میں نے ایک واقعہ لکھا ۔ خاور صاحب نے پہلے میری تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے میری مذمت کی اور پھر اپنے بلاگ پر میری تحریر کو فتنہ انگیز قرار دیتے ہوئے اسے اعوذباللہ من ذالک نبوت کے دعوٰی سے ملا دیا ۔ خیر ۔ مجھے خاور صاحب سے کوئی شکائت نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جن کے سامنے کہا جائے کہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم انسان تھے تو اپنی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ میں مانتا ہوں کہ خاور صاحب نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ترقی یافتہ ممالک میں گذارا ہے اور اب بھی ایک ترقی یافتہ ملک میں رہائش پذیر ہیں جبکہ میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پسماندہ ممالک میں گذارا ہے ۔ مزید شائد کم پڑھا لکھا ہونے یا اُردو زبان سے ناواقفیت کی بناء پر ہو سکتا ہے کہ میں بات واضح نہ کر سکا ۔ میں متعدد بار اقرار کر چکا ہوں کہ میں عالمِ دین نہیں ہوں بلکہ طالب علم ہوں ۔ اللہ مرتے دم تک میرے دل میں علم سیکھنے کی حُب قائم رکھے ۔
خاور صاحب اور ان کے ہم خیال قارئین کیلئے عرض کر دوں کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا براہِ راست کلام اور وحی صرف انبیاء علیہم السلام کیلئے مخصوص ہے اور وہ سلسلہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بعد ختم ہو چکا ہے ۔ خواب میں یا غیر محسوس غیر ارادی طور پر کسی انسان کا کوئی فعل کر گذرنا جس سے اسے یا کسی دوسرے کو فائدہ پہنچے ہر انسان کیلئے ہے ۔ اس کیلئے ضروری نہیں کہ انسان متقی پرہیز گار ہو ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اپنی مخلوق کے فرد یا افراد کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے تو وہ کسی سے کچھ بھی کام لے سکتا ہے ۔ تاریخ میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ اگر غور کیا جائے تو روز مرہ کی زندگی میں بھی کچھ ایسے فعل کی مثال مل جاتی ہے جس کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ جواز سمجھ میں نہیں آتی ۔
ثاقب سعود صاحب نے میری تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے پوچھا “ اللہ تعالی نے ہر اچھی چیز اپنے انبیاء [علیہم السلام] کو دی ۔ کیا آپ اس طرح کا کوئی واقعہ جو انبیاء [علیہم السلام] کے ساتھ ہوا ہو لکھ سکتے ہیں؟” ثاقب سعود صاحب کیلئے عرض ہے کہ انبیاء [علیہم السلام] اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے منتخب کردہ بہت اعلٰی درجے کے انسان ہوتے ہیں اسلئے ضروری نہیں کہ جو عمل عام انسانوں کیلئے ہو وہ ان کے ساتھ بھی برتا جائے ۔ ویسے اس کی ایک واضح مثال موجود ہے جو نیچے درج کر رہا ہوں ۔ دیکھئیے سُورت ۔ 27 ۔ النَّمْل ۔ آیت 10
میرا صرف ایک سوال ہے ۔ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے قرآن شریف میں بار بار فرمایا ہے کہ اللہ الرّحمٰن الرّحیم انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور بغیر حُجت تمام ہوئے کسی کو سزا نہیں دیتا ۔ تو جب کوئی نبی دنیا میں موجود نہ ہو اور جب دنیا میں موجود بھی ہو تو ہر جگہ موجود تو نہیں ہو سکتا ۔ پھر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کسی انسان کی کس طرح رہنمائی فرماتا ہے اور کس طرح مدد فرماتا ہے ؟ جو واقعہ میں نے بیان کی یہ بھی ان طریقوں میں سے ایک ہے یا ہو سکتا ہے ۔ میرے علم میں ہے کہ کئی قارئین دین کا بہت علم رکھتے ہیں ان سے التماس ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے خیالات سے نوازیں ۔
خاور صاحب نے میرے اسی طرح کے سوال کا جواب ایک اور تحریر میں دیا ہے اور وضاحت کی بجائے معاملہ کو اور بھی پیچیدا کر دیا ہے ۔ وہ بات ضمیر کی کر رہے ہیں ۔ ضمیر ایک ایسے احساسِ نیکی کا نام ہے جو پیدائش سے پہلے ہی ہر انسان میں اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے رکھ دیا ہے ۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر میں انشاء اللہ پھر لکھوں گا ۔ ایک شخص اچھائی سمجھ کر نہیں بلکہ غیر ارادی طور پر ایک کام کر دیتا ہے جس سے دوسرے کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ اس فعل کو ضمیر کی آواز کیسے کہا جائے گا جبکہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ اچھائی کی خاطر یا اللہ کی خوشنودی کی خاطر کام کر رہا ہے ؟
ہر ذی شعور قاری کو دعوت ہے کہ اللہ کے کلام یعنی قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرے ۔ انشاء اللہ ۔ اصل صورتِ حال واضح ہوتی جائے گی ۔ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے انسان سے ہمکلام ہونے کے جو طریقے قرآن شریف میں بتائے ہیں ان میں سے سرِ دست میں چند نقل کر رہا ہوں ۔
سورت ۔ 20 ۔ طہ ۔ آیات 9 تا 13
اور تجھے موسٰی [علیہ السلام] کا قصہ بھی معلوم ہے
جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا ۔ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے ۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس لاؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں ۔
جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی ۔ اے موسٰی ۔ یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں ۔ تُو اپنی جوتیاں اُتار دے کیونکہ تُو پاک میدان طوٰی میں ہے ۔
اور میں نے تجھے منتخب کر لیا ہے ۔ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سُن ۔
سُورت ۔ 4 ۔ النِّسَآء ۔ آیات 163 تا 165
بیشک ہم نے آپ کی طرف [اُسی طرح] وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح کی طرف اور ان کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب [علیہم السلام] اور [ان کی] اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان [علیہم السلام] کی طرف وحی بھیجی اور ہم نے داؤد [علیہ السلام ] کو بھی زبور عطا کی تھی ۔
اور ہم نے کئی ایسے رسول [بھیجے] ہیں جن کے حالات ہم پہلے آپ کو سنا چکے ہیں اور ایسے رسول بھی [بھیجے] ہیں جن کے حالات ہم نے آپ کو نہیں سنائے اور اﷲ نے موسٰی [علیہ السلام ] سے گفتگو کی
رسول جو خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے تھے [اس لئے بھیجے گئے] تاکہ ان پیغمبروں [کے آجانے] کے بعد لوگوں کے لئے اﷲ پر کوئی عذر باقی نہ رہے، اور اﷲ بڑا غالب حکمت والا ہے
سُورت ۔ 19 ۔ مَرْيَم آیات 2 تا 8
یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا [علیہ السلام ] پر کی تھی
جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا دعا کی تھی
کہ اے میرے پروردگار ۔ میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اوربڑھاپے کے باعث سر بھڑک اُٹھا ہے لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا
مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت داروں کا ڈر ہے ۔ میری بیوی بانجھبھی پس تو مجھے اپنی بارگاہ سے وارث عطا فرما
جو میرابھی وارث ہو اور یعقوب [علیہ السلام ] کے خاندان کا بھی ۔ اور اے میرے رب ۔ تو اسے اپنی موبول بندہ بنا لے
اے زکریا ۔ ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہے ۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا
زکریا [علیہ السلام نے] کہنے لگے ۔ میرے رب ۔ میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جبکہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں
فرمایا کہ وعدہ اسی طرح ہو چکا ۔ تیرے رب نے فرما دیا کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کرچکا ہوں
سُورت ۔ 19 ۔ مَرْيَم آیات 22 تا 26
پس وہ [مریم] حمل سے ہو گئیں اور اسی وجہ سے یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں
پھر دردِ زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا ۔ وہ بولی ۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی
اتنے میں ان کے نیچے کی جانب سے انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو ۔ تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے
اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا وہ ترے سامنے تر و تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا
اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ ۔ اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا
میں نے اللہ رحمان کے نام کا روزہ مان رکھا ہے ۔ میں آج کسی انسان سے بات نہ کروں گی
سُورت ۔ 27 ۔ النَّمْل ۔ آیت 10
اور [اے موسٰی] اپنی لاٹھی [زمین پر] ڈال دو ۔ پھر جب [موسٰی علیہ السلام نے لاٹھی کو زمین پر ڈالنے کے بعد] اسے دیکھا کہ سانپ کی مانند تیز حرکت کر رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔ [ارشاد ہوا] اے موسٰی ۔ خوف نہ کرو بیشک پیغمبر میرے حضور ڈرا نہیں کرتے
105 سُورت ۔ 37 ۔ الصَّافَّات ۔ آیات 100 تا
اے میرے رب ۔مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما
تو ہم نے انہیں ایک بُرد بار بیٹے [اسماعیل علیہ السلام] کی بشارت دی
پھر جب وہ [بچہ] اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس [ابراہیم علیہ السلام] نے کہا ۔ میرے پیارے بچے ۔ میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رجا ہوں اب تو بتا کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے جواب دیا ۔ ابا ۔ جو حُکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس [باپ] نے اس [بیٹے] کو پیشانی کے بل گرا دیا
تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم
یقیناً تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں








