Category Archives: روز و شب

رُکن اور ستُون

غَلَط العام لکھنے سے چند قاری پریشان ہوتے ہیں اسلئے اس لفظ کا استعمال مناسب نہ سمجھا
ہمارے ملک میں دینی تعلیم تو کیا دنیاوی تعلیم کا بھی مناسب نظام وضع نہیں کیا گیا اسلئے عام طالبِ عِلم کو نصابی علم کی بھی گہرائی میں جانے کا موقع نہیں ملتا کُجا نصاب سے باہر کی باتیں ۔ کہنے کو ہم مسلمان ہیں ۔ مسلمان ہوتا کیا ہے یہ جاننے کا سب کا دعوٰی تو ہے مگر حقیقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے

کوئی ڈھائی دہائیاں پیچھے کی بات ہے کہ مجھے گریجوئیٹ سطح پر اسلامیات پڑھانا پڑھی ۔ ہر نصاب شروع کرتے ہوئے پہلے دن پچھلے نصاب کی مختصر سی دہرائی کی جاتی ہے ۔ میں نے جماعت سے سوال کیا “اسلامی سلطنت کے پانچ ستون کیا ہے ؟” چاروں طرف سنّاٹا تھا ۔ میرے سوال دہرانے پر ایک طالب عِلم نے ڈرتے ڈرتے کہا “کلمہ ۔ نماز ۔ روزہ ۔ زکوٰة۔ حج” ۔

حال تو پورے نظامِ تعلیم کا ہی قابلِ تعریف نہیں ہے لیکن دینی تعلیم کے ساتھ جو لاپرواہی برتی گئی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان اور پانچ ستونوں کو عام طور پر آپس میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے

مُسلمان ہونے کی اوّل شرط ایمان ہے اور ایمان کے پانچ رُکن ہیں
1 ۔ کلمہ [لازم]
2 ۔ نماز [لازم]
3 ۔ روزہ [لازم]
4 ۔ زکوٰة [لازم بشرطیکہ شرائط پوری ہوں]
5 ۔ حج [لازم بشرطیکہ شرائط پوری ہوں]

بات صرف ایمان لے آنے پر ختم نہیں ہو جاتی ۔ یہ تو یوں ہوا کہ ایک مدرسہ [School] یا کُلیہ [college] یا جامعہ [university ] میں داخلہ لینے کیلئے کچھ صلاحیت ضروری ہوتی ہے ۔ ایمان لے آنے پر اُس صلاحیت کی شرط پوری ہو گئی تو اسلام میں داخلہ مل گیا ۔ پڑھے لکھے ہی نہیں بہت سے اَن پڑھ بھی جانتے ہیں کہ تدریس کا ایک نصاب ہوتا ہے جس میں کچھ لازمی اور کچھ اختیاری مضامین ہوتے ہیں جنہیں شعوری طور پر مکمل کرنے کے بعد ہی سند ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ اسی طرح مسلمان ہونے کا نصاب ہے جس کے پانچ لازمی مضامین جن میں کامیابی ضروری ہے ۔ یہی اسلام کے ستون ہیں

1 ۔ ایمان جو بنیاد ہے اور اس کے بغیر باقی سب عمل بیکار ہیں
2 ۔ اخلاق یعنی سلوک یا برتاؤ
3 ۔ عدالت یا انصاف
4 ۔ معیشت
5 ۔ معاشرت

جب تک یہ پانچوں ستون مضبوط بنیادوں [ایمان] پر استوار نہیں ہوں گے مسلمانی کی عمارت لاغر رہے گی اور معمولی سے جھٹکے یا جھونکے سے نیچے آ رہے گی

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے توفیق دی تو اِن شاء اللہ ۔ ان پانچ ستونوں کا مختصر جائزہ جلد لکھوں گا

سوچنے کی بات

محمد خُرم بشیر بھٹی صاحب نے ایک پُرمغز تحریر لکھی ہے جس کا بالخصوص مندرجہ ذیل حصہ دعوتِ فکر دیتا ہے

اب اولاد کی پرورش ایک بائی پراڈکٹ [byproduct] ہے۔ ایک ڈھول جو گلے میں پڑے تو بجانا ہی پڑتا ہے۔ ایک ایسا کام جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ہر کوئی ہر کام کرنا چاہتا ہے اور کوئی بھی اپنا کام نہیں کرنا چاہتا۔ اولاد کی پرورش وقت کا ضیاع ہے، اہلیت کا ضیاع ہے۔ ایک ماں ہونا۔ صرف ماں ہونا تو مانو ایک گالی ہے۔ کہ لوجی تمام عمر کچھ نہیں کیا؟؟ بچے پیدا کرنا بھی کوئی کمال ہے؟؟ سب کرتے ہیں اور پال بھی لیتے ہیں۔انسان کو اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔ رہے بچے تو وہ پہلے تو دس بارہ برس ہونے ہی نہیں چاہئیں کہ یہی وقت ہوتا ہے کیرئیر بنانے کا۔ پھر جب ہو گئے تو کچھ عرصہ آیاؤں کے سپرد، پھر دو برس کے ہوئے تو سکول والوں کے سپرد اور بس۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ پل بھی جائیں گے، پڑھ بھی جائیں گے اور سیکھ بھی جائیں گے جو دنیا کا رواج ہے۔ ویسے بھی یہ سب انہی کے لئے تو ہے۔ ہم نے کونسا ساتھ لے جانا ہے؟ اور ویسے بھی بندہ محتاج نہیں ہوتا جب خود کماتا ہے۔ رُعب رہتا ہے سسرال میں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور جہاں اتنی ساری “میں میں اور صرف میں” ہو وہاں تو کوئی بھی پرخلوص رشتہ پروان نہیں چڑھ سکتا چہ جائکہ ماں ایسا رشتہ جو تمام رشتوں میں سب سے مقدس کہ خالق نے جب مخلوق سے اپنی محبت کی مثا ل دینا چاہی تو ماں کی محبت کو پیمانہ بنایا۔

بات وہیں پر آ جاتی ہے جیسا شاعرِ مشرق اور مفکر علامہ اقبال نے کہا

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر

کرِسمِس کا پیغام

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں
تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا
مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں
انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں
مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں
(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے
تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں
پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی
اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے
اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی
تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے اللہ کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی
پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا
اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی
تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں
بچے نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے
اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰة کا ارشاد فرمایا ہے
اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا
اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے
یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں
اللہ کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
اور بےشک اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

سورت 19 ۔ مریم ۔ آیات 16 تا 36

غَلَط العام

غَلَطُ العام غَلَط ہی ہوتا اور کبھی درُست نہیں ہو سکتا ۔ اسے درست تسلیم کرنا انسان کی کم عِلمی کا نتیجہ ہوتا ہے یا ضد کا ۔ اگر غور کیا جائے تو غلط العام الفاظ یا محاورے مذموم مقاصد کی پیداوار ہوتے ہیں یا معاشرے کی سوچ میں انحطاط آنے سے پھیلتے ہیں

پچھلے دنوں ڈاکٹر منیر عباسی صاحب نے ایک غلط العام کی طرف توجہ دلائی اور پھر شگفتہ صاحبہ نے بھی اس پر لکھا ۔ ہمیں ساتویں یا آٹھویں جماعت [1950ء] میں استاذ نے بتایا تھا جسے لوگوں نے “لکھے موسٰی پڑھے خدا ” بنا لیا ہے دراصل “لکھے مُو سا پڑھے خُود آ ” ہے ۔ کبھی کسی مسلمان نے نہ سوچا کہ اس محاورے کو غلط ادا کرنے کی وجہ سے وہ گُستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں

مُغل حُکمرانوں کے زمانہ میں برِّ صغیر ہند میں صوبیدار ہوا کرتا تھا جیسے آجکل کور کمانڈر ہوتا ہے ۔ صوبیدار کے ماتحت حوالدار ہوتے تھے جیسے آجکل بریگیڈ کمانڈر ہوتے ہیں ۔ انگریزوں نے برِّ صغیر ہند پر قبضہ کے بعد مقامیوں کی تحقیر کی خاطر اپنی فوج کے سب سے نچلے افسر سیکنڈ لیفٹننٹ کے ماتحت صوبیدار کو کر دیا اور اس کے ماتحت حوالداروں کو ۔ یہی نام عہدوں کے اب تک جاری ہیں اور کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی

سلطان ٹیپو بہادر اور غیرتمند محبِ وطن تھے اور اپنے وطن کے دفاع میں لڑتے جان دے دی ۔ اُن کی تحقیر کیلئے انگریزوں نے اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھنا شروع کیا ۔ اُن کی دیکھا دیکھی برِّ صغیر ہند کے لوگوں نے بھی اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد بھی لوگ اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھتے رہے ۔ کسی کو خیال نہ آیا کہ وہ اپنے ایک غیرتمند رہنما کی تحقیر کر رہا ہے

انگریز حکمرانوں نے اور بھی بہت کچھ غلط عام کیا جسے برِ صغیر ہند کے بہت سے باشندوں نے اپنا لیا ۔ یہی نہیں برِّ صغیر ہند کے مسلمانوں نے شادی پر جہیز ۔ مہندی ۔ ناچ گانا اور بارات کے باجے ۔ ڈولی یا پالکی کی رسمیں ہندوؤں سے اپنا لیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان میں مُبتلا ہے ۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ رسوم اسلام کا حصہ بن گئیں ؟ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا

کچھ روز قبل عنیقہ ناز صاحبہ کی ایک تحریر جو ابو شامل صاحب کے بلاگ پر نقل شاہنواز فاروقی کی ایک تحریر کے نتیجہ میں عمل میں آئی اور شاہنواز فاروقی کے استدلال کو غلط ثابت کرنے کیلئے جانفشانی کی گئی ۔ میں نے بھی بچپن [1947ء تا 1953ء] میں کچھ لوگوں کو اپنے بیٹے یا کسی پڑھے لکھے آدمی کیلئے “بابو” کا لفظ استعمال کرتے سُنا تھا ۔ لیکن ہمارے بزرگوں اور اساتذہ نے ہمیں بتایا تھا کہ انگریزوں نے “بابو” کا لفظ برِّ صغیر ہند کے باشندوں کیلئے تحقیر کے طور پر استعمال کیا اور چونکہ حاکم [انگریز] کی نقل کا عام رواج ہو چکا تھا برِّ صغیر ہند کے لوگوں میں بھی مستعمل ہو گیا مگر یہ اچھا لفظ نہیں ہے ۔ البتہ یہ تو سب جانتے ہوں گے کہ سرکاری ملازمین کو بُرے الفاظ میں یاد کرنے کیلئے لوگ اور ذرائع ابلاغ عام طور پر اب بھی بابو کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ چنانچہ بابو کو اچھے معنی کا لفظ قرار دینا غلط العام تو ہو سکتا ہے لیکن درست نہیں ہے

آخر میں ایک ايسا جُملہ جو آج سے پانچ دہائیاں قبل معیوب سمجھا جاتا تھا اور شریف مرد یا لڑکے اسے اپنی زبان سے ادا نہیں کرتے تھے ۔ لاپرواہ لڑکے بھی اسے بڑوں کے سامنے بولنے سے ڈرتے تھے اور لڑکیوں یا خواتین کے سامنے کوئی بولتا نہ تھا ۔ عصرِ حاضر میں زبان زدِ عام ہے ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے مرد عورتیں لڑکے اور لڑکیاں اسے بے دھڑک سب کے سامنے بولتے ہیں ۔ شاید دو سال قبل ایک بلاگر نے یہ محاورہ لکھا تو میں نے اُسے سمجھایا کہ آئيندہ نہ لکھے ۔ اُس کی نوازش اور نیک دلی کہ وہ مان گیا کچھ اور نے بھی آئیندہ نہ بولنے کا اقرار کیا ۔ کسی نے اُس وقت مجھ سے اس کا مطلب پوچھا تھا لیکن میں نے بتانے سے گریز کیا تھا ۔ یہ محاورہ ہے “پنگا لینا ۔ دینا یا کرنا”۔ اب اتنا بتا دیتا ہوں کہ اگر ہاتھ کی چاروں انگلیاں اکٹھی جوڑی جائیں تو اسے پنگا کہتے ہیں ۔ چنانچہ اس محاورے کا مطلب فحش ہے اور کسی شریف آدمی بالخصوص عورت کو اسے دہرانا زیب نہیں دیتا ۔ غلط بات غلط ہی ہوتی ہے چاہے سب اُس کے مرتکب ہوں

جمہوریت ۔ کتابی اورعملی

جدھر جائیں جمہوریت کی صدا لگائی جا رہی ہوتی ہے ۔ زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سب خوابی دنیا میں بس رہے ہیں ۔ ایک محفل میں پڑھے لکھے لوگ بیٹھے تھے اور بحث ہو رہی تھی کہ نظامِ حکومت کونسا اچھا ہے ؟ ایک صاحب بولے اسلامی ۔ اس پر دوسرے صاحب بولے “اسلامی خلافت چار خُلفاء سے آگے نہ جا سکی”۔ آگے چلنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ خلافت کا نظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نافذ کیا ۔ اُن کے وصال کے بعد ابو بکر صدیق ۔ عمر ابن الخطاب ۔ عثمان ابن عفان اور علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم نے بھی مکمل طور پر اسلامی ۔ انسانی اور فلاحی مملکت قائم رکھی ۔ یہ دور آدھی صدی پر محیط تھا ۔ اس کے بعد پانچویں خلیفہ راشد ہیں عمر ابن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ

جب اعتراض کرنے والے صاحب سے پوچھا گیا کہ “کونسا ایسا نظام ہے جو خُلفائے راشدین کے دور سے زیادہ چلا اور اچھا بھی ہے ؟” جواب ملا “جمہوریت”

اول تو جمہوریت کی بھی ابھی تک کوئی انسان دوست عملی مثال سامنے نہیں آئی پھر بھی دیکھتے ہیں کہ جمہوریت عملی طور پر کس مُلک میں ہے ۔ آگے بڑھنے سے پہلے لازم ہے کہ معلوم ہو جمہوریت ہوتی کیا ہے ؟

جمہوریت ہوتی ہے عوام کی حکومت عوام کے نمائندوں کے ذریعے عوام کے لئے

بہت دیانت داری سے بھی ایسی حکومت بنائی جائے تو جو لوگ انتخابی عمل سے گذر کر حکومت کا حصہ بنتے ہیں وہ تمام عوام کے نمائندہ تو کسی صورت میں نہیں ہوتے لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ عوام کی اکثریت کے نمائندہ ہو ۔ اگر ہر حلقہ میں دو سے زیادہ اُمیدوار انتخاب میں حصہ لیں تو جو شخص انتخاب جیتے گا وہ عام طور پر اس حلقے کے عوام کی اقلیت کا نمائندہ ہو گا چنانچہ جمہوریت کیلئے ضروری ہے کہ مُلک میں صرف دو سیاسی جماعتیں ہوں ۔ جن ممالک میں ایسا ہے وہاں جمہوریت چل رہی ہے لیکن پھر بھی غریب اور کمزور کو اس کا حق نہیں ملتا ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ انتخابات میں حصہ لینا غریب آدمی کے بس کی بات نہیں اور عام طور پر شریف آدمی کے بھی بس کی بات نہیں ہوتی

جب حکومت بن جاتی ہے تو اسے عوام کے تمام فیصلے کرنے کا اختیار مل جاتا ہے ۔ پھر عوام پر ٹیکس لگا کر وصول کی گئی دولت دوسرے ممالک پر حملوں میں استعمال کی جاتی ہے اور اپنے اللے تللوں پر بھی جس کا عوام نے اُنہیں حق نہیں دیا ہوتا ۔ یہی جمہوریت کی عملی شکل ہے

انتخابات جیتنے کیلئے دولت کا بے دھڑک استعمال کیا جاتا ہے ۔ کیوں ؟ کیا یہ دولت منافع کے ساتھ واپس وصول نہیں کی جاتی ؟ درست کہ چند جمہوری ممالک میں اپنے اُمیدوار کو جتانے کیلئے چندہ جمع کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ بڑھ چڑھ کر چندہ دیتے ہیں کیا وہ تجارت نہیں کر رہے ہوتے کہ اگر ان کا اُمیدوار جیت گيا تو ان کے کچھ خصوصی کام کروا دے گا ؟ اس طرح غریب اور شریف آدمی کا حق مارا جاتا ہے

امریکہ جو اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر ناقابلِ واپسی امداد دیتا ہے اور اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد منظور نہیں ہونے دیتا ۔ کیا اس کی وجہ یہی نہیں ہے کہ امریکا کا ہر صدر یہودیوں کی دولت کے بل بوتے پر منتخب ہوتا ہے ؟ ایک جان ایف کینڈی تھا جو اُن کے چُنگل میں نہیں آيا تھا تو اُس کا انجام کیا ہوا ؟

حقیقت یہی ہے کہ جمہوریت جس کا نام ہے وہ دولتمند اور طاقتور کے ہاتھ کا کھلونا ہے جس سے جس طرح چاہے وہ کھیلے

دریائے سندھ ۔ تعصب اور حقیقت

میری تحریر “دریائے سندھ ۔ کچھ حقائق” پر ایک دو تبصرہ نگاروں نے تحریر کے مندرجات سے قطع نظر کرتے ہوئے مجھ پر تعصب کا سرنامہ [label] چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مجھے اس غلط کوشش کا رنج نہیں مگر دُکھ اس بات کا ہے کہ ہماری جوان نسل جس نے مستبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنا ہے وہ اپنی تاریخ کے علم اور حقائق کے ادراک سے محروم ہے ۔ میں وہیں جواب لکھ چکا تھا مگر خیال آیا کہ بات تاریخ اور حقائق کی ہے اسلئے سرِ ورق لکھی جائے تاکہ ایک طرف جو قارئين کسی وجہ سے اس بارے میں علم نہیں رکھتے اُن تک بات پہنچے اور دوسری طرف باعِلم لوگوں کی نظر سے یہ تحریر گذرے تو وہ میرے عِلم میں اضافہ کا باعث بنیں

بات پاکستان میں بہنے والے دریاؤں کے پانی کی ہو رہی تھی لیکن سوال پانی کے ذخیروں کا بنا دیا گیا ۔ جب دریاؤں میں پانی ہی نہیں ہو گا تو ذخیرہ کرنے کیلئے جھیل بنا کر کیا کریں گے ؟ جہاں تک پانی کے ذخیروں کی بات ہے پہلا پانی کا ذخیرہ واسک میں ایوب خان کے دور سے قبل بنا دوسرا منگلا میں ایوب خان کے دور میں اور تیسرا تربیلہ میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ۔ پہلے ذخیرہ کی منصوبہ بندی ایوب خان کے دور سے قبل ہوئی تھی دوسرے اور تیسرے ذخیروں کی منصوبہ بندی ایوب خان کے دور میں ہوئی تھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان انجنیئرنگ کانگریس کی مخالفت کے باوجود ذخیرہ کالا باغ کی بجائے تربیلہ میں بنایا جس کے نتیجہ میں دس ارب روپيہ زیادہ بعد کی مرمتوں پر خرچ ہوا ۔ تربیلا کے بعد آج تک کوئی ذخیرہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی

دس بارہ سال قبل تک پاکستان میں موجود پانی کے ذخیرہ کیلئے بنائی گئی یہ تین جھیلیں نہ صرف بھری رہتی تھیں بلکہ فالتو پانی دریاؤں میں چھوڑنا پڑتا تھا ۔ پچھلے کئی سالوں سے یہ حال ہے کہ سال میں دو بار منگلا اور تربیلہ کی جھیلیں تقریباً خالی ہو جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں بجلی کا بحران ملک کو گھیرے ہوئے ہے

کراچی کا کچھ حصہ پاکستان بننے سے قبل بھی سطح سمندر سے نیچا تھا ۔ عبداللہ غازی کے مزار اور بارہ دری سے سمندر کی طرف ایک ڈیڑھ کلو میٹر اندر پتھر کا بند نمعلوم کس زمانہ سے بنا ہوا تھا پھر بھی مد ہوتا تو سمندر کا پانی کسی جگہ سے میٹروپول ہوٹل سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے تک پہنچ جاتا تھا ۔ جب جزر ہوتا تو پانی واپس چلا جاتا جس کی وجہ سے میٹروپول ہوٹل اور کلفٹن کے درمیان کچھ حصہ میں ایک دلدل ہوا کرتی تھی جس میں سے مردہ مچھلیوں کی بدبُو آیا کرتی تھی ۔ بعد میں ایک کافی اُونچا اور پہلے بند سے آگے سمندر کے اندر بند بنا کر زمین کی طرف بھرائی کی گئی ۔ جس جگہ آجکل فن لینڈ ہے یہ سمندر تھا ۔ بند باندھ کر اسے فن لینڈ بنایا گیا

میں سُنی سنائی باتیں نہیں لکھ رہا یہ سب کچھ میں نے خود دیکھا ہوا ہے ۔ نہ کراچی میرے لئے اجنبی ہے اور نہ میں کراچی کیلئے

میری تحریر میں سمندر کی سطح بلند ہونے کا حوالہ بھی تھا جس کا مذاق اُڑانے اور اسے بھی میرے تعصب کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ۔ ایک منٹ بعد کیا ہونے والا ہے صرف اللہ ہی جانتا ہے تو میں کیسے بتا سکتا ہوں ؟ ایسے اندیشے اور پیشگوئیاں سائنسدان کرتے رہتے ہیں اور آج دورِ حاضر کے لوگ من و عن تسلیم کرتے ہیں لیکن میں نے نقل کیا تو تعصب بن گیا

سمندر کا پانی سندھ ڈیلٹا المعروف کیٹی بندر میں داخل ہونے کی بڑی وجہ سطح سمندر کی بلندی ہے اور یہ عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ درست کہ پچھلے پانچ دس سالوں سے سندھ میں بہت کم پانی بہہ رہا ہے اور اس کی وجوہات میں نے متذکرہ بالا تحریر میں لکھی ہیں

تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو کراچی کے علاوہ ہالینڈ کا ساحلی شہر راٹرڈیم بھی سطح سمندر سے نیچے ہے ۔ آج ہالینڈ کے ساحل سمندر پر بنے بند کو ٹوڑ دیا جائے تو راٹرڈیم سمندری پانی میں ڈوب جائے گا ۔ کراچی کے ساحلِ سمندر کے کنارے جو ڈیم بنایا گیا ہے اُسے گرا دیا جائے تو سمندر کا پانی میٹرو پول ہوٹل اور سینٹرل ہوٹل تک پہنچ جائے گا اور دوسری طرف آدھا ڈی ایچ اے سمندری پانی میں ڈوب جائے گا

میں مسلمان ہوں

میں دفتر کے اوقات میں ذاتی کام کرتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں رشوت لیتا یا دیتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں کم تولتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں جھوٹ بولتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں دوسروں کا حق مارتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں دھوکہ دیتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں دوسرے کو ذلیل کر کے خوش ہوتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں چوری کرتا یا ڈاکہ ڈالتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں عورت کی عزت سے کھیلتا ہوں ۔ میں مسلمان ہوں
میں روزے نہیں رکھتا ۔ میں مسلمان ہوں
میں نماز نہیں پڑھتا ۔ میں مسلمان ہوں
میں نے قرآن شریف کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔ میں مسلمان ہوں
میں قرآن شریف میں دیئے گئے مسلمان کے اوصاف نہیں اپنانا چاہتا ۔ میں مسلمان ہوں
وغیرہ وغیرہ
میں مسلمان ہوں ۔ میں سب جانتا ہوں ۔ کسی اور کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مسلمان کیا ہوتا ہے

اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے لیکن اللہ کے احکامات سے لاپرواہی کر کے وہ اپنے مسلمان ہونے کی نفی کرتا ہے ۔ مسلمان صرف زبان سے کہنے کا نہیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنے والے کا نام ہے ۔ علامہ اقبال صاحب نے کہا تھا

زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں