Category Archives: روز و شب

نہ جانے کیوں

نہ جانے کیوں آج میرا دل یہ آدھی صدی پرانا گیت گانے کو چاہ رہا ہے ۔

اے میرے دل کہیں اور چل
غم کی دنیا سے دل بھر گیا
ڈھونڈ لے اب کوئی شہر نیا
اے میرے دل کہیں اور چل

چل جہاں غم کے مارے نہ ہوں
جھوٹی آشا کے تارے نہ ہوں
ان بہاروں سے کیا فائدہ ؟
جن میں دل کی کلی جل گئی
زخم پھر سے ہرا ہو گیا
اے میرے دل کہیں اور چل

چار آنسو کوئی رو دیا
پھیر کے منہ کوئی چل دیا
لُٹ رہا تھا کسی کا جہاں
دیکھتی رہ گئی یہ زمیں
چُپ رہا بے رحم یہ زماں
اے میرے دل کہیں اور چل

اکثریت کی ضرورت

کچھ سال قبل مجھے میرے ایک دوست اپنا مکان دکھا رہے تھے کہ ان کے بیٹے کے کمرے میں ان کی بیگم کے ہاتھ کا انگریزی میں لکھا ہوا کتبہ نظر آیا جس کا ترجمہ یہ ہے

جس بستر پر سوئیں ۔ اُٹھ نے پر اسے ٹھیک کریں
جو کپڑے پہنیں ۔ اُتارنے پر انہیں سلیقے سے ٹانگیں
اگر آپ کوئی چیز گرائیں تو اسے اُٹھائیں بھی
اگر آپ سے کوئی چیز گندی ہاجائے تو اسے صاف بھی کریں
اگر آپ کھائیں تو پلیٹ صاف بھی کریں

If you sleep on it, make it up.
If you wear it, hang it up.
If you drop it, pick it up.
If you step on it, wipe it up
If you eat out of it, wash it up.

چٹکلے ۔ ایک کہانی اور چار حقیقی واقعات

ایک ہونہار لڑکا بی ایس میں اول آنے کے بعد ایم ايس کا طالب علم تھا کہ ٹریفک کے حادثہ میں سر کُچلا گیا ۔ پروفیسر سرجن نے اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی اور اس کے سر کے کئی آپريشن کئے ۔ چھ ماہ بعد وہ تندرست ہو کر گھر جانے لگا تو پروفیسر سرجن نے اسے کہا ” مجھے بہت خوشی ہے کہ تم اپنے پاؤں پر چل کر گھر جا رہے ہو مگر مجھے دُکھ ہے کہ میں تمہارا دماغ نہ بچا سکا اور اسے نکالنا پڑا ۔ دماغ کے بغیر تم دنیا میں کیا کرو گے ؟”

وقت گذرتا گیا پروفیسر سرجن ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گاؤں چلا گیا ۔ ایک دن پروفیسر اپنے گاؤں کی پتلی سی سڑک کے کنارے چل رہا تھا کہ ایک کار پاس سے گذری ۔ آگے جا کر رُکی اور اُلٹی ہی واپس آ کر پروفیسر کے پاس کھڑی ہو گئی ۔ پروفیسر نے بڑی سی نئی کار کو غور سے دیکھا ۔ شوفر نے بڑی سُرعت کے ساتھ کار سے باہر نکل کر پچھلی نشست کا دروازہ کھولا ۔ اس ميں سے ايک نہائت خوش پوش شخص نکل کر آيا اور بڑی گرم جوشی سے پروفيسر کے ساتھ مصافحہ کر کے بولا ۔ “پروفيسر آپ نے مجھے پہچانا نہيں ؟ ميں وہی ہوں جس کا آپ نے آپريشن کر کے جان بچائی اور دماغ ضائع ہونے کا آپ کو افسوس تھا” ۔
پروفيسر نے حيران ہو کر کہا ” يہ سب کيا ہے ؟”

تو وہ بولا “دماغ ضائع ہو جانے کے باعث ميں تعليم جاری نہ رکھ سکا اور ميں نے آرمی ميں کميشن لے ليا ۔ اب ميں ليفٹيننٹ جنرل ہوں” ۔

مندرجہ بالا مختصر ترجمہ ہے ایک امریکی ادیب کی لکھی کہانی کا ۔ لیکن ادیب یونہی ایسی کہانیاں نہیں لکھتے ۔ اس کی کوئی بنیادی عملی وجوہات ہوتی ہیں ۔ اپنی عملی زندگی میں سے 39 سال میرا رابطہ فوجی افسروں کے ساتھ رہا جن میں میجر سے لے کر لیفٹننٹ جنرل تک شامل ہیں ۔ صرف چند واقعات درج کرتا ہوں

آدھی صدی قبل پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے سٹورز ڈیپارٹمنٹ میں ایک میجر صاحب تشریف لے گئے ۔ انہوں نے ایک پرزہ اٹھایا تو اتفاق سے اسے زنگ لگا ہوا تھا ۔ وہاں کھڑے مزدور کو ڈانٹ پلا دی ۔ مزدور نے جواب دیا “صاحب ۔ اس پرزے کو گریس نہیں لگی ہوئی”۔ حکم ہوا “اگر بھیجنے والوں نے گریس نہیں لگائی تو تم کس لئے ہو ؟ یہاں جتنا مال پڑا ہے سب کو ابھی گریس لگاؤ ورنہ نوکری سے فارغ کر دونگا”۔ میجر صاحب حُکم دے کر چلے گئے ۔ وہ بیچارہ اَن پڑھ مزدور تھا ۔ گریس کی بالٹی کھولی اور تمام مال کو گریس لگا دی ۔ اس میں قیمتی گرائینڈنگ وہیل اور کچھ اور پرزے بھی تھے جو گریس لگانے سے بیکار ہو جاتے ہیں ۔ یہ میجر صاحب جنرل بننے کے بعد ریٹائر ہوئے ۔

میں 1960 کی دہائی میں سیکیورٹی کورس پر تھا جس کا انتظام برطانوی حکومت نے کیا تھا ۔ اس کورس کے اختتام پر ہمیں کچھ ڈاکومنٹری فلمیں دکھائی گئیں جو کہ اصل واقعات پر مبنی تھیں ۔ ان میں سے ایک واقعہ ۔ برطانیہ کی رائل آرڈننس فیکٹری میں استعمال ہونے والی ہینڈ ٹرالیاں گم ہونا شروع ہو گئیں ۔ ملٹری انٹیلیجنس نے بڑی محنت کی مگر کچھ سراغ نہ ملا ۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ 4 فٹ چوڑی اور 6 فٹ لمبی ٹرالی کوئی فیکٹری سے باہر کیسے لیجاتا ہے جبکہ گیٹ پر فوجی ہر شخص کی جامہ تلاشی بھی کرتے ہیں ۔ ایک سال گذر گیا اور 12 ٹرالیاں غائب ہو گئیں ۔ آخر اعلان کیا گیا کہ جو کوئی چوری کی واردات یا اس کے طریقہ کی اطلاع دے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ ایک ماہ بعد سکیورٹی چیف کے پاس ایک مزدور آیا اور کہا “مجھے مجاز افسر سے لکھوا کر دیں کہ نوکری سے نکالنے کے علاوہ میرے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی تو میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گا”۔ سکیورٹی کے چیف نے مطلوبہ حکمنامہ جاری کروا کر اسے بلایا تو اس نے کہا “کل چھٹی کے بعد مجھے فیکٹری سے باہر فلاں جگہ ملیں”۔ دوسرے دن اس نے سکیورٹی چیف کو بتایا “میرا خاندان بڑا ہے اور تنخواہ میں گذارہ نہیں ہوتا تھا ۔ میں نے فیکٹری میں گھاس کاٹنے کا لائینس لے لیا ۔ فارغ وقت میں گھاس کاٹ کر باہر لیجا کر بیچتا مگر پھر بھی ٹھیک سے دو وقت کی روٹی نہ ملتی ۔ اس کے بعد میں نے ایک منصوبہ بنایا ۔ ہر ماہ میں ایک دن گھاس کاٹ کر ٹرالی پر رکھتا اور اُسے کھینچتا ہوا گھر کو چل پڑتا ۔ گیٹ پر فوجی میری تلاشی لیتا اور گھاس کو بھی اُوپر نیچے کر کے دیکھتا مگر ٹرالی کے متعلق کچھ نہ کہتا ۔ میں 12 ٹرالیاں لیجا کر بیچ چکا ہوں اب میں چھوٹا موٹا کاروبار کر کے اپنے خاندان کو پالوں گا ۔ میں ملازمت سے استعفٰے دے چکا ہوں ۔ آج میری ملازمت کا آخری دن تھا”۔

پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں رواج تھا کہ کوئی گڑبر ہو تو تفتیش فوج کی خفیہ ایجنسی کرتی ۔ مسئلہ حل نہ ہو تو سویلین افسروں کی کمیٹی بنا دی جاتی ۔ کوئی 40 سال پہلے بجلی کے بلب غائب ہونا شروع ہوگئے ۔ ایک ایسے سویلین افسر کو تفتیش پر لگا دیا گیا جس نے میرے ساتھ برطانیہ کا سکیورٹی کورس کیا تھا ۔ اتفاق سے فیکٹری کے ایک ورکر نے بلب اتارتے ہوئے چور کو پکڑ لیا ۔ اس نے چور سے کہا “ملازمت سے تو تم نکال دئیے جاؤ گے ۔ اگر تم مجھے یہ بتا دو کہ بلب گیٹ سے باہر کیسے لے کر جاتے تھے تو تمہارے خلاف اور کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی”۔ چور نے کہا “گیٹ پر تلاشی کا یہ طرقہ ہے کہ چھٹی کے بعد سب ورکر دونو ہاتھ سیدھے اُوپر اُٹھا کر قطار لگا لیتے ہیں اور فوجی ہر ایک کی جامہ تلاشی لیتا جاتا ہے اور کچھ نہ نکلنے پر اسے باہر جانے دیتا ہے ۔ بلب میرے ہاتھ میں ہوتا تھا ۔ میں دونوں ہاتھ اُوپر کر دیتا اور جامہ تلاشی کے بعد میں بلب سمیت باہر نکل جاتا”۔

جرمن مشین گن جو آجکل ہماری فوج کے استعمال میں ہے یہ اس سے پہلے استعمال ہونے والی مشین گن برَین [Bren] سے بالکل مختلف ہے ۔ جب فوج کو اس مشین گن کی پہلی کھیپ بھیجی گئی تو اس کے ساتھ 5000 آپریشنل و تربیّتی مینؤل [Operation and Training Manual] اور 5000 مینٹننس مینؤل [Maintenance Manual] بھیجے گئے اور لکھا گیا کہ ہر کمپنی کمانڈر کو ہر ایک کتاب کی کم از کم دو دو کاپیاں بھیجی جائیں ۔ اس سے ایک ڈیڑھ سال قبل جی ایچ کیو کو سلنگ [Sling] کے نمونے درآمد کر کے بھیجے گئے تھے اور بتایا گیا تھا کہ ایک سال کے اندر سلنگز بنوا لیں تاکہ جب مشین گنز تیار ہوں تو ان کے ساتھ بھیجی جا سکیں ۔ نئی مشین گنز کی کھیپ بھیجے جانے کے کچھ ماہ بعد میں کسی کام سے فیلڈ ایریا [Field Area] گیا ۔ وہاں کیا دیکھا کہ گنرز [Gunners] کو غلط تربیت دی جا رہی تھی اور مشین گن کے ساتھ انہوں نے ایک چھوٹی سلنگ میں وَیبنگ [Webbing] کا ٹکڑا لگا کر لمبی کی ہوئی تھی اور وُیبنگ کا پچھلا سِرا بَٹ [Butt] کے اوپر لپیٹا ہوا تھا ۔ یہ نظارہ دیکھ کر میں دَنگ رہ گیا ۔ کمپنی کمانڈر جو کہ لیفٹننٹ کرنل تھے سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اُنہیں کوئی کتاب نہیں بھیجھی گئی تھی اور مشین گنوں کے ساتھ اَینفِیلڈ رائفل نمبر 4 مارک 2 [Enfield Rifle No.4 Mk 2] کی سلنگز بھیجھی گئی تھیں جن کی لمبائی بہت کم ہونے کی وجہ سے اُنہیں نے اِدھر اُدھر سے وَیبنگ لے کر اُنہیں لمبا کیا ۔ واپس آ کر میں نے پی او ایف کے چیئرمین صاحب کو تفصیل سے آگاہ کیا ۔ اگلے دن وہ مجھے ساتھ لے کر جی ایچ کیو گئے اور کافی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ کسی جنرل صاحب نے حُکم دیا تھا کہ کتابوں کا فیلڈ میں کیا کام چنانچہ جی ایچ کیو کی لائبریری میں 5000+5000 کتابیں رکھوا دی گئی تھیں ۔ سلنگ نئی بنوانے کی بجائے فوجی افسرانِ بالا نے یہ سوچ لیا تھا کہ سلنگ ہی ہے نا ۔ کسی سپلائر کے پاس اَینفِیلڈ رائفل نمبر 4 مارک 2 جو کئی سال قبل بننا بند ہو چکی تھیں کی سلنگز پڑی تھیں وہ خرید کر نئی مشین گنوں کے ساتھ بھیج دی گئی تھیں ۔

یونہی تو ہمارہ ملک تباہ نہیں ہوا ۔ 60 میں سے پہلے 6 سال تو مہاجرین کی بحالی اور ملک کا انتظامی ناک نقشہ ٹھیک کرنے میں گذر گئے ۔ باقی 54 سالوں میں سے 32 سال 3 ماہ جرنیلوں نے حکومت کی ہے اور بقایا 21 سال 9 ماہ جرنیلوں نے سویلین حکمرانوں کی کمر پر ریشمی رومال میں چھپا کر پستول رکھے رکھا ۔

پچھلے 8 سال میں ہوشرُبا ترقی

صدر جنرل پرویز مشرف نے پچھلے سال کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت بہت ترقی کر گئی ہے جس کا ثبوت موبائل فون کے 5 ملین کنکشن بتا تھا ۔ میرے خیال کے مطابق ایسا سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل کی عوام کو سستے اور آسان طریقہ سے کنکشن مہیاء مین ناکامی کے باعث ہوا تھا ۔ ہاں حکومتی اخراجات کے لحاظ سے پاکستان نے پچھلے 7 سال میں بہت ترقی کی ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

جب سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی غیرآئینی حکومت کو نظریہ ضرورت کا جواز مہیا کیا تو ساتھ ہی الیکشن کروانے کی شرط لگا دی تھی ۔ پرویز مشرف نے تمام سیاسی لوٹوں کو لُڑھکنے میں مدد دی جس کے عوض انہیں لُوٹ مار کی کھُلی اجازت دے دی ۔ خود بھی دونوں ہاتھوں سے مال لُوٹا مگر پارسائی کے نعرے لگاتے رہے ۔ کچھ اعداد و شمار یہ ہیں

اخراجات کی مد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی 1999 تا جون 2000 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی 2006 تا جون 2007 ۔ ۔ اضافہ
ایوانِ صدر [پرزیڈنٹ ہاؤس] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7 کروڑ 50 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 30 کروڑ 80 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ 412 فیصد
ایوانِ وزیر اعظم [پرائم منسٹر ہاؤس] ۔ ۔ ۔ 9 کروڑ 80 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 36 کروڑ 70 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ 375 فیصد
قومی اسمبلی [نیشنل اسمبلی] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 25 کروڑ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ارب 60 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ 403 فیصد
سینٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 11 کروڑ 10 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 57 کروڑ 70 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ 520 فیصد
وزراء اور مشیر وغیرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2 کروڑ 40 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 15 کروڑ 50 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ 646 فیصد

کل اخراجات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 55 کروڑ 80 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2 ارب 41 کروڑ 30 لاکھ روپے ۔ ۔ 433 فیصد 

ہماری قومی اسمبلی کا ایک رُکن قوم کو اوسطاً 30 لاکھ روپے سالانہ اور ایک سینیٹر 60 لاکھ روپے سالانہ میں پڑتا ہے ۔

اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمشن نے غیر ملکی دوروں پر 18 کروڑ روپے خرچ کئے اور ان دوروں کا پاکستان یا اس کے عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ اگر یہی روپیہ پاکستان میں تعلیمی اداروں پر خرچ کیا جاتا تو 70 ہزار سکولوں میں پینے کے پانی اور ٹائلٹس کا بندوبست کیا جا سکتا تھا جو کہ اب تک موجود نہیں ہے اسی رقم کے اندر اساتذہ کی وہ ہزاروں اسامیاں بھی پُر کی جا سکتی تھیں جو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے خالی پڑی ہیں ۔

صوبائی اخراجات کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔

کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا ہے اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑے مدرسوں میں سے ایک ۔ جامعہ فریدیہ کو حکومت نے ختم کر دیا ہے ۔ سینکڑوں طالبات و طلباء مار دیئے جو باقی بچے وہ قید میں ہیں اسلئے اُن میں پڑھنے والے طالبات اور طلباء کے بارے معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے ۔ البتہ اسلام آباد میں 1999 میں قائم ہونے والے ایک چھوٹے سے مدرسہ ۔ ادارہ علومِ اسلامیہ ۔ کے فیڈرل بورڈ کے چند نتائج نمونہ کے طور پر نقل کر رہا ہوں ۔ عمدہ کارکردگی اس مدرسے کا اول روز سے معمول ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں میں لڑکے لڑکیاں اپنے شوق سے پڑھتے ہیں بڑا افسر بننے کیلئے نہیں ۔

اس سال یعنی 2007ء میں 25 طلباء نے ا انٹرمیڈیٹ [بارہویں جماعت] کا امتحان دیا جن میں سے 3 نے گریڈ اے وَن ۔ 18 نے گریڈ اے اور 4 نے گریڈ بی حاصل کیا ۔
سن 2006ء میں ا انٹرمیڈیٹ جنرل گروپ میں پہلی اور تیسری سے دسویں پوزیشنیں اسی مدرسہ کے طالب علموں نے حاصل کیں ۔
سن 2005 میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی گیارہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں ۔
سن 2004 میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی چودہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں اور حافظ حارث سلیم نے جنرل سائنس میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے ۔ اس مدرسہ کا کوئی طالب علم آج تک فیڈرل بورڈ کے امتحان میں فیل نہیں ہوا ۔

قبائلی علاقہ کے دہشت گرد ؟

کنور ادریس صاحب جو کہ روشن خیال شخص ہیں اور سابق بیوروکریٹ ہیں لکھتے ہیں کہ کسی زمانہ میں وہ قبائلی علاقہ میں تعینات تھے ۔ اس قیام کے دوران وہ قبائلیوں کی قانون کی پاسداری سے بہت متأثر ہوئے ۔ میں خود 1964 سے 1975 تک قبائلی علاقوں میں دور تک اندر جاتا رہا ہوں اور اس کے بعد مختلف سرکاری اور غیر سرکاری معاملات میں قبائلیوں سے واسطہ پڑتا رہا ۔ میں نے جتنا ان لوگوں کو انسانیت کے قریب پایا اتنا پاکستان کے کسی اور علاقہ میں بسنے والوں کو نہیں پایا ۔ ان جیسا حسنِ سلوک بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کم کم ہی ملتا ہے ۔ پچھلے چند سال سے ہمارے حکمران اپنے آقا کو خوش کرنے کیلئے ۔ ان محبِ وطن غریب لوگوں کو بم برسا کر مار رہے ہیں ۔ پچھلے ماہ میں کسی کام سے اسلام آباد کے ایک سرکاری دفتر گیا وہاں ایک آفیسر قبائلی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میں نے خیریت دریافت کی تو کہنے لگے “خیریت کیا ؟ ظلم ہو رہا ہے ۔ ہماری حکومت امریکا کی خوشنودی کیلئے محبِ وطن اور پاکستان کے محافظ لوگوں کو بیوی بچوں سمیت مار مار کر ختم کر رہی ہے ۔ آج تک انہی لوگوں نے بغیر حکومت کی مدد کے ملک کی حفاظت کی ہے”۔ میں نے کہا “حکومت کہتی ہے وہ تاجک ہیں”۔ اس پر اس نے کہا ” اس سال کے شروع میں جب سی ڈی اے والے بُلڈوزر لے کر جامعہ حفصہ کو گرانے آئے تھے تو طالبات ایک دو دن ڈنڈے لے کر سڑک پر کھڑی ہوئی تھیں ۔ اس کی فلم کئی ماہ ٹی وی پر چلتی رہی ۔ اگر ایک بھی تاجک مارا گیا ہوتا تو اس کی تصویر حکمران ٹی وی پر نہ دکھاتے ؟”

فیصلہ کا وقت قریب ہے

 

جاوید ہاشمی وہ شخص ہے جو پاکستان ٹوٹنے سے چند ماہ قبل ڈھاکہ جا پہنچا۔ وہ ناراض بنگالی نوجوانوں سے ملنا چاہتا تھا، انہیں بتانا چاہتا تھا کہ مغربی پاکستان کے عوام کی اکثریت فوجی جرنیلوں کو پسند نہیں کرتی لیکن جاوید ہاشمی سے کہا گیا کہ بنگالیوں سے دور رہو وہ تمہیں گولی مار دیں گے۔ یہ دیوانہ شخص چاک گریبان کے ساتھ سینے پر گولی کھانے کیلئے تیار ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اگر میرے لہو سے کسی کی نفرت کی آگ بجھتی ہے اور پاکستان بچ جاتا ہے تو میں گولی سے نہیں ڈرتا۔ [حامد میر کے قلم کمان سے اقتباس ۔ ۔ ۔ جاری ہے]

پاکستان کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کی خواہش رکھنے والے اس شخص کو موجودہ دور حکومت میں غدّار قرار دیا گیا۔ بغاوت کا مقدمہ بنانے والوں کو بھی پتہ تھا کہ جاوید ہاشمی غدّار نہیں۔ اسے کہا گیا کہ اگر وہ نواز شریف کے ساتھ غدّاری پر راضی ہو جائے تو اسے سیاسی شان و شوکت سے مالا مال کر دیا جائے گا لیکن اسے یہ شوکت کبھی عزیز نہیں رہی۔ وہ انکار کرتا رہا۔ اعلیٰ عدالتوں سے اس کی درخواست ضمانت مسترد ہوتی رہی لیکن آخر کار 3 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اور تاریخی فیصلے کے ذریعہ جاوید ہاشمی کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ افسوس صد افسوس کہ جاوید ہاشمی چار سال تک پابند سلاسل رہا لیکن قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری امیر حسین نے ایک مرتبہ بھی جاوید ہاشمی کو اسمبلی کے اجلاس میں لانے کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے۔

یہ درست ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد موجودہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے لیکن اسمبلی کی تاریخ کا یہ واقعہ شرمناک ہے۔ اس اسمبلی کا ایک رکن چار سال تک جیل میں تھا ، اس کی رکنیت برقرار رہی لیکن اسے اسمبلی کے اجلاس میں حاضر کرنے کا حکم صادر نہ ہو سکا ؟ اس ایک مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک کمزور اسمبلی تھی، اس اسمبلی نے جاوید ہاشمی کو کوئی عزت نہیں دی لیکن جاوید ہاشمی جیسے بہادر شخص کی رکنیت کے باعث اس اسمبلی کو عزت ضرور ملی ہے۔

اسیّ سالہ بھارتی دانشور کلدیپ نیّر پاکستانیوں پر حیران ہیں۔ پاکستان بنا تو ان کی عمر 24 سال تھی۔ وہ سیالکوٹ میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر دہلی پہنچے تو انہیں یقین نہیں تھا کہ پاکستان قائم رہے گا۔ انہیں دہلی پہنچے 60 سال گزر گئے لیکن پاکستان بدستور قائم ہے۔ وہ حیران ہیں کہ 60 میں سے 32 سال تک پاکستان پر فوجی سربراہوں نے حکومت کی۔ سیاسی حکومتوں کا دورانیہ 28 سال رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

کلدیپ نیّر مزید حیران ہونے والے ہیں کیونکہ پاکستان میں آئین اور جمہوریت کیلئے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ منزل بہت دور ہے۔ ایک جاوید ہاشمی تو رہا ہو گیا لیکن ابھی جاوید ہاشمی کو اختر مینگل اور ان کے کئی دیگر ساتھیوں کی رہائی کیلئے مزید جدوجہد کرنی ہے۔ ان سب پر بھی بغاوت کے مقدمے ہیں۔ ابھی تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی رہا کروانا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی پر پاکستان کے دشمن خوش نہیں ہوں گے اور اسی لئے مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے دشمن اس ملک میں حقیقی جمہوریت اور قانون کی بالادستی نہیں چاہتے۔ کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا دشمن جاوید ہاشمی کا بھی دشمن ہے ؟ کیا دونوں غدّار ہیں ؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ کر دیا کہ جاوید ہاشمی غدّار نہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی کے بعد تاریخ کو بھی ایک فیصلہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ انہیں نظر بند کرنے والوں کے بارے میں ہو گا اور اس فیصلے کا وقت بھی قریب ہے۔

کمان سے نکلا تیر

Flag-1ایک جوان لڑکی ایئر پورٹ کے روانگی کے لاؤنج میں داخل ہوئی تو جہاز کی روانگی میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ اس نے وقت گذارنے کیلئے بسکٹوں کا ایک پیکٹ اور ایک رسالہ خریدا اور لاؤنج میں میز کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر رسالہ پڑھنے لگی ۔ چند منٹ بعد ایک جوان لڑکا آیا اور اسی میز کے دوسری طرف والی کرسی پر بیٹھ کر ناول پڑھنے لگ گیا ۔ کچھ دیر بعد خاتون نے میز پر پڑے پیکٹ کو کھولا اور ایک بسکٹ لے کر کھانے لگی ۔ اس نے دیکھا کہ اس کے بعد لڑکے نے بھی اسی پیکٹ میں سے ایک بسکٹ نکال کر کھا لیا ۔ اسے یہ بات ناگوار گذری لیکن وہ خاموش رہی ۔ چند منٹ بعد خاتون نے دوسرا بسکٹ لے کر کھایا تو پھر لڑکے نے ایک بسکٹ لے کر کھا لیا ۔ لڑکی تَلملا اُٹھی لیکن ضبط سے کام لیا کہ اس کے چیخنے سے لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا تھا کہ اسے گنوار جانیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ آخر ایک بسکٹ رہ گیا اور وہ کنکھیوں سے دیکھنے لگی کہ وہ لڑکا کیا کرتا ہے ۔ اس لڑکے نے آخری بسکٹ نکالا اسے توڑ کر آدھا لڑکی کو دیا اور آدھا خود کھا لیا ۔ لڑکی آگ بگولا ہو کر لڑکے پر برس پڑی ۔ اسی وقت ہوائی جہاز کی روانگی کا اعلان ہو گیا اور وہ “ہونہہ” کہہ کر اپنا بیگ اُٹھا کر تیزی سے چلی گئی ۔

جہاز میں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد وہ اپنے بیگ میں سے کنگھی نکالنے لگی تو دیکھا کہ اس کا بسکٹوں کا پیکٹ بیگ میں بند کا بند پڑا تھا ۔ اب اسے احساس ہوا کہ جس لڑکے کو اس نے بد تمیز اور نامعلوم کیا کیا کہا تھا وہ دراصل شریف اور اعلٰی کردار کا جوان تھا ۔

یاد رکھیئے کم از کم پانچ چیزیں واپس نہیں ہو سکتیں

1۔ کمان سے نکلا تیر
2 ۔ لفظ جو کہہ دیا یا لکھ کر بھیج دیا
3 ۔ موقع جو ہاتھ سے نکل گیا
4 ۔ گذرا ہوا لمحہ
5 ۔ عزّت یا عفّت جو جاتی رہی