جموں کشمير کے مسلمان اپنا انسانی اور پيدائشی حق خود ارادی مانگ رہے ہيں جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی چارٹر ميں شامل ہے بلکہ جنوری 1948ء ميں بھارتی حکومت کی درخواست پر منظور ہونے والی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے ۔ مگر بھارتی حکومت گذشتہ 63 سالوں سے ايک طرف لچھے دار بيانات دے کر اس انسانی مسئلے کو ملتوی کرتی چلی آ رہی ہے اور دوسری طرف جموں کشمير ميں ظُلم تشدد جاری رکھا ہوا ہے
متذکرہ بالا قراردادوں کے تحت تمام ارکان بالخصوص سلامتی کونسل کے ارکان جموں کشمير ميں آزادانہ رائے شماری کرانے کے پابند ہيں کہ جموں کشمير کے لوگ پاکستان ميں شامل ہونا چانتے ہيں يا بھارت ميں ليکن انسانيت کے يہ نام نہاد علَمبردار ذاتی مطلب برآری کيلئے بھارتی حکومت کی پشت پناہی کرتے آ رہے ہيں
تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھيئے