Category Archives: روز و شب

منتخب نمائندوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو عوام منتخب کرتے ہیں انہیں کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ وہ اپنی خواہش اور مفاد کے تحت امور چلائیں انہیں قانون اور آئین کے مطابق تمام امور سرانجام دینا ہوتے ہیں اگر کوئی منتخب نمائندہ آئین کے تقاضوں کے مطابق اپنا اختیار استعمال نہیں کرتا تو وہ حق رائے دہی کے ذریعے دیئے گئے مینڈیٹ سے انحراف کرے گا ۔ آئین کے مطابق ضروری ہے کہ ہر منتخب رکن اس کے مطابق کام کرے

عدالت نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کے تمام تر دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے پاکستان کے شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ تمام تر صورتحال سے آگاہ رہیں اور سچ جانیں اسلئے اعلیٰ ترین ججوں پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جو اس میمو کے ماخذ ، اس کی ساکھ اور اس کے مقاصد کی تفصیلی تحقیقات کرے گا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاق پاکستان نے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے میمو کے وجود سے انکار نہیں صرف تکنیکی نقائص کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ڈی جی آئی ایس آئی کی وزیراعظم کی اجازت کے بغیر منصور اعجاز سے ملاقات پر اعتراض بھی شامل ہے
منصور اعجاز نے اپنے جواب میں حسین حقانی کے موقف سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ٹھوس ثبوت دینے کیلئے تیار ہیں کہ مائیک مولن کو جیمز جونز کے ذریعے بھیجا گیا میمو حسین حقانی نے ہی لکھا تھا
حسین حقانی نے عدالت میں دیئے گئے حلف نامے میں کہا ہے کہ میں نے 2008 ء میں امریکہ میں بطور سفیر تقرری کے بعد سے پوری قوت سے ملک کی خدمت کی ہے ۔ وزیراعظم اور حکومت کی ہدایات پر فرائض سرانجام دیئے ہیں اور پاک امریکہ تعلقات میں آنے والے بہت سے بحرانوں سے نمٹا ہوں ۔ افسوسناک امریہ ہے کہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے مخالف اور پاکستان و امریکہ کے بہتر تعلقات کے مخالفین نے ہمیشہ میرے خلاف کام کیا ہے اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں کہ میں مسلح افواج کو بدنام کرنا چاہتا ہوں بہت سے دیگر پاکستانیوں کی طرح میں بھی سیاست میں فوجی مداخلت کا مخالف ہوں لیکن میں نے مسلح افواج یا ان کی قیادت کیخلاف کوئی سازش نہیں کی اور نہ ہی ان کا رتبہ کم کرنے کی کوشش کی ہے مجھ پر تازہ الزام یہ لگایا گیا ہے کہ میں نے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس ایڈمرل مائیک مولن کو ایبٹ آباد میں 2 مئی کی کارروائی کے بعد میمو لکھا جس میں پاکستان کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے لئے امریکہ سے مدد مانگی گئی میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے حکومت پاکستان نے ایسی کوئی ہدایت نہیں کی اور نہ ہی میں نے ایسا کوئی میمو لکھا ہے اور نہ ہی حکومت یا صدر کی طرف سے کسی کو یہ بھجوانے کیلئے کسی دوسرے شخص کو کہا ہے ۔ سفیر ہونے کے ناطے امریکی حکام سے ہر سطح پر رابطہ میری ذمہ داری تھی اور میں تمام سرکاری پیغامات تیار کرنے اور بھجوانے کی صلاحیت رکھتا ہوں ۔ میں درخواست کرتا ہوں میرے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کی جائے اور اسی مقصد کیلئے میں نے قومی مفاد میں استعفیٰ دیا ہے ۔
فاضل اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق وفاق کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی وفاق کی تعریف میں آتے ہیں اس لئے وہ ان سب کی طرف سے پیش ہورہے ہیں ۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ 14 دسمبر کو انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے ایک کورنگ لیٹر کے ساتھ بیانات داخل کرائے اسی طرح آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے 21 دسمبر کو حلف نامے بھی جمع کروائے گئے ۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ میمو کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ایک شخص منصور اعجاز جو امریکی شہری ملک سے باہر بیٹھا ہے اس نے اپنے طور پر امریکہ میں پاکستانی سفیر کو ملوث کرنے کیلئے یہ میمو تیار کیا وفاقی حکومت اور ایوان صدر پہلے ہی ان کی تردید کرچکا ہے اور مجاز اتھارٹی و پارلیمانی فورم اس کی تحقیقات کررہا ہے ۔
حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس میں کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اس لئے یہ درخواستیں مسترد کردی جائیں ۔ان کا موقف تھا کہ عوامی اہمیت اور بنیادی حقوق کے معاملات آپس میں ملے ہوئے ہیں اور یہ درخواستیں بدنیتی کی بنیاد پر دائر کی گئی ہیں ۔
لفظ عوامی اہمیت کے بارے میں ڈکشنری یہ کہتی ہے کہ جس معاملے میں کوئی بھی شخص شریک ہو وہ عوامی نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے ۔ یہ معاملہ کوئی شخص یا افراد مل کر اٹھا سکتے ہیں اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ بنیادی حقوق کا نفاذ یقینی بنانے کیلئے اس میمو کے ماخذ ساکھ اور مقصد کی تحقیقات ضروری ہے یہ معاملہ عوامی اہمیت کے زمرے میں آتا ہے ۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے موقف اختیار کیا کہ پارلیمانی کمیٹی میں درخواست دینے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اس لئے انہوں نے 23 نومبر کو درخواست جمع کروائی ہے جبکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس 28 نومبر کو بلایا گیا ہے ۔
عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ میمو ایک سیاسی معاملہ ہے اس لئے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کیلئے موزوں ہے
جبکہ رشید اے رضوی کا موقف ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اس لئے عدالت ہی انصاف کرسکتی ہے ۔

جہاں تک اس معاملے پر انصاف کا تعلق ہے یہ عدالتی اختیار کا امتحان ہے ہمارے ملک میں عدلیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں سیاسی امور میں ریلیف حاصل کرنے کیلئے عدالتوں سے وقتاً فوقتاً رجوع کیا گیا ان میں بے نظیر بھٹو بنام وفاق ، محمد نواز شریف بنام وفاق ، اسمبلیوں کی تحلیل اور دیگر معاملات شامل ہیں ۔
سیاسی سوال پر انصاف بنیادی طور پر اختیارات کی علیحدگی کا معاملہ ہے بہت سے امور کو سیاسی سوال کا لیبل لگا کر دبا دیا جاتا ہے ۔
حکومت کے ایک حصے کے بارے میں کوئی فیصلہ حکومت کا دوسرا حصہ نہیں کرسکتا کہ کس نے اختیار سے تجاوز کیا ہے ۔ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہوتا ہے اور عدالت ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی حتمی تشریح کرے ۔

دلائل کے دوران دو سوالات عدالت کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں کہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے مقصد کے تحت اس معاملے کی تحقیقات کی جائے اور دوسرا یہ کہ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کیخلاف تحقیقات ضروری ہے اس لئے اس معاملے کا عدالت کو آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے ۔
آئین کے دیپاچے میں عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کی ضمانت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور عدلیہ کی آزادی کا مکمل تحفظ کیاجائے گا ۔ عدلیہ آئین کے تحت دی گئی آزادی کی ضمانت پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی کیونکہ اس سمجھوتے سے حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عدلیہ نے اپنا اختیار استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری نظام مستحکم ہورہا ہے ۔
ڈاکٹر مبشر حسن بنام وفاق کیس میں عدالت نے جوڈیشل ریویو کا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے این آر او کو غیر قانونی ، غیر آئینی اور شروع سے ہی غیر موثر قرار دیا ہے اس حکم پر عملدرآمد کیلئے درخواستیں دی گئیں لیکن ہم نے آئین کے تحت جمہوری نظام یقینی بنانے کیلئے انہیں زیر التواء رکھا تاکہ کوئی انتشار پیدا نہ ہو تاہم جب بڑی کرپشن کے دھڑا دھڑ مقدمات آئے تو عدالت نے آئین کے آرٹیکلز 4,9,14 اور 25 کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کیا ہمیں خوشی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ نے بھی عدالت سے رجوع کیا جس میں رینٹل پاور منصوبے شامل ہیں جس پر ایک وزیر مخدوم سید فیصل صالح حیات نے عدالت سے رجوع کیا اسی طرح ماروی میمن نے سیلاب کے دوران دریاؤں کا رخ موڑنے سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ اٹھایا ۔ خواجہ محمد آصف او جی ڈی سی ایل کا کیس لائے اس کے ساتھ ساتھ اسٹیل ملز ، ایل پی جی ، نیشنل پولیس فاؤنڈیشن ، این آئی سی ایل ، حج انتظامات اور آر پی پیز ، کے مقدمات زیر التواء ہیں ۔ بینک آف پنجاب کیس میں کروڑوں روپے واپس لے کر بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا یہ رقم حکومتی اہلکاروں نے لوٹی تھی
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب عدالت کرپشن کا نوٹس لے گی تو یہ آسانی سے ہضم نہیں ہوگا کیونکہ عوام کا پیسہ لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی چاہے وہ کوئی بھی ہو ۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کی سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں میں آنے والے کرپشن مقدمات کا حوالہ بھی دیا ۔

اس معاملے کی تحقیقات کیلئے انتہائی تجربہ کار عدالتی افسران جو تین ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز ہیں انہیں کہا گیا کہ اور یہ کام دو زاویوں سے کیا گیا کیونکہ ایک تو یہ معاملہ پاکستان کی خود مختاری ، آزادی اور سلامتی کا ہے اور تحقیقات کے دوران بہت سے شواہد پیش ہونگے جن میں فرانزک شواہد کی بنیاد پر مجرموں کا تعین کیاجائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 9,14اور 19 اے کے تحت بنیادی حقوق کا تحفظ کیاجائے ۔
حسین حقانی کی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی صرف اتنا کہا گیا ہے کہ وہ عدالت سے اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکتے تاکہ اس میمو کے ماخذ ساکھ اور اثرات کی کمیشن مکمل تحقیقات کرسکے ۔

فیصلے میں دو ججوں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس اعجاز افضل نے اپنے الگ الگ نوٹ میں کہا کہ قومی تاریخ بہت سے سانحات سے بھری ہوئی ہے جس میں ۔ ۔ ۔
ملک کا دولخت ہونا اور ایک وزیراعظم اور ایک سابق وزیراعظم کا قتل شامل ہے ۔ ہمیں یاد ہے کہ حکومتی عہدوں پر فائز لوگ اور اس وقت کا میڈیا دسمبر 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد تک سب ٹھیک ہے کہ جھوٹی رٹ لگاتا رہا سچ کو منظر عام پر لانے اور عوام تک پہنچانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی اور شہریوں کو محض افواہوں ، قیاس آرائیوں اور نیم واضح حقائق کی اندھیر نگری میں بھٹکنے دیا گیا ایک مسخ شدہ تاریخ پیش کرکے عوام میں تفریق کی بنیاد رکھی گئی ۔

آئین کے آرٹیکل 19 اے کی بدولت سابق طریقہ کار بدل چکا ہے اس دیس کے ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ عوامی اہمیت کے امور کے بارے میں معلومات حاصل کرے ا ور اس کیلئے وہ عدالتی چارہ جوئی بھی کرسکتا ہے اور اس حق میں حکومت اور پارلیمنٹ کی قانون سازی بھی حائل نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر شہری کو یہ حق آئین نے دیا ہے ۔ فیصلے سچ سامنے لانے کی اہمیت کے حوالے سے فاضل چیف جسٹس نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں کی آیات کے حوالے بھی شامل کئے ہیں

مسٹر کلِين ؟ ؟ ؟

جنرل ريٹائرڈ پرویز مشرف پاکستان کے مسٹر کلین [دیانتدار شخص] ہونے کے دعویدار ہیں ۔ ريٹائر ہونے سے کچھ پہلے پرویز مشرف نے اپنی خود نوشت میں اعتراف کیا تھا کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا ۔ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے چند ماہ بعد پرویز مشرف نے اپنے اثاثے ظاہر کئے تھے جن کے مطابق ان کے پاس بمشکل ہی نقد رقم اور ملک کے مختلف حصوں میں چند پلاٹ تھے

اب پرویز مشرف پاکستان میں موجود اپنے ذاتی ملازمین کو کم از کم 500000 روپے ماہانہ تنخواہ ادا کر رہے ہیں

مزيد پرویز مشرف نے غیر ملکی بینکوں میں اکاؤنٹس کے علاوہ غير ممالک میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ پرویز مشرف اور صہبا مشرف کے 8 مشترکہ اکاؤنٹ ہيں جن میں علی الترتيب
17000000 اماراتی درہم
535000 امريکی ڈالر
7600000 اماراتی درہم
8000000 اماراتی درہم
8000000 امريکی ڈالر
8000000 اماراتی درہم
8000000 اماراتی درہم
اور 130000 امريکی ڈالر موجود ہيں

مزيد دبئی کی ایک آن لائن ٹریڈنگ سروس میں پرویز مشرف نے گزشتہ سال کے وسط میں 1600000 ڈالر کی سرمایہ کاری کی

يہ عِلم ميں آنے والے اثاثے صرف متحدہ عرب امارات ميں ہيں
پاکستان ۔ امريکا ۔ برطانيہ يا دوسرے ممالک کے اثاثے اس کے علاوہ ہوں گے
پاکستان اور دوسرے ممالک ميں عالی شان مکانات بھی ہيں

تفصيلات يہاں اور يہاں کلک کر کے پڑھی جا سکتی ہيں

قديم اور جديد کا امتزاج

آجکل ٹی وی پر ايک گيت چلايا جا رہا ہے جو شہزاد رائے نے جديد موسيقی پر ترتيب ديا ہے ۔ اس ميں اہم کارمنصبی بلوچستان کے ايک گاؤں کے رہنے والے کا ہے ۔ اس گيت نے مجھے لڑکپن اور نوجوانی کی ياد دلا دی جب ايسے کردار کو بہت اہميت دی جاتی تھی اور سنجيدہ محفلوں ميں بھی انہيں سنا جاتا تھا ۔ يہ لوگ ايک لَے ميں اپنے ہی تيار کردہ گيت پيش کرتے تھے جو کہ ذومعنی ہوتے تھے اور معاشرے کی عکاسی کرتے تھے يا اصلاحِ معاشرہ کی ترغيب ديتے تھے

جديد موسقی کا عبادہ اوڑھے قديم روائتی گيت حاضر ہے جس ميں قديم گيت ہی چھايا ہوا ہے

بچپن کی ياد اور ہماری حالتِ زار

جب ميں سيکنڈ سٹينڈرڈ [شايد تیسری جماعت کے برابر] کا امتحان دے رہا تھا ۔ ميں نے اختياری مضمون موسيقی کا امتحان ديا تو جو گانا ميں نے موسيقی کے ساتھ گا کر اوّل انعام حاصل کيا تھا اْس کے بول يہ تھے

نگری ميری کب تک يونہی برباد رہے گی
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

2 جنوری کو ڈاکٹر عبدالقدير خان کی تحرير “اپنا ہُنر بيچتا ہوں” پڑھتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ يہ گانا برصغیر کے مشہور اِنقلابی شاعر نواب شبّیر حسن خان جوش فلم ڈائريکٹر ڈبلیو زیڈ احمد کے اصرار پر انہوں نے فلم ”ایک رات“ کيلئے لکھا تھا ۔ ايک اور دلچسپ حقيقت يہ ہے کہ ڈبلیو زیڈ احمد صاحب اليکٹريکل انجيئر تھے اور انہوں نے ہميں انجيئرنگ کالج کے پہلے سال ميں پڑھايا بھی تھا ۔اس فلم کيلئے لکھنے پر معاوضہ ملا تھا جس کا نواب شبّیر حسن خان جوش صاحب کو قلق تھا اور انہوں نے يہ شعر لکھا

نہ ہوگا کوئی مجھ سا بھی تیرہ قسمت
میں کم بخت اپنا ہُنر بیچتا ہوں

انہوں نے ہندوستانیوں کی حالت زار بھی یوں بیان کی

سنا تو ہوگا تو نے ایک انسانوں کی بستی ہے
جہاں جیتی ہوئی ہر چیز جینے کو ترستی ہے

ڈاکٹر عبدالقدير خان لکھتے ہيں
چیزیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں اسی لئے بیچنے والے کے نام سے اس کا پیشہ جُڑ جاتا ہے جیسے سبزی فروش، گندم فروش، موتی والا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمارے ملک میں ایک اور نہایت مکروہ اور قابل ہتک نام بھی ہے اور وہ ہے ”وطن فروش“ جسے عرف عام میں غدّار کہتے ہیں۔ بلکہ یہ نام یا لقب غدّار سے بھی زیادہ قابل نفرت ہے کیونکہ غدّار تو ایک گروپ، فرقہ یا چند لوگوں سے بے وفائی کرتا ہے لیکن وطن فروش تو اپنے ہم وطنوں کی عزّت، غیرت، حمیت، جان و مال کا سودا کردیتا ہے۔ تاریخ میں ایسے وطن فروشوں کی کئی کہانیاں ہیں جن کی وجہ سے نسلیں تا قیامت اُن پر لعنت بھیجتی رہینگی۔ سب سے مشہور مثال ہمارے سامنے بنگال کے میر جعفر اور دکن کے میر صادق کی ہے۔ جن کا ذکر علامہ اقبال نے بھی اپنے کلام میں یوں کیا ہے
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
میر جعفر نے اگر نواب سراج الدولہ کے ساتھ غدّاری نہ کی ہوتی تو ہماری تاریخ مختلف ہوتی اور تمام انگریز وہیں نیست و نابود کردیے جاتے۔ اسی طرح میر صادق نے ٹیپو سلطان کے ساتھ غدّاری کی اور جنوبی ہند پر انگریزوں کا راج قائم ہوگیا ۔ بڑی بڑی حکومتیں غدّاری کے سبب فنا ہوگئیں

پرویز مشرف کا دور آیا تو سیاسی لوگ اور بیورو کریٹس حکومت کے ہم نوا بن کر اقتدار اور دولت دونوں حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگ گئے۔ جس کی جیتی جاگتی مثال ایک صاحب ہیں جنھوں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کے دن ہمارے سامنے مٹھائی بانٹی اور آج ان سے بڑا مخالفین کو لعن طعن کرنے والا ملک میں نہیں ۔ پرویز مشرف کے آرمی چیف بننے اور حکومت پر قبضہ کرنے سے پیشتر ہی فوج کو اور عوام کو اس کے کردار کے بارے میں تمام باتوں کا علم تھا۔ جوں ہی اس نے حکومت پر ناجائز قبضہ کیا تو اپنے ساتھ لٹیروں کا ایک گروہ ملا لیا۔ ملک کی عزّت و وقار کو چند ٹکوں میں بیچ دیا ۔ ہمیں امریکی کالونی بنادیا ۔ اپنے ہزاروں شہریوں کو قتل کردیا اور دوسروں سے کرایا۔ اپنے لوگ بیچ کر اس بارے میں اپنی کتاب میں فخریہ اس کی رقم وصول کرنے کا ذکر کیا۔ عورتیں، بچّے، علماء، بزرگ سیاستداں نواب اکبر بگتی وغیرہ کو شہید کیا۔ چوروں لٹیروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کردیئے

ایک وقت تھا جب ہمارے یہاں سرفروشوں کی عزّت کی جاتی تھی مگر اب ہم ضمیر فروشوں ، غدّاروں اور منافقوں کو ہیرو بنائے پھرتے ہیں ۔ اب وطن فروشوں نے ملک کے اندر ایسی پالیسیاں اختیار کرلی ہیں کہ بجائے جنگ کے ہم اقتصادی ، مالی اوراخلاقی طور پر ختم ہو کر پرانے غدّاروں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے

ڈاکٹر عبدالقدير خان نے ايک وطن فروش جماعت علی شاہ کا ذکر نہيں کيا جسے پرويز مشرف نے انڈس واٹر کميشن کا سربراہ بنايا تھاکہ پاکستان کے پانيوں کے حقوق حفاظت کرے اور وہ 30 ستمبر 2011ء کو ريٹائر ہوا ۔ جماعت علی شاہ پاکستان کے حق کی بجائے بھارت کے ناجائز اقدامات کی حفاظت کرتا رہا جس کے نتيجہ ميں بھارت نے 2002ء سے 2009ء تک مقبوضہ جموں کشمير کی سرزمين پر دريائے سندھ کا پانی روکنے کيلئے دو بڑے ڈيم بنا لئے ۔ ايک 57 ميٹر اُونچا نمُو بازگو کے مقام پت دريائے سندھ پر اور دوسرا 42 ميٹر اُونچا دريائے سندھ ميں شامل ہونے والی سورو ندی پر چتّر کے مقام پر ۔ ان 2 ڈيموں ميں 4238400000 مکعب فٹ پانی روکا جا سکتا ہے ۔ مزيد يہ کہ پاکستان کے ماحول کی حفاظت کے نام پر بھارت نے اقوامِ متحدہ سے 482083 ڈالر امداد بھی حاصل کر لی مگر جماعت علی شاہ اپنی قوم کو بيوقوف بناتے رہے کہ بھارت کچھ نہيں کر رہا ۔ کمال يہ ہے کہ 23 ستمبر 2011ء کو جماعت علی شاہ کی کارستانياں معلوم ہونے پر اُسے ايگزِٹ کنٹرول لسٹ پر رکھا گيا تھا مگر وہ کنيڈا جا پہنچا ہے

مقبوضہ جموں کشمير ميں بھارت کی طرف بنائے جانے والے ڈيموں کے متعلق ميں ماضی ميں اپنے بلاگ پر اور اخبار ميں لکھتا رہا ہوں ۔ ميں نے اس سلسلہ کی آخری تحرير اسی بلاگ پر 31 جولائی 2010ء کو لکھی تھی

آ بيل مجھے مار

شير محمد خان صاحب 15 جون 1927ء کو تحصيل پھلور ضلع جالندھر مشرقی پنجاب ميں پيدا ہوئے ۔ اُنہوں نے 1946ء ميں پنجاب يونيورسٹی سے بی اے پاس کيا ۔ پاکستان کے معرضِ وجود ميں آنے کے بعد کراچی ميں بسيرا کيا اور 1953ء ميں کراچی يونيورسٹی سے ايم اے پاس کيا ۔ وہ ايک بہترين مزاح نگار تھے اور کالم نويس بھی ۔ عمدہ شاعری کرتے تھے اور سفرنامے بھی خوب لکھتے تھے ۔ دنيا اُنہيں ” ابنِ انشاء ” کے نام سے جانتی پہچانتی ہے ۔ ہاجکنز لِمفوما ميں مبتلاء ہو کر 11 جنوری 1978ء کو لندن ميں وفات پائی اور کراچی ميں دفن ہوئے

ہوا يوں کہ ميں عنوان “نوکری” ديکھ کر جا پہنچا اُس تحرير پر جو ام تحريم صاحبہ نے “ابنِ انشاء” کی تصنيفات ميں سے اپنے بلاگ “ارتقاءِ حيات” پر نقل کی تھی ۔ دوسری غلطی يہ ہوئی کہ وہاں تبصرہ کے خانے ميں لکھ ديا کہ انشاء جی نے کہا کُوچ کرو اور خود کُوچ کر گئے ۔ خوب لکھا کرتے تھے ۔ ان کی آخری نظم يہاں ملاحظہ فرمايئے
https://theajmals.com/blog/2005/11/12

تير تو ميری کمان سے نکل گيا تھا ۔ اب پچھتائے کيا ہو ۔ جواب ميں آيا ايک ميزائل ان الفاظ ميں ” ساتھ ہی اس کی ویڈیو بھی شیئر کرتے تو کیا ہی بات تھی

ميں ٹھہرا غيرتمند [:lol:]۔ ناک پر کبھی مکھی نہ بيٹھنے دی ۔ ہو گيا انٹرنيٹ کے گھوڑے پر سوار اور نکل گيا يوٹيوب کے جنگل کی طرف اور رکھ لی ميرے رب نے ميری عزت اور مل گيا مجھے جس کی تلاش تھی

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو ۔ ۔ ۔ اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب ۔ ۔ ۔ جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں ۔ ۔ ۔ دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ ۔ ۔ ۔ اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا ۔ ۔ ۔ زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو ۔ ۔ ۔ سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں ۔ ۔ ۔ کیوں بن میں نہ جا بسيرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے ۔ ۔ ۔ تو اور کرے دیوانہ کیا

امتحان

آج ميرا ارادہ سانحہ مشرقی پاکستان کے سلسہ ميں عدنان شاہد صاحب کے سوال کا جواب شائع کرنے کا ارادہ تھا ليکن احمد عرفان شفقت صاحب نے 18 دسمبر کو مطلع کيا کہ 15 دسمبر کے بعد کی ميری تحارير اُردو سيارہ پر نمودار نہيں ہو رہيں ۔ يہ ڈی اين ايس کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے ليکن ميں نے اُسی دن اُردو سيارہ کی انتظاميہ کی توجہ بھی اس طرف مبزول کرا دی تھی ۔ آج کی يہ تحرير ديکھنے کيلئے ہے کہ ميرا بلاگ اُردو سيّارہ پر نمودار ہو گيا ہے يا کہ نہيں

پيپلز پارٹی اور نصرت بھٹو

ايک کھلنڈرا نوجوان قائدِ عوام کيسے بنا ؟
پيپلز پارٹی کس کا تخيل تھا ؟
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پيپلز پارٹی کيونکر قائم رہی ؟
بينظير کو سياست کس نے سکھائی ؟
مرتضٰے بھٹو کيوں قتل ہوا ؟

ميں اپنی پرانی ڈائريوں سے اس پر حقائق کافی حد تک جمع کر چکا تھا کہ ايک مختصر مگر جامع مضمون اسی کے متعلق شائع ہو گيا جو ميری معلومات سے ملتا جُلتا ہے ۔ ملاحظہ فرمايئے

میرا اُن کی شخصیت کے ساتھ پہلا تعارف روزنامہ مساوات میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کی وساطت سے ہوا۔ وہ اُن دنوں اس ادارے کی چیئرپرسن تھیں اور اُس کے معاملات میں دلچسپی لیتی تھیں۔ ایک روز میں نے اپنے ایک واقفِ کار سے جواسی اخبار میں کام کرتے تھے ۔ بیگم صاحبہ کے مزاج اُن کے رویوں کے بارے میں پوچھا تو اُس نے میری توقع کے بالکل برعکس اُن کی تعریف و توصیف شروع کر دی ۔ مجھے اُن کی باتیں سن کر حیرت انگیز خوشی ہوئی اور میں نے بیگم صاحبہ کی شخصیت کا بھٹو صاحب کی شخصیت سے ہٹ کر مطالعہ شروع کر دیا

اصفہان میں نصرت ایک امیر تاجر کے ہاں پیدا ہوئیں ۔ اُن کے والد کراچی منتقل ہونے کے بعد صابن سازی کا کارخانہ چلانے لگے۔ ایران کے حوالے سے اس خاندان کے تعلقات اسکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سے قائم ہوئے جنہوں نے آگے چل کر نصرت اور بھٹو کو شادی کے بندھن میں پرو دیا ۔ اس طرح جوان سال بھٹو جو امریکہ سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان آئے اُن کے بیگم نصرت بھٹو کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں صدر اسکندر مرزا سے مراسم پیدا ہوئے جن کی بدولت وہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد میں شامل کر لیے گئے۔

نصرت بھٹو اپنے شوہر کو سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہی تھیں۔ صدر اسکندر مرزا کے ذریعے مسٹر بھٹو جنرل ایوب خان سے متعارف ہوئے۔ جب اکتوبر 1958ء میں پہلا مارشل لاء لگا تو وہ لندن میں تھے۔ انہیں کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت آئی تو نصرت بھٹو نے اُنہیں یہ دعوت قبول کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ اُنہی کے اصرار پر وہ کابینہ میں شامل ہوئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھٹو صاحب کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں اُن کی اہلیہ نے ایک خاموش مگر انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جبکہ وہ خود تاریخ کی آنکھ سے چھپی رہی تھیں۔ مسٹر بھٹو ایوب خان کے دور میں وزیرِ خارجہ بنے اور بڑی شہرت پائی۔

اس دوران عائلی زندگی میں کئی نشیب و فراز لیکن نصرت بھٹو نے بڑی دانائی اور فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے اپنے شوہر کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کیا نہ اپنی جداگانہ شخصیت کا امیج بنانے کی ذرہ برابر کوشش کی۔ ان کی تمام تر توجہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر مرکوز رہی اور اُن کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ بھٹو صاحب عالمی سطح پر بلند پایہ لیڈر کے طور پر پہچانے جائیں اور پھر معاہدہٴ تاشقند کا سخت مرحلہ پیش آیا اور آخر کار صدر ایوب خان اور وزیرِ خارجہ زیڈ اے بھٹو کے راستے جدا ہو گئے اور وہ کابینہ سے نکال دیے گئے۔

آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے بعد اُن کے لیے یہ ایک سخت جاں مرحلہ تھا جس میں بیگم نصرت بھٹو نے اُنہیں دلاسہ دیا اور بدلتے ہوئے ملکی حالات کے پیشِ نظر اپنی سیاسی جماعت بنانے کا مشورہ دیا چنانچہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور تین سال کے اندر
پاکستان کے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور بعد ازاں وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز ہونے میں کامیاب رہے۔

بیگم نصرت بھٹو کا پیپلز پارٹی کی تشکیل میں سب سے قابلِ قدر کارنامہ یہ تھا کہ اُنہوں نے اس میں خواتین کا ونگ قائم کیا تحصیل اور ضلع کی سطح پر انتخابات کرائے اور کارکنوں نے اُنہیں قومی سطح پر باقاعدہ منتخب کیا۔ وہ حقیقی معنوں میں جمہوریت کی علمبردار اور اسے سیاسی جماعتوں کے اندر نچلی سطح تک رائج کرنے کی زبردست حامی تھیں۔ اسی ونگ کے ذریعے اُنہوں نے بہت سا فلاحی کام کیااور عام لوگوں کے اندر سیاسی بیداری پیدا کی۔ اُن کے ہاں محبت اور خیر خواہی کا جذبہ گہرا اور ہمہ گیر تھا۔ وہ 1973ء سے 1977ء تک پاکستان کی خاتونِ اوّل رہیں مگر خود نمائی سے پرہیز کیا اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ ہر صبح ناشتے کی میز پر مسٹر بھٹو سے ملکی اور عالمی حالات پر تبادلہٴ خیال کرتیں لیکن امورِ ریاست میں مداخلت سے پرہیز کرتی رہیں۔

وہ اپنے شوہر کو سیاسی تقویت پہنچانے کے ساتھ ساتھ اب اپنی بیٹی بے نظیر کی تعلیمی اور ذہنی تربیت پر توجہ دے رہی تھیں جو مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تھیں۔

1977ء میں حالات نے ایک بہت بڑا پلٹا اُن کے شوہر کی حکومت ختم ہو گئی اور فوج نے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ مسٹر بھٹو گرفتار کر لیے گئے اور پیپلز پارٹی کو کڑی آزمائش نے آ لیا۔ اس انتہائی نازک موقع پر بیگم نصرت بھٹو نے غیر معمولی تدبر تحمل اور فولادی عزم کا ثبوت دیا۔ اُن کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بے پناہ توانائیوں کے ساتھ اُجاگر ہوئیں اور اُنہوں نے ظلم اور جبر کا ہر وار بڑی بہادری اور مردانگی سے برداشت کیا اور لازوال جدوجہد کے ذریعے جمہوریت کی شمع روشن رکھی۔ مسٹر بھٹو پر جب قتل کا مقدمہ چلنا شروع تو بیگم صاحبہ نے عدالتوں میں بھی
بڑے حوصلہ مندی سے جنگ لڑی اور سیاسی میدان میں ایک شیر کی طرح غاصبوں پر جھپٹی رہیں۔ اُنہوں نے قائدانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا اور عوام کے ساتھ اُنہوں نے جو ایک گہرا تعلق پہلے سے پیدا کر رکھا تھا اس کے ذریعے کارکنوں کے اندر مزاحمت کی روح پھونکی اور اُنہیں فوجی آمریت کے مدمقابل ایک مضبوط سیاسی قوت میں ڈھال دیا۔ مسٹر بھٹو کی پھانسی کا صدمہ بھی اُنہوں نے اس طرح برداشت کیا جیسے وہ ہمت و عزیمت کی ایک ناقابلِ تسخیر چٹان ہوں۔

اُن کی فہم و فراست کا سب سے بڑا شاہکار یہ تھا کہ اُنہوں نے اُن تمام عناصر کو بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں اپنے ساتھ شامل کیا جنہوں نے پی این اے میں مسٹر بھٹو کے خلاف عوامی تحریک چلائی تھی۔ اُنہیں سرطان کا مرض لاحق ہو چکا تھا اس کے باوجود اُنہوں نے تحریکِ مزاحمت کی قیادت کی۔ سندھ میں ایم آر ڈی ناکام رہیلیکن جنرل ضیاء الحق پر اس قدر دباوٴ بڑھا کہ انہیں انتخابات کرانا پڑے اور یہی انتخابات آگے چل کر 1988ء کے انتخابات پر منتج ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے قومی سطح پر واضح کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی بیگم نصرت بھٹو کی رہینِ منت تھی مگر اُنہوں نے اقتدار کا تاج اپنی بیٹی بے نظیر کے سر پر رکھا اور خود سینئر وزیر بننے پر اکتفا کیا۔

اُن کا خلوص اور اُن کا ایثارآگے چل کر اقتدار کی کشمکش میں اُن کے لیے بڑی اذیت کا باعث بنا۔ 1993ء میں انتخابات ہوئے تو ماں نے بیٹی سے کہا کہ میرا اصل جان نشین میرا بیٹا میر مرتضیٰ بھٹو ہے جو اس وقت جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا ہے اسے پاکستان میں آنے اور انتخابات میں آنے کی اجازت دی جائے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اسے سندھ کی وزارتِ اعلیٰ کا منصب ملنا چاہیے مگر وزیرِ اعظم بے نظیر
نے اس خیال کی مخالفت کی تاہم بڑی رودکد کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو پاکستان آگئے اور وہ عظیم اور بیدار مغز ماں جس نے بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں لانے کے لیے راہ ہموار کی وہ اپنی بیٹی کی کرپٹ حکومت سے بیزار ہوتی گئی اور وہ اپنے بڑے بیٹے کی سیاسی حمایت میں اسی طرح سرگرم ہوگئیں جس طرح اُنہوں نے اپنے شوہر کی جان بچانے اور پیپلز پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے تگ و دو کی تھی۔

بیگم نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی وزیرِ اعظم بے نظیر سے کہا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کے دو مطالبات ہیں۔ ایک یہ کہ پارٹی میں انتخابات کرائے جائیں
اور دوسرا یہ کہ حکومت کو بدترین کرپشن سے پاک صاف کیا جائے۔ یہ دونوں مطالبات درست ہیں اور اُنہیں تسلیم کیا جائے۔ اس دوٹوک اعلان کے بعد 70 کلفٹن کے سامنے میر مرتضیٰ بھٹو گولیوں سے بھون دیئے گئے کیونکہ وہ جناب آصف زرداری اور بے نظیر کے اقتدار کو چیلنج کر رہے تھے