Category Archives: روز و شب

لڑکی۔کوڑے؟

بہت پرانی بات ہے کچھ بزرگ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے ۔ ایک بزرگ جو برمحل اور سچی بات کہنے میں معروف تھے بولے “ہماری قوم کا تو یہ حال ہے کہ کسی نے کہا کُتا کان لے گیا اور کُتے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا ۔ دیکھا ہی نہیں کہ ہے یا نہیں”۔ اللہ اُنہیں جنت نصیب کرے مجھے اُن کی یہ بات کل پھر یاد آئی جب ساری دنیا کُتے کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور کوئی سوچ نہیں رہا تھا کہ کُتا کان لے بھی گیا ہے یا نہیں ۔

کل کے غُوغا کا شاید فائدہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود کاروائی کا اعلان کر دیا ۔ ویسے اگر ثمر من اللہ واقعی ثمر مِن اللہ ہوتی تو متعلقہ وڈیو چیف جسٹس کے نام اپنی درخواست کے ساتھ لگا کر عدالتِ عُظمٰی کے رجسٹرار کے پاس جمع کروا دیتیں پھر بھی یہی کچھ ہوتا اور اُن کی مشہوری بھی ہو جاتی البتہ ایک غیر مُلکی طاقت کا ایجنڈا ادھورا رہ جاتا ۔ اب کچھ سُنیئے اُن کی زبانی جن کے ذرائع ابلاغ نے اس وڈیو اُچھالا

مقامی افراد کے مطابق 17 سالہ اس شادی شدہ خاتون کو بدکاری کے الزام میں کوڑوں کی سزا دی گئی اور یہ واقعہ 6 ماہ پہلے کبل کے علاقے کالا کلے میں پیش آیا۔ ویڈیو میں خاتون کو تین افراد نے پکڑ رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق سر کی طرف بیٹھا ہوا شخص خاتون کا چھوٹا بھائی ہے

صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگرچہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم اس پرانے واقعے کی ویڈیو کا منظر عام پر آنا ایک این جی او کی رُکن ثمر من اللہ کی سازش ہے، جس کا بھائی مشرف کابینہ میں وزیر تھا اور یہ لوگ امن معاہدہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ہمیں سزا کے طریقہ کار پر اختلاف ہے تاہم یہ سزا ہمارے کارکنوں نے ناجائز تعلقات کا اقرار جرم کرنے کے بعد مجرموں کو دی

مولانا صوفی محمد کے ترجمان امیر عزت خان نے کہا ہے کہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو سوات امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایک منظم مہم کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کو طالبان کیساتھ منسوب کرنا درست نہیں، یہ ویڈیو سوات کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات کے عوام معاشرے میں نفرت پھیلانے والے عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ 6 اپریل کو لارجر بنچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے اس سلسلے میں 8 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیدیا جسکی سربراہی وہ خود کرینگے۔ چیف جسٹس نے 6 اپریل کو سرحد کے آئی جی، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو بھی عدالت میں طلب کیا ہے اور سیکرٹری داخلہ کو متاثرہ لڑکی کو بھی 6 اپریل کو پیش کرنیکی ہدایت کی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے جیو ٹی وی کو حکم دیا ہے کہ وہ واقعہ کی سی ڈی پیش کریں جبکہ جیو اور دیگر ٹی وی چینلز مشترکہ طور پر ویڈیو مواد ترتیب دیکر سماعت کے دوران عدالت میں دکھانے کا انتظام کریں

میرا اس بلاگ سے مُختلِف انگريزی میں بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے
Reality is Often Bitter – – http://iabhopal.wordpress.com – – حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے

ثقافت ۔ ایک پنپتا خطرناک پہلُو

میں بہت پہلے بھی ثقافت پر لکھ چکا ہوں ۔ اب کئی ہفتوں سے اس کی مزید تشریح کرنے کا ارادا کئے ہوئے ہوں لیکن دوسرے زیادہ اہم موضوع ہی ہوش سنبھانے نہیں دیتے ۔ اس وقت میں وہ سب کچھ چھوڑ کر ایک ایسے عمل کی بات کرنا چاہتا ہوں جو ہماری ثقافت کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ وہ ہے ای میل اور ایس ایم ایس جو بغیر سوچے سمجھے سب کو بھیجے جا رہے ہیں ۔ یہ ایک خطرناک رحجان ہے ۔ بھیجنے والوں نے شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ اس طرح کی ای میل اور ایس ایم ایس کی اکثریت کا مقصد قوم میں بے چینی اور بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے خاص کر فی زمانہ جب اسلام پر نصارٰی ۔ یہود اور ہنود چہار جہتی یلغار کر رہے ہیں

کل میں نے ٹی وی پر سوات میں امن کی کوشش سے متعلق ایک مذاکرہ دیکھا جس میں انسانی حقوق کی علمبردار ایک خاتون نے کہا “یہ معاہدہ یا بات چیت قاتلوں سے کیوں کی جارہی ہے ۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے کہ اُن سب کو کُچل دیا جائے ۔ ایک 17 سالہ لڑکی پر ظُلم کیا گیا ۔ یہ کونسا اسلام ہے ؟” 17 سالہ لڑکی والا فقرہ وہ بار بار دُہرا رہی تھیں ۔ اُس خاتون نے مزید کہا ” لاَ إِكْرَاہَ فِي الدِّينِ ۔ دین میں کوئی زبر دستی نہیں”۔ اس کے بعد جو کچھ اُس خاتون نے کہا اس سے ثابت ہو گیا تھا کہ ایک آیت کے اس چھوٹے سے حصے کے علاوہ وہ نہیں جانتی کہ قرآن شریف میں کیا لکھا ہے ۔ قرآنی حوالہ دینے والی اس خاتون کا حُلیہ قرآن کی تعلیم کی صریح نفی کر رہا تھا

میں آج متذکرہ محترمہ کے استدلال سے پیدا ہونے والے خدشہ کے متعلق لکھنے کا سوچ رہا تھا کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس آیا اور گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ میرے موبائل فون نے ٹُوں ٹُوں کیا ۔ دیکھا تو ایک نوجوان کا پیغام تھا جس کا خُلاصہ ہے “دیکھو طالبان کس طرح 17 سالہ لڑکی کو مار رہے ہیں ۔ کیا اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے ؟ طالبان سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام ہے ؟ ان کو جواب دینا ہو گا کہ نامحرم لڑکی کو ہاتھ کیوں لگایا اور سزا کیوں دی ؟ قرآن میں لکھا ہے کہ کسی کو اس کے عمل کی سزا اللہ دینے والا ہے ۔ کسی پر زبردستی سے اسلام نہیں پھیلایا جا سکتا ۔ یہ ایس ایم ایس سب کو بھیجیں”

لاَ إِكْرَاہَ فِي الدِّينِ ۔ یہ الفاظ ہوا میں نہیں کہے گئے بلکہ یہ سورت ۔ 2 ۔ البقرہ کی آیت 256 کے شروع کے تین الفاظ ہیں ۔ ان الفاظ کا اس پوری آیت اور اس سے پہلے اور اس سے بعد والی آیات کے ساتھ تعلق ہے ۔ جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

آیت 255 ۔ اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ زندہ ہمیشہ رہنے والا۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند ۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے ۔ جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ۔ ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے
آیت 256 ۔ دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
آیت 257 ۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

معاملہ 17 سالہ لڑکی کا ۔ مجھے اِدھر اُدھر سے جو معلوم ہوا ہے یہ لڑکی کسی نامحرم کے ساتھ بھاگ گئی تھی جس کی سزا اس کے قبیلے والوں نے کوڑوں کی صورت میں اُسے دی ۔ صوفی محمد کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس واقعہ کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور انہیں بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے ۔ اصل صورتِ حال تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ فوری طور پر قرآن و سُنت سے مندرجہ ذیل حوالے پیش کر سکا ہوں

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء آیت 15 اور 16 ۔” تُمہاری عورتوں میں سے جو بَدکاری کی مُرتکِب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو اُنہیں گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ اُنہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ اور تم میں سے جو اِس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو ۔ پھر اگر وہ توبہ کر یں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔

سورت ۔ 24 ۔ النُّور ۔ آیت 2 ۔ ” زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملہ میں تمہیں دامنگیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے” ۔

سورت ۔ 24 ۔ النُّور۔ آیات 5 تا 9 ۔ “اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں اُن کو اَسی کوڑے مارو اور اُن کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اِصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور غفور و رحیم ہے ۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت [یہ ہے کہ وہ] چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ [اپنے اِلزام میں] سچّا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو ۔ اور عورت سے سزا اسطرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص [اپنے اِلزام میں] جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ [اپنے اِلزام میں] سچّا ہو “۔

سورت ۔ 24 ۔ النُّور آیت 33 ۔ “اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دُنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری [زناکاری کا پیشہ] پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جَبَر کے بعد اللہ اُن کے لئے غفور و رحیم ہے” ۔

تمام کُتب حدیث میں موجود ہے کہ ایک لڑکا ایک شخص کے ہاں اُجرت پر کام کرتا تھا اور اُس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کا مُرتکِب ہو گیا ۔ لڑکے کے باپ نے سو بکریاں اور ایک لونڈی دیکر اُس شخص کو راضی کر لیا ۔ مگر جب یہ مقدمہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھی کو واپس” اور پھر آپ نے زانی اور زانیہ دونوں پر حد جاری فرما دی

ترمذی اور ابو داؤد کی روائت ہے کہ ایک عورت اندھیرے میں نماز کیلئے نکلی ۔ راستہ میں ایک شخص نے اسکو گرا لیااور زبردستی اس کی عصمت دری کی ۔ اس کے شور مچانے پر لوگ آ گئے اور زانی پکڑا گیا ۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے مرد کو رجم کرایا اور عورت کو چھوڑ دیا
صحیح بُخاری میں ہے ” خلیفہ [حضرت عمر رَضِی اللہ عَنْہُ] کے ایک غلام نے ایک لونڈی سے زبردستی بدکاری کی تو خلیفہ نے غلام کو کوڑے مارے لیکن لونڈی پر حَد نہ لگائی ۔ مزید حوالوں اور تفصیل کیلئے دیکھئے میری 30 مارچ 2006ء کی تحریر ” جُرم و سزا

قصور مُلّا کا یا ؟ ؟ ؟

دوسروں کو اپنی غلطی کا بھی قصوروار ٹھہرانا میرے ہموطنوں کی خاصی بڑی تعداد کی صفتِ خاص بن چکی ہے اور اس کا سب سے زیادہ ہدف مُلّا کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔ قصور کا تعیّن کرنے کیلئے پہلے مُلّا کی اقسام بیان کرنا ضروری ہیں

پہلی قسم جو ہر جگہ دستیاب ہے یعنی جس نے ڈاڑھی رکھ لی ۔ لوگ ان کو مُلّا کہنا شروع کر دیتے ہیں ۔ پھر ایک دن اُس کی دنیاوی ہوّس ظاہر ہو جاتی ہے یا جب اُس کا کوئی عمل پسند نہ آئے تو اُس کی عیب جوئی شروع کر دی جاتی ہے اور نام مُلّا کا بدنام ہوتا ہے

دوسری قسم میں وہ لوگ ہیں جنہیں لوگ اُن کے علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی غرض یا دین سے لاپرواہی کی وجہ سے کسی مسجد کا امام بنا دیتے ہیں اور ان کے عمل پر آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں تا وقتیکہ وہ کوئی بڑی مُخربِ اخلاق حرکت کر بیٹھے یا اُن کی مرضی کے خلاف کوئی عمل کر بیٹھے

تیسری قسم دین کا عِلم رکھنے والے ہیں جن میں سے کچھ امام مسجد بھی ہیں ۔ ان میں دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل لوگ بھی شامل ہیں اور ان کی اکثریت مختلف پیشوں سے منسلک ہے یعنی ان میں سرکاری یا نجی اداروں کے ملازم بھی ہیں ۔ تاجر یا دکاندار بھی اور کچھ تدریس کا پیشہ اختیار کرتے ہیں

درحقیقت متذکرہ بالا تیسری قسم میں سے بھی آخرالذکر اصل مُلّا ہیں ۔ تیسری قسم میں سب کو مُلا کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ متذکرہ بالا پہلی دو قسمیں مُلا نہیں ہیں بلکہ وہ مُلا کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ ان کو مُلّا نہیں کہنا چاہیئے اور نہ اُن کو امام مسجد جیسا پاک رُتبہ دینا چاہیئے

امام مسجد کا قصور ؟

امام مسجد جس سے عام لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سے کردار کی توقع رکھنا شروع کر دیتے ہیں اُس بیچارے کی معاشی اور معاشرتی بشمول عِلمی محرومیوں پر لاکھوں میں ایک ہو گا جو نظر ڈالتا ہو گا ۔ میں مسجد مجددیہ ۔ پارک روڈ ۔ ایف 2/8 ۔ اسلام آباد میں نماز پڑھتا ہوں ۔ یہ مسجد علاقہ کے لوگوں نے تعمیر کروائی ہوئی ہے اور وہی اس کا خرچ چلاتے ہیں لیکن امام مسجد اور مؤذن کا تقرر وزارتِ مذہبی امور کرتی ہے ۔ 1998ء سے اس کے امام محمد فاروق صاحب ہیں ۔ انہوں نے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد دس سالہ قرآن ۔ حدیث ۔ فقہ اور تاریخِ اسلام کا حکومت کا منظور شُدہ کورس کیا ہوا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد کے چند مُفتی صاحبان میں سے ہیں ۔ اسی مسجد میں 1998ء تک عبدالعزیز صاحب امام تھے جنہیں والد کے قتل کے بعد مرکزی جامعہ مسجد المعروف لال مسجد کا امام بنا دیا گیا اور لال مسجد پر فوجی کاروائی کے دوران سے اب تک قید میں ہیں ۔ عبدالعزیز صاحب فاروق صاحب سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ اور علم والے ہیں

بہت کم مساجد ہیں جن میں پڑھے لکھے امام ہیں ۔ اس کی وجہ ان کا بہت ہی کم مشاہرہ اور واجب احترام کا نہ ہونا ہے ۔ اسی لئے دینی مدارس سے فارغ التحصیل لوگ مسجد کا امام بننا پسند نہیں کرتے اور دوسرے ذرائع معاش اختیار کرتے ہیں ۔ مُفتی محمد فاروق صاحب کو محکمہ کی طرف تنخواہ کا سکیل 10 دیا گیا ہوا ہے اور کُل 6000 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے ۔ گھر کا خرچ وہ تعلیمی اداروں میں پڑھا کر پورا کرتے ہیں ۔ آٹھویں جماعت کے بعد کسی بھی دوسرے مضمون میں 8 سال پڑھائی کرنے والے کیلئے حکومت نے تنخواہ کا سکیل 17 رکھا ہوا ہے ۔ اسلام آباد میں سب سے بڑی سرکاری مسجد ہے مرکزی جامعہ مسجد المعروف لال مسجد جس کے امام کو تنخواہ کا سکیل 12 دیا گیا ہے ۔ سرکاری ریکارڈ میں امام کیلئے خطیب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے

یہ تو اسلام آباد کا حال ہے باقی جگہوں پر حالات دِگرگوں ہیں ۔ اور جس کو دیکھو اُس نے اپنی بندوق کا منہ مُلّا کی طرف کیا ہوتا ہے اور معاشرے کی ہر بُرائی کسی نہ کسی طرح مُلّا کے سر تھوپ دی جاتی ہے ۔ حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قصور وار مُلّا نہیں بلکہ مّلّا کو قصور وار ٹھہرانے والے ہیں

کیا مُلا لوگوں سے زبردستی غلط کام کرواتے ہیں ؟
کیا مسجد میں جانے والوں نے کبھی سوچا کہ جس کے پیچھے وہ نماز پڑھتے ہیں اُس نے دین کی تعلیم حاصل بھی کی ہے یا نہیں ؟

جب مُلا کسی کی دلپسند بات نہ کہے تو مُلا کو بُرا سمجھا جاتا ہے ویسے چاہےمُلا غلط بات یا کام کرتا رہے کسی کو پروہ نہیں ہوتی ۔ لمحہ بھر غور کرنے پر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ قصور مقتدیوں کا ہے امام کا نہیں ۔ ایسے امام کو پسند کیا جاتا ہے جو ہر جائز و ناجائز بات کی اگر حمائت نہیں تو اس پر چشم پوشی کرے

عوامی طرزِ عمل ہر شعبہ میں واضح ہے ۔ سیاسی رہنما چُنتے ہوئے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے ۔ پھر مُلا ہو یا سیاسی رہنما اُن کو کوسنا بھی اپنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔ اُن کو منتخب کرتے ہوئے اُن کی اچھی بُری عادات کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا ؟ مُلا ہو یا سیاسی رہنما قوم کی اکثریت کو درست انتخاب میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا فرض صرف دوسروں کو بُرا کہنا ہے ۔ اسی لئے انتخابات کے دن چھٹی ہونے کے باوجود اکثر لوگ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ۔ ایسے لوگوں نے کبھی سوچا کہ اُن کی اس حرکت کی وجہ سے غلط لوگ مُنتخب ہوتے ہیں جن کو وہ بعد میں کوستے رہتے ہیں ؟

میرا پاکستان والے صاحب کی خدمت میں التماس

میں صرف ایک مقصد کی خاطر لکھتا ہوں کہ جو چاہے میرے پچاس ساٹھ سال کے مطالعہ ۔ محنت اور تگ و دو سے حاصل کئے ہوئے تجربات سے فائدہ حاصل کر لے ۔ بالخصوص میری کوشش ہوتی ہے کہ دین سے بے گانگت کے نتیجہ سے جو عام ابہام پایا جاتا ہے اُسے دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ذاتیات اور ذاتی رائے میں مُخِل ہونا میرا وطیرہ نہیں ہے ۔ میری زندگی میں جب کبھی بحث کے دوران بات انفرادیت یا ذاتیات پر پہنچی میں نے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔ میں کسی ایسی محفل میں بھی جانا پسند نہیں کرتا جہاں انفرادی یا ذاتی باتیں ہوتی ہوں

میرا پاکستان والے صاحب نے براہِ راست مجھے مخاطب کر کے میرے استدلال کو زمینی حقائق کے برعکس اور تخیّل قرار دیا ہے اور غلافے الفاظ میں جذباتی بھی کہہ دیا ۔ اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھانا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اور نہ ہی میں نے ہر چیز کی وضاحت اپنے ذمہ لے رکھی ہے ۔ میں صرف اتنا ہی کہوں گا جو ایک مستند حقیقت بھی ہے کہ

جہاں چاہ ۔ وہاں راہ

قرآن اور ہم

سیّدہ شگفتہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ “قرآن پاک رٹ لینا ۔ آسان ۔ ۔ سمجھ لینا ۔ مشکل ۔ ۔ سمجھ کر عمل کرنا ۔ مشکل ترین ہے ۔ مزید لکھتی ہیں “حفاظِ قرآن کا تصور صرف مدارس سے ہی کیوں مختص ہے ۔ تمام معاشرے سے کیوں نہیں ؟”

سیّدہ شگفتہ صاحبہ کا سوال دعوت ہے کہ ہر مسلمان ہموطن اپنے آپ سے یہ سوال پوچھے
موضوع بھی بہت اہم چھیڑا ہے ۔ تبصرہ طویل ہو جانے اور اس سوچ کے تحت کہ عام قارئین مستفید ہو سکیں میں نے اس کا جواب اپنے بلاگ کے سرِ ورق رقم کرنا مناسب خیال کیا ۔ میرا تجربہ ہے کہ قرآن شریف رَٹ لینے سے سمجھ کر پڑھنا آسان ہے ۔ اگر سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو عمل کرنا بہت مشکل نہیں رہتا ۔ صرف اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتنا دنیاوی قوانین پر عمل کرنا ۔ اصل مشکل صرف رویّئے اور نیّت کی ہے ۔ اگر اَن پڑھ خاندان کی ایک عورت جو ایک دن کیلئے بھی کسی مدرسہ یا سکول نہیں گئی محنت مزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ دو سال کے اندر پہلے ناظرہ قرآن شریف پڑھ لیتی ہے اور پھر قرآن ترجمہ کے ساتھ ۔ تو پڑھے لکھے خاندانوں کے لوگ جو سکولوں اور کالجوں کے بھاری اخراجات ادا کر کے سائنس ۔ انگریزی ۔ سیاست ۔ وکالت وغیرہ پڑھتے ہیں وہ قرآن شریف کو سمجھ کر کیوں نہیں پڑھ سکتے ؟ جس عورت کا میں نے ذکر کیا ہے ہماری ملازمہ ہے جو اپنی شادی کے کئی سال بعد ہمارے پاس آئی اور سات آٹھ سال قبل میری بیوی سے پہلے ناظرہ اور پھر ترجمہ کے ساتھ قرآن شریف پڑھا ۔ پھر کچھ سال اپنے خاوند کے خاندانی معاملات کے سلسلہ میں اِدھر اُدھر رہی پھر میاں بیوی واپس ہمارے پاس آ گئے ہوئے ہیں

قرآن شریف کا نزول بطور آئینِ حیات ہوا تھا تاکہ اس پر عمل کیا جائے اور کسی چیز پر عمل پیرا ہونے کیلئے اسے سمجھ کر پڑھنا لازم ہوتا ہے ۔ قرآن شریف کی عزت یہ نہیں ہے کہ اسے مخمل کا غلاف چڑھا کر اُونچی جگہ پر رکھ دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے

سورت ۔ 73 ۔ المزمل ۔ آیت ۔ 4 ۔ ۔ ۔ ۔ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۔ ترجمہ ۔ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

اللہ نے قرآن شریف ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا حُکم دیا ہے ۔ پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ ٹھہر ٹھہر کر وہ چیز پڑھی جاتی ہے جسے ذہن نشین کرنا ہو ۔ ایک غلط نظریہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ کچھ نہ کر سکیں وہ قرآن شریف کو طوطے کی طرح رَٹ لیں ۔ کچھ لوگوں نے قرآن شریف کو کسی کے مرنے پر فرفر پڑھنے کیلئے مُختص کر دیا ہے ۔ قرآن شریف کی تلاوت کارِ ثواب ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ طوطے کی طرح بغیر سمجھے پڑھا جائے ۔ شاید قرآن شریف کو بغیر سمجھے پڑھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ہماری نماز ہمیں بُرائی سے نہیں روک پاتی

سورت ۔ 29 ۔ العنکبوت ۔ آیت ۔ 45 ۔ ۔ کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو ۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر بڑا [اچھا کام] ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے جانتا ہے

حفظ کرنا بھی اچھی بات ہے ۔ اگر حفاظ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے خلاف ہر دور میں کی گئی سازشوں کے باوجود اس کا مکمل درست حالت میں ہم تک پہنچنا بہت مُشکل تھا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے قرآن شریف کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا شاید اسی لئے ہزاروں مسلمانوں کو توفیق دی کہ اسے حفظ کر لیں ورنہ کوئی اور کتاب دنیا میں ایسی نہیں جسے کسی انسان نے ہُوبہُو یاد کیا ہو ۔ میرے ایک دوست ایم ایس سی انجنرنگ ہیں اور حافظ قرآن ہیں ۔ اُن کے بیٹے اچھے سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں اور انہوں نے قرآن شریف بھی حفظ کیا ہوا ہے ۔ اللہ کے فضل سے وہ دین پر عمل پیرا ہیں اور دنیا کا کام بھی احسن طریقہ سے چلا رہے ہیں

مدرسوں کے متعلق بھی عام لوگوں کی معلومات بہت کم ہیں ۔ جو باقاعدہ مدرسے ہیں وہاں قرآن شریف کا رَٹا نہیں لگوایا جاتا البتہ کچھ طالب علم قرآن شریف حفظ کر لیتے ہیں ۔ ان مدرسوں میں قرآن ۔ حدیث ۔ اصولِ فقہ ۔ فقہ ۔ اُردو ۔ عربی ۔ انگریزی ۔ ریاضی ۔ سب کچھ پڑھایا جاتا ہے اور اب تو کئی مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے ۔ عام لوگ مدرسہ شاید اُسے سمجھتے ہیں جو محلے کی مسجد کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بچے اُونچی آواز میں قرآن شریف کے الفاظ رَٹ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ دراصل مدرسے نہیں ہوتے ۔ دیگر بہت سی مساجد کے امام جو اس محلہ کے لوگوں نے مقرر کر رکھے ہیں یا جو لوگ ان مساجد میں بچوں کو پڑھاتے ہیں وہ دینی لحاظ سے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تو وہ بچوں کو سوائے اس کے اور کیا پڑھائیں گے ؟

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آیات 8 تا 13 ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ مؤمن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ ان کے دِلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ۔ خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر یہ جانتے نہیں ہیں

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 120 ۔ یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو ۔ صاف کہدو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگر اُس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

اندرونِ خانہ

میں کسی شخص کے گھر کے اندر کی بات نہیں کرنے جا رہا بلکہ یہ ایک محاورہ ہے ۔ “اندروں خانہ” کی بجائے کچھ لوگ “اندر کھاتے” کہتے ہیں ۔ پنجابی میں “وِچلی گَل” یعنی اندر کی بات کہا جاتا ہے

پس منظر
لانگ کی مارچ 12 مارچ 2009ء کو ابتداء ہوئی تو پنجاب کی سلمان تاثیری حکومت نے تمام پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاز کرنے پر ہی اکتفا نہ کیا تھا بلکہ مختلف قسم کی دیواریں کھڑی کر کے پنجاب کے تمام شہریوں کو اپنے اپنے شہروں میں محسور کر دیا پھر 14 مارچ کو شہر لاہور میں رائیونڈ ۔ ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ بالخصوص جی پی اور چوک کی طرف جانے والے تمام راستوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے احتجاج کیلئے اکٹھے ہونے کو اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل بنا دیا ۔ لاہور کا رہائشی ہوتے ہوئے سلمان تاثیر یہ بھول گئے کہ لاہوریئے جو کام کرنے پر تُل جائیں وہ جان پر کھیل کے کر ڈالتے ہیں

معرکہ جی پی او
جو کچھ 15 مارچ کو لاہور جی پی او چوک پر ہوا مستقبل میں لوگ اسے یاد رکھیں گے ۔ وہاں موجود مظاہرین سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھنے والوں نے فیصلہ کیا کہ 15 مارچ کو صبح سویرے دو دو تین تین کر کے مختلف راستوں سے جی پی او چوک پہنچا جائے گا ۔ ان میں بھاری تعداد اسلام جمیعت طلباء کی تھی ۔ باقی زیادہ تحریکِ انصاف کے تھے ۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے جوان بھی تھے ۔ ابھی کوئی 150 کے قریب لوگ جی پی اور چوک پہنچے تھے کہ پولیس نے اُن پر اشک آور گیس کے گولے بے تحاشہ پھینکنے شروع کر دیئے ۔ اس اچانگ یلغار سے پریشان ہو کر مظاہرین بھاگے تو وہاں موجود ایک ستر بہتر سالہ شخص نے بآواز بلند کہا “کہاں بھاگ رہے ہو ۔ یہ وقت مُلک کیلئے قربان ہونے کا ہے ۔ ڈٹ جاؤ”۔ اُس بزرگ کی آواز نے سب بھاگتے پاؤں روک دیئے اور مظاہرین اب کی بار نہائت جوش سے پولیس پر پل پڑے کسی نے پتھر مارے کسی نے اشک آور گیس کا شیل واپس پولیس پر پھینکا ۔ اسلامی جمیعت طلباء کے لڑکے جی پی اور کی چھت پر بھی موجود تھے اُن کی سنگ باری اور اشک آور گولوں کی واپسی نے پولیس کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ آدھے گھنٹے کے اندر مسلم لیگ ن ۔ تحریک انصاف ۔ جماعت اسلامی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی کافی تعداد وہاں پہنچ گئی ۔ یہ مظاہرین گروہوں میں بٹ کر چاروں طرف پھیل گئے اور پولیس پر سامنے کے علاوہ پیچھے سے بھی سنگ باری شروع ہو گئی ۔ یہ جنگ مغرب کے بعد تک جاری رہی ۔ بالآخر پولیس پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی

معرکہ ایوانِ صدر
صدر صاحب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے خائف تھے ۔ فاروق حمید نائیک نے آئین کی غلط تشریح کر کے حوصلہ افزائی کی اور صدر سے غلط حرکات کرواتے رہے ۔ باقی کسر رحمان ملک اور سلمان تاثیر نے پوری کی بمِصداق “چڑھ جا بچہ سولی رام بھلی کرے گا”۔ اس بنا پر کہ شریف برادران کے سیاست سے باہر ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی پی پی پی کی گود میں آ گریں گے ان کو نااہل قرار دلوا کر غیر آئینی طور پر پنجاب اسملبی کا اجلاس نہ ہونے دیا پھر جو چھوٹا موٹا احتجاج ہو گا اُسے سنبھال لیا جائے گا ۔ جب 25 فروری کو ناگہانی احتجاج ہوا اور 15 مارچ کو جمِ غفیر کی صورت اختیار کر گیا تو رحمان ملک کی ایف آئی اے نے صدر صاحب کو بتایا کہ صرف چند ہزار لوگ ہیں جن سے آسانی سے نبٹا جا سکتا ہے ۔ صورتِ حال کی خبروں نے باہر کی دنیا پر اتنا اثر کیا کہ امریکہ اور برطانیہ سے ٹیلیفون آنے شروع ہو گئے اور ان کے سفیروں کے علاوہ سعودی عرب کے سفیر بھی متحرک ہو گئے ۔ وزیر اعظم جو دو دن قبل تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے فوج کے سربراہ کی حوصلہ افزائی سے 15 مارچ کو پھر کو متحرک ہو گئے ۔ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ نواز شریف لانگ مارچ سے علیحدہ ہو جائے لیکن نوازشریف ججوں کی بحالی کے بغیر لانگ مارچ سے علیحدہ ہونے پر راضی نہ ہوا ۔ ان مذاکرات کے دوران صدر کو بین الاقوامی طور پر شریف برادران کی نااہلی ختم کرنے کا وعدہ بھی کرنا پڑا ۔ رحمان ملک کی ایف آئی اے نے صدر کو بتایا تھا کہ صرف چند ہزار لوگ احتجاج کر رہے ہی جن پر بآسانی قابو پایا جا سکتا ہے ۔ یہی بات جب صدر نے فوج کے سربراہ اور وزیرِ اعظم کے سامنے کہی تو دوسرے خفیہ اداروں سے صورتِ حال کا پتہ کیا گیا جنہوں نے لانگ مارچ میں شامل ہونے والوں کی تعداد لاکھ سے اوپر بتائی اور کہا کہ جوں جوں وقت گذر رہا ہے تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور راولپنڈی پہنچنے سے بہت پہلے ہی قافلہ قابو سے باہر ہو جائے گا ۔ جب اس پر بھی صدر صاحب راضی نہ ہوئے تو بات دھمکی تک پہنچی جو پورے زور دار طریقہ سے اُس نے دی جس کے پاس ہمارے مُلک کی اصل صاقت ہے ۔ اپنی کرسی جاتے اور جیل کی کوٹھری سامنے آتے دیکھ کر صدر صاحب کی “نہ” بمُشکل “ہاں” میں تبدیل ہوئی اور وزیرِ اعظم صاحب اعلان کا مسؤدہ تیار کرنے میں مصروف ہو گئے جو بار بار درست کیا گیا یہاں تک کہ تقریر ریکارڈ ہو جانے کے بعد دوبارا ریکارڈ کی گئی

معرکہ ڈوگر جو کامیاب نہ ہو سکا
جج صاحبان کی بحالی کا نوٹیفیکیشن ہوتے ہی صدر صاحب کے کاسہ لیسوں [نام نہاد مولوی اقبال حیدر اور شاہد اورکزئی] نے ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد کو روکنے کیلئے عدالتِ عظمٰی میں دو درخواستیں دائر کر دیں جن میں فوری حُکمِ امتناعی جاری کرنے کی بھی درخواست کی تھی ۔ یہ دونوں درخواستیں عدالتِ عُظمٰی کے اس بینچ کے سامنے بروز جمعہ بتاریخ 20 مارچ 2009ء فیصلہ کیلئے رکھی گئیں جس کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر تھے ۔ 20 مارچ کو اس بینچ کے سامنے 6 یا 7 کیس آنا تھے ۔ احمد رضا قصوری نے حکومتی سفارش سے اپنی 6 یا 7 درخواستیں ان میں شامل کروا دیں ۔ سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اپنی 24 درخواستیں بھی اسی بینچ کے سامنے 20 مارچ کیلئے لگوا دیں یعنی کل 36 درخواستیں ہو گئیں جن میں 30 سے زائد کے متعلق خدشہ تھا کہ عبدالحمید ڈوگر کے جانے کے بعد ان پر دائر کرنے والوں کی پسند کا فیصلہ نہیں آئے گا ۔ عدالت بیٹھی تو بینچ میں شامل ایک بہت سینیئر جج نے بنچ کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر سے کہا “ایک دن میں تین چار درخواستیں درست طریقہ سے نمٹائی جا سکتی ہیں اور یہ ؟” عبدالحمید ڈوگر جنہوں نے عدالتِ عظمٰی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے جمعرات 19 مارچ کو 19 درخواستیں نمٹائیں تھیں کہنے لگے انہیں آج نمٹانا ہے ۔ اس پر وہ جج یہ کہہ کر اُٹھ گئے کہ “میں تو یہ نہیں کر سکتا ۔ آپ میری جگہ کسی اور کو بُلا لیجئے”۔ باقی تمام جج اپنی اپنی عدالتوں میں مصروف تھے اسلئے تمام 36 درخواستیں التوء میں چلی گئیں اور عبدالحمید ڈوگر صاحب نے ایک دن قبل ہی آخری ملاقاتیں شروع کر دیں