Category Archives: روز و شب

بدلہ جانوروں سے ؟ ؟ ؟

ميں پہلے بدلہ انسانوں سے لکھ چکا ہوں جس ميں اس سلسلہ ميں اللہ کا فرمان نقل کر چکا ہوں ۔ ہم لوگ اتنے خود پسند اور خود غرض ہو چکے ہيں کہ بے زبان جانوروں کو بھی معاف نہيں کرتے ۔ انسان بول سکتے ہيں بدلہ لے سکتے ہيں مگر جانور جو ايسا نہيں کر سکتے ہمارا رويّہ اُن کے ساتھ بہتر ہونے کی بجائے ظالمانہ ہوتا ہے

پرانے زمانہ ميں لوگ اپنے گھر کی چھتوں پر يا برآمدے ميں محراب کی چوٹی سے دو برتن لٹکا ديا کرتے تھے اور روزانہ ايک ميں دانہ اور ايک ميں پانی ڈالا کرتے تھے ۔ يہ کام صرف مالدار نہيں کم مايہ لوگ بھی کرتے تھے اور کئی اب بھی کرتے ہيں ۔ پرندے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی حمد کرتے ہيں کيا وہ انسانوں کيلئے خير کی دعا نہيں کر سکتے ؟

ميں نے بچپن ميں چيوٹيوں کی لمبی قطار لگی ديکھی تو اپنے گھر والوں کو مطلع کيا ۔ کہا گيا “ديکھو چيونٹياں کہاں سے آ رہی ہيں ۔ وہاں ايک مُٹھی آٹا ڈال دو”۔ ميں نے تعميل کی اور چيونٹيوں کا جائزہ لينے لگا ۔ کچھ ہی دير ميں سب چيونٹياں آٹا اپنے بِل ميں ليجا رہی تھيں ۔ اس کے بعد گھر ميں کوئی چيونٹی نظر نہ آئی

اب اگر پرندوں کے گند ڈالنے يا چيونٹيوں کے گھر ميں کھانے کی چيز پر چڑھنے يا گھر ميں پھرنے سے ناراض ہو کر پرندوں کو ہلاک کرنا شروع کر ديا جائے يا چيونٹيوں کی نسل کُشی کر دی جائے تو کيا يہ ظلم نہ ہو گا ؟

ہم نے اساتذہ اور بزرگوں سے سنا تھا کہ ايک درخت کاٹا جائے يا فالتو پانی بہايا جائے تو اس کا بھی روزِ محشر حساب دينا ہو گا ۔ بدلہ لينے کے سلسلہ ميں اللہ کا فرمان ہے بے زبان سے کيا بدلہ لينا جسے اس بات کی سمجھ ہی نہيں کہ وہ اپنا رزق تلاش کرتے ہوئے کسی کی نازک طبع پر گراں گذر رہا ہے

سورت 16 النحل آيت 126 ۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ
اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بیشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے

سورت 42 الشورٰی آيات 40 تا 43 ۔ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالٰی ظالموں سے محبت نہیں کرتا

اے تے فير ہے

مسلم لیگ [نواز] کے سینیٹر ظفر علی شاہ نے عدالتِ عظمٰی ميں پٹیشن دائر کر دی ہے جس ميں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 101 کے مطابق صدر نے وزیراعظم کی مشاورت سے گورنرز کا تقرر کرنا ہوتا ہے جبکہ موجودہ چاروں گورنرز کا تقرر مشرف دور میں ہوا جو اب غیرآئینی ہوچکا ہے لہٰذا چاروں گورنرز کو کام کرنے سے روکا جائے اور گورنرز کے تقرر کے احکامات غیر آئینی قرار دیئے جائیں ۔ ظفرعلی شاہ نے اپنی پٹیشن میں وفاق ۔ صوبائی حکومتوں اور گورنرز کو فریق بنایا ہے

امريکی امداد کہاں جاتی ہے ؟

يو ايس ايڈ کا نام عام سُنا جاتا ہے اور اخبارات ميں بھی اس کا بہت ذکر رہتا ہے ۔ ہوتی ہے
United States Agency for International Development
عام لوگ حيران ہوتے ہيں کہ يو ايس ايڈ کے تحت اربوں ڈالر پاکستان کو ملتے ہيں مگر ترقی [development] کہيں نظر نہيں آتی
1960ء کی دہائی کے اوائل ميں ميرے 200 سے زائد جوان انجنيئر ساتھيوں نے جو واپڈا کی ملازمت ميں تھے اسی يو ايس ايڈ کے اصل استعمال کو ديکھ کر لاہور واپڈا ہاؤس کے سامنے احتجاج کيا اور تمام صعوبتيں جھيلنے کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرا کے اس موذی مرض سے واپڈا کو نجات دلانے ميں کامياب ہو گئے

اُنہی دنوں ميں پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں ميرے ساتھی آدھی درجن جوان انجيئروں نے اپنا خاموش احتجاج اربابِ اختيار تک پہنچايا اور اس وقت کے چيئرمين صاحب نے جراءت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس وقت کے حکمرانوں کو اس موذی بيماری کی توسيع روکنے پر قائل کر ليا ۔ چند ماہ کے اندر اس موذی مرض سے نجات مل گئی اور پاکستان آرڈننس فيکٹريز تيزی سے ترقی کرنے لگيں

پھر ناجانے کب يہ موذی مرض وطنِ عزيز ميں حملہ آور ہوا اور اب سرطان کی طرح پھيل کر ملک کو بُری طرح جکڑ چکا ہے

آخر يہ امداد جو ترقی کا نام لئے ہوئے ہے جاتی کہاں ہے ؟ نيچے ديئے ربط پر کلک کر کے اس کی نہائت مختصر داستان پڑھيئے
Where USAID Goes ???

پھر شور اُٹھا ہے چرخِ کُہن سے

23 جمعرات 23 دسمبر 2010ء کے اخبار ميں وفاقی شرعی عدالت کا فيصلہ اور اس کے خلاف روشن خيال عورتوں کی ہاہاکار شائع ہوئی ہے ۔ حقوقِ نسواں آرديننس 2006ء شائع ہونے کے بعد ميں نے 23 جنوری کو ايک تقابلی جائزہ شائع کيا تھا جو وقت کی ضرورت کے مطابق دوبارہ شائع کر رہا ہوں

خواتين کے حقوق محفوظ ہو گئے ؟ ؟ ؟ بتاريخ 23 جنوری 2007ء

ميں شعيب صفدر صاحب کا مشکور ہوں کہ نئے قانون تحفظِ حقوق خواتين کے ويب پر شائع ہوتے ہی اس کا لِنک مجھے بھيج ديا ۔ اس کا مطالعہ سکون سے کرنا ضروری تھا ۔ ميں کچھ ذاتی کاموں ميں مصروف تھا ۔

زنا زبردستی سے کيا جائے يا باہمی رضامندی سے قرآن شريف اور سنّتِ رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہُ عَلَيہِ وَ سَلَّم کے مطابق زانی اور زانيہ کی سزا ميں کوئی فرق نہيں ہے اور سزاسو کوڑے يا رجم ہے البتہ زنا بالجبر کی صورت ميں عورت کو باعزت بری کر ديا جاتا ہے اور زانی مرد کو سزا دی جاتی ہے

تحفظِ حقوق خواتين کا قانون منظور کرانے کا مقصد خواتين کے حقوق محفوظ کرنا ہے يا بے راہ روی کو محفوظ کرنا ۔ يہ نئے قانون کی مندرجہ ذيل صرف تين دفعات پڑھنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے ۔

376 ۔ زنا بالجبر کے لئے سزا
[1] جو کوئی زنا بالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا

496 ۔ ب ۔ باہمی رضا مندی سے زنا کی سزا
[2] اگر عورت اور مرد باہمی رضامندی سے زنا کے مرتکب ہوں تو انہيں قيد کی سزا دی جا سکتی ہے جس کی معياد پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جرمانہ بھی کيا جا سکتا ہے جو دس ہزار روپے سے زيادہ نہ ہو

203 ۔ الف ۔ زنا کی صورت ميں نالش

[1] کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے

[2] کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث اور زنا کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔

[3] مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔

[4] اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔

[5] کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روبرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے

تبصرہ

زنا بالجبر ثابت ہو جانے پر بھی موت کی سزا دينا ضروری نہيں رہا بلکہ پانچ سال قيد کی سزا دے کر بھی فارغ کيا جا سکتا ہے ۔ سو کوڑے يا رجم
کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے

اگر باہمی رضامندی سے زنا کا ارتکاب ثابت ہو جائے تو زيادہ سے زيادہ پانچ سال قيد کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ اس ميں بھی سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے

چار تزکيۂِ نفس رکھنے والے چشم ديد گواہ کہاں سے آئيں گے جن پر مجاز جج کو بھی اعتبار ہو ؟

کيا متذکّرہ تخفيف شدہ سزا بھی صرف کھُلے عام زنا کرنے والوں کيلئے ہے ؟ قانون کی شِقوں سے تو ايسا ہی ظاہر ہوتا ہے

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔ نہ پوليس اور نہ کسی اور جج کو زنا کے سلسلہ ميں کسی قسم کی کاروائی کا کوئی اختيار ہو گا اور نہ کوئی جج از خود نوٹس لے کر کاروائی کر نے کا مجاز ہو گا ۔ چنانچہ کسی دُور دراز علاقہ ميں بھی کوئی زنا کا مرتکب ہو گا تو مستغيث اور چار چشم ديد گواہوں کو ڈسٹرکٹ ہيڈکوارٹر جا کر ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کے سامنے پيش ہو کر اپنے بيانات قلمبند کرانا ہوں گے جبکہ ہمارے ملک ميں تو اپنے ہی شہر ميں مقدمہ درج کروانا مشکل ہوتا ہے

اس قانون سے تو يہی اخذ کيا جا سکتا ہے کہ زنا کے مرتکب مرد اور عورت کو صرف اسی وقت سزا ملے گی جب کوئی بااثر شخص اُنہيں سزا دينا چاہے گا اور وہ سچے يا جھوٹے گواہ مہيّا کر دے گا ۔ جہاں تک بااثر لوگوں کا تعلق ہے وہ اب بغير خطرے کے پہلے سے زيادہ رنگ رلياں منائيں گے

کہاں گئے مغرب زدہ اين جی اوز اور دوسرے روشن خيالوں کے جديد طريقوں کے وہ بلند بانگ دعوے جن کو قرآن شريف پر ترجيح دی جا رہی تھی ؟ حقيقت يہ ہے کہ اُن کی عياشی پر قدغن تھی سو اب وہ مکمل طور پر آزاد ہو گئے ہيں ۔ جس دن يہ قانون منظور ہوا لاہور کے بازارِ حُسن ميں جشن منايا گيا تھا اور مٹھائی بانٹی گئی تھی ۔ چند مادر پدر آزاد اين جی اوز نے بھی مٹھائی بانٹی اور ايک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ يہ ہے وہ تاريک اور گھناؤنا غار جس ميں ہمارے روشن خيال حکمران ہماری قوم کو دھکيل رہے ہيں

اور اب پیشِ خدمت ہے تعلیم یافتہ معروف اساتذہ کا تیار کردہ تقابلی جائزہ مابين احکامِ الٰہی و حقوقِ نسواں آرڈيننس 2006ء جو ميں 25 مارچ 2007ء کو شائع کر چکا ہوں

خاموش سازش ؟

مُجرم جُرم کرتا ہے ۔ مُجرم کا تو کام ہی جُرم کرنا ہے ۔ مُجرم سازش نہيں کرتا
سازشی وہ ہيں جو جُرم کی منصوبہ بندی کرتے ہيں
يا
وہ ہيں جو جُرم ہوتے ديکھتے ہيں اور جُرم کو روکتے نہيں

طالب علمی کے زمانہ ميں ايک استاذ نے بتايا تھا کہ کہ اگر کوئی جُرم ہوتا ديکھے اور اسے نہ روکے تو وہ جُرم ميں 10 فيصد حصہ دار بن جاتا ہے
آج سوچتا ہوں کيا فلسفہ تھا اس فقرے ميں ۔ ۔ ۔

اسی سلسلہ ميں مندرجہ ذيل ربط پر کلک کر کے ايک سير حاصل مضمون پڑھيئے

A Conspiracy of Silence

توّکل

عام ديکھا گيا ہے کہ جو کام کسی آدمی کے بس ميں نہ ہو تو اُسے کر کے کہتا ہے ” اللہ توّکل کر ديا ہے”
حقيقت يہ ہے کہ اللہ پر توّکل کرنا مسلمان پر واجب ہے
يہاں ميں يہ واضح کر دوں کہ ہند و پاکستان ميں الفاظ “فرض” اور “واجب” کا استعمال غلط العام ہے ۔ آجکل لوگ انگريزی کا زيادہ استعمال کرتے ہيں اسلئے انگريزی کے ذريعہ ہی بتانے کی کوشش کرتا ہوں
“فرض” ہوتا ہے “ڈِيوٹی [Duty]”
واجب ہوتا ہے “کمپلسری [Compulsory]”
ہند و پاکستان کے جو لوگ عرب دنيا ميں يا ايران ميں کچھ عرصہ رہے ہيں اور انہوں نے عربی يا فارسی زبان سيکھنے کی کوشش کی ہے وہ ميری بات کو بآسانی سمجھ جائيں گے
عام کہا جاتا ہے کہ فجر ميں 2 ۔ ظہر ميں 4 ۔ عصر ميں 4 ۔ مغرب ميں 3 اور عشاء ميں 4 فرض ہيں اور عشاء ميں 3 واجب يعنی وتر ہيں
ہميں ڈيوٹی سے چھُوٹ [چھُٹی] ايک دن سے چند ماہ تک کی بلکہ بعض اوقات سال بھر کی چھُٹی مل سکتی ہے مگر جو کام کسی کيلئے کمپلسری قرار ديا گيا ہو اس کی چھُوٹ نہيں مل سکتی
چنانچہ جنہيں فرض کہا جاتا ہے وہ بھی در اصل سب واجب ہيں کيونکہ ان کی چھُوٹ کسی حال ميں بھی نہيں ہے

کتنی بدقسمتی ہے کہ آج کا مسلمان باپ ۔ بھائی ۔ بيٹے يا دولت پر تو توّکل کر ليتا ہے مگر اللہ پر صرف بحالتِ سخت مجبوری

ميں نے 5 ستمبر 2010ء کو ذاتی مشاہدہ کی بناء پر لکھا تھا
“توكل پرندوں سے سيكھيئے كہ جب وہ شام كو اپنے گھونسلوں يا بسيروں کو واپس جاتے ہيں توان كی چونچ ميں اگلے دن كے لئے كوئی دانہ نہيں ہوتا”

چند دن قبل ميری بيٹی پوچھنے لگی ” ابو ۔ يہ ذرا سمجھا ديجئے کيا لکھا ہے ؟”

وہ بابا بُلھے شاہ کے پنجابی کلام کا يہ قطع تھا

ويکھ بَنديا اسماناں تے اُڈدے پنچھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [ديکھ اے انسان آسمانوں پر اُڑتے پرندے]
ويکھ تے سہی کی کردے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [ديکھو تو سہی کيا کرتے ہيں]
نہ اور کردے رِزق ذخيرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[نہ وہ کريں رزق کا ذخيرہ]
نہ او بھُکھے مردے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [نہ وہ بھُوکے مرتے ہيں]
کدی کسے نے پنکھ پکھيرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[کبھی کسی نے پرندوں کو]
بھُکھے مردے ويکھے نے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[بھُوکے مرتے ديکھا ہے ؟]
بندہ ای کردا رزق ذخيرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [انسان ہی کرتے ہيں رزق ذخيرہ]
بندے ای بھُکھے مردے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[انسان ہی بھُکے مرتے ہيں]

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ محکمانہ انصاف

روائت ہے کہ دوسری جنگ عظيم ميں برطانيہ فاتح تو رہا مگر مُلکی معيشت کا ديواليہ نکل گيا تھا ۔ چند فکر رکھنے والے لوگوں نے وقت کے وزيرِ اعظم کے پاس جا کر اپنی تشويش ظاہر کی

وزيرِ اعظم نے پوچھا “سرکاری محکمے انصاف کر رہے ہيں ؟”
وہ بولے “ايسا ہو رہا ہے”
پھر وزيرِ اعظم نے پوچھا “لوگ سمجھتے ہيں کہ انصاف مل رہا ہے ؟”
وہ بولے ” جی ۔ بالکل”
وزيرِ اعظم نے کہا ” پھر کوئی فکر کی بات نہيں سب ٹھيک ہو جائے گا”

تاريخ گواہ کہ سب ٹھيک ہو گيا ۔ يہ کرامت ہے جمہوريت کی ۔ ہمارے ملک ميں بھی سُنا ہے کہ جمہوريت ہے ۔ ميں نے تو بہت تلاش کی مگر وہ شايد مجھ سے پردہ کرتی ہے اسلئے نظر نہيں آئی ۔ ليکن ميں بات کروں کا “اصلی تے وڈی” جمہوريت کی جس کا نام عوامی جمہوريت تھا اور جس کی عظمت کے نعرے آج بھی لگائے جاتے ہيں

خود ساختہ قائدِ عوام نے1973ء ميں انتظامی اصلاحات [Admnistrative Reforms] کے نام پر سرکاری ملازمين کيلئے نئے قوانين نافذ کئے ۔ نعرہ لگايا گيا تھا کہ” ڈکٹيٹروں نے 4 کلاسز [Classes] بنا رکھی ہيں ۔ ميں سب کو ايک کلاس کر دوں گا اور پھر چپڑاسی بھی فيڈرل سيکريٹری بن سکے گا”۔ مگر 4 کی بجائے 23 کلاسز بنا دی گئيں ۔ چپڑاسی تو کيا فيڈرل سيکريٹری بنتا ۔ ڈپٹی سيکريٹری کيلئے بھی فيڈرل سکريٹری بننا مشکل بنا ديا گيا ۔ البتہ بادشاہ سلامت جب چاہتے جسے چاہتے چپڑاسی کی کرسی سے اُٹھا کر فيڈرل سيکريٹری بنا ديتے اور جو فيڈرل سيکٹری حکم عدولی کرتا اسے ايسا ہٹاتے کہ نہ پنشن نہ گريچوئيٹی ملتی ۔ چنانچہ ايک ايسے ہی فيڈرل سيکريٹری نے بھوک ننگ سے تنگ آ کر اپنے بيوی بچوں کو ہلاک کرنے کے بعد خود کُشی کر لی ۔ يہ تو بڑی بڑی باتيں ہيں ۔ انتظامی اصلاحات نافذ ہونے والے بے شمار واقعات ميں سے ميں اُس ادارے کے اعلٰی انصاف کے صرف 3 واقعاتِ سپردِ قلم کر رہا ہوں کہ ميں جس ميں ملازم تھا ۔ ان ميں سے تيسرا واقعہ سب سے بُلند ہے

پہلا واقعہ ۔ سعودی عرب کے ايک اعلٰی عہديدار 1970ء کی دہائی کے اوائل ميں گريڈ 18 کے کچھ انجنير ہمارے ادارے سے لينے کيلئے آئے ۔ اُنہيں انٹرويو نہ کرنے ديا گيا اور کچھ گريڈ 19 اور ايک گريڈ 17 کا انجينئر دے ديا گيا ۔ ان ميں سے ہر ايک نے ملازمت کے ذاتی کنٹريکٹ پر دستخط کئے اور تين تين سال کی بغير تنخواہ چھٹی لے کر چلے گئے جس کی بعد ميں ناجانے کس قانون کے تحت 9 سال تک روسيع ہو گئی ۔ سعودی عرب ميں يہ لوگ سعودی انٹظاميہ کے ماتحت تھے اور سعودی عرب سے ہی براہِ راست تنخواہ ليتے تھے ۔ اس کے باوجود گريڈ 17 والے انجنيئر وہيں بيٹھے گريڈ 18 اور پھر گريڈ 19 ميں ترقی پا گئے اور 9 سال بعد واپس آنے پر انہيں گريڈ 20 پر ترقی دے دی گئی ۔ قانون يہ ہے کہ جو شخص ملک سے باہر ہو اس کی ترقی واپس آنے پر ہو گی

دوسرا واقعہ ۔ 4 انجنيئروں کو 1976ء ميں لبيا بھيجا گيا جن ميں ايک گريڈ 17 کا اور باقی 3 گريڈ 18 کے تھے ۔ انہيں تنخواہ پاکستان کا سفارتخانہ ديتا تھا جس ميں سے جی پی فنڈ ۔ پنشن کنٹری بيوشن اور سروس چارجز کاٹ لئے جاتے تھے ۔ يہ لوگ انتظامی لحاظ سے پاکستان ميں اپنے ادارے کے ماتحت تھے جو سفارتخانے کی معرفت انہيں احکامات بھيجتا تھا ۔ ان ميں جو انجيئر سب سے سينئر تھا اُسے يہ کہہ کرترقی نہ دی گئی کہ مُلک سے باہر ہے جب واپس آئے گا تو ديکھا جائے گا اور اس طرح 6 سال کے اندر 24 اس سے جونيئر انجيئروں کو ترقی دے دی گئی ۔ بايں ہمہ جو انجيئر گريڈ 17 ميں تھا اسے لبيا ميں بيٹھے بٹھائے پہلے گريڈ 18 اور پھر گريڈ 19 ميں ترقی دے دی گئی اور وہ اپنی ٹيم کے سب سے سينئر سے سينئر ہو گيا

تيسرا واقعہ اور بھی نرالا ہے ۔ ايک گريڈ 16 کے افسر چھٹی لے کر گئے اور واپس نہ آئے ۔ کئی سال اُن کو بُلايا جاتا رہا مگر کوئی جواب نہ آيا ۔ وہ ليبا چلے گئے ہوئے تھے اور وہاں کسی پرائيويٹ کمپنی کی ملازمت کر رہے تھے ۔ کيس چلتا رہا اور کوئی جواب نہ آنے پر اُنہيں مفرور [absconder] قرار دے ديا گيا [وزارتِ دفاع کا مفرور] ۔ مزيد چند سال گذر گئے تو اُن کی گريڈ 17 ميں ترقی کا نوٹی فيکيشن جاری ہو گيا جبکہ اُس وقت بھی وہ مفرور تھے

سُنا تھا کہ “جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے”۔ ہمارے مُلک ميں “انصاف وہ جو سر پھوڑ کے بولے”