Category Archives: روز و شب

قصوروار کون ؟

سوات کے آخری ولی عہد مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سرحد اور بلوچستان کے گورنر رہنے والے اسّی سالہ میاں گل اورنگزیب سے ان کی سابق ریاست میں آج کل کے حالات کے بارے میں دریافت کریں تو وہ غصے میں کہتے ہیں “یہ ان سے پوچھیں جنہوں نے یہ حالات خراب کئے ہیں”۔ “یہ حالات خراب کئے ہیں مرکزی حکومت نے۔ میں تو برائے نام والیِٔ سوات ہوں”۔

میاں گل اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سوات میں جو بھی ہو رہا ہے جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔ کہنے لگے “یہاں لال مسجد کا قصہ بتاؤں میں آپ کو ۔ لال مسجد کا معاملہ ایک تھانیدار بھی حل کر سکتا تھا لیکن اسے حل نہیں کیا گیا۔ ایک سال تک تاخیر کے بعد معلوم نہیں کتنے سو لوگوں کو مار دیا ۔ جان لینے کی ان کو کوئی پروا نہیں ہے”۔

میاں گل اورنگزیب سے دریافت کیا کہ حکومت کیونکر حالات خراب کرے گی تو ان کا جواب وہی تھا جو پاکستان کی اکثر عوام سمجھتی ہے۔ “جتنے زیادہ حالات خراب ہوں گے اتنا زیادہ بُش ڈرے گا۔ یہ ان کو بتاتے ہیں کہ اگر ہمیں ہٹاتے ہو تو یہ اور بڑھے گا”۔

میرے اس سوال کا جواب انہوں نے براہ راست تو نہیں دیا کہ سوات میں شدت پسند کون ہیں ؟ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کافی مقامی لوگ بھی ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ “سنتے ہیں کہ یہ افغانستان کا اثر ہے ۔ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس کا اثر ہے ۔ یہ ہونا تھا ۔ اس لئے ہونا تھا کہ طالبان کس نے بنائے؟ آئی ایس آئی نے ۔ پھر 11ستبمر آیا اور طالبان کو بھی آپ نے اپنا دشمن بنا لیا۔ اس سے قبل تو یہاں کچھ نہیں تھا”۔

پوچھا کہ بات صرف القاعدہ تک کی ہے تو ان کا مسکراتے ہوئے جواب تھا “جب حالات خراب ہوتے ہیں تو سب بدمعاشی شروع کر دیتے ہیں۔ ’کہتے ہیں کہ مولانا فضل اللہ متوازی حکومت چلا رہا ہے۔ کوئی ایسی حکومت وہ نہیں چلا رہا۔ جب تم اپنی حکومت نہیں چلا سکتے تو کوئی تو چلائے گا۔ دوسرا یہ کہتے ہیں کہ وہ (پولیو کی) دوا کے خلاف ہے۔ ادویات کی کمپنیاں بھی کئی برسوں تک اپنا دوائیں مارکٹ کرنے کے بعد بند کردیتی ہیں کہ ان کے زہریلے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تو ہوسکتا ہے کل کو پولیو کے بارے میں بھی یہ خبر آ جائے”۔

پرامن تصور کئے جانے والے سوات میں یکایک شدت پسندی میں اضافے کے بارے میں سابق رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مذہبی عناصر اور شدت پسندی شروع سے موجود تھی۔ “سرتور (سیاہ سر والا) فقیر نامی شخص نے برطانوی فوج کے خلاف ملاکنڈ کے مقام پر بیس ہزار مسلح افراد اکٹھے کرکے مزاحمت کی تھی تاہم وہ ہار گیا تھا “۔

ان کے بقول اصل بات ہوتی ہے کہ انہیں کیسے محدود رکھا جائے۔ “یہ حالات دوبارہ خراب موجودہ حکمرانوں کی نالائقی سے ہوئے ہیں۔ جب یہ سوات سٹیٹ تھی تو تب آپ نے سُنا ہو گا کہ رات کو بارہ بجے بھی اگر کوئی شخص اپنے گھر سے کہیں جانا چاہتا تھا تو کوئی اُسے ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا۔ لیکن اب ہر شخص کو خود اپنی حفاظت کرنی پڑتی ہے”۔

جب پوچھا کہ کیا اضافی فوجی مسئلے کا حل ہیں تو ان کہنا تھا کہ اب یہ فوج وہاں گئی ہے اور کافی مہینے ہوگئے ہیں۔ “میں نے لوگوں سے پوچھا کہ فوج وہاں کیا کر رہی ہے ؟ تو اُنہوں نے بتایا کہ بس پہاڑوں میں بیٹھی ہے”۔

اگر ان کا الزام درست ہے تو حکومت نے حالات خراب کرنے کے لئے سوات کو ہی کیوں چنا۔ میاں گل اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وہ تمام ملک میں تو اسے شروع نہیں کرسکتے تھے۔ “پہلے وزیرستان، پھر باجوڑ اور اب سوات”۔ ان کا موقف تھا کہ حکومت کو جلد اقدام اُٹھانا چاہیے۔ “جب بھی آپ کسی مسئلے کے خلاف ابتداء میں اقدام نہیں کرتے تو وہ بڑھ جاتا ہے”۔

دلکش وادی سوات میں سیاحت ایک بڑا ذریعہ روزگار رہا ہے لیکن اب نہیں۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی طور پر افسوس کیا کہ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب حکومت نے اس سال کو سیاحت کا برس قرار دیا تھا۔ “جو کسی جاہل ملک کو دیکھنا چاہیں گے وہ یہاں آئیں گے”۔

چائے لانے والے ایک نوجوان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی سوات سے ہے اور ڈبل ایم اے ہے لیکن بے روزگار ہے۔ “ایسے حالات میں کیا بہتری آئے گی”۔ سیاست سے تقریباً ریٹائر زندگی گزارنے والے میاں گل اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وہ حالات کی بہتری میں اب کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ “اگر وہ مجھے کسی کمیٹی کے لیے بھی نامزد کریں گے تو میں نہیں جاؤں گا۔ حالات مزید خراب ہوں گے۔‘ ’اگر مجھے ریاست سوات واپس بھی کر دی جائے تو میں اسے درست نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی فیکٹری مجھ سے آپ لے لیں اور تباہ برباد کرنے کے بعد لوٹا دیں تو میں کیا کرسکتا ہوں؟”

کس منہ سے تم کو “منصفِ اعلٰی کہے کوئی

صفدر ھمدانی لندن سے لکھتے ہیں

کس منہ سے تم کو‘‘منصفِ اعلیٰ‘‘ کوئی کہے
تم نے یزیدِ وقت کے ہاتھوں پہ کر کے بیعت
انصاف کا جنازہ نکالا ہے شہر سے
تم اور تمہارے جیسے یہ سارے ضمیر فروش ستم شعار
کس منہ سے خود کو عادل و منصف کہو گے تم
یہ جان لو کہ اس کی سزا بھی سہوگے تُم
نشے میں حکمرانی کے تُم جو ہوئے ہوگُم
یہ عہد بھی ہے اپنے زمانے کی کربلا
ہر سمت انتشار ہے ہر سمت ابتلا
اب ہو چکی عوام کی ذلت کی انتہا
خوفِ خُدا رہا نہیں حاکم کو اِک ذرا
ہونے کو ختم اب ہے مظالم کا سلسلہ
نکلیں گے سرفروشوں کے سڑکوں پہ قافلے
اب دیکھنا تو ظلم کے ماروں کے حوصلے
یہ عہد بھی ضمیر فروشوں کا عہد ہے
آزاد چاپلوس ہیں اور عدل قید ہے
صیاد مطمئن ہے مقید ہے منصفی
اس کربلا میں حق کی سپاہ بے نوا سہی
حاکم کے ظلم و جور کی اب انتہا سہی
مُٹھی میں جابروں کی مقید صبا سہی
کہنے کو در بدر مری ہر التجا سہی
لیکن یہ سچ ہے تم ہی ہو طاقت یزید کی

کل کے دو دلچسپ واقعات

پہلا واقعہ
کل یعنی 9 نومبر کو پیپلز پارٹی نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کا اعلان کر رکھا تھا ۔ بینظیر ایف 8/2 میں ہمارے گھر سے کوئی 600 میٹر کے فاصلہ پر زرداری ہاؤس میں قیام پذیر تھیں ۔ پولیس نے زرداری ہاؤس کا محاصرہ کر لیا ۔ بینظیر پولیس کی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر سے نکل کر سڑک پر کھڑی اپنی کار میں آ کر بیٹھ گئیں ۔ کسی پولیس والے نے اسے نہ روکا اور نہ کسی پولیس والی نے اسے ہاتھ لگانے کی کوشش کی البتہ اس کی گاڑی کے اردگرد پولیس کی گاڑیاں کھڑی کر کے بلاک کر دیا گیا ۔دوسری طرف کمیٹی چوک راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کے کارکن پولیس کے ہاتھوں پِٹ رہے تھے ۔ پولیس کی عورت پیپلز پارٹی کی ایک خوش پوش خاتون کی بے تحاشہ پٹائی کرتے ہوئے ٹی وی پر دکھائی گئی ۔ صحافیوں کا خیال ہے کہ بینظیر اور حکومت کے درمیان نُوراکُشتی ہو رہی ہے اور بچارے کارکن مفت میں سزا پا رہے ہیں ۔ بینظیر کی اس نظربندی پر برطانوی حکومت نے زبردست پریشانی کا اظہار کیا ۔

دوسرا واقعہ
عمران خان کو گرفتار کرنے کیلئے روزانہ مختلف مقامات پر چھاپے مارے جاتے ہیں ۔ کل یعنی 9 نومبر کو سہ پہر 4 بجے کے بعد اس نے اسلام آباد اچھی خاصی پریس کانفرنس کر ڈالی اور پھر غائب ہو گیا ۔ پریس کانفرنس کے کوئی ایک گھنٹہ بعد پولیس بمع مجسٹریٹ اسلام آباد میں جنگ گروپ کے دفتر پہنچ گئی اور عمران خان کو ڈھونڈتے رہی ۔ نہ ملنے پر آدھا گھنٹہ بعد چلے گئے ۔

احتجاج کس لئے اور کیسے ؟

امریکہ نے احتجاج کیا ۔ برطانیہ نے احتجاج کیا ۔ فرانس نے احتجاج کیا ۔ اور کئی ملکوں نے احتجاج کیا ۔ ملک کے اندر سول سوسائٹی کے علمبرداروں نے اور پھر بینظیر نے احتجاج کیا ۔ سب نے صرف جمہوری قسم کے انتخابات کا انعقاد یا زیادہ سے زیادہ ایمرجنسی [دراصل مارشل لاء] کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ۔

صرف وکلاء صاحبان اور نواز شریف کو اصل ہدف کا خیال آیا اور اُنہوں نے سب سے اہم اور ناگزیر مطالبہ کیا ۔ آخر نواز شریف کی ایماء پر بینظیر بھٹو نے بھی اس مطالبہ کو اختیار کر لیا ہے ۔


“اعلٰی عدالتوں کے اُن تمام جج صاحبان کو بحال کیا جائے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا”

ان جج صاحبان نے اس ملک اوراس کے باشندوں کی بہتری کی خاطر اپنے اعلٰی عہدوں ۔ اپنے ذریعہ روزگار اور اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی عزت اور جان تک داؤ پر لگا دی ۔ ہمارے پاکستانی بھائیوں کی اکثریت اسی روزگار ۔ اسی عزت ۔ اسی جان کی خاطر اپنے منہ بند کئے کونوں کھَدروں مین دبکی بیٹھی ہے ۔ ہماری قوم کی بھاری اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ پی سی او کے تحت کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صدر ۔ چیف آف سٹاف ۔ افواج ۔ اور حکومتی نمائندوں کے خلاف یا ان کے احکام کے خلاف کسی کو بولنے یا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت ہو گی اور نہ پہلے سے دائر ایسے مقدموں کے سلسلہ میں مدعیان یعنی عوام کو انصاف ملے گا ۔

کسی کو یہ بھی خبر نہیں کہ آئین معطل ہونے کی صورت میں ۔ ۔ ۔>

کسی بھی شخص یعنی بوڑھا ۔ جوان ۔ بچہ ۔ عورت یا مردکو کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر قسم کی سزا بشمول اذیت اور موت کے دی جا سکتی ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چارا جوئی نہیں کر سکے گی

کسی بھی شخص کی زمین ۔ مکان یا دکان پر کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے اور بغیر معاوضہ ادا کئے قبضہ کیا جا سکتا ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چاراجوئی نہیں کر سکے گی

کسی بھی شخص کے کاروبار پر کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے اور بغیر معاوضہ ادا کئے قبضہ کیا جا سکتا ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چاراجوئی نہیں کر سکے گی

کسی بھی شخص کا بنک اکاؤنٹ کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے منجمد کیا جا سکتا ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چاراجوئی نہیں کر سکے گی

اسلئے ہوش میں آؤ میرے بھائیو ۔ بہنوں ۔ بھتیجو ۔ بھتیجیو ۔ بھانجو ۔ بھانجیو ۔

ہماری قوم کی بقاء کیلئے عوام کا مطالبہ ہے کہ

ایمرجنسی فوری طور پر اُٹھائی جائے
اُن تمام جج صاحبان کو جنہوں نے پی سی او تحت حلف نہیں اُٹھایا فوری طور پر اپنی اپنی جگہوں پر بحال کیا جائے
پاکستان کا آئین 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے والی حالت میں فوری طور پر بحال کیا جائے
تمام گرفتار وکلاء ۔ سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے
جنرل پرویز مشرف 15 نومبر 2007 سے پہلے ریٹار ہو جائیں اور آرمی ہاؤس خالی کر دیں
پاکستان کے تمام جج صاحبان اور تمام اعلٰی افسران بشمول تمام جرنیلوں اور ان کے مساوی ہوائی اور بحری فوج کے افسران کے متذکرہ بالا آئین کے مطابق حلف اُٹھائیں ۔

اس وقت کی سرکاری ڈنڈے بازوں کے ہاتھوں تھوڑی تکلیف میرا ۔ آپ کا اور ہم سب کے بچوں کا مستقبل نہ صرف محفوظ کر سکتی ہے بلکہ اس کو ماضی سے بہتر بنا سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے ہماری قوم کو آزمانے کا یہ آخری موقع دیا ہو ۔ اسے کھو دیا تو پھر سوائے پچھتانے کے کچھ نہ رہے گا اور پچھتانے سے سوائے اپنا خون جلانے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔

احتجاج کے محتاط طریقے یہ ہیں ۔

1 ۔ احتجاج میں حصہ لینے والے اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کو ای میل یا خط بھیجیں جس میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے اپنے احتجاج کو مشتہر کرنے کی درخواست کریں ۔ اُنہیں لمبے خط نہ لکھیں بلکہ اپنا احتجاج بہت مختصر اور جامع الفاظ میں لکھیں ۔

جیو ٹی وی
gzks@geo.com

دی نیوز اور جنگ
editor@jang.com.pk
http://jang.net/features/comments/default.asp?camefrom=the%20news%20for%20editor

نوائے وقت
editor@nawaiwaqt.com.pk
webmaster@nawaiwaqt.com.pk

دی نیشن
editor@nation.com.pk
http://nation.com.pk/daily/nov-2007/9/feedback.php

ڈان
letters@dawn.com

2۔ عام لوگوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے بتائیں کہ حقوق نہ ہونے کی وجہ سے کیا ہو سکتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی ترغیب دیں
3 ۔ سٹکر یا ہینڈ بل جس پر مقاصد مختصر طور پر لکھے ہوں عوام میں تقسیم کریں
4 ۔ مختصر نعروں کی وال چاکنگ کریں
5 ۔ کالا بِلا پہنیں
6 ۔ ممکن ہو تو اپنے مکان ۔ اپنی دکان ۔ اپنی گلی میں کالا جھنڈا لگائیں
7 ۔ احتجاج کی منصوبہ بندی کرنے والی یونین ۔ ایسوسی ایشن وغیرہ سے رابطہ رکھیں تا کہ احتجاج اجتماعی اور مؤثر بنایا جا سکے
8 ۔ اپنے محلہ یا کالج کی قریبی عوامی جگہ پر درجن دو درجن افراد اچانک اکٹھے ہو کر مظاہرہ کریں اور دس پندرہ منٹ بعد غائب ہو جائیں تاکہ پولیس کاروائی نہ کر سکے
9 ۔اپنے مظاہرہ کا ایک دن سے زیادہ پہلے اعلان نہ کریں اور صرف جگہ اور دن بتائیں ۔ وقت کا اعلان صرف ایک گھنٹہ پہلے کریں ۔ نجی ٹی وی اور اخبارات کے کسی نمائندہ تک رسائی ہو تو اسے ضرور بُلائیں تاکہ وہ ٹی وی اور اخبار آپ کے مظاہرہ کی تشہیر کر سکیں ۔

طلباء کا احتجاج ۔ تصویری خبرنامہ

کل یعنی بدھ بتاریخ 7 نومبر اسلام آباد کے ایف 8 مرکز میں قائد اعظم یونیورسٹی اور ہمدرد یونیورسٹی کے طلباء نے زبردست احتجاج کیا ۔ ہمدرد یونیورسٹی کا کیمپس تو ایف 8 مرکز ہی میں ہے لیکن قائد اعظم یونیورسٹی کا کیمپس ایف 8 مرکز سے 7 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ پولیس نے مرکز کو گھیر رکھا تھا اور کسی صحافی یا کیمرے والے کو قریب نہ آنے دیا گیا ۔ اسلئے وڈیو نہ بنائی جا سکی ۔ چند گھنٹے بعد اچانک پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ۔

سیاسی جماعتوں میں اب تک سب سے زیادہ زیرِ عتاب مسلم لیگ نواز کے کارکن ہیں جن کے 2500 لیڈر اور کارکن گرفتار کئے جا چکے ہیں اور کارکن پولیس تشدد بھی برداشت کر رہے ہیں ۔ ان پر سب زیادہ تشدد روزانہ لاہور میں ہو رہا ہے ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن اور رہنماؤں کو گرفتار و نظر بند کیا گیا ۔ گذشتہ رات میں پیپلز پارٹی کے کارکن بھی گرفتار کئے گئے ہیں ۔

لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائینسز کے طلباء کے احتجاج پر سی این این کے تبصرہ کی وڈیو
http://riseofpakistan.blogspot.com/2007/11/cnn-report-about-on-campus-protest-of.html

لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائینسز کی تازہ بتازہ صورتِ حال
http://pakistanmartiallaw.blogspot.com

http://riseofpakistan.blogspot.com

فاسٹ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج اور پولیس کا لاٹھی چارج
http://pakistanmartiallaw.blogspot.com/2007/11/link-to-fast-university-police-action.html

پنجاب یونیورسٹی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں صورتِ حال
http://pakistanmartiallaw.blogspot.com/2007/11/events-at-punjab-university-it-dept.html

احتجاج کی دو وڈیو یو ٹیوب پر

مزید ٹی وی رابطے

جیو ٹی وی
http://www.zekty.com

http://65.36.215.69

http://video.pakistanway.com/geotv.aspx

آج ٹی وی
http://www.aaj.tv/aaj_wedget.php

دیگر رابطے
http://www.pkpolitics.com/audio/emergency

http://www.channelchooser.com

http://wwitv.com/tv_channels/7142.htm

جج صاحبان کا حال ۔ احتجاج ۔ گرفتاریاں ۔ صورتِ حال

اعلٰی عدالتوں کے محترم جج صاحبا ں گھروں میں اس طرح بند ہیں کہ جیسے دُشمن کے قیدی ہوں ۔ ایک جج صاحب کی بہو جو کہ حاملہ ہیں ہسپتال گئیں ۔ واپسی پر ان کو گھر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ کافی کوششوں کے بعد جج صاحب کے بیٹے کو ہسپتال جانے کی اجازت دی گئی ۔ وہ اب واپس گھر آ سکیں گے یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا جا سکتا ۔ ایک جج صاحب کی بیٹی اپنے والد کے متعلق بہت پریشان ہیں کیونکہ اس کے والد جج صاحب بیمار تھے اور پچھلے 4 دنوں سے کوئی رابطہ نہیں ۔ جج صاحبان کے ٹیلیفون تو پہلے دن ہی بند کر دئیے گئے تھے چند ایک کے پاس ان کے بچوں کے موبائل فون تھے جن سے انہوں نے اپنے قید بنائے گئے گھروں سے باہر رابطہ کیا لیکن اب موبائل ٹیلیفون کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر ان کے سب ٹیلیفون بند کرا دئیے گئے ہیں ۔ کل ڈیڑھ بجے دوپہر جب چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری صاحب نے کچھ وکلاء موبائل کے ذریعہ کلام کیا تو اسلام آباد میں سارے موبائل فون جیم کر دئیے گئے جو آدھے گھنٹے سے زیادہ بند رہے ۔

اب تک سب سے شدید احتجاج لاہور میں وکلاء کا اتوار اور پیر کا احتجاج ہے ۔ گرفتاریاں لاہور میں دو ہزار کے لگ بھگ ہو چکی ہیں ۔ کراچی میں 400 لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔ سُنا ہے شام کے قریب پاکستان سیکرٹیریٹ کے سامنے پیپلز پارٹی نے مظاہرہ کیا ہے ۔

تمام نجی ٹی پاکستان میں بند ہونے کی وجہ سے جو لوگوں نے ڈش اینٹنے خریدنا شروع کر دئیے تھے لیکن پولیس نے چھاپے مار کر دکانیں سِیل کر دیں اور سامان ضبط کر لیا اور دکانداروں کو بغیر کسی قصور کے گرفتار کر لیا ۔ ایسی کاروائیوں کے نتیجہ میں پاکستانیوں نے مجبور ہو کر کچھ بندوبست کیا ہے

مزید رابطے

http://news.independent.co.uk/world/asia/article3132476.ece
http://www.teeth.com.pk/blog/wp-content/uploads/2007/11/house-arrest-order.JPG

جیو ٹی وی کیلئے
http://www.pakistanvision.com/playLive.php?pid=1
http://www.pakistanvision.com/playLive.php?pid=6
http://geo.pakfiles.net/geo

اے آر وائی ون
http://ary.pakfiles.net/ary

آج ٹی وی
http://www.jumptv.com/en/channel/aajtv

اپنے خیالات پہچانے کیلئے جیو ٹی وی کا ای میل پتہ یہ ہے
gzks@geo.tv

کیا ہماری اکثریت بے حِس و بے غیرت ہے ؟

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
تیری ذات [ہر نقص سے] پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی [سب کچھ] جاننے والا حکمت والا ہے

یا رَحْمَنِ یا رَحِيمِ ۔ اھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
اے نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے ۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا

ایک مکالمہ کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے کہ جب دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی تھی تو کچھ محبِ وطن لوگوں نے اس وقت برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر ونسٹن چرچل کے پاس جا کے اپنی پریشانی ظاہر کی ۔ سر ونسٹن چرچل نے پوچھا “ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں ؟” جواب ملا “ہاں”۔ پوچھا “لوگوں کو انصاف مل رہا ہے؟” جواب ملا “ہاں”۔ سر ونسٹن چرچل نے کہا “پھر کوئی فکر کی بات نہیں”۔ صرف دس برس بعد برطانیہ پھر عروج پر تھا ۔

اب تو واضح ہو گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے آئین سے دونوں بار صرف ذاتی حکمرانی کیلئے بغاوت کی ۔ پہلی بار جمہوری طور پر منتخب وزیرِ اعظم نواز شریف شکار ہوا اور دوسری بار عظمٰی اور اعلٰی عدالتوں کے اُن عظیم جج صاحبان کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے عام پاکستانی کو انصاف کی اُمید دلائی تھی اور اس نیک عمل کی پاداش میں اب کَس مپُرسی کی حالت میں اپنے اہلِ خانہ سمیت اپنی رہائش گاہوں میں قید ہیں ۔ میں نے لفظ “رہائش گاہوں” استعمال اسلئے کیا ہے کہ اِن میں سے کئی کا اپنا کوئی گھر ہی نہیں ہے ۔ وہ سوچتے ہوں گے کہ اس قید سے رہائی کے بعد وہ جائیں گے کہاں ؟

ایمرجنسی کا نام دے کر مُلک میں مارشل لاء لگایا گیا ہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف کو اختیار نہیں ہے کہ وہ مُلک پر کسی قسم کا کوئی حُکم نافذ کرے ۔ چیف آف آرمی سٹاف صرف فوج کو آئین اور آرمی ایکٹ کے تحت حُکم دے سکتا ہے ۔ ایمرجنسی آئین میں متعلقہ شق کے تحت صدر نافذ کرتا ہے اور اس میں آئین معطل نہیں کیا جاتابلکہ صرف کچھ بنیادی حقوق معطل کئے جاتے ہیں ۔ موجودہ نام نہاد ایمرجنسی اور دراصل مارشل لاء کا حُکم چیف آف آرمی سٹاف نے جاری کیا اور آئین کو معطل یا ختم کر کے عدالتِ عظمٰی اور اعلٰی عدالتوں کے اکثر قابلِ احترام جج صاحبان کو بغیر کسی جواز کے عہدوں سے ہٹا کر قید کر دیا گیا ہے جس کا اختیار نہ چیف آف آرمی سٹاف کو ہے نہ صدر کو ۔ مزید اس پی سی او کے مطابق پرویز مشرف کے کسی حُکم کو چیلینج نہیں کیا جا سکتا ۔ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں مارشل لاء نافذ ہے اور ایمرجنسی اس کے نتیجہ میں ہے

اول روز سے صرف وکلاء اور صحافی احتجاج کر رہے ہیں اور آمریتی ظُلم کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ راولپنڈی کچہری کی پولیس نے مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے ۔ اس کے باوجود احتجاج اور وکلاء پر تشدد اور گرفتاریاں جاری ہیں ۔ تمام نجی ٹی وی چینلز پورے ملک میں اول روز سے بلاک کر دئیے گئے ہیں ۔ اخبارات میں حکومتی تشدد کی تصاویر چھاپنے پر پہلے دن ہی پابندی لگا دی گئی تھی ۔ اب مزید کوئی حُکمنامہ اخبارات کو شکنجے میں کسنے کیلئے تیار ہو رہا ہے ۔

اسلام آباد میں میرے گھر سے آدھے کلو میٹر کے فاصلہ پر ایف 8 مرکز آج طلباء نے مظاہرہ شروع کیا اور وکلاء ان کے ساتھ شامل ہو گئے ۔ مظاہرین ڈیڑھ دو ہزار پُرجوش ہیں ۔ مظاہرہ جاری ہے ۔ اردگرد تماش بینوں کی تعداد مظاہرین سے زیادہ ہے ۔ ہزارو وکلاء اور سیاسی کارکن گرفتار کئے جا چکے تھے جن میں زیادہ تعداد وکلاء کی ہے اور کچھ ینسانی حقوق کی تحریکوں کے ارکان بھی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ نواز کے کارکن زیادہ گرفتار ہوئے ہیں ۔ ان میں بینظیر کی پیپلز پارٹی اور فضل الرحمٰن کی جُوئی کے لوگ شامل نہیں ہیں ۔ کیوں ؟ یہ پرویز مشرف ۔ بینظیر یا فضل الرحمٰن ہی بتا سکتے ہیں ۔ آج لاہور ہائیکورٹ کے سامنے اچانک ایک ویگن میں مسلم لیگ نواز کے ڈیڑھ دو درجن ارکان پہنچ گئے اور باہر نکل کر حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی ۔ پولیس ان سب مظاہرین کو گرفتار کر کے لے گئی ۔

عوام جن کی خاطر عدالتِ عظمٰی کے 14 اور اعلٰی عدالتوں کے 60 محترم جج صاحبان نے بے مثال قربانی دی ہے اور وکلاء اور صحافی روزانہ تشدد برداشت کر رہے ہیں اور گرفتار ہو رہے ہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ نشہ پی کر سوئے ہوئے ہیں ۔ اگر پولیس کے ڈنڈوں یا جیل سے بہت خوف آتا ہے تو کم از کم گھر کے اندر بیٹھ کر تو احتجاج کر سکتے ہیں ۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کو خط لکھیں ۔ ٹیلیفون کریں ۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کو سمجھائیں کہ اگر انہوں نے اب بھی کچھ نہ کیا تو جو کچھ ان کے پاس ہے وہ بھی کسی وقت چھن سکتا ہے اور ان کی شنوائی دنیا کی کسی عدالت میں نہیں ہو سکے گی ۔ مثل مشہور ہے کہ روئے بغیر ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی ۔

پاکستان میں انٹر نیٹ 256K رکھنے والے جیو ٹی وی اور اے آر وائی ٹی وی مندرجہ ذیل ربط دیکھ سکتے ہیں ۔
http://videostream.cronomagic.com/geo