاہیوں سے درگذر فرما ۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔
اور اے رب ۔ ان لوگوں میں خود اِنہیں کی قوم سے ایک رسول بھیج جو تیری آیتیں پڑھے انہیں کتاب اور حکمت سِکھائے اور اِنہیں پاک کرے ۔ یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے “۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیت 134 ۔ اب کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت اور جہالت میں مُبتلا کر لیا ہو ، اس کے سوا کون یہ حرکت کر سکتا ہے ؟ ابراہیم تو ہ شخص ہے جسے ہم نے دنیا میں اپنے کام کیلئے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہو گا ۔
جب اس کے رب نے اس سے کہا “مُسلِم ہو جا”۔ تو اس نے فوراً کہا “میں مالکِ کائنات کا مُسلِم ہو گیا”۔
اسی طریقہ پر چلنے کی ہدائت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیّت یعقوب اپنی اولاد کو کر گیا ۔ اس نے کہا تھا “میرے بچو ۔ اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مُسلِم ہی رہنا”۔
پھر کیا تُم اُس وقت موجود تھے جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا ؟ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ” بچو ۔ میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟” ان سب نے جواب دیا “ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیم ۔ اسماعیل اور اسحاق نے اللہ مانا اور ہم اُسی کے مُسلِم ہیں”۔
وہ کچھ لوگ تھے جو گذر گئے ۔ جو کچھ اُنہوں نے کمایا اُن کیلئے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمہارے لئے ہے ۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔
آیت 136 ۔ یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہوگے تو راہِ راست پاؤ گے ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسائی ہو تو ہدایت ملے گی ۔ ان سے کہو “نہیں ۔ بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم کا طریقہ ۔ اور ابراہیم مُشرکوں میں سے نہ تھا ۔ اور ہم اللہ کے مُسلِم ہیں”۔

سورت ۔ 3 ۔ آلِ عمران ۔ آیت ۔ 19 ۔ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہےاس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی اُن کے اس طرزِ عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ اُنہوں نے عِلم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کیلئے ایسا کیا

سورت ۔ 3 ۔ آلِ عمران ۔ آیت ۔ 67 ۔ ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک یکسُو مُسلِم تھا

>سورت ۔ 3 ۔ آلِ عمران ۔ آیت ۔ 102 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مُسلِم ہو

سورت ۔ ۔ 5 ۔ المآئدہ ۔ آیت ۔ 44 ۔ ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔ سارے نبی جو مُسلِم تھے اُسی کے مطابق اِن یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے

سورت ۔ ۔ 5 ۔ المآئدہ ۔ آیت ۔ 3 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سورت ۔ 10 ۔ یُونُس ۔ آیت ۔ 19 ۔ اور تمام لوگ ایک ہی اُمت تھے پھر انہوں نے اختلاف پیدا کر لیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔

سورت ۔ 10 ۔ یُونُس ۔ آیت 84 ۔ اور موسٰی نے کہا ” اے میری قوم ۔ اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مُسلمین ہو”

سورت ۔ 27 ۔ النّمل ۔ آیت ۔ 91 ۔ [اے محمد ان سے کہہ دو] مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حُرمت والا بنایا ہے جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں مسلمین میں سے ہو جاؤں [مُسلِم بن کے رہوں]

سورت ۔ 42 ۔ الشورٰی ۔ آیت ۔ 13 ۔ اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح کو حُکم دیا تھا اور جو [بذریعہ وحی] ہم نے تیری طرف بھیج دیا ہے اور جس کا تاکیدی حُکم ہم نے ابراہیم اور موسٰی اور عیسٰی کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ظُلم جب حد سے گذر جائے

مجھے ایک ایس ایم ایس ملا ہے جو نقل کر رہا ہوں ۔

لال مسجد و جامعہ حفصہ پر حملہ کا نتیجہ ایک سال بعد

اُن کی خوراک بند کر دی گئی تھی ۔ آج پوری قوم آٹے ۔ چاول اور تیل کے بحران میں ہے
اُن کی بجلی بند کر دی گئی تھی ۔ آج پوری قوم بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے
اُن کا پانی بند کر دیا گیا تھا ۔ آج پوری قوم پانی کی کمی کو دیکھ رہی ہے
اُن کو جلا دیا گیا تھا ۔ آج لوگ ایک دوسرے کو جلا رہے ہیں
اُس وقت سب خاموش رہے ۔ آج سب ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں
اُس وقت جو ہیرو تھا ۔ آج وہ زِیرو ہے
یہ وقت ہے توبہ کا ۔ زیادہ استغفار کا

ایسا کیوں ؟

عیسائی راہبہ [Nun] سوائے چہرے کے اپنا سارا جسم کپڑوں میں ڈھانپ کر رکھے تو وہ قابلِ احترام ہے کیونکہ وہ پُجاری ہے
اگر کوئی مسلمان عورت اپنے دین کی پیروی میں اپنے جسم کو کپڑوں سے ڈھانپے تو اُسے مظلوم گردانا جاتا ہے

جب یہودی داڑھی رکھے تو یہ اُس کا مذہبی فریضہ کہا جاتا ہے
مسلمان داڑھی رکھے تو اُسے انتہاء پسند کہا جاتا ہے

اگر عیسائی یا یہودی عورت بچوں اور دوسرے گھریلو کاموں کی دیکھ بھال کیلئے گھر پر رہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کو بنانے کیلئے قربانی دے رہی ہے
جب مسلمان عورت اسی مقصد کیلئے گھر پر رہے تو اُسے قید سے آزاد کرانے کی اشتہار بازی کی جاتی ہے

اگر عیسائی یا یہودی کسی کو قتل کر دے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور اس کا عیسائیت یا یہودیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اگر مسلمان کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو موردِ الزام اس کا دین اسلام ٹھہرایا جاتا ہے