Category Archives: روز و شب

ایک تڑی جوانوں کو

اُردو کیلئے بڑے بڑے کام کرنے والوں کو تڑی [challenge] ہے ۔ گوگل ترجمہ [Google Translate] کی مدد سے 51 زبانوں میں ترجمہ ہو سکتا ہے جن میں ہندی ۔ ملائی ۔ انڈونیشی ۔ وغیرہ زبانیں بھی شامل ہیں مگر اُردو کا کہیں نام نہیں

کوئی جوان ہے جو آگے بڑھے اور اُس صفحہ پر اُردو شامل کرے یا کروائے ؟

میرا کام اطلاع کرنا تھا سو میں نے کر دی ۔ اگر میں خود کر سکتا تو بغیر کسی کو اطلاع کئے کر دیتا

چوتھا ستون ۔ معیشت

رُکن اور ستون “۔ پہلا ستون ” ایمان ” دوسرا “اخلاق” اور تیسرا ” انصاف” کا بیان پہلے ہو چکا ہے

میرے ہموطن مسلمان بھی کہتے پھرتے ہیں کہ مسلمان ترقی نہیں کر سکتے ۔ کیا مسلمانوں کو اللہ کے بتائے ہوئے مندرجہ ذیل معاشی اصولوں نے ترقی سے روک رکھا ہے یا ان اصولوں کے انحراف نے ؟

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 188 ۔ اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوتً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 2 ۔ اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے
سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔آیت 58 ۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو اللہ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک اللہ سنتا اور دیکھتا ہے

سورت ۔ 17 ۔ الاسرآء یا بنی اسرآءیل ۔ آیت 35 ۔ پیمانے سے دو تو پورا بھر کے دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو ۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے

سورت ۔ 25 ۔ الفرقان ۔ آیت 67 ۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل ۔ بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے

سورت ۔ 55 ۔ الرحمٰن ۔ آیت 8 اور 9 ۔ کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو ۔ اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور تول کم مت کرو

سورت ۔ 61 ۔ الصف ۔ آیت 2 اور 3 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت نا پسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں

سورت ۔ 83 ۔ المُطففّین ۔ آیت 1 تا 3 ۔ تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لئے جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں ۔

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ذمہ داری

محمد خُرم بشیر بھٹی صاحب نے امریکی شہر کے کسی ہوٹل میں چھوڑی چوڑیاں مل جانے کا لکھا تو مجھے کچھ گذرے واقعات یاد آئے جن میں سے دو

کسی زمانہ میں اسلام آباد میں اتوار بازار جی ۔ 8 اور جی ۔ 9 کے درمیان لگا کرتا تھا ۔ میں نے ایک خُشک میوہ کی دکان سے کافی خشک میوہ خریدا ۔ اس کو پیسے دے کر چلا آیا ۔ رات کو یاد آیا کہ میں نے تو خشک میوہ خریدا تھا ۔ اگلے اتوار کو میں اس دکان والے کے پاس گیا تو اس نے سب تھیلے ایک بڑے تھیلے میں ڈال کر رکھے ہوئے تھے مجھے دے دیئے

پرانی بات ہے ہمارے ہاں سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک نوجوان مہمان آیا ۔ سلام دعاکے بعد گپ شپ کرتے اچانک اُسے یاد آیا کہ اپنا سامان تو اُس نے ٹیکسی ہی میں چھوڑ دیا ۔ ٹيکسی جا چکی تھی اور اسے نمبر بھی معلوم نہ تھا ۔ چند گھنٹے بعد میں کسی کام سے جا رہا تھا کہ میرے پاس ایک ٹیکسی آ کر رُکی ۔ درمیانی عمر کا ٹیکسی ڈرائیور پوچھنے لگا “میں ایک سواری دوپہر کو اس علاقے میں لایا تھا ۔ بعد میں ایک اور سواری کو بٹھایا تو معلوم ہوا کہ پہلی سواری اپنا سامان چھوڑ گئی ہے ۔ دوسری سواری کو اُتار کر میں واپس آيا اور ایک گھنٹہ سے ان سڑکوں پر چکر لگا رہا ہوں مگر سمجھ میں نہیں آ رہا کہ سواری کہاں اُتاری تھی”

میں اُسے اپنے گھر لے گیا تو اُس نے پہلے ہمارے گھر کو اور پھر مہمان کو پہچان کر سامان دے دیا”۔ ہم نے اُسے انعام دینا چاہا تو نہ لیا اورکہنے لگا “میں ایک گھنٹہ سے انعام کیلئے نہیں پھر رہا تھا”

چوروں کے کپڑے لاٹھیوں کے گز

گزشتہ سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک 38 ہزار 800 افراد کو مہلک اور ممنوعہ ہتھیاروں کے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں کلاشنکوف، ایم پی فائیو، جی تھری، اوزی شامل ہیں۔ زیادہ تر لائسنس وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے امور داخلہ کے براہِ راست احکامات پر جاری ہوئے ہیں۔ یہ لائسنس پولیس کے تصدیق نامے یا لائسنس حاصل کرنے والے افراد کے ماضی کے ریکارڈ کی پڑتال کے بغیر جاری کئے گئے۔ اس کے علاوہ غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے بھی ایک لاکھ لائسنس جاری کئے گئے۔ ان ہتھیاروں میں ریوالور اور پستول شامل ہیں لیکن اسی 21 ماہ کے عرصے کے دوران ان لائسنسز کا اجراء بھی پولیس کے تصدیق نامے کے بغیر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم گیلانی نے ہتھیاروں کے لائسنس کے حوالے سے گزشتہ سال ستمبر میں بے مثال کوٹہ سسٹم متعارف کرایا جس کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ہر رکن ممنوعہ ہتھیاروں کے سالانہ 25 اور غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے ماہانہ 20 لائسنس جاری کرسکے گا۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں ارکان صوبائی اسمبلی کو نوازا اور انہیں سالانہ غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے پانچ لائسنس جاری کرنے کی اجازت دی۔ مارچ 2008ء کے آخری ہفتے سے لے کر جون 2009ء تک وزیراعظم گیلانی نے ممنوعہ ہتھیاروں کے 22 ہزار 541 لائسنس جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے سادہ کاغذ پر احکامات جاری کئے جن پر ارکان قومی اسمبلی یا سینیٹرز نام تحریر کردیتے تھے۔ اپریل 2009ء میں وزیر مملکت برائے امور داخلہ کا عہدہ سنبھالنے کے 2 ماہ کے اندر مسٹر تسنیم احمد قریشی نے ریکارڈ تعداد میں غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے 5 ہزار 986 لائسنس جاری کئے۔ ان میں 100 لائسنس ایسے بھی ہیں جو امریکی سفارتخانے کی جانب سے کنٹریکٹ پر سیکورٹی کیلئے مقرر کی گئی انٹر رسک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کو جاری کئے گئے تھے۔

وزارت داخلہ کی تحقیقاتی دستاویز میں اسلحہ لائسنسوں کے اجراء میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف ہو اہے۔ رپورٹ کے مطابق ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس 17اپریل سے 26جون2009تک جاری کئے گئے،15وفاقی وزراء نے بے نام درخواستوں اور قواعد کی خلاف ورزی کر کے لائنس حاصل کئے۔ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس لینے والوں میں سینیٹرز، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی شامل ہیں،وزیر مملکت تسنیم قریشی نے 143لائسنس خود کو ہی جاری کر دیئے،خورشید شاہ، احمد مختار نے ممنوعہ بور کے لائسنس مقررہ حد سے زائد تعداد میں جاری کرائے۔لائسنس جاری کرانیوالوں میں خورشید شاہ ، قمر الزمان کائرہ، غلام بلور، نذر گوندل کے نام بھی شامل ہیں۔

بحوالہ ۔ روزنامہ جنگ

سب کا شکریہ

میں سب سے پہلے منظرنامہ کی انتظامیہ کا مشکور ہوں manzarnamah-awards-2009-active-blogجو سارا سال زندگی کی حرارت قائم رکھتے ہیں
میں نامزدگی کرنے والوں کا شکرگذار ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا
میں اُن کا شکرگذار ہوں جنہوں نے مجھ پر ستارے لُٹائے کہ اُنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی
میں اُن کا شکر گذار ہوں جنہوں نے اپنے ستارے مجھے نہیں دیئے کہ مجھے خُوب سے خُوب تر کی تلاش میں سرگرم رکھنا چاہتے ہیں
خوش رہو اہلِ چمن ۔ خوشگوار زندگی کی طرف بڑھتے رہو

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کر گزریئے ۔ لیکن ۔ ۔ ۔

جو خواب دیکھنا چاہتے ہیں دیکھ لیجئے
جہاں جانا چاہتے ہیں چلے جایئے
جو بننا چاہتے ہیں بن جایئے
اس دنیا میں زندگی صرف ایک ہی ہے اور ہر کام کیلئے صرف ایک ہی موقع ملتا ہے
اسلئے کر گذریئے جو جی میں آئے

لیکن

یاد رکھیئے کہ جو حقوق آپ کے ہیں وہی دوسروں کے بھی ہیں

ہم کیا چاہتے ہیں ؟

ہماری حکومت عوام کی اپنی حکومت
عوام کیلئے دن رات کام کرنے والے حکمران
جو ہم چاہتے ہیں مہیا کر رہے ہیں

ہم کیا چاہتے ہیں ؟

مہنگائی
بغیر بجلی کے گھر
بغیر گیس کے چولہا
سڑک پر گولی
دکان پر بم

اور کیا کہوں ؟
بجلی روزانہ وقفے وقفے سے 8 گھنٹے تو بند ہوتی ہی ہے ۔ آج اس کے علاوہ متواتر 5 گھنٹے غائب رہی
گیس کا کئی دنوں سے یہ حال کہ توے پر روٹی پکتی نہیں سوکھ جاتی ہے