علالت کے دوران خبر ملی کہ اپنے ملک پاکستان میں ترقی کا معیار سطح سمندر سے 602 فٹ بلند ہو گیا ہے اور اِس پر صرف ساڑھے بائیس کروڑ روپیہ خرچ ہوا ۔ اِس ترقّی پر مُہر ہمارے بادشاہ سلامت نے اپنے دستِ مبارک سے لگائی ۔کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ شاہجہاں خوبصورت عمارتیں ہی بناتا رہا اور ملک و قوم کی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہ دی ؟ شاہجہاں کی رعایا تو خوشحال تھی ۔ اُس کے زمانہ میں نہ تو 40 فیصد سے زیادہ لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے اور نہ زلزلہ سے 30 لاکھ انسان بے گھر ہوئے تھے ۔
اگر ساڑھے بائیس کروڑ روپیہ صرف کراچی میں پینے کے صاف پانی کے منصوبہ پر خرچ کیا جاتا تو وہاں کے لوگ کئی بیماریوں سے بچ جاتے ۔ اگر کراچی پورٹ ٹرسٹ پر خرچ کیا جاتا تو ادارہ فعال بن جاتا ۔
آئیے سب مل کر اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی کے حضُور میں التجا کریں کہ ہمارے حکمرانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے کہ وہ عیاشیاں چھوڑ کر اپنی عاقبت سنوارنے کا کچھ سامان کریں ۔