Category Archives: روز و شب

غیرقانونی تجاوزات

تجاوزات تو ہوتے ہی غیر قانونی ہیں لیکن حال ہی میں ہماری حکومت نے بات زوردار بنانے کیلئے ساتھ غیرقانونی لکھنا ضروری سمجھا ۔ “میرا پاکستان” پر اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود کا بیان کہ “قابض جگہوں پر مساجد کی تعمیر غیر قانونی ہے” پڑھا تو کچھ حقائق پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ حاکم وقت اپنی سہولت کے مطابق مقرر کرتے آئے ہیں ۔کسی زمانہ میں ایک سربراہ کا مؤقف تھا کہ روزانہ صرف تین نمازیں فرض ہیں ۔

ہمارے ملک میں تجاوزات اور ان کے سدِباب کی کہانی بہت پرانی ہے ۔ ہم 1949 سے 1964 عیسوی تک جھنگی محلہ راولپنڈی میں رہتے تھے ۔ ہمارے مکان کا فرش گلی سے دو فٹ اُونچا تھا اسلئے دروازے کے سامنے ایک چھوٹا سا پُشتہ ایک سیڑھی کے ساتھ بنا ہوا تھا ۔ ایک دن میں کالج سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ سیڑھی اور پُشتہ غائب ہے تو بڑی مشکل سے گھر میں داخل ہوا ۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ میونسپل کمیٹی کے آدمی گرا گئے ہیں کہ یہ تجاوز تھا ۔ میں نے کہا کہ ہماری ہی گلی میں ایک مکان کا پُشتہ اس سے بڑا ہے وہ تو نہیں گرایا تو بتایا گیا کہ وہاں اس سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب رہتے ہیں جہاں گرانے والوں میں سے کسی کا بیٹا پڑھتا ہے ۔

کیپیٹل ڈویلوپمنٹ اتھارٹی [سی ڈی اے] نے اس سال 7 مساجد مع تلاوتِ قرآن سکھانے کے مدرسوں کے گرا دیں ۔ مزید 80 مساجد اور مدارس کو گرانے کے نوٹس دے دئیے ۔ یہ وہ مساجد یا مدارس ہیں جو اُن بڑی سڑکوں کے قریب ہیں جہاں سے کسی وی آئی پی کا گذر ہو سکتا ہے ۔ ان میں ایک مسجد مری روڈ کے قریب وڈیروں کے فارم ہاؤسز کے سامنے ایک صدی پرانی تھی اور ایک مسجد شاہراہ اسلام آباد پر خود سی ڈی اے نے 25 سال قبل تعمیر کی تھی ۔ جو مساجد اور مدارس گرائے گئے یا جنہیں گرانے کے نوٹس جاری کئے گئے ان میں اکثریت ایسی مساجد اور مدارس کی ہے جو حکومتِ وقت کے مہیا کردہ فنڈز سے تعمیر ہوئے تھے ۔

ہمارے ملک میں بااثر اور ناجائز طاقت کے مالک جہاں بھی ہوں سرکاری زمین اور دوسرے لوگوں کی ملکیت پر ناجائز قبضے کرتے رہتے ہیں اور اُن کے خلاف کسی حکومتی ادارے نے کبھی آواز نہیں اُٹھائی بلکہ حکومتی اہلکار ان کے پُشت پناہ ہوتے ہیں ۔ اسلام آباد میں بہت سے ایسے غیرقانونی تجاوزات میرے علم ہیں ۔کئی کے خلاف محلے والوں نے جن میں بھی شامل تھا آواز اُٹھائی ۔ اخباروں کو اور حکومتی اہلکاروں کو لکھا مگر بے سود ۔

ہماری رہائش گاہ سے 500 میٹر کے فاصلہ پر ایک مسجد مشرق کی طرف اور ایک جنوب مغرب کی طرف سرکاری زمین پر ناجائز اور غیرقانونی قبضہ کر کے بغیر نقشہ پاس کرائے بنائی گئیں تھیں مگر نہ گرائی گئیں نہ گرانے کا نوٹس دیا گیا ۔ جو مسجد جنوب مغرب میں ہے وہ ایسی جگہ پر قبضہ کر کے بنائی گئی جس کی رفاہِ عامہ کیلئے عمدہ منصوبہ بندی اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں شامل تھی ۔

سٹریٹ نمبر 30 سیکٹر ایف 8/1 اسلام آباد کو ایک برساتی نالہ کراس کرتا ہے ۔ سڑک کے جنوبی جانب اس نالے کے مغرب کی طرف اسلام آباد کالج فار گرلز ہے اور مشرقی جانب کوٹھی نمبر 15 ہے جس کی الاٹ شدہ زمین 2000 مربع گز ہے ۔ اس کوٹھی کے مالک نے تقریباً 25 فٹ چوڑی اور 180 فٹ لمبی [500 مربع گز] سرکاری زمین اپنی کوٹھی میں شامل کر کے اپنے پلاٹ کا سائیز 2500 مربع گز بنا لیا ہوا ہے ۔ اس علاقہ میں 500 مربع گز  زمین کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد ہے ۔

سٹریٹ نمبر 51 سیکٹر ایف 7/۱ اسلام آباد پر حکومتی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کا گھر ہے ۔ اس نے سی ڈی اے سے اجازت لی کہ وہ اپنے گھر سے ملحقہ زمین میں پارک بنائے گا [مطلب تھا پبلک پارک] لیکن اس نے متعلقہ زمین کے گرد اُونچی دیوار بنا کر کئی ایکڑ  زمین اپنی کوٹھی میں شامل کر لی ہے ۔ ایک ایکڑ 4840 مربع گز ہوتا ہے ۔ اس علاقہ میں ایک ایکڑ  زمین کی قیمت 15 کروڑ  روپے سے زائد ہے ۔

راولپنڈی سے شاہراہ شیرشاہ سوری پر پشاور کی طرف روانہ ہوں تو آرمی کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجنیئرنگ کے بعد سڑک کے بائیں ہاتھ اُونچائی پر ایک گنبد بنا ہوا ہے جو سڑک کے اندر گھُسا ہوا ہے ۔ یہ بظاہر مقبرہ ہے ۔ یہ 1964 اور 1968 عیسوی کے درمیان مکمل کیا گیا اورکسی قبضہ گروپ کی ملکیت ہے جو قبر پرستوں کےچڑھاوے وصول کرتا ہے ۔ یہاں کوئی آدمی دفن نہیں ہے اور اس جگہ پر اس وقت ناجائز قبضہ کیا گیا جب شاہراہ شیر شاہ سوری کو دوہرا کرنے کا اعلان ہوا تھا ۔

تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ راولپنڈی میں ایک قبضہ گروپ ڈویلوپر کے حقیقی تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے پر حکومتِ پنجاب نے دو سکریٹریوں [سیکریٹری ہاؤسنگ اور سیکریٹری انفارمیشن] کو حال ہی میں ملازمت سے علیحدہ کر دیا ہے ۔ اس کی تفصیل یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

پڑے سردی مریں غریب ۔ آئے گرمی مریں غریب

ملاحظہ ہوں ہمارے قابل خفیہ اداروں کا ایک اور کارنامہ بی بی سی کے ذوالفقار علی کی زبانی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے پانچ ملزمان کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ وہ بےگناہ ہیں اور وقوعے کے روز وہ سب کے سب اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے۔ گرفتار ہونے والے پانچ میں سے چار افراد کا تعلق وادی نیلم کے گاؤں نیلم سے ہے اور ان میں سے تین سگے بھائی ہیں۔ چار افراد ابھی تک پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ پانچویں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور کھیتی باڑی کرتے ہیں اور ان کی مالی حالت پسماندہ دکھائی دیتی ہے۔حراست میں لیے جانے والے چاروں افراد کے گھروں کی مالی حالت بظاہر دوسروں سے مختلف نہیں۔

حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے شریف الدین گیلانی کی اہلیہ الفت رانی کہتی ہیں کہ’ اٹھارہ مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس بارہ تیرہ مسلح افراد ہمارے گھر آئے اور میرے شوہر کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ وہ کون لوگ تھے ہمیں نہیں معلوم، لیکن انہوں نے اپنے ساتھ ایک شخص کے بارے میں کہا کہ یہ ہمارے کرنل صاحب ہیں۔‘ الفت کہتی ہیں کہ ’ہم رو رو کر ان سے پوچھ رہے تھے کہ کیا معاملہ ہے وہ میرے شوہر کو کہاں اور کس جرم میں لے جا رہے ہیں تو انہوں نے ہمیں وجہ بتانے کے بجائے یہ دھمکی دی کہ اگر کسی عورت نے اس میں مداخلت کی تو ہم گولی مار دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے شوہر جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے چنانچہ ہم نے ان لوگوں کو بتایا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں۔ میرے شوہر وہاں سے وہ واپس گھر نہیں آئے اور ان کو وہیں سے پکڑ کر لے گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ دو ہفتے تک تو مجھے اپنے شوہر کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کا کیا قصور ہے۔ہمیں اخبارات کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ میرے شوہر کو حماد رضا کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم غریب لوگ ہیں میرے شوہر لکڑی چرائی کر کے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ ہمارے پاس قریبی قصبے اٹھمقام جانے کے لئے کرایہ نہیں ہوتا ہم حماد رضا جیسے بڑے آدمی کے قتل میں کیسے ملوث ہو سکتے ہیں۔‘ الفت رانی نے کہا’میرا شوہر بے قصور ہے اور ان پر غلط الزام لگایا گیا ہے۔‘ رانی کہتی ہیں کہ وقوعے کے روز ان کے شوہر گھر پر تھے۔ رانی نے اپنے زیر تعمیر لکڑی کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر تعمیر کر رہے تھے اور یہ کہ وہ کافی عرصے سے پاکستان گئے ہی نہیں۔‘

شریف الدین کو حراست میں لینے کے کوئی دس دن بعد اٹھائیس مئی کو ان کے بھائی بشیر الدین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ بشیر الدین کی اہلیہ کلثوم بی بی کہتی ہیں کہ اٹھائیس مئی کوسادہ کپڑوں میں ملبوس دو مسلح اہلکار ان کے گھر آئے اور کوئی وجہ بتائے بغیر میرے شوہر کو زبردستی ساتھ لےگئے۔‘ انہوں نے کہا ’ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمارے ساتھ یہ کچھ ہوگا۔‘ کلثوم بی بی کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر معذور ہیں اور وہ آسانی سے چل پھر نہیں سکتے ایسے میں وہ کس طرح کسی کا قتل کرسکتے ہیں اور میرے شوہر کوئی دو ماہ سے گاؤں سے باہر ہی نہیں گئے۔‘ کلثوم کے مطابق ان کے شوہر زلزلے کے دوران ایک دوکان کے ملبے تلے دب گئے تھے جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ اور بازو ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد وہ ایک سال تک بستر پر ہی رہے۔انہوں نے کہا کہ’ میرے شوہر کو تیز چلنے سے تکلیف ہوتی ہے ، وہ آہستہ چلتے ہیں اور وہ وزن بھی نہیں اٹھاسکتے۔‘ کلثوم نے بتایا کہ کچھ عرصے سے ان کے شوہر نے تھوڑا بہت کام کرنا شروع کردیا اور بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔


دو جون کو جب میں حراست میں لیے جانے والوں کے خاندان والوں سے ملاقات کرنے کے لئے نیلم گاؤں میں پہنچا تو وہاں سرخ رنگ کی ایک پجارو جیپ کھڑی تھی۔ اس میں سوار دو سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ ایک نوجوان کو مقامی لوگوں کے حوالے کر کے چلےگئے۔ یہ نوجوان شریف الدین اور بشیر الدین کے بھائی ضیاءالدین تھے۔

ضیاءالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اٹھارہ تاریخ کو وادی نیلم میں کیرن کے مقام سے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے اٹھایا اور قریب ہی اٹھمقام قصبے میں ریسٹ ہاؤس میں لے گئے۔ انہوں نے کہا’ مجھے وہاں دو روز رکھا گیا اور وہاں سے مجھے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہیلی کاپڑ پر بٹھا کر کسی نہ معلوم جگہ پر لے گئے۔حراست کے دوران مجھے ڈنڈوں اور چمڑے سے مارا پیٹا کیا گیا اور رات کو بازو باندھ کر کھڑا رکھا جاتا۔‘ ضیاءالدین نے کہا ’مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ میں اقرار کروں کہ میں نے ڈکیتی اور قتل کیا اور یہ بھی کہہ رہے کہ تھے کہ میں قبول کروں کہ میرے بھائیوں نے بھی ڈکیتی کی اور قتل کیا ہے۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ جب مجھے کسی چیز کا معلوم ہی نہیں تو میں کیسے اس کا اقرار کروں۔‘

ضیاءالدین عارضی طور پر پڑھاتے بھی رہے ہیں اور بعد ازاں انہوں نے وادی نیلم میں لوات کے مقام میں منیاری کی دوکان شروع کی اور اب وہ جنگل میں لکڑی کا کام کرتے ہیں۔  لیکن حکام ان کو حراست میں لینے کے بارے میں مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کی والدہ امریزہ بیگم اپنے ایک بیٹے کی واپسی پر خوش ہیں لیکن وہ زیر حراست اپنے دو بیٹوں کے حراست کے بارے میں بہت پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا ’اللہ کا شکر ہے کہ میرا ایک بیٹا واپس آیا گیا ہے۔ میں التجا کرتی ہوں کہ میرے دوسرے دو بیٹوں کو رہا کریں۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم کہاں جائیں کس سے فریاد کریں ہمارے پاس وسائل ہی نہیں ہیں۔‘

اسی گاؤں کے ایک سابق فوجی بشارت میر بھی حماد رضا کے قتل کے الزام میں زیر حراست ہیں۔ ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ذہنی حالت درست نہ ہونے کے باعث ان کو کچھ سال قبل فوج سے برخاست کیا گیا تھا اور علاج کی وجہ سے وہ اب بہتر تھے اور لکڑی چرائی کا کام کرتے تھے۔ ان کے والد کہتے ہیں کہ ’ ہمیں نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے۔ اٹھائیس تاریخ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکار ہمارے گھر آئے اور میرے بیٹے کو ساتھ لے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ فوجی تھے یا خفیہ ادارے کے اہلکار، ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کون لوگ تھے۔‘ بشارت میر کے والد نے کہا ’ان لوگوں نے پورے گاؤں میں دہشت پھیلادی اور لوگوں پر تشدد شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا ’ بشارت میرا واحد سہارا ہے۔ میرا ایک بیٹا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوا جبکہ دوسرا نویں جماعت کا طالب علم ہے اور بشارت ہی ہمارا واحد سہارا ہے۔ بشارت شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔‘

بشارت کی والدہ نگار بی بی کہتی ہیں کہ’ وہ لوگ میرے بیٹے کی تلاش میں گھر آئے تو ہمارے گھر میں ادھیڑ عمر کے ایک رشتہ دار آئے ہوئے تھے۔ مسلح اہلکاروں نے ہمارے سامنے ان کو برہنہ کرکے مارا پیٹا کہ وہ ہمارے گھر کیوں آئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نےگاؤں میں کئی دیگر افراد کو بھی مارا پیٹا۔‘ انہوں نے کہا کہ’ حماد رضا کے قتل کے روز میرا بیٹا گھر پر تھا اور ہم مکئی بو رہے تھے۔‘

حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار چوتھے شخص میر محمد افضل کا تعلق مظفرآْباد سے ہے۔ وہ کئی سال دبئی میں مزدوری کر تے رہے اور گزشتہ سال ستمبر میں واپس آئے۔ کچھ ماہ سے وہ وادی نیلم کے قصبے اٹھمقام میں گوشت کا کام کر رہے تھے۔ میر محمد افضل کے بھائی منیر اختر سلہریا کا کہنا ہے کہ’ وقوعے کے روز میرے بھائی بیمار تھے اور وہ گھر پر موجود تھے۔ میں ان کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ایک میڈیکل اسٹور پر لے گیا جہاں ان کو ڈرپ لگائی گئی۔ میرے بھائی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ موٹر سائیکل چلاسکتے۔ منیر اختر نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی تاریخ میں ایک شخص دو جگہ پر موجود ہو؟

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ میرے بھائی کو انتیس مئی کو گرفتار کیا گیا۔ ’ اٹھارہ مئی کو تین مسلح اہلکار ان کو اٹھمقام میں اپنی دوکان سے اٹھا کر لے گئے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ آئی ایس آئی اہلکار تھے اور ان کے ساتھ کوئی پولیس نہیں تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہمارے گھر کے قریب تھانہ ہے۔ آپ کہیں سے بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ہم نے عزت کی زندگی گزاری ہے۔‘

منیر اختر نے الزام لگایا کہ حماد رضا کو پاکستان کے صدر نے خفیہ ادارے والوں سے قتل کروایا اور انہوں نے کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنانا تھا اور ہمارے بھائی کو پھنسا دیا۔

ان چار افراد کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کو دو مختلف دنوں یعنی اٹھارہ اور اٹھائیس مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکاروں نے حراست میں لیا لیکن پاکستان کے وزیر داخلہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ملزمان کو مقامی پولیس کی مدد سے انتیس مئی کو حراست میں لیاگیا تھا۔ مظفرآباد کے ایڈینشل ڈپٹی کمشنر جنرل کا بھی یہی کہنا ہے کہ’ ان افراد کو انتیس مئی کو گرفتار کیا گیا اور ان کو گرفتار کرنے کے لیے مقامی پولیس نے اسلام آباد پولیس کی مدد کی اور ان کو تیس مئی کو مجسڑیٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور بعد ازاں ان کو قانون کے مطابق اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی نیلم کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ’ ان افراد کو وادی نیلم میں نہیں بلکہ مظفرآباد میں گرفتار کیا گیا اس لیے ان کو زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان افراد کو ماضی کے جرائم کے ریکارڈ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن ملزمان کے خاندان والے اس کی تردید کرتے ہیں کہ ان کے عزیز ماضی میں کسی جرم میں ملوث رہے ہیں۔ یہ افراد گناہ گار ہیں یا انہیں حبس بے جاہ میں رکھا جا رہا ہے، یہ فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن حقیقت سامنے آنے تک ان کے خاندانوں کا سکون برباد ہوچکا ہے۔

دکھاتا ہے زمانہ رنگ کیسے کیسے

عوامی تحریک کے رہنماء رسول بخش پلیجو نے اپنے خطاب میں کا کہا “پاکستان ابھی تک غلام ہے۔ ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر امریکہ کی غلامی میں چلے گئے ہیں، اس سے اچھی تو انگریزوں کی غلامی تھی جس میں ہمیں کم سے کم غلام کی حثیت تو دی گئی تھی۔ لیکن اب تو ظلم یہ ہے کہ ہمیں غلام بھی بنا رکھا ہے اور تسلیم بھی نہیں کرتے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم بھی امریکہ کے غلام ہیں، ہمیں بھی غلاموں کا درجہ دیا جائے۔ غلاموں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، موجودہ حیثیت میں تو ہمیں وہ حقوق بھی نہیں مل رہے”۔

انہوں نے کہا “سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو آزاد کروانا ہے اور اس سلسلے میں وکلاء کی تحریک بہت خوش آئند ہے۔ چھوٹے صوبے ہمیشہ پنجاب کو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی قرار دیتے رہے ہیں، لیکن پنجاب کے عوام نے عدلیہ کی آزادی کی اس تحریک میں جو کردار ادا کیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے”۔

قانون ۔ پرویز مشرف مارکہ

جمہوریت کی اساس یہ ہے کہ قانون سب کیلئے یکساں ہوتا ہے ۔ ہمارے ملک میں جنرل پرویز مشرف صاحب نے جو حقیقی جمہوریت طاری کی ہوئی ہے اس کی چند مثالیں یہ ہیں ۔

Devolution

سارے ملکی نظام کو devalue ۔ اوہ معاف کیجئے گا ۔ devolve کیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کی اسامی ختم کر کے [اپنی مرضی سے] منتخب کردہ ناظم لگائے گئے مگر وہ بھی سارے ملک میں نہیں ۔ اسلام آباد میں ابھی بھی ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے اور حکومت کے کئی بار وعدوں کے باوجود آج تک ضلعی حکومت بنانے کیلئے الیکشن نہیں ہوئے ۔ اسلام آباد کے علاوہ پاکستان میں جتنی چھاؤنیاں [cantonments] ہیں جو کہ سو سے زیادہ ہی ہوں گی ان میں ابھی تک سٹیشن کمانڈر [Station Commander] کی حکومت ہے جو کہ کرنل یا بریگیڈیئر ہوتا ہے اور جی ایچ کیو کے ماتحت ہوتا ہے ۔


دفعہ 144

ڈپٹی کمشنر ۔ اسلام آباد کے حکم سے پورے ضلع اسلام آباد میں بدھ 30 مئی سے 2 ماہ تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت کسی جگہ 5 یا 5 سے زیادہ اشخاص کا اکٹھا ہونا یا اکٹھے چلنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے ۔ عملی طور پر حکومتی پارٹی کے لوگ جب چاہیں جہاں چاہیں درجنوں اکٹھے ہوتے رہتے ہیں لیکن جمعہ یکم مئی کی سہ پہر سے رات گئے تک ہماری رہائش گاہ سے 500 میٹر کے فاصلہ پر فاطمہ جناح پارک میں اسلام آباد کی حکومت نے اگر ہزاروں نہیں تو ایک ہزار سے زیادہ اشخاص کا میلہ لگایا ہوا تھا ۔ ان حالات نے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ چیف جسٹس صاحب کا قافلہ ہفتہ 2 جون کو صبح 9 بجے اسلام آباد میں ان کی سرکاری رہائش گاہ سے روانہ ہوا تو حکومتی مشینری حرکت میں نہ آسکی ۔۔


سیکیورٹی

اسلام آباد کی سیکیورٹی ویسے ہی سخت رہتی ہے کیونکہ حکمرانوں کی قیمتی جانوں کو خطرہ رہتا ہے ۔ جمعہ یکم مئی کو امامِ کعبہ جناب عبدالرحمٰن السّدیس تشریف لا رہے تھے اس لئے جمعرات 31 مئی سے ہی سیکیورٹی اور سخت کر دی گئی تھی ۔ وزیراعظم صاحب نے بھی فیصل مسجد میں جمعہ کی نماز پھنا تھی ۔ نماز جمعہ کے وقت سے کئی گھینٹے پہلے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے لوگ فیصل مسجد کے چاروں طرف پھیل گئے تھے ۔ فائر بریگیڈ بھی وہاں موجود تھا ۔ اس کے باوجود پارکنگ میں آگ لگی جس سے 17 گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل جل گئے ۔ اس خبر کو اخبار میں چھاپنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ڈان نے یہ خبر صرف اسلام آباد ایشو میں مع تصویر کے چھاپی ہے ۔


آزادیٔ صحافت

صدر جنرل پرویز مشرف صاحب کئی بار کہہ چکے ہیں “میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کے حق میں ہوں اور میں نے انہیں پوری آزادی دے رکھی ہے”۔ عملی صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے پرانے اُردو اخبار نوائے وقت اور انگریزی اخبار دی نیشن کے اشتہارات کئی سالوں سے بند ہیں ۔ ان کی ویب سائٹ عام طور پر بلاک ہی رہتی ہے ۔ پاکستان کے سب سے پرانے انگریزی اخبار ڈان کے ساتھ موجودہ حکومت کی چپقلش چلتی ہی رہتی ہے ۔ جمعہ یکم مئی سے اسلام آباد ۔ اسلام آباد کے گرد و نواح اور پنجاب کے کئی شہروں میں ٹی وی چینلز آج اور اے آر  وائی ون کی نشریات جزوی طور پر بلاک کر دی گئی ہیں ۔ مزید لائیو کوریج [live coverage] ۔ ٹاک شوز [talk shows] اور تبصروں [commentaries] پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے کچھ قومی اور بین الاقوامی اداروں کو چند ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں ۔ یہ بھی حکم جاری کیا گیا ہے کہ تمام ٹی چینلز کو اپنی نشریات دکھانے کیلئے ہر شہر کیلئے علیحدہ علیحدہ لائیسنس لینا ہو گا ۔


ہَور چُوپَو

حکومتِ پاکستان کے دباؤ کے تحت ہفتہ 2 جون کو کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیرمین خالد شیخ نے اعلان کیا کہ جو ٹی وی چینل حکومت یا افواجِ پاکستان کے خلاف کچھ دکھائیں گے وہ بند کر دیئے جائیں گے ۔ خالد شیخ نے یہ بھی بتایا کہ کچھ سیاسی جماعتیں کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دے رہی ہیں کہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو تو کیبل آپریٹرز کے ٹرانسمشن سسٹم پر حملے کئے جائیں گے ۔

میکالے کا ایک اور فیصلہ

لارڈ میکالے کی تجویز نقل کی تھی جس پر چند قارئین نے اعتراض کیا تھا ۔ بزرگ کہتے تھے “اللہ مہربان سو کُل مہربان”۔ میرا سب سے بڑا لالچ سچائی کا حصول رہا ہے اور جب کبھی مجھے مشکل پیش آئی اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے میری مدد فرمائی ۔ اسی سلسلے میں 23 مئی کو ایک خط ڈان اخبار میں شائع ہوا جو اگرچہ مختلف تحریر ہے مگر میرے مؤقف کی تائید کرتی ہے ۔ متعلقہ اقتباس ۔ ۔ ۔ Macaulay’s children

The term Macaulay’s children is used to refer to people born of Indian ancestry who adopt western culture as a lifestyle, or display attitudes influenced by colonisers. Connotation of the term shows the specific behaviour of disloyalty to one’s country and one’s heritage. The passage to which the caption refers is taken from a minute Lord Macaulay wrote on Indian education. It reads:

“It is impossible for us, with our limited means, to attempt to educate the body of the people. We must at present do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern; a class of persons, Indian in blood and colour, but English in taste, in opinions, in morals, and in intellect. To that class we may leave it to refine the vernacular dialects of the country, to enrich those dialects with terms of science borrowed from the western nomenclature, and to render them by degrees fit vehicles for conveying knowledge to the great mass of the population.”

Should we mug up our state of affairs right from the independence, we find we have been governed till date by the class of people trained in accordance with the desired standards set out by the Macaulay theory.

Would the system that derives strength from the Macaulay doctrine bring any change in our lives? Civil society must strive hard and support those who are eligible to lead the masses. It appears that future is not so gloomy and we can see light at the end of the tunnel in the present struggle spearheaded by the chief justice. But we need hundreds of people like him who could guide the people to shun self-interest and be brave.

مووی ۔ 2007 اور 1971

ہفتہ 19 مئی 2007 کو ایم کیو ایم نے ایک پریس کانفرنس میں “کڑوا سچ” کے نام سے ایک وڈیو دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 12 مئی کو توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی ۔ اس وڈیو نے مجھے 36 سال پیچھے دھکیل دیا جب مجیب الرحمٰن کے پیروکار ایک وڈیو دکھا کر کہتے تھے کہ یہ دیکھو بنگالی عورتوں اور مردوں کو پاکستان کے حامیوں نے کس طرح ذبح کیا ہے ۔ یہ الزام اُردو بولنے والوں پر لگایا گیا تھا ۔ اُس وقت میرے جیسوں نے بھی اس وڈیو کو مصدقہ ثبوت سمجھا ۔

مجھے مئی 1976 میں ملک سے باہر تعینات کر دیا گیا ۔ وہاں اتفاق سے ایک شریف النفس بنگالی آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر فضلِ رحیم سے دوستی ہو گئی جو جلد ہی بہت گہری ہو گئی ۔ مارچ 1977 کی ایک شام میں بیوی بچوں سمیت ان کے گھر بیٹھے گپ سپ کر رہے تھے کہ کسی طرح 1971 کا ذکر آ گیا ۔ میں نے کہا “بنگالی بھائیوں پر واقعی بہت ظلم ہوا ۔ میں نے وڈیو دیکھی تھی”۔ ڈاکٹر بولا “تو آپ جیسے لوگ بھی اس وڈیو پر یقین رکھتے ہیں ؟ آپ نے اتنا بھی نہ سوچا کہ جس کی جان پر بنی ہوتی ہے کیا وہ کیمرہ لے کر وڈیو بنانے لگ جائے گا اور وہاں سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا ؟”۔ چند لمحے وقفہ رہا کیونکہ ڈاکٹر کو شائد وہ خونی نظارے یاد آ گئے تھے جو اس نے دیکھے تھے اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب میں کیا کہوں ۔ ڈاکٹر نے سکوت توڑا اور جذباتی انداز میں بولا “اجمل بھائی ۔ لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار تین لوگ تھے ۔ ان میں سے دو کیفرِ کردار کو پہنچ چکے اور تیسرا بھی انشاء اللہ جلد انجام کو پہنچے گا اور اس کا انجام باقی دو سے بھی بُرا ہو گا”۔ میں نے کہا “مجیب الرحمٰن ۔ اندرا گاندھی اور جنرل یحیٰ”۔ ڈاکٹر بولا “نہیں ۔ بھُٹو”۔

میں نے استفسار کیا “وہ وڈیو پھر کس نے بنائی تھی ؟” ڈاکٹر بولا “مکتی باہنی والے جن میں بھارتی کمانڈو بھی شامل تھے محبِ وطن پاکستانیوں کو پکڑ کر لاتے تھے اور ان میں سے کچھ کے سامنے باقی سب کو ذبح کرتے اور وڈیو بناتے ۔ اس سے وہ دوہرا فائدہ حاصل کرتے ایک تو جن محبِ وطن بنگالیوں کو یہ سب کچھ دکھا کر چھوڑ دیتے وہ باقی ساتھیوں کو بتاتے جس سے مجیب الرحمٰن کی مخالفت سے لوگ ڈرنے لگے اور دوسرے اسی وڈیو سے باہر کی دنیا میں پروپیگنڈہ کرتے ۔ ویسے بعض اوقات شیخ مجیب الرحمٰن کے آدمیوں نے مخصوص حالات میں اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے کچھ اپنے آدمیوں کو بھی ہلاک کیا”۔ ڈاکٹر فضلِ رحیم کا سروس کنٹریکٹ 30 جون 1977 کو ختم ہوا اور وہ لوگ ہمیں مل کر 3 جولائی کو اپنے وطن روانہ ہو گئے اور 5 جولائی کو تیسرے کا انجام بھی شروع ہو گیا ۔

عصرِ حاضر میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا کچھ نہیں ہو سکتا اور ایک ہفتہ میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر کچھ سال پیشتر ایک ہائی سکول کا پاکستانی لڑکا ایک وڈیو تیار کر سکتا ہے جس میں جارج بش کے چہرے پر لمبی داڑھی ہے اور سر پر پگڑی اور وہ اُردو زبان میں اقرار کر رہا ہے “میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوتا ہوں”۔ تو اور کیا نہیں ہو سکتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے جو منظر دکھائے ہیں ان تک کوئی ٹی وی والا نہ پہنچ سکا ۔ گویا [بقول ایم کیو ایم] سب ٹی وی چینل جھوٹے ہوئے ؟ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ کوئی مجھے ایم کیو ایم کے کسی مرد یا عورت کے ساتھ بحث کر کے جیت کر دکھا دے ۔ جب انہوں نے ماننا ہی نہیں ہے تو آپ جو جی چاہے کر لیجئے ۔

ایم کیو ایم والوں نے کڑوا سچ کے نام سے وڈیو تو دکھا دی مگر مندرجہ ذیل انتہائی کڑوے سوالوں کا جواب کون دے گا ؟

1 ۔ ایم کیو ایم نے اسی دن ریلی کیوں نکالی جس دن چیف جسٹس صاحب نے کراچی جانا تھا جب کہ چیف جسٹس صاحب کے سلسلہ میں اعلان پہلے ہو چکا تھا ؟
2 ۔ سندھ حکومت کے مشیرِ داخلہ نے ایک ٹی وی چینل پر کیوں کہا تھا کہ جس دن بھی چیف جسٹس آئے گا ہم اس دن ریلی نکالیں گے ؟
3 ۔ چیف جسٹس صاحب کی آمد سے 36 گھینٹے قبل کراچی میں ان کے وکیل منیر اے ملک کا دفتر کیوں سیل کیا گیا ؟ پھر اسی شب ان کی رہائشگاہ پر گولیاں کس نے چلائیں ؟
4 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ کے اس حکم کو روند ڈالا کہ چیف جسٹس صاحب کو اپنی مرضی کے روٹ پر ایئر پورٹ سے عدالتِ عالیہ آنے دیا جائے ؟
5 ۔ شاہراہ فیصل کی مکمل ناکہ بندی کس نے کی جو کہ 12 مئی کے طلوعِ آفتاب سے بہت پہلے ہی کر لی گئی تھی ؟
6 ۔ کس نے وکلاء کو عدالتِ عالیہ سندھ تک جانے نہ دیا اور کس نے عدالتِ عالیہ کی عمارت کا محاصرہ کیا ؟
7 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ سندھ کے حکم کہ شاہراہ فیصل کو کھول دیا جائے کی دھجیاں اُڑائیں ؟
8 ۔ جب کراچی میں انسانوں کا خون بے دریغ بہایا جا رہا تھا تو کس کے حکم کی بجا آوری میں پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنے رہے ؟
9 ۔ کون پونے چھ گھینٹے آج ٹی وی کی عمارت پر گولیاں برساتا رہا جبکہ پولیس والے قریب ہی موجود تھے اور ایم کیو ایم والے بھی اپنے جھنڈے اُٹھائے پھر رہے تھے ؟
10 ۔ کراچی میں امن امان قائم رکھنا اور خون خرابہ روکنا کس کی ذمہ داری تھی ؟ کیا سندھ کا نظم و نسق چیف جسٹس صاحب یا حزبِ اختلاف چلا رہی ہے جو ذمہ داری ان پر عائد کی جا رہی ہے ؟

قاتل کون ؟

ہمارے ملک میں بسنے والوں کی بھاری اکثریت کو مسلمان ہونے کا دعوٰی ہے ۔ ہمارا دین اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں قتل روزانہ کا معمول ہے ۔ کہیں ڈاکو قتل کرتے ہیں ۔ کہیں طاقتور یا بارسوخ لوگ قتل کراتے ہیں ۔ کہیں قتل باہمی رنجشوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور باقی کوٹہ پولیس اور خُفیہ ایجنسیاں پورا کر دیتی ہیں ۔ کیا یہ سب مسلمان ہیں ؟

حماد نے کوئی چودہ پندرہ سال پہلے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیمی کامیابی پر سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا ۔ وہ ذہین ۔ محنتی اور حاضر جواب آدمی تھا ۔ سی ایس ایس کے امتحان میں پہلے دس کامیاب اُمیدواروں میں ہونے کی وجہ سے اسے ڈی ایم جی گروپ میں رکھا گیا تھا ۔ حماد والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود نخرے والا نہیں تھا بلکہ خوش مزاج تھا ۔ اس کے کام سے متأثر ہونے کی وجہ سے عدالتِ عظمٰی کے موجودہ چیف جسٹس اُسے بحیثیت ایڈیشنل رجسٹرار اسلام آباد لائے تھے اور وہ یہاں پر اُن کے سٹاف آفیسر کی طرح بھی کام کرتا رہا ۔ 9 مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد خفیہ ایجنسیز والے 4 دن حماد سے تفتیش کرتے رہے مگر انہیں نا اُمیدی ہوئی ۔

سپریم کورٹ کے مقتول ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے والد سید امجد حسین نے کہا ہے کہ ان کے گھر سے نقدی یا زیورات لوٹنا تو دور کی بات ہے قاتلوں نے تو ان کے بارے میں پوچھا تک نہیں ۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید امجد حسین نے کہا کہ قاتلوں نے حماد کے ماتھے پر گولی ماری تھی اور جب حمادگرگئے تو حملہ آور چلے گئے۔ ان کے بقول وہ صرف حماد کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے۔ ستر سالہ سید امجد حسین زمیندار ہیں اور ان کا تعلق لاہور کے نواحی علاقے شرقپور کے قصبہ مترد ہ سے ہے۔ حماد کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ مقتول علاقے کے پہلے شخص تھے جنہوں نے سول سروس میں کامیابی حاصل کی اور ڈسٹرکٹ مینجمینٹ گروپ میں گئے۔ حماد کے والد کا کہنا تھا کہ جب ان کے بیٹے کا قتل ہوا تو پولیس کی ایک گاڑی گھر کے باہر کھڑی تھی اس گاڑی میں پانچ مسلح اہلکار تھے جن میں سے تین گاڑی کے باہر کھڑے تھے۔

ان کے بقول ان کے بیٹے کے قاتل گھر سے باہر کھڑی پولیس کی موجودگی میں فرار ہوئے لیکن پولیس کچھ نہ کرسکی ۔’وہ کیسے پولیس والے تھے جن کے سامنے قاتل فرار ہوگئے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں وہ پولیس کے بیان کردہ موقف پر کس طرح مطمئن ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کے پاس اسلحہ تھا اور وہ فائرنگ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا حالانکہ پولیس اہلکار تعاقب کرکے ان کو (قاتلوں کو) گرفتار کرسکتے تھے۔ مقتول کے والد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ پولیس ڈیوٹی دے رہی تھی یا پھر قاتلوں کو بچانے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کے بقول جب حملہ آور نےگولی چلائی تو حماد کا ایک ہمسایہ دیوار پھلانگ کر داخل ہوا اور اس نے پولیس والوں کو اندر آنے کو کہا لیکن پولیس والے اپنی جگہ کھڑے رہے۔ حماد رضا کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جس سے یہ معلوم ہو کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ حماد ہمیشہ حوصلہ کی باتیں کرتا تھا۔

پاکستان بار کونسل کی فری لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ رمضان چودھری کے بقول انسانی حقوق کے معاملات پر چیف جسٹس پاکستان کے احکامات کی روشنی میں حماد رضا ہی کمیٹی سے رابطہ کرتے تھے۔

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کی بیوی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ شبانہ حماد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات وہ لوگ سیکٹر جی ٹین ٹو میں واقع ان کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ حماد کی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا گھر میں داخل ہونے والے لوگ ڈکیتی کی غرض سے نہیں بلکہ حماد کو ڈھونڈ رہے تھے اور انہوں نے بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی اور جب دروازہ کھولا گیا تو وہ حماد رضا کو ہلاک کر کے ایک دو منٹ میں غائب ہو گئے۔

حماد رضا ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور وہ کافی عرصہ تک صوبہ بلوچستان میں تعینات رہے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس بننے کے بعد حماد رضا کو ڈیپیوٹیشن پر سپریم کورٹ میں بطور ایڈیشنل رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ حماد رضا سپریم کورٹ کے ان اہلکاروں میں شامل تھے جن سے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد حکومتی اداروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔ شبانہ حماد نے کہا کہ ان کی کسی شخص سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی انہیں پہلے کبھی کسی نے کوئی دھمکی دی تھی ۔

Supreme Court officer murdered

ISLAMABAD, May 14: Supreme Court’s additional registrar Syed Hammad Amjad Raza was shot dead by four men who broke into his house before dawn on Monday. Talking to Dawn, a police officer claimed that the murder had been committed by robbers, but Mr Amjad Raza’s widow Shabana, a witness to the killing, said it was a target killing. She alleged that the government and agencies were involved in the murder. She said that she saw several policemen lurking around in the lawn of her house when she ran out crying for help, but they did nothing to catch the culprits. She vowed to do everything possible to bring those responsible to justice. Her brother, Abid Hussain Shah, also insisted that it was not a case of robbery, because nothing had been found missing from the house, except two cellphones. “It’s a target killing and a message to judges,” he said.

According to the family, four people broke into Mr Raza’s official residence through the kitchen window at around 4.15 am. They overpowered his parents who lived on the ground floor, tied them up and asked them about Mr Raza. Syed Amjad Ali Mashedi Rizvi, father of Mr Raza, said the intruders held the teenage housemaid Ashee at gunpoint and forced her to take them upstairs to Mr Raza’s bedroom.

“As my husband responded to the knocks and opened the door, we saw four clean-shaven men in trousers and shalwar kameez. They were aged between 28 and 35. One of them was holding a pistol and another carried a knife. On seeing Hammad, the gunman shot him in the head and fled,” Ms Shabana said. She said she ran downstairs crying for help and was surprised to see some policemen in the lawn. They did not do anything. However, police officer Shaukat Pervaiz, a neighbour, responded to her screams. SP Pervaiz, who is detailed with the prime minister’s security squad, shouted at a police patrol, standing about 100 feet away from his house, to catch the culprits but by the time the patrol moved the attackers had disappeared.

Security agencies had questioned Mr Raza for four days after the removal of Chief Justice Iftikhar.

Talking to Dawn, Intizar Mehdi, a cousin of the deceased, alleged that it was a target killing. “The moment Hammad opened the door, the intruders shot him in the head without having any argument,” he said, adding that the robbers would not act the way the killers had. There was a lot of jewellery and cash in the house but the gunmen had not touched anything, he said.

The deceased is survived by the wife and three children.

Pakistan supreme court official slain over links to CJ Chaudhry:

ISLAMABAD, May 15 (AFP) – Supreme Court deputy registrar Syed Hamad Raza shot dead at his home on Monday morning was targeted because of his ties to suspended chief justice Iftikhar Muhammad Chaudhry and had come under pressure from the government, lawyers for the judge said Tuesday. The claim came as Justice Chaudhry appeared at the Supreme Court to challenge his removal by President Pervez Musharraf in a row that has triggered deadly protests. “Raza’s murder was a targeted killing. It appears to be linked to the case,” Chaudhry’s main lawyer Aitzaz Ahsan told the court. “He was under pressure from various government agencies,” he said. Justice Khalilur Rehman Ramday, the presiding judge of the 13-member full bench hearing Chaudhry’s appeal against misconduct charges, said the court had already taken notice of the murder. “He (Hamad) was a wonderful boy… It is our belief that such an atrocity will not go unpunished. We shall do what can possibly be done by us,” Justice Ramday said. (Posted @ 16:38 PST)