Category Archives: روز و شب

جان دیو [جانے دیں]

پنجابی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُردو ترجمہ

جنرل جی جان دیو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنرل صاحب جانے دیں
جمہوریت کی جانو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جمہوریت کیا جانیں
تُسی وردی پاون والے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ وردی پہننے والے
ایہہ گل تہاڈے وس دی نئیں ۔ ۔ ۔ یہ کام آپ کے بس کا نہیں

جنرل جی جان دیو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنرل صاحب جانے دیں
ویلفیئر کی جانو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویلفیئر کیا جانیں
تُسی گولی چلاون والے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔آپ گولی چلانے والے
ایہہ گل تہاڈی سمجھ دی نئیں ۔ ۔ اس بات کی آپ کو سمجھ نہیں

جنرل جی جان دیو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جنرل صاحب جانے دیں
محبت کی جانو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت کیا جانیں
تُسی بم وسان والے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ بم برسانے والے
ایہہ گل تہانوں سجدی نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ فعل آپ پر جچتا نہیں

جنرل جی جان دیو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنرل صاحب جانے دیں
مشرف جی جان دیو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرف صاحب جانے دیں

“میڈیا کو آزادی میں نے دی”

کیا جنرل پرویز مشرف کا یہ دعوٰی سچ پر مبنی ہے کہ “میڈیا کو آزادی میں نے دی”؟ ملاحظہ کیجئے ایک رپورٹ

ٹی وی چینلز پر مارچ کے اوائل میں چیف جسٹس کی معطلی کے بعد سے شروع ہونے والے عدالتی بحران کے وقت سے سخت دباؤ تھا۔ حکومت نے پہلے بعض مقبول پروگراموں کو بند کرنے کیلئے کہا لیکن اس مطالبے کی وہ کوئی ٹھوس وجہ نہ بتا سکی۔پھر پر ائیویٹ ٹی وی چینلز کو اسٹوڈیوز کے باہر پروگرام فلمانے اور براہ راست ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کر دی ، میڈیا ورکرز نے اس پر احتجا ج کیا اور حکومت کو میڈیا ورکرز کے مطالبات ماننے پڑے۔ ان شوز کو چلنے کی اجازت دی گئی لیکن لائیو کوریج [coverage] بند کر دی گئی۔

دریں اثناء، حکومت نے اپنا دباؤ برقرر رکھا اور ٹی وی چینلز کے ریونیو کے ذرائع کو ہدف بنا لیا گیا۔ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اشتہارات بند کر دیئے گئے اور دیگر اشہتار کنندگان پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ جیو چینل کے ساتھ کاروبار نہ کریں۔ ٹی وی چینلز نے اس تمام دباؤ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور بڑے نقصانات برداشت کئے۔ دوسرا مارشل لاء لگانے کے بعد پرویز مشرف نے ان ٹی وی چینلز کو فتح کر لیا جن کی نشریات پاکستان سے ایئر کی جاتی ہیں ۔ دوسری جانب حکومت نے عالمی اصولوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس ملک کے حکام پر اپنا دباؤ بڑھا دیا جہاں سے کچھ ٹی وی چینلز اپنے پروگرام کو ایئر کر رہے تھے۔

ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ ایمرجنسی کے شکنجے کے بعد جنرل پرویز کی حکومت نے میڈیا کو انتظامیہ کی کمانڈ میں اپنے آپ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے دباؤ بڑھا دیا اور ایک ایسے آرڈیننس کے ذریعے میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیاہے جو کہ میڈیا پر ایسی پابندیاں عائد کر تا ہے جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ عملی طور پر اس آرڈیننس کی رو سے ملک میں آزادانہ صحافت ناممکن کر دی گئی ہے ۔ ایک ایسا نام نہاد ضابط اخلاق میڈیا پر لاگو کر دیا گیا ہے جسکی تیاری میں صحافتی برادری سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ۔ نجی چینلوں سے کہا گیا کہ وہ ایک حلف نامے پر دستخط کریں جو کہ چینلوں کو متعلقہ حکام کا فرمانبردار بنا کر رکھ دیگا۔ یہ تمام عمل نجی چینلوں کو معطل کرنے کے بعد کیا گیا اور چینلوں کی انتظامیہ سے کہا گیا کہ وہ حکومت کی شرائط کو مان کر حلف نامے کی ایک ایسی دستاویز پر دستخط کریں اور انہیں اپنی نشریات شروع کرنے کیلئے ایک عبوری اجازت نامہ جاری کیا جائیگا۔ جبکہ پرانے اجازت نامے بھی اسی حکم نامے کے ذریعے منسوخ کر دیئے گئے۔

ذرائع نے کہا کہ جنرل پرویز کی حکومت نے چینلز کی اتھارٹیز کو حالات حاضرہ کے وہ پروگرام بند کرنے کیلئے کہا جو کہ اس کیلئے ناقابل قبول تھے۔ وہ چینلزجنہوں نے دستاویز پردستخط کردیے انہیں کیبل پربحال کردیاگیا کچھ چینلز نے حکومت کا مشورہ تسلیم کرلیا جبکہ دیگر نے انکار کردیا۔ اے آر وائی اور جیو نے حکومت کی اس خواہش کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس میں حکومت نے چینلز کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ چینلز عبوری حکومت سے ان معاملات میں تعاون کریں جن کے بارے میں انہیں نشاندہی کی جائے۔گورنمنٹ نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ٹی وی چینلز حالات حاضرہ حاضرہ کے پروگرام بند کردیں اور حکومت کیلئے مختلف اہم معاملات پر سرکاری موقف اختیار کریں۔

چینل سے مزید یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے مختلف پروگراموں کی مانیٹرنگ کیلئے تیار رہے کیونکہ وہ پروگرام جو حکومت کو قابلِ قبول نہیں ہونگے نشر نہیں کیے جائینگے ۔ ملک کے کچھ حصوں میں ڈش انٹینا اور انٹرنیٹ کے ذریعے یہ ٹی وی چینلز دیکھے جارہے تھے ۔ پہلے حکومت کے تیکنیکی ماہرین نے نیٹ کے ذریعے یہ ٹی وی چینلز دیکھنے میں پیچیدگیاں پیدا کیں اور اس کے بعد ڈش انٹینا اور اس سے متعلق آلات کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی۔

اور بالآخر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یو اے ای سے آپریٹ [operate] کرنے والے ٹی وی چینل بند کروا دیئے گئے

جنرل صدر صاحب اس ملک کا پیچھا چھوڑ دیں

ہمارے جنرل صدر صاحب

میں آپ پر کالم نہیں لکھنا چاہتا تھا۔ نہ ہی آپ کی وردی اور نہ ہی کوٹ پینٹ پر۔ نہ ہی آپ کے فوجی آپریشن اور نہ ہی سولین آپشن پر، نہ ہی آپ کی جمہوریت اور نہ ہی آمریت پر۔ مگر آج لکھ رہا ہوں۔ اور اس کی اگر کوئی وجہ ہے تو صرف آپ ہیں، صرف آپ۔ آپ نے مجھے مجبور کیا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ آپ بندوق کے زور پر مجھ سے یہ سب لکھوا رہے ہیں۔

آپ کو پاکستان کا اقتدار سنبھالے آٹھ برس ہو چکے ہیں۔ آپ صرف وردی میں آئے تھے اور اس کے بعد وردی اور سوٹ میں آنا شروع ہو گئے۔ اگرچہ مجھے آپ کی پہلی تقریر بھی آپ سے پہلے آنے والے جرنیلوں خصوصاً جنرل ضیاء کی تقریر سے مختلف نہیں لگی تھی لیکن کیونکہ انسان کی اچھائی پر ایمان ہے اس لیے سمجھا کہ شاید یہ شخص سچ بول رہا ہے اور واقعی یہ ملک کا اچھا کر کے وعدے کے مطابق جلد چلا جائے گا۔ لیکن آپ نہیں گئے اور وعدے پر وعدے کرتے رہے۔ میں اور میرے ساتھ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام چپ رہے۔

پھر گیارہ ستمبر ہوا اور آپ کو ٹی وی پر دیکھا، مشکل فیصلے کا بہانہ بنا کر آپ پھر ڈٹ گئے۔ اس مرتبہ آپ کی وردی مغرب کو سوٹ نظر آئی اور انہوں نے آپ کو اتحادی بنانے میں ذرا بھی تعمل نہیں کیا۔ لیکن پاکستان کے باسی آپ سے کچھ خائف نظر آنے لگے۔ میں اس وقت بھی یہ سمجھا کہ دراصل یہ ہماری ہی نظر کا قصور ہے کہ ہم آپ کی اچھائیاں نہیں دیکھ پا رہے اور آپ کی ضرورت کو محسوس نہیں کر رہے۔ کرپٹ سیاستدانوں کے ملک سے چلے جانے کے بعد کسی وسعت النظر رہنما کی ضرورت تھی اور شاید ہم کم عقلوں کو آپ کی وہ اچھائیاں نظر نہیں آ رہی تھیں۔

آپ نے ’کرپٹ‘ سیاستدانوں کو اتنا برا بھلا کہا کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ ان کو کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن پھر آپ نے اپنے ارد گرد انہیں لوگوں کو دوبارہ جمع کرنا شروع کر دیا۔ گجرات کے چوہدریوں سے کون واقف نہیں ہے اور اگر آپ انہیں نہیں جانتے تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ کم از کم پاکستان پر حکومت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وہی سب لوگ آپ کے ساتھ ہوئے جو کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ تھے۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ایک ایک کا نام لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ فہرست بڑی لمبی ہو جائے گی اس لیے میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔

نواز شریف کو پکڑنے سے لے کر دو مرتبہ ملک بدر کرنے تک، وزیرستان میں آپریشن سے لے کر بگٹی کی موت تک، اور’ کرپٹ‘ سیاستدانوں سے لے کر انہیں مفاہمت کے پھول پیش کرنے تک آپ نے آج تک جو بھی کیا ہے پاکستان کے اچھے کے لیے کیا ہے۔ آپ یہ بار بار دوہراتے ہیں اس لیے ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ جب آپ نے امریکہ میں پاکستان کی عورت کی یہ کہہ کر بے عزتی کی کہ جس نے غیر ملک میں سیاسی پناہ لینا ہوتی ہے وہ عزت لٹنے کا بہانہ بنا لیتی تو اتنا غصہ آیا کہ دل چاہا کہ آپ کو لکھوں کہ آپ کو حکومت کرنا تو درکنار بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے لیکن پھر سوچا کہ غصے میں فیصلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ اس لیے چپ رہا۔

لیکن آپ کی اور صرف آپ کی وجہ سے وہ غصہ اب شرمندگی بننے لگا ہے اور ڈر ہے کہ کہیں شرمندگی غصہ نہ بن جائے اس لیے رہا نہیں جا رہا۔ مجبور ہو کر لکھ رہا ہوں اور میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس میں قصور آپ کا ہی ہے۔ آپ نے پاکستان پر آٹھ سال حکومت کرنے کے بعد حال ہی میں کہا ہے کہ یہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے اور ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ بقول آپ کے ’اندرونی انتشار کا شکار ہے‘ اس لیے تکلیف دہ فیصلوں کا وقت ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ہے۔‘

اگر آپ ایمانداری سے ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے یہ سوچیں کہ آپ کے آنے سے پہلے اس کا کیا حال تھا تو شاید آپ کو معلوم ہو جائے کہ غلطی کہاں ہوئی تھی۔ کارگل کی جنگ کا ہیرو کون تھا، کیا ہو جاتا کہ ایک سویلین وزیرِ اعظم ایک آرمی چیف کو برطرف کر کے کسی دوسرے کو چیف بنا دیتا۔ آخر اتنی بڑی کیا بات ہو گئی تھی، آرمی سے ہی کوئی چیف بنایا جا رہا تھا کہ نواز شریف خود کو ہی بلے لگا رہا تھا۔ آپ نے نہ صرف حکومت کا تختہ الٹا، بلکہ منتخب وزیرِ اعظم کو گرفتار کیا اور بعد میں کسی ڈیل میں انہیں ملک بدر کر دیا۔ میں آج تک یہ سمجحھ نہیں پایا کہ آپ کسی شہری کو کیسے ملک بدر کر سکتے ہیں اور بعد میں تقریروں میں دھڑلے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ پاکستان نہیں آ سکتے کیونکہ یہی معاہدہ ہے۔

جنرل صدر صاحب میں معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ آپ نے اس وقت بھی سچ نہیں بولا تھا اور اب بھی سچ نہیں بول رہے۔ اس وقت بھی پاکستان پہلے نہیں بلکہ آپ کی ذات پہلے تھی اور اب بھی پاکستان نہیں آپ کی ذات پہلے ہے۔ کیونکہ نہ تو آپ سے اُس وقت وردی کا اترنا برداشت ہوا تھا اور نہ ہی اب ہو رہا ہے اور اس کے اوپر یہ کہ آپ تیسری مرتبہ صدر بننے پر بھی مصر ہیں۔

جناب جنرل صدر صاحب مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ آخر آپ میں اور ان کرپٹ سیاستدانوں میں فرق کیا ہے۔ وہ بھی تو اقتدار کا دوام ہی چاہتے تھے اور آپ بھی یہی چاہتے ہیں۔

میں آج کل مصر کے فرعونوں پر ایک کتاب پڑھا رہا ہوں کہ کس طرح وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی ’زندہ‘ رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بھی تمام عمر حکومت کی جو آپ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ اس وقت کے خدا تھے۔ میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا آپ خدا ہیں اور اگر ہیں تو صاف صاف کہہ دیں تاکہ لوگوں کو تو صبر آ جائے گا اور وہ شاید آپکو قبول کر لیں۔

جـنرل صدر صاحب میں مانتا ہوں کہ آپ کے دور میں میڈیا کو آزادی ملی لیکن جناب والی کیا آج کے دور میں میڈیا کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ اور جنہوں نے بھی یہ کیا ہے ان کا حشر دیکھ لیں۔ فوجی آمروں سمیت سابق سویت یونین کی مثال اور صدام کا حشر ہمارے سامنے ہے۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ ملک تنزلی کی طرف جا رہا ہے اور اس کی سالمیت کو خطرہ ہے۔ اس کے لیے بہت اچھا ہو گا کہ مہربانی فرما کر آپ اس کا پیچھا چھوڑ دیں۔ آپ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیں، اس کا ٹھیکہ صرف آپ نے ہی نہیں اٹھایا ہوا۔ اگر اس کی قسمت میں تباہ ہی ہونا ’جیسا کہ آپ نے کہا ہے‘ تو اسے تباہ ہونے دیں۔ لیکن خدا کے لیے ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانی کی گردن کاٹنے پر مجبور نہ کریں، ایک پولیس والے کو ایک سویلین پر گولی چلانے اور عدالتوں کی بے حرمتی پر مجبور نہ کریں۔ ایک کو دوسرے سے نہ لڑوائیں۔

جناب جنرل صدر صاحب میں بڑی دیانتداری سے آپ کو بتا رہا ہوں کہ نہ آپ فرعون ہیں اور نہ ہی خدا۔ اس لیے یہ کہنا فضول ہے کہ آپ ہی درست ہیں اور باقی سب غلط۔ آج پندرہ نومبر ہے اور مجھے امید تو نہیں ہے کہ موقع کی مناسبت سے آپ کو میرا یہ مشورہ سمجھ آ جائے گا لیکن کیا کروں کہ میں انسان کی اچھائی پر اپنا یقین نہیں چھوڑ سکتا۔

ایک عام شہری

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے عارف شمیم کے قلم سے