Category Archives: روز و شب

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ تبدیلی

جو لوگ اچھی تبدیلی کے بعد اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے ہیں ۔ اُن کا وجود قائم رہتا ہے
جو لوگ اچھی تبدیلی کے ساتھ ہی تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ وہ کامیاب ٹھہرتے ہیں
جو لوگ اچھی تبدیلی لاتے ہیں ۔ وہ مشعلِ راہ بنتے ہیں

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” They can Get Away with Murder “

خوش قسمت۔ بدقسمت

چند برس قبل میں شام کو جس طرف سیر کے لئے جاتا تھا وہاں نئی آبادی زیر تعمیر تھی۔ اکثر پلاٹ خالی پڑے تھے اور چند گھر تعمیر کے عمل سے گزر رہے تھے۔ وہاں نہ ٹریفک تھی، نہ گرد و غبار اور نہ شور، چنانچہ میں سیر کے لئے اسے بہترین علاقہ سمجھتا تھا۔ چند گھر جو زیر تعمیر تھے ان سب کے اپنے اپنے چوکیدار تھے جو شام کو گھروں کے سامنے اینٹوں کا چولہا بنا کر سالن پکانے میں مصروف ہوتے اور ساتھ ہی ساتھ ٹرانسسٹر کے گانوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے۔ ایک زیر تعمیر گھر کے سامنے مجھے ایک بوڑھا اور سنجیدہ سا چوکیدار نظر آتا جو کبھی چارپائی پر لیٹا آسمان سے باتیں کررہا ہوتا، کبھی نماز پڑھ رہا ہوتا اور کبھی اینٹوں کے چولہے پر سالن یا چائے بنانے میں مصروف ہوتا۔کچھ عرصے تک مسلسل سیر کرنے کی وجہ سے میں ان تمام چوکیداروں اور زیر تعمیر گھروں میں رہائش پذیر مزدوروں کے چہروں اور شام کی مصروفیات سے واقف ہوگیا

مجھے اس علاقے میں سیر کرتے ہوئے ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک روز اس بوڑھے چوکیدار کی خالی چارپائی دیکھ کر مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی۔میں کوئی دو فرلانگ آگے گیا ہوں گا کہ وہ مجھے آتا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا جس کے ہاتھ میں شاپر تھا۔ جب وہ قریب آئے تو میرے لئے اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ نوجوان بوڑھے چوکیدار کا بیٹا ہے اور شاپر میں کھانے کا سامان ہے۔ اس روز شاید بیٹے کی خاطر مدارات کے لئے چوکیدار کھانا بازار سے خرید لایا تھا اور اس نے اپنا چولہا گرم نہیں کیا تھا۔ بیٹا باپ کے ساتھ نہایت مؤدب انداز سے چل رہا تھا اور مارے ادب کے باپ سے ایک دو قدم پیچھے رہتا تھا۔ عام لوگوں کے برعکس دونوں باپ بیٹا خاموشی سے چلتے آرہے تھے۔ میں جب سیر کا کوٹہ مکمل کرکے لوٹا تو دیکھا کہ وہ بوڑھا چوکیدار ننگی چارپائی پر لیٹا ہوا ہے اور اس کا بیٹا اس کی ٹانگیں دبا رہا ہے

کچھ عرصہ سیر کے دوران مشاہدے کے عمل سے گزرتے ہوئے مجھے اندازہ ہوگیا کہ بوڑھے چوکیدار کا بیٹا کہیں مزدوری کرتا ہے، وہ ہفتے میں ایک دو بار چکر لگاجاتا ہے لیکن ہر اتوار وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ آتا ہے اور باپ کے ساتھ چند گھنٹے گزارتا ہے۔ میں ہر اتوار دیکھتا کہ بوڑھا چوکیدار چارپائی پر لیٹا ہوا ہے اس کا بیٹا ساتھ بیٹھاہوا ہے یا باپ کو دبا رہا ہے۔ پوتا کھیل رہا ہے یا دادا جان سے باتیں کررہا ہے اور بہو اینٹوں کے چولہے پر رکھی ہانڈی میں کچھ پکا رہی ہے یا پھر توے پر روٹیاں پکانے میں مصروف ہے۔ یہ ان کا مستقل معمول تھا۔ میں نے کئی بار بوڑھے چوکیدار کو مارکیٹ کی طرف جاتے یا آتے دیکھا اور ہر بار غور سے مشاہدہ کیا کہ اس کا بیٹا نہایت مودب تھا اور اپنے باپ کے برابر کبھی نہیں چلتا تھا بلکہ ہمیشہ باپ سے چند قدم پیچھے رہتا تھا

میرے ایک عزیز بیمار ہوئے تو ڈاکٹر نے انہیں سیکینگ اور ٹیسٹوں کے لئے کہا۔ وہ لاہور میں نہر کنارے ایک کلینک میں گئے اور شام کو مجھے رسیدیں دیں کہ وہاں سے رزلٹ منگوادوں۔میں جب اس کلینک میں داخل ہوا تو استقبالئے میں اس بوڑھے چوکیدار کو دیکھا۔ اس کا بیٹا اس کے کندھے دبا رہا تھا میں نے ان سے خیر خیریت پوچھی۔ پتہ چلا بیٹا باپ کو کسی مخصوص ٹیسٹ کے لئے لایا ہے جو صرف چند کلینکوں میں ہوتا ہے۔ جھجکتے جھجکتے میں نے پوچھا کہ کوئی خدمت؟ جواب میں شکریہ اور دعا

اب منظر بدلتا ہے

کچھ عرصہ قبل میں ایک ارب پتی شخص کے پاس بیٹھا تھا کہ اچانک اس کے نور چشم نے زور سے کمرے کا دروازہ کھولا اور بے مروت انداز سے کہا ”ڈیڈ، آپ کی مہنگی کار تھوڑی سی لگ گئی ہے۔ کل اس کی مرمت کروا لیجئے گا“۔ باپ نے کہا ”بیٹے اپنی گاڑی لے جاتے“۔ جواب ملا ”دوستوں کا اصرار تھا آج مہنگی کار پر ریس لگانی ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور چلا گیا۔ ارب پتی سیٹھ نے شرمندگی پر پردہ ڈالتے ہوئے فقط یہ کہا ”آج کل کی نوجوان نسل بڑی بدتمیز ہے“۔

ایک روز مجھے ایک دیرینہ آشنا رئیس شخص کی وفات کی خبر ملی جو لاہور کے ایک مہنگے اور پوش علاقے میں رہتے تھے۔ ان کی اہلیہ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ اپنے گھر میں چند ملازمین کے ساتھ مقیم تھے۔ دو ہی بیٹے تھے جو بیرون وطن رہائش پذیر تھے۔ میں جب ان کے گھر پہنچا تو ان کے چند عزیز و اقارب کرسیوں پر بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ اتنے میں ان کا پرانا ملازم آیا تو میں نے ایک طرف لے جاکر اس سے پوچھا کہ ”مرحوم کے صاحبزادگان کو بیماری اور موت کی خبر دی تھی یا نہیں؟“ اس نے سوگوار لہجے میں بتایا ”جب صاحب اچانک شدید بیمار ہوئے تو میں نے فون کرکے دونوں صاحبزادوں کو اطلاع دے دی تھی اور دونوں نے کہا تھا کہ وہ جلدی آنے کی کوشش کریں گے۔ صاحب دو دن بیمار رہے، دونوں بیٹے فون کرکے خیریت پوچھتے رہے۔ آج رات ان کو انتقال کی خبر بھی دے دی تھی اور وہ کہہ رہے تھے کو جونہی جہاز میں سیٹیں ملتی ہیں وہ پہنچ جائیں گے۔ تھوڑی دیرقبل فون آیا ہے کہ فی الحال جہاز میں جگہ نہیں مل رہی اس لئے انتظار نہ کریں اور ابا جان کو دفنا دیں“۔

میں جب انہیں سپرد خاک کرکے لوٹا تو دوہرے صدمے میں مبتلا تھا۔ ذہن خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا اور بار بار یہی سوال ذہن میں ابھرتا تھا کہ وہ بوڑھا چوکیدار غربت کے باوجود خوش قسمت انسان ہے جس کی اولاد سعادت مند ہے یا وہ دولت مند جن کی اولاد والدین کی پرواہ کرتی ہے نہ احترام…؟؟

تحریر ۔ ڈاکٹر صفدر محمود

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ طور طریقہ

اپنے اندر صلاحیت پیدا کیجئے کہ کسی معاملہ پر غصہ نہ آئے
اختلاف کی صورت میں انصاف کے ساتھ مقابلہ کیجئے
کھونے کی صورت میں سبق نہ کھویئے
دیانتدارانہ ناکامی بُری کامیابی سے بہتر ہے

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Torturous Past “

مرد ایسے کیوں ؟

پرانے وقتوں میں پردہ کا مسئلہ نہ بھی ہو اور بیٹھے بھی ایک پنڈال کے نیچے یا ایک ہی کمرے میں ہوں تو بھی مرد اور خواتین کی محفلیں علیحدہ علیحدہ جمتی تھیں گو کبھی کبھی کوئی مرد عورتوں کی باتوں میں یا عورت مردوں کی باتوں میں مُخل ہو جاتے تھے ۔ پھر وہ وقت آیا کہ مرد عورتوں کی مخلوط محفلیں شروع ہوئیں لیکن اگر کوئی مرد کسی مرد سے یا باقی سب مردوں سے بات کر رہا ہو تو مخاطب ایک یا سب مرد اُسی مرد کی طرف متوجہ رہتے تھے

پچھلی دو دہائیوں سے ایک ایسی عادت زیادہ تر مردوں میں دیکھ رہا ہوں جو پہلے یا تھی ہی نہیں یا پھر مجھے محسوس نہیں ہوئی ۔ اب مردوں کا جو رویّہ میں نے بار بار دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں مرد ایک طرف اور عورتیں دوسری طرف بیٹھی ہیں ۔ مرد آپس میں بات کر رہے ہیں ۔ اگر عورتیں کوئی بات آپس میں کرنے لگتی ہیں تو زیادہ تر مرد عورتوں کی بات سُننے لگ جاتے ہیں ۔ مردوں کی بات پر بالکل توجہ نہیں دیتے ۔ خواہ بولنے والا مرد اُس مرد کے ہی پوچھے ہوئے سوال کا جواب دے رہا ہو ۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ جس سے سوال پوچھا گیا تھا اُس نے سوال پوچھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن مجال ہے اُس کی فریاد یا غُصہ سوال پوچھنے والے کے کان میں گھُس سکا ہو کیونکہ وہ تو عورتوں کی طرف ہمہ تن گوش ہے خواہ عورتیں کوئی بلا مقصد گپ ہی لگا رہی ہوں

میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ مردوں میں یہ تبدیلی کیونکر آئی ؟
کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا
میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا
قسمت کی یہ ہیرا پھیری
کوئی سُنتا نہیں بات کو میری

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ محنت

خوبی جد و جہد میں ہے نہ کہ انعام پانے میٰں
جو محنت کرتا ہے وہ زندہ رہتا ہےاپنی نظر منزلِ مقصود پر رکھیئے
راستہ کی مشکلات پر پریشان نہ ہوتے ہوئے منزلِ مقصود پر توجوہ مرکوز رکھیئے

The display of collective grief at the Paris murders on January 7 of the personnel of the French satirical magazine Charlie Hebdo is understandable. But there is also a degree of hypocrisy in this narrative. Apparently, some victims of violence are more equal than others. Specifically the bodies of Muslims are considered less worthy compared to the French.

تفصیل یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Paris – Acounter Narrative “

موجودہ حالات کی جڑ کہاں ہے ؟

اگر آپ کو پاکستان سے ذرا سا بھی لگاؤ ہے تو کچھ وقت نکال کر مندرجہ ذیل اقتباس پڑھ کر اندازہ لگایئے کہ ہمارا یہ مُلک موجودہ حال کو کیسے پہنچا اور فکر کیجئے کہ اسے درست کیسے کرنا ہے
خیال رہے کہ بنی عمارت کو گرانا آسان ہوتا ہے لیکن نئی عمارت کی تعمیر وقت اور محنت مانگتی ہے اور گری عمارت کی بحالی کیلئے زیادہ وقت ۔ زیادہ محنت اور استقلال ضروری ہوتا ہے
مت بھولئے کہ آپ کا مُستبل آپ کے ہاتھ میں ہے اور اسے آپ ہی نے بنانا ہے

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شاہد عزیر (جو نہ صرف پرویز مشرف کو قریب سے جانتے تھے بلکہ اُس دور میں روشن خیالی کے نام پر اس بے غیرتی اور بے ہودگی کے وجوہات سے بھی واقف تھے) لکھتے ہیں

میری ریٹائرمنٹ کے بعد مارچ 2006ء میں، جن دنوں میں نیب (NAB) میں تھا، امریکہ کے صدر حضرت جارج بُش اسلام آباد تشریف لائے۔ رات کو پریزیڈنٹ ہاؤس میں کھانا ہوا اور ایک ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا۔ پروگرام میں پاکستان کی تہذیب پر ایک نگاہ ڈالی گئی کہ ہماری تہذیب پر تاریخ کے کیا اثرات رہے
پہلی تصویر ہمارے معاشرے کی موہنجو ڈارو کے ادوار کی پیش کی گئی۔ نیم عریاں لڑکیوں نے ناچ کر ہمیں سمجھایا کہ ہماری ثقافت کی ابتداء کہاں سے ہوئی
پھر بتایا گیا کہ الیگزینڈر کے آنے سے ہم نے ایک نیا رنگ حاصل کیا۔ اس رقص میں فیشن بدل گیا اور لباس بھی مزید سکڑ گئے
پھر اگلا رقص عکاسی کرتا تھا ہندوانہ تہذیب کی برہنگی کا جس کا اثر ہماری تہذیب پر رہا

جب لباس غائب ہونے لگے تو میں ڈرا کہ آگے کیا آئے گا لیکن پھر
کافرستان کی رقاصائیں آ گئیں کہ یہ اب بھی یہاں ناچتی ہیں۔ صرف اس پیشکش میں کچھ ملبوس نظر آئے
اگلے رقص میں چھتریاں لئے برطانیہ کی میم صاحبائیں دکھائی گئیں جنہوں نے چھتریوں کے علاوہ دستانے بھی پہنے تھے اور کچھ رومالیاں ہاتھوں سے باندھی ہوئی تھیں
پھر اگلے رقص میں پاکستان کی موجودہ تہذیب کی عکاسی میں لڑکوں اور لڑکیوں نے مل کر، خفیف سے ملبوس میں جنسی کنائیوں (sexual innuendoes) سے بھرپور رقص پیش کر کے حاضرین کو محظوظ کیا
آخر میں ایک اور انوکھا رقص پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ وہ مستقبل ہے جس کی طرف ہم رواں ہیں ۔ اسٹیج پر برہنہ جانوروں کی مانند بل کھاتے، لپٹتے ہوئے اپنے مستقبل کی تصویر دیکھ کر جی چاہا شرم سے ڈوب مروں، مگر حیوانیت نے آنکھیں بند نہ ہونے دیں

بچپن میں سنا تھا کہ یہاں کبھی محمد بن قاسم بھی آیا تھا اور بہت سے بزرگان دین بھی مگر شاید اُن کا کچھ اثر باقی نہ رہا تھا
جب ہم اپنا تماشا دکھا چکے اور حضرت بش اُٹھ کر جانے لگے تو تمام مجمع بھی اُن کے پیچھے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ دروازے پر پہنچ کر رُک گئے پھر ہماری طرف مُڑے تو سارا مجمع بھی ٹھہر گیا۔ دانت نکال کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے، گھُٹنے جھُکا کر کو لہے مٹکائے، دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بجائیں اور سر ہلا کر تھوڑا اور مٹک کر دکھایا جیسے کہہ رہے ہوں، ”ہُن نَچو“۔
جس کی خوشی کے لئے ہم نے قبلہ بدل لیا، اپنی تاریخ جھٹلا دی، اپنا تمدن نوچ کر پھینک دیا، وہ بھی لعنت کر گیا

روشن خیالی کے نام پر بے شرمی اور بے غیرتی کے اس واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے جنرل شاہد عزیز لکھتے ہیں

سی جی ایس (CGS) کی کرسی پر دو سال مجھ پر بہت بھاری گزرے۔ سب کچھ ہی غلط ہوا۔ افغانستان پر غیر جانبداری کا جھانسا دے کر امریکہ سے گٹھ جوڑ کیا اور مسلمانوں کے قتل و غارت میں شامل ہوئے۔ نئے نظام کے وعدے پر آنے والا ڈکٹیٹر ریفرنڈم کے جعلی نتیجے کے بل بوتے پر پانچ سال کے لئے صدر بنا، نااہل اور کرپٹ سیاستدانوں کی حکومت فوج کے ہاتھوں قائم کی گئی، امریکہ کے دباؤ پر کشمیر کو خیرباد کہا، بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی آگ لگائی گئی، کاروباری ٹی وی چینلز کھولنے کا فیصلہ کر کے قوم کی فکریں بھی منڈی میں رکھ دیں۔ پھر ”سب سے پہلے پاکستان“ کا دوغلا نعرہ لگایا اور دین کو روشن خیالی، اعتدال پسندی (enlightened moderation) کا نیا رنگ دیا— ”دین اکبری“ سے آگے نکل کر ”دین پرویزی“۔

پاکستان میں دین کا رجحان ختم کرنے کے لئے یہ نسخہ امریکہ کا تجویز کردہ تھا۔ قبلہ واشنگٹن کی طرف موڑ نے کے بعد آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں کو قابو کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تمام ٹی وی چینلز پیش پیش رہے۔ ایک سے ایک عالم اور فقیہ خریدے گئے۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کے گند کو اُچھال اُچھال کر اُسے جہادیوں سے جا ملایا۔ پھر مُلا کی جہالت کو مروڑ کر دین کو بدنام کیا اور اُسے نیا رنگ دے کر، نئی اصلاحات پیش کی گئی۔ اسلام کے قواعد پر چلنے کو ”بنیادپرستی“ کہا گیا، پھر اُسے ”شدت پسندی“ سے جا ملایا یعنی ”مُلا کی جہالت کو چھوڑ دو اور اصل اسلام پر آ جاؤ، وہ یہ ہے جو میں بتا رہا ہوں“ ۔ کچھ سچ میں تمام جھوٹ ملا کر، ڈھولک کی تھاپ پر ایک ناچتا ہوا معاشرہ سیدھی راہ بتائی گئی۔ جہاں ہر شخص کو اللہ کی رضا چھوڑ کر اپنی من مانی کی چھُوٹ ہو۔ جب منزل دنیا کی رعنائیاں ہو اور دھَن دولت ہی خدا ہو، تو پھر یہی سیدھی راہ ہے

جنرل شاہد عزیر مزید لکھتے ہیں

پھر عورتوں پر معاشرے میں ہوتے ہوئے مظالم کو دینی رجحان سے منسلک کیا گیا اور حقوق نسواں کو آزادی نسواں کا وہ رنگ دیا گیا کہ عورت کو عزت کے مرتبے سے گرا کر نیم عریاں حالت میں لوگوں کے لئے تماشا بنایا

ایک مرتبہ کور کمانڈر کانفرنس میں کور کمانڈروں نے ملک میں پھیلتی ہوئی فحاشی پر اظہار تشویش کیا تو مشرف ہنس کر کہنے لگے ”میں اس کا کیا کروں کہ لوگوں کو ایک انتہا سے روکتا ہوں تو وہ دوسری انتہا کو پہنچ جاتے ہیں” اور پھر بات کو ہنسی میں ٹال دیا مگر حقیقت مختلف تھی۔ صدر صاحب کی طرف سے باقاعدہ حوصلہ افزائی کی گئی اور پشت پناہی ہوئی تو بات یہاں تک پہنچی۔ اس سلسلے میں کئی این جی اوز (NGOs) بھی کام کر رہی تھیں اور بے بہا پیسہ خرچ کیا جا رہا تھا۔ یہ سب کی آنکھوں دیکھا حال ہے۔

جنرل شاہد عزیر آگے لکھتے ہیں

جی ایچ کیو آڈیٹوریم (GHQ Auditorium)میں جنرلوں کو فوجی سیریمونیل لباس (ceremonial dress) میں، جو خاص احترام کے موقع پر پہنا جاتا ہے، بٹھا کر گانوں کی محفلیں سجائی گئیں

عرضِ بلاگر
کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم اپنے دین حتٰی کہ اپنی ثقافت سے منہ موڑ کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ؟
اور بجائے اپنی درستگی کے ۔ ہمارے دن رات دوسروں پر الزام تراشی کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے میں گذرتے ہیں

میں سڑک پر

جب میں اسلام آباد میں کار لے کر سڑک پر نکلتا ہوں تو جن عوامل سے عام طور پر دوچار ہوتا ہوں ان میں سے چند لکھنے لگا ہوں ۔ ان پر تنقید ہو سکتی ہے اور ان کا مذاق بھی اُڑایا جا سکتا ہے لیکن کچھ قارئین انہیں پڑھ کر اپنی اصلاح کی کوشش کریں تو یہی میرا حاصل و مقصود ہے
یہ واقعات ٹرک ۔ بس ۔ ویگن یا ٹیکسی ڈرائیوروں سے متعلق نہیں ہیں بلکہ پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں کے ہیں

1 ۔ میں سڑک کی بائیں قطار (lane) میں جا رہا ہوں ۔ بائیں طرف مُڑنے کا اشارہ دیا ہوا ہے ۔ میں موڑ کے قریب پہنچ کر داہنے آئینے میں پھر بائیں آئینےمیں دیکھتا ہوں دونوں اطراف کافی پیچھے تک سڑک خالی ہے ۔ جونہی میں مُڑنے لگتا ہوں ایک تیز رفتار گاڑی میری بائیں جانب سے قوس بناتی ہوئی سیدھی چلی جاتی ہے ۔ اگر اللہ کی مہربانی شاملِ حال نہ ہو جاتی تو شاید میں یہ لکھ نہ رہا ہوتا

2 ۔ چوراہے پر گاڑیاں کھڑی ہیں ۔ میں داہنی طرف سے دوسری قطار میں ہوں کیونکہ مجھے سیدھا جانا ہے ۔ میرے آگے 5 گاڑیاں ہیں ۔ ٹریفک لائٹ سبز ہونے پر سب گاڑیاں چل پڑتی ہیں ۔ میں چوراہے کے قریب پہنچتا ہوں ۔ اچانک میرے بائیں جانب تیسری یعنی بائیں جانب مُڑنے والی قطار سے ایک گاڑی تیزی سے داہنی طرف مُڑ کر میری گاڑی کے سامنے والے بمپر کو مکمل توڑتی ہوئی داہنی طرف چلی جاتی ہے

3 ۔ میں نے بائیں جانب مُڑنا ہے اسلئے بائیں قطار میں ہوں ۔ رفتار کم ہے ۔ مُڑنے کا اشارہ دیا ہوا ہے ۔ میں مُڑنے کے قریب ہوں کہ ہارن کی آواز آنے لگی ۔ داہنے آئینے میں دیکھا تو دُور تک سڑک خالی نظر آئی ۔ گاڑی کے اندر والے آئینے میں دیکھا تو میرے پیچھے ایک گاڑی تھی ۔ سوچا شاید کوئی جان پہچان والا ہے اور مجھے ہارن سے مطلع کر رہا ہے ۔ پہچان نہ سکا ۔ پھر وہ کار تیزی سے میرے داہنی جانب والی قطار میں آئی اور میرے قریب سے گذرتے ہوئے محترمہ نے مجھے مُکا دکھایا اور کچھ بولتی ہوئی سیدھی چلی گئیں

4 ۔ سڑک پر بائیں جانب گاڑیاں پارک ہیں ۔ ان کے داہنی جانب 2 گاڑیاں متوازی کھڑی ہیں ۔ مجھے رُکنا پڑتا ہے ۔ پیچھے اور بہت سی گاڑیاں رُک جاتی ہیں اور اُن کے ہارن بجنے لگتے ہیں ۔ چند منٹ انتظار کے بعد میں گاڑی سے اُتر کر گیا اور جن صاحبان نے سڑک بند کر رکھی تھی سے گاڑیاں ایک طرف کرنے کی مؤدبانہ درخواست کی ۔ موصوف جوان انتہائی بیزاری اور بدتمیزی کے ساتھ گویا ہوئے ” اُدھر کہیں سے نکال لو گاڑی ۔ ڈسٹرب نہیں کرو“۔

5 ۔ چوراہے پر گاڑیاں کھڑی ہیں ۔ میرے داہنی طرف داہنی جانب مڑنے والی قطار ہے ۔ بائیں جانب 2 قطاریں ہیں ۔ اشارہ کھُلنے پر گاڑیاں چلتی ہیں ۔ میں چوراہے کو عبور کر چکا ہوں ۔ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی میرے اور میرے بائیں جانب والی گاڑی کے درمیان گھُس کر زبردستی میری گاڑی کے آگے گھُسنے کی کوشش کرتی ہے ۔ میں یکدم بریک لگاتا ہوں مگر وہ میری گاڑی کی بائیں ہیڈ لائیٹ کے بائیں جانب کو پچکا دیتی ہے ۔ اُس گاڑی کو روک لیا جاتا ہے گاڑی والے صاحب باہر نکلے بغیر مجھے ڈانٹ پلاتے ہیں ” اِن کو کار چلانا نہیں آتی ۔ اِن کی ٹائیمنگ غلط ہے ۔ دیر سے بریک لگائی ہے“۔ اور گاڑی بھگا کر لے جاتے ہیں

6 ۔ پارکنگ ایریا میں ایک گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ دیکھ کر مُڑنے کا اشارہ دیا اور گاڑی پارک کرنے لگا ۔ ساتھ والی گاڑی باہر نکلنا شروع ہو گئی اور مجھے پیچھے ہٹنا پڑا ۔ جب جگہ بن گئی تو میں گاڑی پارک کرنے کو آگے بڑھا لیکن ایک گاڑی بڑی تیزی سے زبردستی گھُس کر وہاں کھڑی ہو گئی اور گاڑی والے صاحب جلدی سے نکل کر یہ جا وہ جا ۔ میں دیکھتا ہی رہ گیا

7 ۔ سروس روڈ پر سڑک کے دونوں جانب گاڑیاں پارک ہیں ۔ میں جانا چاہتا ہوں داہنے بائیں دیکھ کر کہ کوئی گاڑی نہیں آ رہی گاڑی رِیوَرس (reverse) کرتا ہوں ۔ آدھی گاڑی پیچھے آ چکی ہے کہ اچانک پیچھے سے موٹر سائیکل اور کاریں گذرنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ کافی انتظار کے بعد گاڑیاں تھمتی ہیں تو جلدی سے گاڑی پیچھے لیجاتا ہوں ۔ مڑنے لگتا ہوں تو دیکھتا ہوں میں دونوں طرف سے گاڑیوں میں گھِر گیا ہوں اور موٹر سائیکل آگے سے گذرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ چند لمحے بعد ہارن بجنے شروع ہو جاتے ہیں لیکن کوئی شخص اتنا نہیں کرتا کے اپنی گاڑی تھوڑی پیچھے ہٹائے تاکہ میں گاڑی نکال لوں اور راستہ کھُل جائے

8 ۔ میں پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے چلتا ہوں ۔ مارکیٹ میں داخل ہونے سے قبل بے خیالی میں داہنی طرف دیکھتا ہوں تو چونک جاتا ہوں ۔ ایک جوان میری گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی آڑی کھڑی کر کے چل دیئے ہیں ساتھ ایک جوان خاتون بھی ہیں ۔ اُن کے پاس جا کر مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ 2 گاڑیوں کے بعد بہت جگہ ہے اپنی گاڑی میری گاڑی کے پیچھے سے ہٹا کر اُدھر کھڑی کر دیجئے ۔ موصوف میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اور خاتون سے گپ لگاتے چلے جا رہے ہیں ۔ میں 3 بار عرض کرتا ہوں مگر بے سود ۔ آخر میں اُس جوان کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر غُصیلی آواز میں کہتا ہوں ”گاڑی ہٹائیں وہاں سے“۔ تو صاحب واپس جا کر گاڑی ہٹاتے ہیں ۔ کیا میرے ہموطن صرف ڈنڈے کی بات سمجھتے ہیں ؟