Category Archives: روز و شب

طالبان کا نالائق شاگرد

اگر بیگم کلنٹن کے فرمان کے مطابق فیصل شہزاد واقعی طالبان کا شاگرد ہے تو ایسے نالائق شاگرد کو عاق کرنے میں طالبان کو دیر نہیں کرنی چاہیے۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ایسا کچا کام کرنے والا نوجوان اگر واقعی طالبان کا تربیت یافتہ ہے تو افغانستان میں امریکیوں کے چھکے چھڑادینے والے مزاحمت کاروں کے نام پر بی بی کلنٹن کا یہ ہم وطن یقینا ایک بدنما داغ ہے

فیصل شہزاد کی کہانی نے چند سال پہلے لندن ٹیرر پلاٹ کے نام سے سامنے آنے والی ایک اور بودی کہانی یاد دلادی ہے۔ یہ 10 اگست 2006ء کی بات ہے جب دنیابھر کے ٹی وی چینل چیخ اٹھے تھے کہ لندن سے امریکا جانے والی بیک وقت 10 سے زائد پروازوں کو میک اپ کے سامان میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے ذریعے فضا میں تباہ کردینے کا خوفناک منصوبہ پکڑا گیا ہے جو اگر عمل میں آجاتا تو نائن الیون سے بھی زیادہ جانی نقصان ہوتا۔ پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان راشد رؤف کو اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا۔ پھر شیر خوار بچوں کی ماؤں سمیت 24 افراد اس منصوبے میں بحیثیت خود کش حملہ آور شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ۔ ان میں سے بیشتر پاکستانی تھے ۔ اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ جان ریڈ نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کو عمل میں لانے کے لیے تیار کیے گئے اصل افراد تک قانون کا ہاتھ پہنچ گیا ہے اور وہ حکومت کی تحویل میں ہیں۔ صدر بش نے فرمایا کہ ہمارا مقابلہ اسلامی فسطائیوں سے ہے

لیکن بہت جلد یہ حقائق سامنے آئے کہ جن لوگوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ” وہ دوچار دن کے اندر امریکا جانے والے طیاروں کو دوران پرواز تباہ کرنے والے ہیں”، ان میں سے کسی کے پاس کسی ایئرلائن کا ٹکٹ نہیں ہے جبکہ کئی لوگوں نے پاسپورٹ بھی نہیں بنوا رکھے ہیں۔ انصاف پسند مغربی ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ایسا کوئی منصوبہ کسی بھی درجے میں قابل عمل ہی نہیں ہے اور اس کی حیثیت شیخ چلی کے خیالی پلاوٴ سے زیادہ نہیں۔ اس کے بعد راشد رؤف پر پاکستان میں اور چند دوسرے ملزمان پر برطانیہ کی عدالتوں میں مقدمات چلتے رہے۔ بالآخر راشد رؤف کو مفرور قرار دے دیا گیا اور 22 نومبر 2008ء کو شمالی وزیرستان کے ایک گھر پر ڈرون حملے میں اس کے جاں بحق ہوجانے کی خبر جاری ہوگئی جبکہ برطانوی عدالت میں چلنے والے اس مقدمے کے فیصلے سے متعلق نیویارک ٹائمز میں 8 ستمبر 2008ء کو شائع ہونے والی خبر کی سرخی کے الفاظ یہ تھے:
“No One Convicted of Terror Plot to Bomb Planes”

افغانستان اور عراق میں سامراجی مُہم جُوئی کے لیے جو جھوٹ گھڑے گئے، اب دنیا کے بہت سے لوگ ان سے باخبر ہیں۔ عراق کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے الزام کا جھوٹ ہونا تو خود امریکی حکمران بھی تسلیم کرچکے ہیں اور برطانیہ میں ٹونی بلیئر کو اس پر چلکاٹ انکوائری میں نمائشی جوابدہی بھی کرنا پڑی ہے۔ تاہم افغانستان کے خلاف گھڑے گئے جھوٹ کو اب تک دہرایا جا رہا ہے۔ چنانچہ بیگم کلنٹن نے یہ دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہ بعض پاکستانی حکام بن لادن اور ملا عمر کے ٹھکانوں سے واقف ہیں مگر امریکا کو پوری بات نہیں بتاتے، پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے پاکستان کو مزید تعاون کرنا ہوگا

امریکی حکمران نائن الیون کا ذمہ دار افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اس دھڑلے سے قرار دیتے ہیں گویا وہ اپنا یہ دعویٰ ثابت کرچکے ہیں جبکہ حقیقتاً اس دعوے کا کوئی واقعاتی ثبوت آج تک دنیا کے سامنے نہیں لایا جاسکا ہے۔ اس کے برعکس اس امر کے ناقابل تردید واقعاتی اور دستاویزی ثبوت ریکارڈ پر ہیں کہ نائن الیون سے بہت پہلے تیل کے کاروبار سے وابستہ امریکا کے قائدین کیسپین کے تیل کے ذخائر تک افغانستان کے راستے پہنچنے کے منصوبے بنا رہے تھے اور ان کالموں میں بھی یہ حقائق بارہا مکمل حوالوں کے ساتھ پیش کیے جاچکے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے بہت سے ملک اپنے مفادات کی خاطر نیٹو کی شکل میں افغانستان کے خلاف جارحیت میں امریکا کے اتحادی ہیں جبکہ مسلم دنیا کے حکمراں اپنی مصلحتوں اور بزدلی کی بناء پر اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنے سے گریزاں ہیں

تاہم دنیا کے کئی سابق اور موجودہ حکمران اس حوالے سے اپنی گواہی ریکارڈ کراچکے ہیں۔ ان میں اٹلی کے سابق صدر فرانسسکو کوسیگا کی جانب سے ایک انٹرویو میں کہے گئے یہ الفاظ نہایت اہم ہیں کہ” اگرچہ فرض کیا جاتا ہے کہ بن لادن نے نائن الیون کے موقع پر ٹریڈ ٹاورز پر حملے کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے مگر امریکا اور یورپ کی تمام خفیہ ایجنسیاں اب بخوبی جانتی ہیں کہ ان تباہ کن حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل در آمد کاکام امریکی سی آئی اے اور موساد نے صہیونی دنیا کی مدد سے انجام دیا تاکہ عرب ملکوں پر اس کا الزام تھوپا جاسکے اور مغربی طاقتوں کو عراق اور افغانستان میں مداخلت کا موقع مل سکے“۔ کوسیگا کا یہ انٹرویو 30 نومبر2007ء کو اٹلی کے سب سے بڑے اور مؤقر اخبار کوریئر ڈیلا سیرا میں شائع ہوا تھا

مسلم حکمرانوں میں صدر احمدی نژاد واحد شخص ہیں جنہوں نے نائن الیون حملوں میں افغانستان کو ملوث کرنے کو برملا فریب قرار دیا ہے ۔ ابھی چند ہفتے پہلے مارچ کے اوائل میں ایرانی صدر نے گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا پر دہشت گردوں کے حملے کو ایک بڑا جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جھوٹ اس لیے گھڑا گیا تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان پر حملے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ ایرانی صدر کے بقول ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوائی جہازوں سے حملہ امریکی انٹلیجنس سروسز کی درپردہ کارروائی کا نتیجہ تھا

جاپان کے رکن پارلیمنٹ یوکی ہی سا فوجیتا جن کی پارٹی اب حکومت میں ہے، اپنی پارلیمنٹ میں دوسال سے بار بار نائن الیون کی جھوٹی سرکاری امریکی کہانی کا نہایت مہارت اور خوبصورتی سے پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اس موضوع پر جاپانی زبان میں امریکی پروفیسر ڈیوڈ رے گریفن کے اشتراک سے باقاعدہ مفصل کتاب لکھ چکے ہیں۔ ڈیوڈ رے گریفن نے اپنی کتاب ”ڈی بنکنگ نائن الیون ڈی بنکنگ“ میں اپنی حکومت کی فریب دہی کو اس طرح بے نقاب کیا ہے کہ اس کا جواب دینا امریکی قیادت کے لیے ممکن نہیں

اس سب کے باوجود امریکی حکمران اپنے جھوٹ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور افغانستان اور عراق کے بعد امکانی طور پر پاکستان میں براہ راست فوجی مداخلت کے لیے نیویارک سازش کیس جیسی بے سروپا کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔ بظاہر امریکی شہری فیصل شہزاد کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے تاہم اس نااہل نوجوان کو بم سازی میں طالبان کا شاگرد قرار دے کر ایک طرف انہوں نے اپنے عقلی دیوالیہ پن کا دلچسپ مظاہرہ کیا ہے تودوسری طرف یہ طالبان کی توہین کے مترادف ہے جس پر طالبان قیادت احتجاج کا پورا حق رکھتی ہے

تحرير : ثروت جمال اصمعی

آزادی اظہارِ خيال کے پروانوں کے نام

ميرے ہموطنوں ميں سے کچھ بڑے زور شور سے آزادی اظہارِ خيال کا راگ الاپ رہے ہيں اور گستاخ خاکوں پر احتجاج کرنے والوں کو طرح طرح کے القاب سے نواز رہے ہيں يہاں تک کہ اُن ميں اعلٰی تعليميافتہ افراد کی موجودگی کے باوجود اُنہيں جاہل اور انتہاء پسند کہا گيا ہے ۔ فرنگيوں کے ممالک ميں اظہارِ خيال کی جتنی آزادی ہے اُس کی چند مثالوں کا حوالہ 23 مئی 2010ء کو ديا تھا ۔ آج ايک تحرير پر نظر پڑ گئی جس ميں صرف سن 2010ء کے 3 ماہ ميں فرنگی حکومتوں جن ميں امريکہ ۔ کينيڈا اور يورپ کے کئی ممالک شامل ہيں نے يہوديوں کے خلاف اظہارِ خيال کرنے کے 21 واقعات ميں 24 افراد کو سزائيں ديں ۔ ان ميں 7 پندرہ سے 17 سال کی عمر کے بچے ۔ ايک پادری ۔ ايک 83 سالہ شخص اور ايک سياستدان ہے ۔ 3 ٹی وی چينل اور ايک اخبار بند کئے گئے اور ايک سياسی جماعت غيرقانونی قرار دی گئی ۔ ملاحظہ ہو مکمل تحرير


تحرير ۔ اوريا مقبول جان بتاريخ 22 مئی 2010ء ۔ بشکريہ ۔ ايکسپريس

اظہارِ خيال کی آزادی کا ڈھونگ

کُفار تو ازل سے اسلام کے دُشمن ہيں اور رہيں گے ليکن وہ جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہيں ليکن مسلمانوں کے ردِ عمل کو کبھی جھوٹ کبھی منافقت اور کبھی انتہاء پسندی کہتے ہيں اور پھر بھی تسلی نہ ہو تو دہشتگرد قرار ديتے ہيں ۔ اگر حقائق اور اُن کے عمل پر غور کيا جائے تو وہ خود منافق ثابت ہو جاتے ہيں

فرنگيوں کے اظہارِ رائے کی آزادی کے دعووں کی قلعی حقيقی واقعات کی مثاليں دے کر چار پانچ سال قبل کھول چکا ہوں ليکن فرنگيوں کے اندھے پيروکاروں کو نہ سمجھ آئی ہے اور نہ سمجھ آنے کی توقع ہے کيونکہ سوئے ہوئے کو جگايا جا سکتا ہے مگر جاگتے کو نہيں

1 ۔ کرتے ہيں مجبور مجھے

2 ۔ آزادی اظہارِ خيال ہے کس مُلک ميں ؟

3 ۔ ہاتھی کے دانت ؟؟؟

4 ۔ تازہ ترين ثبوت

5 ۔ اظہارِ خيال کی آزادی کا بھانڈہ پھر پھوٹ گيا

بے چاری بيوی يا بے چارہ خاوند ؟

دفتر کی بَک بَک زيادہ رہی ۔ بھنايا ہوا خاوند شام کو گھر پہنچا
لٹکا چہرہ دیکھ کر بيوی بولی “کيا ہوا ؟ ”
خاوند “دفتر والے ۔ ۔ ۔ ”
بيوی بات کاٹ کر “يہ مرد ہوتے ہی بہت بُرے ہیں”
خاوند “کيوں ؟”
بيوی “يہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ؟ عورتوں کو گھر میں بند رکھتے ہیں ۔ عورتوں پر ظُلم کرتے ہيں ۔ راہ جاتی عورتوں کو چھڑتے ہيں ۔ بدتميز”
خاوند “ميں ؟ بدتميز ؟ ”
بيوی ” تمہيں تو نہیں کہہ رہی ۔ یہ مردوئے”
خاوند “ميں بھی تو مرد ہوں ”
بيوی ” تم نے کونسا مجھے عرشں پہ بٹھا رکھا ہے ؟”
خاوند ” تمہاری ہر ضرورت پوری کرتا ہوں ۔ کبھی تو خيال کر ليا کرو کہ میں سارے دن کا کھپا ہوا آتا ہوں اورآتے ہی تم شروع ہو گئی ہو”
بيوی “ہاں ہاں ميں تو سارا دن يہاں سوئی رہتی ہوں ۔ گھر کا کام کاج تمہاری دوسری بيوی کرتی ہے کيا ؟”
خاوند ” کپڑے اور برتن دھونا اور گھر کی صفائی ملازمہ کرتی ہےاور سبزی بھی کاٹ ديتی ہیں ۔ تم نے صرف ہنڈيا پکانا ہوتی ہے”
بيوی “ميری تو قسمت ہی پھُوٹ گئی جو اس گھر میں آئی ۔ سارا دن کی کھپ کھپائی اور کوئی قدر ہی نہیں”
خاوند ” اور وہ جو تمہاری روزانہ کی روئيداد سنتا ہوں سب گھروں میں باری باری ہونے والی عورتوں کی محفلوں کی ؟”
بيوی ” ہاں ہاں ۔ قيد کردو ۔ گھر پہ پہرے بٹھا دو ۔ ميری قسمت میں ايک دن کی خوشی نہ ہوئی اس گھر میں ۔ اب ملنے واليوں پر بھی پابندی ۔ کل پتہ نہيں کيا ہو گا”

اور بيوی رونے لگتی ہے

خاوند جو اب تک اپنا بيگ اُٹھائے کھڑا تھا کمرے میں جا کر اپنے بستر پر گر جاتا ہے اور اُسی طرح سو جاتا ہے
اگلی صبح اُٹھتا ہے تو ناشتہ تيار نہ ہونے کی وجہ سے بغير ناشتے دفتر چلا جاتا ہے

دفتر سے واپس آتا ہے تو گھر میں جيسے کوئی ماتم ہو گيا ہو ۔ کچھ عورتیں جمع ہیں ۔ بيوی رو رہی ہے ۔ دو تين اور بسور رہی ہيں ۔ کوئی بيوی کو سمجھا رہی ہے اور کوئی مردوں کو کوسے جا رہی ہے

خاوند گبھرا کر “کيا ہوا ؟ يہ سب کيا ہے ؟ يہ ماتم کيسا ؟”
ایک بڑی بی بولتی ہيں ” اے نگوڑے کہاں چلا گيا تھا تُو ۔ بہو صبح سے بلک رہی ہے ۔ کيا حال ہو گيا ہے بيچاری کا”
خاوند ” میں ؟ ميں نے کہاں جانا ہے ؟ دفتر نہ جاؤں تو گھر کيسے چلاؤں ؟”

ايسا يا اس سے ملتا جلتا کھيل اکثر تعليميافتہ گھرانوں ميں ہوتا ديکھا گيا ہے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ٹھکانہ ؟

تین دہائیاں پیچھے کی بات ہے کہ میری خالہ زاد بہن کی بیٹی جو میری بیوی کی بھانجی ہے ہمارے ہاں راولپنڈی آئی ہوئی تھی ۔ وہ اپنی خالہ سے کہنے لگی “خالہ دیکھیں نا ۔ ہم نے یہاں سے کراچی جانا ہو راستہ میں وزیرآباد کے سٹیشن پر اُتریں تو وہاں کیا ہم اپنا گھر بنا لیں گے اور وہیں رہنا شروع کر دیں گے ؟”
میری بیوی نے جواب دیا “نہیں” اور حیرانی سے بھانجی کی طرف دیکھنے لگی
وہ بولی “جب ہماری منزلِ مقصود وہ ہمیشہ رہنے والی دنیا ہے جہاں جنت بھی ہے تو پھر لوگ اس دنیا کو پکا ٹھکانہ کیوں سمجھ لیتے ہیں ؟”

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
کھول کر پڑھيئے کہ بھارت ميں دہشتگردی کون کرتا ہے جس کا الزام پاکستان يا مسلمانوں پر لگايا جاتا ہے

ہم سب دہشتگرد نہيں تو تماشبين ضرور ہيں

ہمارے ملک میں یہ سلسلہ چل نکلا ہے کہ سیکورٹی ادارے جب کسی کو گرفتار کرنے نکلتے ہیں تو میڈیا کی ٹیموں کو بھی ساتھ لے لیتے ہیں جس کے باعث جہاں ایک طرف ميڈيا کے اس ادارے کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے وہاں ان اہلکاروں کی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے جديديت پسند ہموطن ايسی خبر کو لے اُڑتے ہيں اور بڑھ چڑھ کر کسی خاص کميونٹی کی مذمت شروع ہو جاتی ہے يہاں تک کہ دين اسلام کو بھی نہيں بخشا جاتا۔ ہونا تو يہ چاہيئے کہ پڑھے لکھے لوگ “کُتا کان لے گيا” سُنتے ہی کُتے کے پيچھے بھاگنا شروع کرنے سے پہلے يہ تو ديکھ ليں کہ کان اپنے سر کے ساتھ ہی لگا ہے يا واقعی کُتا اُتار کر لے گيا ہے ؟

اشتياق بيگ کے مضمون سے اقتباس
دنیا بھر میں قانون کا یہ اصول ہے کہ آپ اس وقت تک بے گناہ ہیں جب تک آپ مجرم ثابت نہ ہوجائیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں آپ اس وقت تک مجرم تصور کئے جاتے ہیں جب تک آپ اپنی بے گناہی ثابت نہ کردیں۔ کچھ اسی طرح کا واقعہ 9 مئی بروز اتوار صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے فیض محمد کے ساتھ ہوا جو مسقط میں سول انجینئر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ سالانہ تعطیلات اپنی فیملی کے ساتھ کراچی میں گزارنے کے بعد وہ تھائی ایئر ویز کی ایک پرواز کے ذریعے مسقط جانے کے لئے کراچی ایئر پورٹ پہنچا ۔جسمانی تلاشی کے دوران جب وہ ا سکینرز سے گزرا تو ا سکینرز کے الارم بج اٹھے، فیض محمد کے جوتوں سے الیکٹرک سرکٹ برآمد ہوا۔

فیض محمد نے سیکورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ اس نے یہ جوتے لائٹ ہاؤس میں واقع استعمال شدہ جوتوں کی ایک دکان سے خریدے تھے اور ان جوتوں کے اندر اور باہر وائبریٹرزتحریر تھا۔ دکاندار نے اسے بتایا تھا کہ انہیں پہننے سے آرام ملتا ہے چونکہ مسقط میں اسکا کام زیادہ تر کھڑے رہنے کا تھا اسلئے اس نے یہ جوتے خرید لئے اور اس سے پہلے بھی وہ ان جوتوں میں مسقط جا چکا ہے۔ مگر کسی نے اس کی باتوں پر یقین نہ کیا اور اسے ہتھکڑی لگاکر ایک ”دہشت گرد“ کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ۔ اے ایس ایف کا دعویٰ تھا کہ ملزم کے جوتوں میں چھپا سرکٹ دھماکہ خیز مواد میں نصب کرکے دھماکہ کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ملک بھر کے ٹی وی چینلز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے فیض محمد کو ایک ”دہشت گرد“ کے طور پر پیش کررہے تھے اور اس کا بھرپور میڈیا ٹرائل کیا جارہا تھا۔ ملکی اور غیر ملکی تمام ٹی وی چینلز اس کی گرفتاری کی خبریں نمایاں طور پر نشر کررہے تھے۔ پرنٹ میڈیا بھی الیکٹرونک میڈیا سے پیچھے نہ تھا

اس واقعہ سے پورے ملک کی بدنامی ہوئی اور ملک بھر میں موجود پاکستانیوں کی تشویش میں اضافہ ہوا جو پاکستانیوں اور دیگر مسلمانوں پر مسلسل دہشت گردی کے الزامات سے پہلے ہی پریشان تھے۔ فیض محمد کو مزید تفتیش کے لئے ایئر پورٹ پولیس کے حوالے کردیا گیا جہاں محکمہ داخلہ کے حساس اداروں، سی آئی ڈی، ایس آئی یو اور انویسٹی گیشن پولیس پر مشتمل ایک جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی۔ دو دن کی تفتیش کے دوران انویسٹی گیشن پولیس ٹیم شہر کی مختلف مارکیٹوں سے ویسے ہی جوتے خرید کر لے آئی جیسے فیض محمد نے پہن رکھے تھے اور ان جوتوں میں ویسا ہی سرکٹ نصب تھا

بعد میں اخباروں نے ایک چھوٹی سی خبر شائع کی جس میں تحریر تھا ”مشتبہ جوتے رکھنے والا زیر حراست نوجوان فیض محمد بے گناہ قرار پایا ہے اور اسے رہا کردیا گیا ہے۔“اخبارات میں شائع اس کی بے گناہی اور اس کے دہشت گرد سے متعلق ایک چھوٹی سی تردید اس پر لگا ہوا ”دہشت گرد“ کالیبل اور اس کی تکالیف و مشکلات کا ازالہ نہیں کرسکی۔ فیض محمد کی ”دہشت گرد“ کے طور پر گرفتاری کی خبریں مسقط میں اس کی کمپنی تک بھی پہنچ چکی تھیں جس کے باعث اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور وہ روزگار سے محروم ہوگیا۔

اس طرح بے گناہ شخص کو شدید ذہنی کوفت اور بے پناہ مشکلات سے دوچار کردیا اور اس کی سزا فیض محمد کے ساتھ اس کے والدین، بیوی اور بچوں کو بھگتنا پڑی۔اگر اس طرح کا واقعہ امریکہ اور یورپ میں پیش آتا تو متاثرہ شخص ان اداروں کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرکے کروڑ پتی بن سکتا تھا لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی کوئی روایت یا قانون نہیں۔

بہترين خاوند

مغربی دنيا ميں عورتوں کا بہت احترام کیا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے مغربی دنيا کے ايک رسالے نے مقابلہ منعقد کيا اور کچھ نمائندہ تصاوير شائع کيں جو حاضر ہيں

برطانيہ

رياستہائے متحدہ امريکہ

پولينڈ

يونان

دوسرے نمبر پر آنے والا سربيا

بہترين خاوند آئر لينڈ ۔ جہاں خاوند اپنی محبت کے اظہار ميں اپنی بيوی کا ہاتھ تھامے رکھتے ہيں