Category Archives: روز و شب

بچ نکلنے والی طالبہ کا انٹرویو

بدھ 11 جولائی کو حکومت کے مطابق آخری 30 طالبات جامعہ حفصہ سے نکلیں تھیں ۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا اور دو دن بعد انہیں انکے والدین کے حوالہ کر دیا گیا تھا ۔ ان طالبات میں ایک مرگلہ کی پہاڑیوں پر کوٹلہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی شہناز اختر بھی ہے ۔ شہناز اختر عام سکول سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد گذشتہ 6 سال سے جامعہ حفصہ میں زیرِ تعلیم تھی اور اب عالِمہ کے کورس کے آخری سال میں تھی کہ سب کچھ آگ اور بارود کی نظر ہو گیا ۔ شہناز اختر کے مطابق ۔ 550 طالبات حدیث کی عالِمہ کا کورس مکمل کر چکی تھیں جس دن ان کی تقسیمِ اسناد کی تقریب ہونا تھی اسی دن نمازِ فجر کے وقت جامعہ حفصہ پر پہلی شدید فائرنگ اور گولہ باری ہوئی ۔

شہناز اختر نے بتایا کہ وہ 5 دوسری طالبات کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرہ میں تھی ۔ دوسرے کمروں میں سے ایک میں ایک میں گولہ آ کر گرا جس سے ایک دم آگ لگ گئی اور 30 طالبات جل کر شہید ہوگئیں ۔ اس کے بعد اُم حسّان نے کہا کہ تمام طالبات کی فہرست تیار کی جائے تو وہ فہرست بنانے میں لگ گئی مگر دوسرے دن تک ابھی 1000 طالبات کے کوائف لکھے تھے کہ ایک اور شدید حملہ ہوا جس میں 85 طالبات شہید ہو گئیں ۔ تیسرے دن حملہ اور بھی شدید تھا جس کے نتیجہ میں 270 طالبات شہید ہو گئیں اور 50 کے لگ بھگ زخمی ہوئیں جن کو کوئی طبّی امداد نہ ملی ۔

شہناز اختر نے بتایا کہ رات کو کامیاب مذاکرات کی بات ہوئی [10 اور 11 جولائی کی درمیانی رات والے آخری مذاکرات] لیکن فجر کے وقت اچانک دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں ۔ ہمیں تہہ خانے میں جانے کا کہا گیا ۔ وہاں اس وقت تقریباً 1500 طالبات تھیں ۔ دن نکلا اعلان ہوا کہ جو باہر نکل آئے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ دن کو ساڑھے گیارہ بجے ہم 30 طالبات باہر نکل آئیں ۔ باقی نے یہ کہہ کر باہر جانے سے انکار کر دیا کہ یہ دھوکہ دے رہے ہیں اور پھر ہم باہر نکل کر جائیں گی کہاں ؟ [ان طالبات کی زیادہ تعداد زلزلہ سے متأثر علاقہ سے تعلق رکھتی تھی] ۔ جب ہم جامعہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ جامعہ کی چھت پر کمانڈو کھڑے تھے ۔ انہوں نے ہم پر فائرنگ شروع کردی ۔ بڑی مشکل سے ان کو چیخ کر بتایا کہ ہم باہر جا رہی ہیں ۔ ہم برستی گولیوں میں باہر نکل آئیں تو باہر پھر ہمیں کمانڈوز نے گھیر لیا ۔ پھر زنانہ پولیس نے ہماری تلاشی لی اور سب کچھ رکھوا لیا جس میں 1000 طالبات کے کوائف والی فہرست بھی شامل تھی ۔ کمانڈوز نے ہم پر طنز کیا اور ہمارے ساتھ بدتمیزی بھی کی ۔ پھر ہمیں نقاب اُتارنے کا حکم دیا گیا ۔ بعد میں ہمیں تھانہ آبپارہ لیجایا گیا وہاں پر بھی اہلکار بدتمیزی سے بات گفتگو کرتے رہے ۔ آبپارہ تھانہ سے ہمیں سپوٹس کمپلیکس لیجایا گیا جہاں سے بعد میں مجھے میرے گھر والے اپنا شناختی کارڈ جمع کرا کر لے آئے ۔

بشکریہ اُمّت ۔ مکمل انٹرویو پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے ۔

آپریشن سائلنس یا خاموش سازش

ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل راحت لطیف نے کہا کہ جذباتیت کی ابتداء لال مسجد والوں نے کی اور انتہا حکومت نے کر دی۔انہوں نے کہا کہ حکومت چند لوگوں کو معافی دیکر اس خوں خرابے سے بچ سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے تین سو مسافروں کی جان بچانے کے لیے مولانا مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دیا تھا حالانکہ وہ لوگ ہندوستان کی نظر میں بہت بڑے مجرم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں پاکستان نے اپنے لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو معاف کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے لال مسجد آپریشن کو قتلِ عام اور ایک سانحہ قرار دیا اور کہا کہ پوری فوج کو ضمیر کا مجرم بنا دیا گیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ متعدد گواہیاں آ گئی ہیں کہ ’مذاکرات ایوان صدر نے ناکام بنائے اور مسجد اور خواتین کا تقدس خاک میں ملا دیا گیا‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ مذاکرات کے عین دوران حکومتی مذاکراتی ٹیم کی موجودگی میں حملے کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد میں قتل عام کر کے قوم اور فوج کے درمیان ایک خونی لکیر کھینچ دی گئی ہے اور جنرل مشرف کی سربراہی نے پوری قوم کو فوج کے روبرو لا کر کھڑا کر دیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ جب مذاکرات کامیاب ہوچکے تھے عین اس وقت نادیدہ قوت نےاپنا کام دکھایا اور نتیجے کے طور پر اسلام آباد کو خون میں نہلا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف پاکستان میں امریکی رٹ قائم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اسے خوش کرنے کے لیے ملک کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے۔انہوں نے صدر مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ امریکی رٹ قائم کرنےکی بجائے اللہ کی رٹ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ لال مسجد کے واقعہ کے بعد ملک کے انتشار میں اضافہ ہوگا۔

جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا کہ مسلم لیگ( ق) کے سربراہ شجاعت حسین، علماء کمیٹی اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک سازش کےتحت سبوتاژ کر کے پورے اسلام آباد کو خاک و خوں میں نہلا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔

دُعا

میں مندرجہ ذیل دعا مانگتا ہوں اور دیکھتا ہوں کتنے قارئین ہیں جو اس پر آمین لکھتے ہیں ۔

اے خالق و مالکِ حقیقی ۔ رحمٰن و رحیم ۔ قادر و کریم ۔ یومِ جزا کے مالک آپ ہمشہ انصاف کرتے ہیں ۔ آپ یومِ جزا کو تو انصاف کریں گے ہی ۔ میری آپ سے انتہائی انکساری سے استدعا ہے کہ جھُوٹوں اور ظالموں کو خواہ وہ حکومت میں ہیں یا نہیں ہیں اس سزا کا کچھ حصہ اس دنیا میں بھی دے دے تا کہ وہ بے قصور لوگوں پر ظلم کرنے سے ڈرنے لگیں ۔

اردو محفل کے ماہرین کی خدمت میں

مبارک ہو کہ آپ نے اردو محفل کو بہت خوبصورت اور محفوظ بنا دیا ۔

میں آج اُردو محفل میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر پوری کوشش کے باوجود اپنی ماضی میں لکھی تحاریر تک نہ پہنچ سکا ۔ نہ بہبودِ عامہ لکھ کر اور نہ اپنا نام لکھ کر اور نہ مجھے کوئی اور طریقہ سمجھ میں آیا ۔ بہت بہت شکریہ آپ کا ۔ میرے پاس اتنا زیادہ فالتو وقت نہیں کہ میں ہر بار آدھا پونا گھنٹہ اپنی تحریر تلاش کرنے پر لگاؤں ۔ بخشو بی بلی ۔ چوہا لنڈورا ہی بھلا ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری ۔ رنگ چوکھا آئے

بہبودِ عامہ کے کاموں کیلئے مالدار ہونا ضروری نہیں ۔ ایسے بہت سے کام ہیں جو ہر شخص کی دسترس میں ہوتے ہیں ۔ ایسے بھی بہت سے بہبودِ عامہ کے کام ہیں جن پر کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا ۔ یہ کام باہمی مشورہ سے ہو سکتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی ۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔

درخت لگانا ۔ صرف اپنے گھر میں نہیں بلکہ کھُلی زمین پر اور اس کی پرورش کرنا ۔ پہلے سے لگے درختوں کی پرورش اور حفاظت کرنا ۔

سڑک ۔ محلے یا گلی میں پانی کا نلکا لگا ہے اور کوئی کھُلا چھوڑ گیا جس سے پانی ضائع ہو رہا ہے ۔ اسے بند کر دینا اور اپنے جاننے والوں سے ادب کے ساتھ ذکر کرنا کہ نلکا کھُلا نہیں چھوڑنا چاہیئے اس سے ہمارا ہی نقصان ہوتا ہے ۔

زیرِ زمین پانی کا پائپ پھٹ جانے سے پانی ضائع ہو رہا ہو تو متعلقہ محکمہ تک اطلاع پہنچائی جائے اور اس وقت تک یاد دہانی کرائی جائے جب تک پائپ کی مرمت نہ کر دی جائے ۔

کوئی شخص کوڑا کرکٹ کی مخصوص جگہ کی بجائے کسی اور جگہ کوڑا وغیرہ پھینکے تو اسے اُٹھا کر مخصوص جگہ پر پھینک دیا جائے اور اپنے جاننے والوں کو مؤدبانہ طریقہ سے وقتاً فوقتاً یاد دہانی کرائی جائے کہ کوڑا مخصوص جگہ پر ہی پھینکنا چاہیئے ۔ اگر کسی کو غلط جگہ کوڑا پھینکتے دیکھ لیا جائے تو اس کے سامنے ہی اُٹھا کر مخصوص جگہ پھینکا جائے اور اسے مؤدبانہ طریقہ سے کہا جائے کہ آئیندہ مخصوص جگہ پر کوڑا پھینکا کیجئے ۔

کوئی گالی گلوچ کر رہا ہو تو اسے پیار سے سمجھایا جائے کہ آپ تو بڑے اچھے انسان ہیں ۔ ضروری بات ہے کہ آپ کو تکلیف پہنچی جس کی وجہ سے آپ غلط الفاظ کہنے پر مجبور ہوئے لیکن اس سے دوسرے کا کچھ نہیں بگڑتا ۔ آپ دوسرے کو اپنے اچھے سلوک سے متأثر کر سکتے ہیں ۔

کوئی بچہ یا بچی یا عمر رسیدہ خاتون یا مرد یا نابینا سڑک کے کنارے کھڑا ہے اور سڑک عبور کرنا چاہتا ہے ۔ ٹریفک کو روک کر اور اس کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پار پہنچا دیا جائے ۔

ایسے اور بہت سے عمل ہیں جو بہبودِ عامہ کے دائرہ میں آتے ہیں اور ان کیلئے پیسہ درکار نہیں ۔ اور سبحان اللہ ۔ ایسی تمام اچھائیاں کارِ ثواب ہیں اور اللہ ان کا بہت اجر دیتا ہے ۔

عامر لیاقت کا استعفٰے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت  نے پاکستان کے مرکز اسلام آباد کے دل ۔ آبپارہ ۔ میں واقع لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر 2 جولائی بعد دوپہر فوج کشی شروع کی او ر اب تک جاری ہے ۔

چند یوم قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور اور صدر جنرل پرویز مشرف کے چہیتے ڈاکٹر عامر لیاقت سے ایک ٹی وی انٹرویو میں پوچھا گیا
“لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر آپریشن ہونا چاہیئے یا نہیں؟”

ڈاکٹر عامر لیاقت نے یہ جانتے ہوئے کہ حکومت اور بالخصوص اسکی اپنی جماعت ایم کیو ایم کی پالیسی سے اختلاف بہت مہنگا پڑ سکتا ہے جواب دیا
“وہ ہمارے بچے بچیاں ہیں ۔ ان کے خلاف کوئی مسلحہ کاروائی نہیں ہونا چاہیئے”
اس نے مزید کہا
” اول اور آخر راستہ مذاکرات کا راستہ ہے”

نتیجہ حسب اُمید تھا اور بہت جلد نکل آیا ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کو فوراً مستعفی ہونا پڑا ۔ اس کے باوجود جن لوگوں کی عقلوں پر پردہ پڑ چکا ہے وہ حکومت کے اس ظالمان بلکہ خونخوار اقدام کو جائز قرار دینے کیلئے مختلف بہانے گڑھ رہے ہیں ۔ اللہ ان لوگوں کو سیدھی راہ دکھائے ۔ آمین ۔