Category Archives: روز و شب

روپیہ سب کچھ ہے

“بس جی ۔ روپیہ ہونا چاہیئے”
“روپے کے بغیر زندگی مشکل ہے”
“روپے کو روپیہ کھینچتا ہے”
“روپیہ ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں” ۔ وغیرہ وغیرہ

یہ سب کج فہمی یا کم عقلی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو مالدار ہمیشہ مالدار اور بے مایہ ہمیشہ بے مایہ رہتا

حقیقت يہ ہے کہ طاقت روپیہ نہیں ہے بلکہ اصل طاقت انسان کے اندر ہوتی ہے

روپے سے بہترین بستر تو خریدا جا سکتا ہے مگر نیند نہیں
روپے سے کسی کی زبان تو خریدی جا سکتی ہے مگر دل نہیں
روپے سے جسم تو خریدا جا سکتا ہے مگر محبت نہیں
روپے سے ایئر کنڈیشنر تو خریدا جا سکتا ہے مگر دل کی ٹھنڈک نہیں
روپے سے مقویات تو خریدی جا سکتی ہیں مگر صحت نہیں
ساری دنیا کی دولت لگا کر بھی دل کا اطمینان نہیں خریدا جا سکتا

روپے کا ایک کارِ منصبی ایسا ہے جو انسان کو بہت کچھ دے جاتا ہے
وہ ہے خود غرضی سے باہر نکل کر روپے کا ضروتمندوں پر استعمال

اللہ ہمیں اپنی دولت کے درست استعمال کی توفیق عطا فرمائے

پھر نتھی کر دیا گیا

میں راشد کامران صاحب کے بلاگ پر کسی اور کام سے گیا تھا اور وہاں اپنے آپ کو بندھا ہوا پایا
سوال ۔ 1 ۔ انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
جواب ۔ کچھ مقرر نہیں ۔ صفر سے لے کر 8 گھنٹے تک لیکن لگاتار نہیں اور اس کا انحصار مہیاء وقت اور ضرورت پر ہے ۔ مطلب ہے کہ کوئی اور کام ہو تو پھر کمپیوٹر میرے انتظار میں چلتا رہتا ہے ۔ اسی لئے کئی حضرات کو شکائت ہے کہ میں ان کی بات کا جواب نہیں دیتا

سوال ۔2 ۔ انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
جواب ۔ وہی چالِ بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ۔ بقول کچھ جوانوں کے میں جدید دنیا میں نہ آ سکا ہوں نہ اسے سمجھ سکا ہوں ۔ یہ الگ بات ہے کہ جب میں نے کپيوٹر پر کام شروع کیا اور میراتھان قسم کے پروگرام ڈویلوپ کئے [1985ء تا 1988ء] اس وقت وہ لوگ بوتل میں دودھ پیتے ہوں گے یا پرائمری سکول میں پڑھتے ہوں گے ۔ جو جوان امریکہ کینڈا یا یورپ میں ہیں ان کی بات نہیں کر رہا کیونکہ وہ مجھے عرصہ سے جانتے ہیں ۔ خیال رہے کہ سب سے پہلے اسلام آباد میں انٹر نیٹ شروع ہوا تھا اور میں پہلے چند دنوں میں یہ سہولت حاصل کرنے والوں میں تھا ۔ مین ان سب سے پہلے چند پاکستانیوں میں تھا جنہوں نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعہ صوتی پیغام بھیجے
فائدے یہ ہوئے
میرا بڑا بیٹا زکریا اعلٰی تعلیم کیلئے ستمبر 1997ء میں امریکا چلا گیا ۔ تو ای میل کے ذریعہ جلد خیر خیریت معلوم ہو جاتے تھی ۔ لیکن تسلی نہ ہوتی تھی ۔ اسلئے ٹیلیفون کرتے تھے اور فی کال 700 سے 1050 روپے ادا کرتے تھے جس میں کبھی کبھار آٹھ نو منٹ بات ہوتی تھی عام طور پر آپریٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے تین منٹ بات ہوتی تھی ۔ اب تو مسئلہ نہیں رہا ۔ کمپیوٹر پر ٹیلیفون سے بہتر آواز میں بات ہوتی ہے پہلے خط لکھ کر ڈاکخانے کے ذریعہ بھیجتے اور پھر ہفتوں انتظار کرتے جواب کا ۔ اب فٹا فٹ ہو جاتا ہے ۔
پہلے کتابیں ڈھونے اور صفحے اُلٹنے میں کافی وقت ضائع ہوتا تھا ۔ پھر ہاتھ سے لکھنا پڑتا تھا ۔ اب چند منٹوں میں سب کچھ ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ عِلم حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ بلاگر اور قاری مجھ سے پریشان رہتے ہیں

سوال ۔ 3 ۔ کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
جواب ۔ میری سماجی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ سماجی سرگرمیاں جاری ہیں البتہ چند سالوں سے باہر کا ماحول بدلنے کی وجہ سے کم ہو گئی ہوئی ہیں ۔ میں بم دھماکوں کی نہیں قوم کے افراد کے رویے کی بات کر رہا ہوں جو میرے جیسے انسان کو پسند نہیں کرتے
گھر میں صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ میری بیگم مجھے اور عزیز و اقارب کو کہتی رہتی ہیں ” ہر وقت کمپیوٹر پر بیٹھے رہتے ہیں “۔ میں کہتا ہوں ” مجھ سے قسم کرا لو جو میں کبھی کمپیوٹر پر بیٹھا ہوں ”

سوال ۔ 4 ۔ اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
جواب ۔ میں نے اپنی زندگی میں صرف ایک علت پالی تھی ” چائے ” اور اُس سے میں نے اُس وقت پیچھا چھُڑا لیا جب میں گیارہویں جماعت میں پڑھتا تھا

سوال ۔ 5 ۔ کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
جواب ۔ کھیلیں تو میری انٹر نیٹ پاکستان میں آنے سے بہت پہلے بند ہو گئی تھیں کیونکہ کھیلنے کی بجائے کھلانے کے دن شروع ہو گئے تھے

پاکستان امریکی گیم پلان کے شکنجے میں

ڈاکٹر شیریں مزاری کا یہ مضمون اُن گھمبیر حقائق سے پردہ اُٹھاتا ہے جو عوام کے عِلم میں نہیں ہیں اور جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکام کس قدر قوم دُشمن واقع ہوئے ہیں

پاکستان کے اندر اور اردگرد جس تواتر کے ساتھ واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں جب تک ہم اس وسیع تر منظر کو دیکھیں گے نہیں ۔ ہم اس کا شکار ہوسکتے ہیں اور امریکہ جیسے ہمارے بدخواہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے اس ملک کیخلاف اپنا ایجنڈا پورا کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ اس امریکی ایجنڈے کی جڑیں مشرف کی جانب سے امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف جنگ کو انتہائی جلد بازی میں گلے لگانے سے جا ملتی ہیں

اُس وقت جس بات کا ادراک نہیں کیاگیا وہ یہ تھی کہ نائن الیون کے نتیجے میں امریکہ نفسیاتی ٹراما میں جاچکا تھا جس نے عالم اسلام کے بارے میں امریکہ کے پہلے سے شُبہات پر مبنی امریکی نقطہ نظر کو مزید تقویت دی تھی۔ بلاشبہ بعض نرم خُو مسلم رہنمائوں کو قدرے پس و پیش کے بعد اتحادی بننا پڑا لیکن قوم پرست مسلم رہنماؤں اور ملکوں کے ساتھ تعلقات کو امریکیوں نے کبھی اطمینان بخش محسوس نہیں کیا۔ اگر یہ قومیں فوجی اور اقتصادی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تو امریکہ نے ان کے ساتھ تعلقات میں کہیں زیادہ بے اطمینانی محسوس کی

اس حوالے سے مہاتیر کا ملائیشیا انقلابی ایران اور ایٹمی پاکستان یقینی طور پر کسی ایک یا دوسری طرح امریکی راستے میں رکاوٹ بنے
رہے ہیں لہٰذا جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو اگرچہ اس واقعہ میں سعودی شہری ملوث تھے لیکن پاکستان کو مرکزی طور پر نشانہ بنایا گیا اور امریکہ نے دیکھا کہ پاکستان کو توڑنے اور بالآخر اس کے ایٹمی اثاثوں پر تنقید کرنے کا سنہری موقع ہے ۔ مشرف نے ابتداء میں ہی جس طرح بڑھ چڑھ کر امریکہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا وہ خود بُش انتظامیہ کیلئے حیران کن بات تھی تاہم انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ حربی سطح پر مطالبات ماننے کے حوالے سے مشرف کی بعض حدود ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج عموماً پاکستان کیلئے امریکی ایجنڈے کے راستے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے لہٰذا پاک فوج اور اسکے انٹیلی جنس ادارے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں خصوصاً ایک بار تو سی آئی اے دو سال قبل آئی ایس آئی سے اس بات پر الجھ پڑی کہ فاٹا میں کس کو نشانہ بنایا جائے

آخر پاکستان کیلئے بدشگونی پر مبنی امریکی ایجنڈا ہے کیا؟ امریکی فوج کے جریدے میں ’’بلڈ بارڈوز‘‘ کے عنوان سے چند سال قبل ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں اس کا وسیع خاکہ پیش کیاگیا تھا اس میں شامل اہم عناصر کی اب اس طرح نشاندہی کی جاسکتی ہے

1۔ پاکستان اور اسکے ریاستی اداروں کی امریکی خواہشات کے مطابق تشکیل نو کی جائے
2 ۔ ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول حاصل کیاجائے تا وقتیکہ یہ یقینی طور پر باہرنہ لے جائے جا سکیں
3 ۔ پاکستان کو خطے میں بھارتی بالادستی تسلیم کرنے اور چین کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنر شپ ختم کرنے پر مجبور کیا جائے

اس ایجنڈے پر عملدرآمد کی حکمت عملی کیا ہے؟
یہ کہ پاکستان میں اسقدر تشدد اور افراتفری پھیلائی جائے کہ پاکستان میں آنے اور اس کے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول کا جواز پیدا ہوسکے ۔ ملک کیلئے ایک نئے ٹیسٹ ماڈل کی تشکیل کی جائے جس میں اسے بھارتی بالادستی کے تحت لانا بھی شامل ہے ۔ اس امریکی ایجنڈے پر کس طرح عملدرآمد کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے جنگ کا مرکز افغانستان سے پاکستان منتقل کیاجائے گا ۔ یہ مختلف دلچسپ حربوں کے ذریعے بالآخر مکمل کرلیا گیا ہے ۔ اس کا آغاز تورا بورا پربمباری کے دوران القاعدہ اور طالبان کو بچ نکلنے کا راستہ دے کر کیا گیا اس کے بعد پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنے کیلئے ڈرون حملے شروع کئے گئے ۔ ان حملوں کے باعث فاٹا کی انتہائی محب وطن آبادی بتدریج سٹیٹ کیخلاف ہوتی گئی خصوصی طور پر ایسا اس وقت ہوا جب امریکہ نے دباؤ ڈال کر فوج کو اس علاقے میں جانے پر مجبور کیا ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کو افغانستان میں آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ۔ اس طرح افغانستان سے دہشت گردوں کیلئے بلوچستان فاٹا اور صوبہ سرحد میں سرمائے اور ہتھیاروں کی آمد شروع ہوگئی

مزید برآں اپنے پُرتشدد ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ایک نئی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نام سے وجود میں آئی جسے واضح طور پر سرحد پار سے بڑی تعداد میں ہتھیار فراہم کئے گئے اوران میں سے بعض امریکی ساختہ تھے ۔ اس دوران امریکہ پاکستان میں اپنی خفیہ موجودگی میں بتدریج اضافہ کرتارہا جس کا آغاز اس نے تربیلامیں نام نہاد ٹرینرز اور پرائیویٹ امریکی سکیورٹی ایجنسیوں سے کیا جو عراق جیسے علاقوں میں امریکی حکومت کیلئے کرائے کے فوجیوں کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں

بلوچستان میں بھی امریکی موجودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے خصوصاً جبکہ امریکہ اس صوبے کے ذریعے ایران کیخلاف اپنے خفیہ آپریشنز پر عملدرآمد کرنا چاہتا ہے جبکہ مشرف نے بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اڈے امریکہ کے حوالے کردیئے تھے ۔ ان میں بغداد میں ایئربیس بھی شامل ہے جو خاران سے 78 کلو میٹر کے علاقے میں ہے اسے شَمسی نہیں شِمسی ایئربیس کہا جاتا ہے اور بدوالبندین کے قریب ایرانی سرحد پر واقع ہے جہاں سے ڈرون پروازیں کر رہے ہیں یہ واحد ہوائی اڈہ ہے جو سول ایوی ایشن کے زیرکنٹرول فہرست میں شامل نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ امریکہ سفارتی اور سیاسی سطح پر ” ڈو مور” کی گردان جاری رکھے ہوئے ہے اور فوج کی ساکھ کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف لڑنے کے اسکے عزم کے حوالے سے نقصان پہنچا رہا ہے۔ آئی ایس آئی کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کیلئے چنا گیا ہے جبکہ امریکی میڈیا کے ذریعے ایٹمی اثاثوں کو وقتاً فوقتاً نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ افغانستان میں امریکہ کو جس قدر ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے کہ کسی قدر وہ اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے سر تھونپنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ لوگ یہ سوچنے لگیں کہ یہ وجہ تھی جس نے امریکہ کو یہ جنگ پاکستان منتقل کرنے پر مجبور کردیا ہے

مشرف امریکہ اتحاد جاری رہتا لیکن انصاف اور آزادی کیلئے پاکستانی عوام کی خواہش نے مشرف کی جانب سے عدلیہ کا ہاتھ مروڑنے پر جوڈیشل تحریک کو متحرک کیا لیکن قوم ایک بار پھر کسی تبدیلی سے محروم رہی کیونکہ امریکہ نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ این آر او کے ذریعے اپنا ایک نیا پارٹنر تلاش کرلیا ۔ زرداری کی صورت میں انہیں ایک زیادہ تعاون کرنے والا رہنما مل گیا جس کے پاس جمہوری سند بھی ہے ۔ اگر مشرف نے امریکہ کو کھُلی رسائی دینے کا آغاز کیا تھا تو دوسری طرف زرداری حکومت تمام حدود کو پار کر گئی ہے

اب امریکی حکمت عملی پر عملدرآمد کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جو یہ ہے کہ انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے مسلح تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپوں کے ذریعے پاکستانی شہروں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ کرکے پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کیا جائے جبکہ کیری لوگر بل میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ فوج کو پہلے سوات اوراب جنوبی وزیرستان میں آپریشنوں میں الجھا دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ہمسایہ ملکوں سے الگ تھلک کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس مقصد کیلئے پاکستانی بلوچوں سے ملحقہ ایرانی صوبے تفتان میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملے کرائے گئے تاکہ ایران پاکستان تعلقات تباہ کئے جائیں ۔ چین کے بعد ایران پاکستان کا واحد ہمسایہ دوست ہے

پاکستان میں امریکہ کی پوشیدہ موجودگی اب ایک جال کی شکل اختیار کر گئی ہے جو جنوب میں سندھ اور بلوچستان اور جنوب مغرب میں پنجاب سے اسلام آباد اور پشاور تک پھیلا ہوا ہے ۔ اب امریکہ کے خفیہ مسلح لوگ امریکی میرینز کے ساتھ مل کر پاکستانیوں اور ان کے ایٹمی اثاثوں کو گھیرے میں لے رہے ہیں۔ کیری لوگر ایکٹ اس بات کو محض رسمی طور پر تسلیم کرنا ہے جو عملی طور پر پہلے ہی وقوع پذیر ہو چکی ہے یعنی امریکی حُکم کے سامنے سر تسلیم خم کرکے اب امریکی ایجنڈے کے آخری مرحلے پر عملدرآمد ہونا ہے لیکن یہ بہت مشکل ہوگا ۔ اس مرحلے میں کوئٹہ جنوبی پنجاب اور مریدکے کو ہدف بنانے کی دھمکیوں سے ملک کو خانہ جنگی جیسی صورتحال میں دھکیلنا ہے

پہلے فوج پر سوات میں آپریشن کیلئے دبائو ڈالا گیا اور اب فوج جنوبی وزیرستان میں آپریشن کر رہی ہے جبکہ نئے اقدام کیلئے فوج نے جنوبی پنجاب کی جانب پہلے ہی پیشقدمی شروع کردی ہے ۔ مقصود فوج کو پھیلا کر اور سول، ملٹری اختلافات پیدا کرکے ملک کومکمل طور پر غیر مستحکم کرنا ہے ۔ جب ملک میں مکمل افراتفری پھیل جائے گی تو امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر دبائو ڈالے گا کہ اسے پاکستان کے ایٹمی اثاثے کنٹرول میں لینے کی اجازت دی جائے جسے شائستہ زبان میں ” بین الاقوامی کنٹرول‘‘ میں دینا کہا جاتا ہے لیکن اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدارکی راہداریوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے روشنی کو دیکھنا شروع کردیا ہے جبکہ اس مہلک امریکی ایجنڈے کیخلاف پاکستانی عوام بھی بیدار ہوگئے ہیں جب تک ہم امریکہ کی اس پوری گیم پلان کو نہیں دیکھیں گے اور تمام نقطوں کونہیں ملائیں گے ہمارے اس تباہ کن منصوبے کا شکار بننے کا سلسلہ جاری رہے گا

ڈاکٹر شیریں مزاری جو سابق سربراہ ۔ انسٹیٹیوٹ کا ڈیفَینس اینڈ سٹریٹیجِک پلاننگ ۔ قائد اعظم يونیورسٹی ہیں اپنے مضمون کی ماہر ترین پاکستانی سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کا یہ مضمون جمعہ 23 اکتوبر 2009ء کو نوائے وقت میں شائع ہوا

احسان تیرا ہو گا

احسان تیرا ہو گا مجھ پر
دِل چاہتا ہے جو کہنے دے
اپنے دیس سے محبت ہے مجھ کو
مجھے اس کی چھاؤں میں رہنے دے

صورت حال کچھ یوں بن گئی ہے کہ اپنے ہی وطن میں ہمارا رہنا بھی لوگوں کو بھاری محسوس ہونے لگا ہے ۔ خود کو اس مُلک کا مالک سمجھنے والے ہمیں دھتکارنے لگے ہیں [یعنی اُن لوگوں کو جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنا مال و متاع گنوایا اور اپنے عزیزوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا] مگر وہ نہیں جانتے کہ اب بھی ہمارا جذبہ مرا نہیں ہے گو جسم کمزور ہو گئے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جیت جاں نثاروں کی ہوتی ہے مالداروں کی نہیں ۔ ہم سے اپنے بھائی بہن اپنے بچے بلکتے نہیں دیکھے جاتے ۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم آج بھی اپنا سب کچھ اس وطن کی ناموس پر قربان کرنے کو تيار ہیں

نثار میں تیری گلیوں پر اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

ایک طرف میرے وطن کے دیرینہ دُشمنوں کی چالیں زوروں پر ہیں اور دوسری طرف ملک کے اندر بیٹھے حقوق اور ترقی کے نام نہاد ٹھیکیدار اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر تُلے ہیں ۔ تیسری طرف دیکھیں تو دُشمن کے پروردہ کرائے کے قاتل میرے وطن کی زمین میرے ہی بھائي بہنوں اور بچوں کے خون سے رنگ رہے ہیں اور اس میں کامیابی کا سہرا میرے ہی وطن کی کالی بھیڑوں کے سر ہے ۔ چوتھی طرف دیکھیں تو جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو اپنی تجوریاں بھرنے سے فرصت نہیں

اُٹھ اے پاکستانی ۔ اپنی نیند اور نشے سے کہ دُشمن ہے چال قیامت کی چل گیا اور تو نجانے کونسا نشہ پی کر مدہوش پڑا ہے ۔ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا ۔ تیرا نام اس مُلک سے ہے اور اسی مُلک کے ساتھ تُو یا تیرا نام زندہ رہ سکتا ہے ۔ سُنا نہیں کہ اپنی گلی میں کُتا بھی شیر ہوتا ہے ۔ تُو تَو انسان ہے ۔ اشرف المخلوقات ۔ پر تیرے کرتوت کیا ہیں؟ بھائی کی بات تجھ سے برداشت نہیں ہوتی ۔ اُس کا منہ نوچنے کو پھرتا ہے اور دُشمن تُجھے چمک دھمک دکھا کر تیرے اُوپر سے گذرنے کو ہے اور تیرے کپڑے اُتارنے اور تجھے ایک وقت کی روٹی کا محتاج بنانے کی تدبیر کر رہا ہے

کب ہوش میں آئے گا تُو جب ہوش میں آنا بیکار ہو گا ؟

درُست کہ چاروں طرف دہشتگردی کے واقعات اور غیریقینی صورتِ حال پریشان کُن ہے ۔ لیکن اس سب سے تقریر سے نہیں تدبیر اور عمل سے جان چھڑائی جا سکتی ہے ۔کچھ لوگ شور مچاتے ہیں اور کچھ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے موجودہ دہشتگردی اور پریشانی اُس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جو میرے جیسوں نے اور ہمارے بزرگوں نے دیکھی تھی ۔ میں مختصر طور پر صرف اپنی حالت بیان کرتا ہوں ۔ پاکستان بنا تو میری عمر 10 سال تھی ۔ میری دو بہنیں مجھ سے 3 اور 5 سال بڑی تھیں ۔ جب بھارت میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوئے تو لاشیں گرنے لگیں اور جوان عورتیں اور نوجوان لڑکیاں اغواء ہونے لگیں ۔ کسی کو کچھ اندازہ نہ تھا کہ کب اور کس جگہ بلوائی حملہ کریں گے اور ہمارا کیا حشر کریں گے ۔ اشیاء خوردنی کم تھیں ۔ گھر سے باہر نکلنا محال تھا ۔کئی کئی دن فاقے کئے اور کچھ دن ایسے بھی تھے کہ پینے کو پانی بھی نہ ملا ۔ نہ دن کو چین تھا نہ رات کو آرام ۔ یہی کچھ کم نہ تھا کہ ایک ماہ بعد میں میری دونوں بہنیں اور تین نابالغ ساتھی [میرے والد کی چچازاد بہن اور چچازاد بھائی کی بیٹی اور بیٹا] اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئے ۔ ستمبر سے دسمبر 1947ء کے تین ماہ اور بھی زیادہ بھیانک تھے ۔ سردی تھی اور رات کو ہم چھ لوگ ایک لحاف [رضائی] میں ایک 5 فٹ لمبے 4 فٹ چوڑے نمدے پر سمٹے رہتے ۔ سونا کس نے تھا ۔ رات کے وقت بلوائیوں کے جَتھے ست سِری اکال ۔ جئے مہا بھارت اور مُسلوں کا خون بہائیں گے کے نعرے لگاتے کہیں قریب ہی سے گذرتے تھے ۔ اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ تھا ۔ یہ اللہ سُبحانُہُ تعالٰی کا کرم تھا کہ ہم 18 دسمبر 1947ء کو بخیریت پاکستان آ گئے

وہی اللہ آج بھی ہماری مدد کرے گا ۔ یہ وطن بھی تو اُسی نے دیا ہے ۔ اس کی حفاظت بھی وہ کرے گا لیکن اللہ نے کہہ رکھا ہے

لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی [سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39]

قوم کیلئے لمحہ فکریہ

تحریر ۔ مشتاق احمد قریشی ۔ بشکریہ جنگ
سوچنے سمجھنے کی بات ہے کہ جب کبھی قوم کو کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور قوم اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے لگتی ہے تو قوم کسی نئے حادثے کسی نئی دہشت گردی سے دوچار کردی جاتی ہے۔ کیا صرف اس لئے یہ دہشت گردی ہورہی ہے کہ قوم یکجہت نہ ہوسکے‘ کسی بھی مسئلے پر زبان نہ کھول سکے‘ حکومت اور حکمرانوں کے خلاف اپنے سچے جذبات کا اظہار نہ کرسکے۔ جب جب ملک کسی قسم کے بحران سے دوچار ہوا یا کیا گیا‘ عوام کو دہشت گردی کے ذریعے خوف میں مبتلا کرکے جہاں ان کی توجہ کا مرکز تبدیل کردیا گیا وہیں انہیں ایک ان دیکھے‘ ان چاہے خوف کا بھی شکار کیا جاتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں اور ایسا کیوں کررہے ہیں؟

ذرا سوچئے! جب آٹے اور چینی کا بحران پیدا کیا گیا جس کا مقصد صرف اور صرف ان کی من چاہی قیمتوں کا نفاذ تھا جس میں مل مالکان اور حکمران دونوں کی ملی بھگت تھی اس وقت جب عوام سڑکوں پر نکلنا شروع ہی ہوئے تھے کہ پنجاب میں جہاں حزب اختلاف حکومت کررہی ہے کو بے چین کرنے کے لئے پے درپے دہشت گردی کے واقعات رونما کئے گئے۔ جواب میں عوام خوفزدہ ہوکر خاموش ہوگئے۔

بجلی کا بحران جس پر عوامی ردعمل جگہ جگہ سر ابھار رہا تھا وہ بھی اسی طرح نمٹایا گیا۔ اس کے پس پشت بھی بجلی مہنگی کرنا اور من چاہے دام وصول کرنا ہی ہے ۔ عوام بے چارے مجبور و بے بس جو ہوئے۔ اب جب کہ قوم کو ایک نیا مسئلہ کیری لوگر بِل (Bill) نہیں بلکہ بُل (Bull) سے واسطہ پڑا ہے اور قوم یک زبان ہوکر واویلا کرنے لگی تو اس بُل کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک بار پھر دہشت گردی کا بازار گرم کردیا گیا۔ اس بار افواج پاکستان کے ہیڈ کوارٹر GHQ کو نشانہ بنا کر انہیں بھی زبان بندی کا پیغام دے دیا گیا ہے کیونکہ وطن عزیز کی تاریخ میں شاید پہلی بار افواج پاکستان کی جانب سے کسی امداد کی کڑی شرائط کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا گیا تھا جو نہ تو حکومت کو اور نہ ہی حکومتی افراد کے سرپرستوں کو پسند آیا۔ عوام بے چارے تو ویسے ہی خوف کے مارے ہوئے ہیں لیکن افواج پاکستان کی جانب سے ردعمل کے اظہار نے انہیں تقویت دی ہی تھی کہ ایک بار پھر دہشت گردی کا بازار گرم کردیا گیا۔

دوسرا مرحلہ جو قوم کو درپیش تھا جس کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم بھی جاری کردیا تھا ‘ این آر او کو قومی اسمبلی سے پاس کرانے کا‘ وہ بھی حکومت نے بصد مجبوری قومی اسمبلی میں پیش تو کردیا لیکن ساتھ ہی کیری لوگر بُل اور این آر او پر کوئی فیصلہ ہونے سے قبل ہی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا تاکہ کورٹ کے حکم پر عملدرآمد بھی ہوجائے اور معاملہ وہیں کا وہیں پڑا رہے۔ کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہ ہو۔ رات گئی بات گئی۔ اس سے پہلے کہ اسمبلی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جائے ملک میں کوئی نیا بحران آسکتا ہے‘ کوئی نیا مسئلہ جنم لے سکتا ہے‘ کوئی دہشت گردی کا بڑاواقعہ رونما ہوسکتا ہے۔ جب ملک کے طول و عرض میں کوئی نئی بے چینی پیدا ہوسکتی ہے اور یوں این آر او ہو یا کیری لوگر بُل ازخود سرد خانے میں پڑے رہیں گے۔

آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔ اس ساری کارروائیوں کے پیچھے امریکہ کی مضبوط منصوبہ بندی موجود ہے۔ ملک کے طول و عرض سے لے کر خود دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سی آئی اے کے لوگ حکومت پاکستان کی بجائے اپنی رٹ قائم کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ بلاروک ٹوک جب چاہتے ہیں‘ جسے چاہتے ہیں اٹھا کر لے جاتے ہیں‘ کوئی پرسان حال نہیں۔ جب سے کیری لوگر بل کا چرچا ہوا ہے اس وقت سے امریکی سی آئی اے بذات خود ناصرف اپنی کارروائیوں میں مصروف ہے بلکہ اپنے بھارتی اور اسرائیلی حلیفوں، مددگاروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر پوری طرح دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا کہ کسی طرح وہ پاکستان کی ایٹمی توانائی کو تہس نہس کردیں۔

پاکستانی افواج کو خارجی جنگ کی جگہ داخلی جنگ میں الجھادیا گیا ہے کیونکہ اس میں بھی امریکہ کا ہی مفاد ہے کہ افواج پاکستان جو اسلحہ استعمال کرے گی اس کا بڑا حصہ امریکی اسلحہ سازوں سے ہی خریدا جاتا ہے کیونکہ پاکستان جو قرضے بھاری سود کے بدلے ان سے لیتا ہے وہ پاکستان کو لوز ڈالروں میں نہیں ملتے بلکہ اس قیمت کا سازوسامان مہیا کیا جاتا ہے یعنی اصل کے ساتھ دہرا منافع بھی ان کو ہی جاتا ہے اور وہ سامان بھی پاکستان کی مرضی و منشا کا نہیں، اپنی پسند کے مطابق سپلائی کرتے ہیں۔ پہلی بار ہے کہ کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کو غیر فوجی امداد سے نوازا جارہا ہے لیکن اس میں بھی ایسی شرائط عائد کی گئیں کہ فوجی قیادت جس پر صحیح بول پڑی اور اپنے تحفظات کا اظہار کرنے پر مجبور ہوگئی۔

امریکی منصوبہ سازوں اور ان کے پاکستان دشمن حلیفوں کے پاکستان پر دو اعتراض ہیں۔ ایک تو پاکستان اسلامی مملکت ہے دوسرا اسلامی ملک ہونے کے باوجود ایٹمی قوت والا ملک بن گیا ہے جو نہ تو بھارت سے برداشت ہورہا ہے اور نہ اسرائیل سے برداشت ہورہا ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا کہ کس طرح جلد از جلد پاکستان، جسے وہ اپنی سازشوں سے پہلے ہی دولخت کرچکے ہیں‘ اب تک کیسے اپنے قدموں پر قائم ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے چکر میں جو اپنے لوگوں پر فوج کشی پر ناصرف مجبور کردیا ہے بلکہ اس کی خواہش ہے ملک میں خانہ جنگی اس قدر بڑھ جائے کہ پاکستان کو توڑنے مروڑنے کی کسی بیرونی قوت کو ضرورت ہی نہ پڑے اور پاکستان کے دائیں بائیں کے پڑوسی بھارت اور افغانستان اطمینان سے محفوظ و مامون رہ سکیں اور وہ جو چاہے اپنی من مانی کارروائیوں سے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجاتے رہیں۔

امریکہ سے ہمارے تعلقات نہ تو دوستانہ ہیں نہ برادرانہ بلکہ خالص کاروباری تعلقات ہیں۔ ہم چاہے انہیں کوئی نام کیوں نہ دیتے رہیں۔ پاکستانی عوام اور تمام اہل سیاست کے لئے یہ بڑا ہی نازک لمحہٴ فکر ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم انگریز کی غلامی سے نکلنے کی سزا کے طور پر امریکہ کے دام غلامی کا شکار بنایا جارہا ہے۔

اگر اب بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو پھر ہمیں کسی شکوے کا بھی موقع نہیں ملے گا کیونکہ امریکی گھیرا جو پہلے بھی تنگ تھا اب مزید تنگ کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ خالص عوامی حکومت کے دورمیں ہورہا ہے۔ عوامی حکمران بہ رضا ورغبت اپنی گردنوں میں امریکی پھندے ڈلوانا اپنے لئے بڑے اعزاز کی بات سمجھ رہے ہیں لیکن جب یہ پھندے سخت ہونا شروع ہوجائیں گے تو پھر کون انہیں بچا سکے گا۔اب بھی وقت ہے گوکہ کمر کمر دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ اگر کوشش کریں تو امریکی دلدل سے نکلا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے حب الوطنی‘ اخلاص اور ہمت و حوصلے کی ضرورت ہے جو فی الحال اہل سیاست چاہے وہ حزب اقتدار کے ہوں یا حزب اختلاف کے ناپید نظر آرہا ہے۔ کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں نظر آرہا جو قوم کی درست رہنمائی پورے خلوص نیت سے کرسکے۔ سب کے سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی‘ پاکستانی قوم کی‘ اس کے قیمتی اثاثوں کی حفاظت فرمائے‘ آمین۔

رنگ رنگیلی دُنیا

رنگ رنگیلی دُنیا میں ہیں رنگ رنگ کے دھوکے
سوچ کے قدم اُٹھانا ۔ بعد میں نہ پچھتانا دل والے

پچھلے سال جب پہلی بار مناواں میں قائم پولیس کے تربیتی مرکز پر حملہ ہوا تو میرا ماتھا ٹھنکا تھا کہ طالبان کا پردہ ہماری آنکھوں کے سامنے لٹکا دیا گیا ہے اور اس پر جو فلم چلائی جاتی ہے ہم اُسے دیکھ کر تالیاں بجا رہے ہیں لیکن پردے کے پیچھے کوئی ہولناک ڈرامہ چل رہا ہے ۔ میں نے اپنے ہموطنوں کی توجہ اس خطرے کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی ۔ بہت کم کو میری بات سمجھ آئی ۔ وجہ واضح تھی کہ جس نے ہاتھی نہ دیکھا ہو وہ سمجھ نہیں سکتا کہ ہاتھی کس بلا کا نام ہے ۔ حیرت یہ ہے کچھ لوگ جو بظاہر پڑھے لکھے اور بڑے ہوشیار تھے نامعلوم کیوں اس طرف نہ صرف طائرانہ نظر ڈالنے سے گریز کرتے رہے بلکہ شدت سے اس خیال کی مخالفت پر اُتر آئے ۔ مدعا بیان کرنے سے قبل میں ماضی کے کچھ واقعات کا مختصر حوالہ دینا چاہتا ہوں

لاہور کے قریب جو بی آر بی نہر ہے اس کی منصوبہ بندی پاکستان بننے سے قبل ہوئی تھی اور اس کی تمام تفصیل بھارت کے پاس موجود تھی ۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں پہلے ہی ہلّے میں بھارت کی فوج اور ٹینک بی آر بی نہر کے کنارے پہنچ گئے تھے وہ ٹینکوں سمیت بی آر بی نہر پار کر کے لاہور پر قبضہ کر سکتے تھے لیکن بی آر بی نہر کو پار کرنے کی جرآت نہ کی اور پاکستانی فوج کو ان کے مقابلہ کیلئے پہنچنے کا وقت مل گیا ۔ ظاہر ہے کہ نہر کی گہرائی کے متعلق وہ شک میں پڑ گئے تھے اور کوئی ان کا شک دور کرنے والا نہ تھا

ستمبر 1965ء کی جنگ جب بھارت نے شروع کی تو بھارتی فوج واہگہ چوکی پر بارڈر ملیشا کے جوانوں کو شہید کرتے ہوئے جلّو سے آگے نکل کر نہ صرف رُک گئی بلکہ کچھ پسپائی اختیار کی اس خیال سے کہ اُن کا کسی مضبوط فوج سے ٹکراؤ نہیں ہوا کہیں پاکستانی فوج نے اُنہیں گھیرے میں لینے کیلئے چال تو نہیں چلی ۔ اگر انہیں کوئی بتا دیتا کہ پاکستانی فوج تو موجود ہی نہیں تو نتیجہ ظاہر ہے کیا ہوتا

کوئی 40 سال پیچھے کی بات ہے کہ میں نے اپنے ایک اسسٹنٹ منیجر جو مینٹننس کا انچارج تھا کو سیکیورٹی کیموفلاج کورس کیلئے بھیجا ۔ واپس آنے پر اس نے مجھے حیرت کے ساتھ بتایا کہ اسے کہا گیا کہ جب آپ کو اپنی فیکٹری نظر آئے تو آپ نے بتانا ہے پھر ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی سے حسن ابدال اور درمیانی علاقہ کے چکر لگوائے گئے ۔ سفر ختم ہو گیا مگر اسے اتنے بڑے رقبہ پر پھیلی ہوئی فیکٹری نظر نہ آئی حالانہ فیکٹری کا “لے آؤٹ” [layout] اس کے دفتر میں دیوار پر لٹکا رہتا تھا ۔ اگر زمین سے کوئی سگنل بھیج دیتا تو وہ فوراً بتا دیتے یہ ہے میری فیکٹری

دسمبر 1971ء کی جنگ کے دوران دن کے وقت بھارتی ہوائی فوج کا ایک سکوارڈن نیچی پرواز کرتا ہوا پاکستان آرڈننس فیکٹری کے کافی بڑے حصے کے اُوپر سے گذرا ۔ اُسی شام بھارتی ٹی وی اور ریڈیو پر اعلان ہوا کہ بھارتی ہوائی فوج نے پاکستان آرڈننس فیکٹری پر بم گرائے ۔ یہ بم پاکستان آرڈننس فیکٹری سے ہی نہیں ٹيکسلا سے بھی راولپنڈی کی طرف مرگلہ کی پہاڑیوں سے کچھ پہلے گرے تھے ۔ اگر زمین سے کوئی سگنل بھیج دیتا تو گئی تھی فیکٹری

دسمبر 1971ء کی جنگ کے دوران رات کے وقت بھارتی ہوائی فوج نے بالائی سندھ میں صادق آباد کے قریب مسافر ٹرین پر حملہ کیا تھا ۔ رات اندھیری تھی اور ٹرین کی بجلیاں بند تھیں ۔ اس میں دو عمل توجہ طلب تھے ۔ ایک ۔ ریلوے حکام کی ہدائت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روہڑی سٹیشن پر ایک ٹرین روکے رکھی گئی اور دوسری ٹرین آنے پر مزید حُکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دونوں ٹرینوں کو جوڑ کر روانہ کیا گیا ۔ اور دوسرا ۔ جس علاقہ میں ٹرین پر حملہ ہوا اُس کے قریب ایک چاردیواری کے اندر سے طاقتور ٹارچ کے ذریعہ اشارے [signal] دیئے گئے جس کے بعد ہوائی جہاز ٹرین کی سیدھ میں آیا اور حملہ کیا ۔ اس چاردیواری میں کچھ سالوں سے ایک شخص رہتا تھا جسے علاقہ کے لوگ سائیں بابا کہتے تھے ۔ گذری شام تک وہ وہیں تھا لیکن اُس رات کے بعد وہ نظر نہیں آیا

ان واقعات کے مختصر بیان سے غرض یہ تھی کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں متعدد دوسرے اہم حملوں کے علاوہ مناواں اور لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر پر دو دو حملے ۔ بیدیاں روڈ پر ايلیٹ فورس کے تربیتی مرکز پر ایک اور جی ایچ کیو پر ایک حملہ ہو چکا ہے ۔ ان سب حملوں کے طریقہ کار سے ایک تو فوجی کمانڈوز جیسی مہارت کا پتہ چلتا ہے ۔ طالبان کا طریقہ کار بالخصوص شہروں میں ایسا ماہرانہ نہیں ہے ۔ دوسرے ۔ یہ کہ ان علاقوں کے اندر کے حالات طالبان کو کیسے معلوم ہو سکتے ہیں ؟ حملہ آوروں کو ایسے اشخاص کا تعاون حاصل تھا جو متعلقہ اداروں کے اندرونی حالات سے واقف ہیں یا تھے ۔ خدشہ ہے کہ بڑی خطرناک کھچڑی پک رہی ہے اور قوم سوئی ہوئی ہے

ایک اور بات جو دماغ کو کُریدے جا رہی ہے ۔ عقیل عُرف ڈاکٹر عثمان تين سال سے زائد قبل فوج سے بھگوڑا [absconder] ہو گیا تھا ۔ پچھلے سال میریئٹ ہوٹل پر حملے کے سلسلہ میں وہ اتفاق سے اکتوبر 2008ء میں گرفتار ہوا ۔ بعد میں اُسے چھوڑ دیا گیا ۔ اگر اس کا تعلق میریئٹ ہوٹل پر حملہ سے نہیں بھی تھا تو اُسے قید میں رکھنے اور تفتیش کرنے کیلئے اُس کا فوج سے بھگوڑا ہونا ہی کافی تھا ۔ اُسے کیوں اور کس کے کہنے پر چھوڑا گیا ؟؟؟ صاف ظاہر ہے کہ کوئی سرکار کا بارسوخ آدمی ہو گا جس کی ایماء پر چھوڑا گیا

اب وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔ ہمیں اپنے دماغ سے غیرملکی چِپ [chip] نکال کر اپنے اصل دماغ سے سوچنا شروع کرنا ہو گا
اگر ہم اپنے آپ کو اور اپنی اگلی نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ابھی سے خود محنت سے کام کرنا ہو گا ۔ اپنے دماغ سے سوچنا ہو گا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا

زرداری افتخار چوہدری اور ڈوگر ۔ ہوشیار کون ؟ آخری قسط

15 فروری 2008ء کو آصف زرداری نے اپنی آئینی پٹیشن سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی جس میں وفاقی حکومت اور نیب سے کہا گیا تھا کہ این آر او کے تحت ان کے خلاف درج تمام کیسز واپس لیے جانے کے احکامات کا فائدہ انہیں دیا جائے۔ 18 فروری کو انتخابات منعقد ہوئے اور27 فروری کو ڈوگر نے تمام ماتحت عدالتوں کو احکامات جاری کیے کہ این آر اوکے تحت انہیں یہ فوائد فراہم کیے جائیں۔ 28 فروری کو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ ہدایت نیب اور وفاقی حکومت کو جاری کردی۔اسی دوران زرداری نے نواز شریف سے کئی ملاقاتیں کیں اور محض پی سی او ججزکو دباؤ میں رکھنے کے لیے9 مارچ 2008ء کو مشہور زمانہ معاہدہٴ مری کیا۔ اس معاہدے کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کو تیس روز میں بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ درحقیقت تیس روزکے اندر بحالی کا مطالبہ قوم سے وعدہ نہیں بلکہ پی سی او ججزکے لیے ایک ڈیڈ لائن تھی

میثاقِ مری ہونے کے چار روز بعد12 مارچ 2008ء کو ایس جی ایس کوٹیکناکیس ختم کردیا گیا۔ یہ وہی کیس تھا جس میں سپریم کورٹ نے 6 اپریل2001ء کو جسٹس ملک قیوم نے آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو پر فرد جرم عائدکی تھی اورکیس دوبارہ سماعت کے لیے احتساب عدالت نمبر 3 راولپنڈی میں چلاگیا تھا۔میثاق مری پر دستخط کے چھ روز بعد 14 مارچ 2008ء کو احتساب عدالت نمبر 3 راولپنڈی نے آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائک اور وکیل استغاثہ دانشور ملک کی رضا مندی سے آصف علی زرداری کو بی ایم ڈبلیوکیس سے بری کردیا

پریزائیڈنگ جج صغیر احمد قادری نے اپنے حکم میں یہ بات زور دے کرکہی کہ چوں کہ یہ کیس این آر او کے دائرہ کار سے باہر ہے اس لیے بری کرنے کا یہ فیصلہ عام قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی کیس ہے جس کی سماعت کے بعد آصف زرداری کے وکیل اعتزاز احسن نے اعتراضات اٹھائے تھے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر مشتمل سپریم کورٹ کی فل بنچ نے آصف زرداری کی ضمانت منظورکی تھی جس کے نتیجے میں ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔ رہائی کے بعد وہ پاکستان سے چلے گئے تھے اور جب وہ واپس لوٹے تو افتخار محمد چوہدری معزول ہوچکے تھے اور اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں نظربند تھے

پی سی او ججز اور ان کے ماتحت ججز کی تعیناتی کے دوران ہی میثاق مری کے چند روز بعد ہی آصف زرداری کے وکیل شہادت اعوان نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائرکی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ آصف زرداری کو جسٹس نظام اور ان کے بیٹے کے دہرے قتل کے مقدمے میں رہا کیا جائے۔24 مارچ 2008ء کو ایک اور پی سی او جج صوفیہ لطیف نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نعمت علی رندھاوا کی رضا مندی سے آصف زرداری کو بری کردیا۔ اس بار بھی اس فیصلے کا تعلق این آر او سے نہیں تھا

8 اپریل2008ء کو میثاق مری میں دی گئی تیس روزہ ڈیڈ لائن سے صرف ایک روز قبل سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور پی سی او جج پیر علی شاہ نے آصف زرداری کو مرتضیٰ بھٹو قتل کیس سے بھی بری کردیا، اس بار بھی اس فیصلے کا این آر او سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
9 اپریل2008ء کو میثاق مری میں دی گئی تیس روزہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد آصف زرداری نے نواز شریف سے معاہدے پر عمل درآمدکے لیے مزید10 روزکا وقت حاصل کیا۔نواز شریف اور ان کے وکلا نے جب اس تاخیرکی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو15 اپریل2008ء کو زرداری کے وکیل یوسف لغاری نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیدر آباد کی عدالت میں ایک درخواست پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے موکل کو مشہور زمانہ عالم بلوچ قتل کیس سے بری کیا جائے۔ درخواست پیش کرنے کے صرف ایک روز بعد 16 اپریل2008ء کو عدالت نے آصف زرداری کو بری کردیا

آصف زرداری نے ججوں کی بحالی کے لیے دس روزکا جو مزید وقت طلب کیا تھا اس کے ختم ہونے کے بعد نواز شریف نے جو اسلام آباد میں انتظار کر رہے تھے، انہوں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے دبئی میں بات چیت کا ایک اور دور مکمل کرلیا۔ اس وقت تک پاکستان میں ہر شخص زرداری کی جانب سے ججوں کی بحالی کے حوالے سے تاخیر کی اصل وجوہات کے حوالے سے کنفیوز تھا۔ دبئی میں کئی طویل اجلاسوں کے بعد جن کی خبریں اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہیں، 9 اور 10 مئی 2008ء کو نواز شریف اور زرداری کے درمیان لندن میں مزید مذاکرات ہوئے۔ اس دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے ہر قسم کی تاویلات کا سلسلہ شروع کردیا تھا، کیوں کہ جو عدلیہ بحال نہیں ہوئی تھی اس کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ آئین میں ترمیم کی جائے تاکہ اس دستاویز (پی سی او) کے قانونی اثر و رسوخ کی راہ ہموارکی جائے جو عوام کے ایک حقیقی خادم کے دستخط کے ساتھ جاری ہوئی تھی

13 مئی2008ء کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور پی سی او جج بن یامین نے آصف زرداری اور برطانیہ میں پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو اس کرمنل کیس سے بری کردیا جس میں ان پر نادر تصاویر‘ نوادرات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کے آٹھ کریٹ کسی بھی قسم کی کسٹمز ڈیوٹی ادا کیے بغیر پی آئی اے کے ذریعے سرے محل اسمگل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور اس حکم کی بنیاد بھی این آر او پر نہیں تھی۔ جہاں تک ملک قیوم کے اٹارنی جنرل کے عہدے پر برقرار رہنے کا تعلق ہے تو اس موقع پر اس بات کا ذکر مناسب لگتا ہے کہ ملزم کے دونوں وکلا اور اٹارنی جنرل کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے تھا۔ ملک قیوم اور ان کے ماتحت ڈپٹی اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے جب اپنے موکل کو تمام درخواستوں میں بری کرنے کا فریضہ انجام دے لیا تو ملک قیوم کو فوری طور پر تبدیل کرکے لطیف کھوسہ کو نیا اٹارنی جنرل مقررکردیا گیا۔ اس وقت تک این آر اوکی بنیاد پر یا غیرمحفوظ اور پریشان پی سی او ججزکے ذریعے جو بھی فوائد حاصل کیے گئے اس کے نتیجے میں آصف زرداری اب تمام کرمنل کیسسز سے آزاد تھے مگر اب بھی ایک مشکل درپیش تھی۔ آصف زرداری کے استاد جنرل مشرف کرسی ٴ صدارت پر براجمان تھے ان کے این آر او اور مدد اور آشیرواد کے بغیر زرداری تمام کرمنل کیسز سے بری نہیں ہوسکتے تھے۔ آخری کیس میں بری ہونے تک آصف زرداری نے مشرف کی مذمت نہیں کی لیکن اب انہیں ایک خالی ایوان صدرکی ضرورت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ7 اگست 2008ء کو آصف زرداری نے نواز شریف کے ساتھ ایک اور معاہدہ کیا کہ اگر نواز شریف ڈکٹیٹرکو ہٹانے میں تعاون کرتے ہیں تو پیپلزپارٹی عدلیہ کو مشرف کے محاسبے کے 72 گھنٹے کے اندر بحال کردے گی۔ نواز شریف ایک بار پھر جال میں پھنس گئے اور اپنے آپ کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ معاہدے پر دستخط ہوگئے مگر 18 اگست 2008ء کے بعد جبکہ جنرل مشرف دونوں فریقوں کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کی وجہ سے زبردست دباؤ میں تھے، انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ زرداری نے اپنے وعدے پورے کرنے سے انحراف کیا اور اس کی بجائے پاکستان کا صدر بننے کی کوششیں شروع کردیں‘ اب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے محسوس کیا کہ انہیں کس طرح استعمال کیا گیا ہے۔ دوسری جانب زرداری نے یہ کہہ کر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کردیا کہ وعدے اور معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہیں۔ اس کے بعدکیا ہوا، اس سے سب واقف ہیں

31 جولائی 2009ء کو اپنے تفیصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان تمام قانونی نکات پر مکمل اور جامع اظہار خیال کیا ہے جو میں نے ریویو پٹیشنز اور اپنے عزیز دوست ایڈووکیٹ ندیم احمدکی جانب سے اٹھائے تھے۔ معزز عدالت نے اس حوالے سے شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ پی سی او ایک غیر اہم اور بے مقصد معاملہ ہے اور اس کے کوئی قانونی اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے اور یہ کہ سپریم کورٹ سمیت کسی بھی ادارے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ 120 دن سے زیادہ کی توسیع کرکے ایک آرڈیننس کو آئین کے آرٹیکل89 کے تحت اسے مستقل حیثیت دے سکے۔ دیگر الفاظ میں سپریم کورٹ کسی قانونی ادرے کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ این آر اوکو 120 دن سے زیادہ مستقل حیثیت دینے کوتیار نہیں، اس کے بعد آئین کے آرٹیکل89 کے تحت اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ آزاد پارلیمنٹ کو یہ قانونی خلا پُرکرنے کا موقع دیاجانا چاہیے۔ انہیں اپنے رہنماؤں کو مقدمات سے بچانے کا انتظام کرنا چاہیے اور اس حوالے سے قوم کو فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے ۔دریں اثناء سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے نتیجے میں خاص طو ر پر پیرا نمبر 179‘ 184‘185‘ 186‘ 187اور 188 کے مطابق این آر اوکو اس کے اجراء کی تاریخ 2 فروری 2008ء کے 120 دن بعدکالعدم سمجھا جانا چاہیے۔ اس تاریخ کے بعدکوئی بھی شخص اس سے فائدہ حاصل نہیں کرسکتا، تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب جب کہ این آر او 2 فروری 2008ء کے بعد موٴثر نہیں رہا تو پاکستان کی تمام عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بری کیے جانے والے تمام مقدمات کا ازسر نو جائزہ لیں، خاص طور پر وہ مقدمات جن کی بنیاد این آر او پر ہے

مندرجہ بالا تمام حقائق حیرت ناک اور افسوسناک ہیں۔ ان کی روشنی میں ہماری قوم اور ملک کے حوالے سے کئی سنگین نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات ہمارے موجودہ جمہوری اداروں کو تلاش کرنے چاہئیں آخر ایک شخص واحد جس کی ترجیحات ڈھکی چھپی نہیں ہیں، آخر وہ پاکستان کی سب سے مقبول رہنما کی شہادت کے دہرے قومی سانحہ سے فائدہ اٹھانے میں کس طرح کامیاب ہوا اور اس نے ججوں پرکس طرح مسلسل دباؤ ڈالے رکھا جب کہ وہ قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست سے کامیاب ہوا تھا۔ اس نے کتنی آسانی سے جنرل مشرف، نام نہاد اسٹیبلشمنٹ، سب سے بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بے وقوف بنایا، ا نہیں اپنے مقاصدکے سامنے جھکنے اور صرف اپنے ذاتی مقاصد اور فوائد کے لیے اندھا دھند اپنی تقلیدکرنے پر مجبورکیا

برناڈ شا نے بادشاہوں کی تقلید کرنے کے حوالے سے وارننگ دی تھی جو آخرکار عدم تحفظ کی وجہ سے نقصان نہیں اٹھاتے اور جو عام طور پر اچھے اوصاف رکھنے والے اور نقصان نہ پہنچانے والے لوگ ہوتے ہیں اور جو ایک ایسی جمہوریت کے خواب دیکھتے رہتے ہیں جن میں معاشرے کو دیگر بااثر افرادکے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ برناڈ شا نے ایسے افراد کو ترغیب دینے والے قرار دیا ہے اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ فاتح ولیم انگلستان میں ایک بے اصول شخص تھا، وہ پورے انگلستان کو ہضم کرنا چاہتا تھا اس نے اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر انگلستان کے عوام کی خواہش کے برخلاف اپنا یہ مقصد حاصل کیا کیوں کہ اس میں وہ تمام صفات موجود تھیں جو ایک شخص کو بے اصول ثابت کرتی ہیں،کیوں کہ اس میں ایک وحشی حکمراں کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ وہ ایک سیاسی جینئس تھا اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی کہ فرانس اور انگلستان میں کوئی کیا کہتا ہے۔ ہم ایسے شخص کوکیا کہہ سکتے ہیں

آصف علی زرداری جن طور طریقوں سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں کہ صرف چھ ماہ کے عرصے میں پاکستان سے باہر مقیم سب سے بڑا ملزم انتخاب لڑتا ہے اور 6 ستمبر 2008ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان کے سب سے باوقار عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صدر پاکستان کی حیثیت سے ان کے انتخاب کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں

تحریر ۔ اکرم شیخ ۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ۔ بشکریہ ۔ جنگ