Category Archives: روز و شب

میرے وطن کی سیاست

” میں ایوب خان کے دور میں تعلیم مکمل کر کے کالج سے نکلا تو دل میں ایک شدید آرزو تھی کہ اس نظام کو بدلا جائے، آمریت سے نجات حاصل کی جائے اور جمہوریت کے ذریعے ایسا نظام لایا جائے جو غریب عوام کے مسائل حل کرے، قومی دولت کو معاشرے کے تمام طبقوں میں منصفانہ انداز سے تقسیم کرے اور پسے ہوئے عوام میں زندگی کی لہر پیدا کرے۔ میں اور میرے دوست رات دن اسی موضوع پر بحث کرتے اور نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ اچانک بھٹو نے ایوبی آمریت کو للکارا اور غریبوں کا مسیحا بن کر ملکی اُفق پر ابھرا۔ ہمیں بھٹو کی شخصیت میں اپنی امیدوں اور توقعات کا سورج طلوع ہوتا ہوا نظر آیا چنانچہ ہم من تن دھن کی بازی لگا کر دل و جان سے بھٹو صاحب کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور ان کے کارکن بن گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے دن رات بھٹو صاحب کے لئے دیوانوں کی مانند کام کیا۔ بھٹو صاحب انتخابی میدان میں اترے تو پی پی پی نے الیکشن جیتا اور بھٹو صاحب کے ساتھ نظریاتی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسمبلیوں میں پہنچ گئی

ہمارے اس جذبے کو پہلی ٹھیس اس وقت لگی جب ہمارے مشوروں کے خلاف بھٹو صاحب نے 1977ء میں نظریاتی کارکنوں کو اِگنور کر کے وڈیروں، گدی نشینوں اور روایتی سیاستدانوں کو ٹکٹ دے دیئے۔ اس کے باوجود جب بھٹو صاحب جیل گئے تو ہم نے ضیاء آمریت کے خلاف مزاحمتی تحریک چلائی، پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، جیلیں اور قلعے دیکھے اور کوڑے کھائے

پھر ہم نے نہایت خلوص اور لگن کے ساتھ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ساتھ دیا اور پی پی پی کا چراغ روشن رکھا۔ ضیاء الحق کے انتقال کے بعد پی پی پی 1988ء کے انتخابات کے لئے میدان میں اتری تو ہمیں توقع تھی کہ بی بی پرانے نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ دیں گی لیکن ۔ ۔ ۔ بی بی نے نظریاتی کارکنوں پر دولت مندوں اور پارٹی کو اور پارٹی قیادت کو بڑی رقمیں دینے والوں کو ترجیح دی۔ نتیجے کے طور پر دولت کے ذریعے ٹکٹ خریدنے والے ابن الوقت پارٹی پر حاوی ہو گئے اور نظریاتی کارکن بددل ہو کر سیاسی منظر سے غائب ہو گئے

آج یہ عالم ہے کہ صدر صاحب سے لے کر ان کے وزراء اور حواریوں تک ہر کوئی کرپشن کے الزامات میں ڈوبا ہوا ہے اور ایسے نئے چہرے پارٹی پر قابض ہو گئے ہیں جن کا ہم نے کبھی نام سنا تھا نہ چہرہ دیکھا تھا۔ ۔ ۔ یہ جھوٹ اور دکانداری کی سیاست ہے۔ آپ نے وہ شعر تو یقینا سن رکھا ہو گا
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں”

پورا انٹرویو پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ پردہ ؟

دیکھا گیا ہے کہ کچھ عورتیں عام طور پر سر پر دوپٹہ نہیں رکھتیں اور نہ نماز پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں لیکن اذان ہو رہی ہو تو دوپٹہ سر پر رکھ لیتی ہیں اور اذان ختم ہوتے ہی اُتار دیتی ہیں

کیا اذان کا یہی مقصد ہوتا ہے ؟

تلاشِ گُمشُدہ

میں ہوں اجنبی اپنے ہی شہر میں
ڈھُونڈتا پھر رہا ہوں تُجھے
مجھ کو آواز دے ۔ مجھ کو آواز دے

” اے بھائی ۔ کس کو ڈُھونڈے ہے”
” بھائی ۔ مسلمان کو ڈھونڈوں ہوں”
” پاگل ہے کیا رے ؟ یہاں تو سب مسلمان ہوویں”
” چل ایک سے ملا دے”
” اس سے ملو ۔ یہ بڑا اچھا دکاندار ہے”
“یہ تو کم تولے ہے ۔ مسلمان تو پورا تولیں”
“چل اس سے بات کر ۔ یہ تو نہیں تولے ہے”
“یہ تو نقلی مال اصلی کہہ کے بیچے ہے ۔ مسلمان تو دھوکہ نہیں دیوے”
“اچھا چل اس سے مل لے ۔ یہ صاف ستھرا آدمی ہے دفتر میں کام کرے ہے”
“یہ تو بغیر پیسے کام نہ کرے ۔ پار سال اپنے بھائی بھی کا مال کھا گیا ۔ مسلمان تو نہ رشوت لیوے اور نہ کسی کا مال کھائے”
“تجھے کوئی پسند ہی نہ آوے ۔ اچھا لے اس سے مل۔ یہ سوشل ورکر ہے”
“کل اس کے گھر میں گیا تو اس نے بچے کو کہہ بھیجا کہ گھر میں نہیں ۔ مسلمان تو کبھی جھوٹ نہ بولے”
“اچھا ۔ دیکھ اُس دکان پر گاہکوں کی بہت بھیڑ ہے ۔ یہ آڑھتی ہے ضرور اچھا آدمی ہو گا ”
“ارے اس نے تو گئے سال 5000 کلو گرام چینی 18 روپے کے حساب خرید کر چھُپا دی ۔ اب 65 روپے بیچے ہے ۔ مسلمان تو زیادہ منافع کمانے کیلئے ذخیرہ نہیں کرے”
” جا جا تیری پسند کا مسلمان ادھر نہیں ہے ۔ کہیں اور جا کے تلاش کر”

میں ہوں اجنبی اپنے ہی شہر میں
ڈھُونڈتا پھر رہا ہوں تُجھے
مجھ کو آواز دے ۔ مجھ کو آوااااز دےےےےے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ فاتح

انجنیئرنگ کالج لاہور میں ہمارا ہمجماعت ” ز ” تھا ۔ اُس کا خاندان 1947ء میں یوپی سے ہجرت کر کے آیا تھا اور کراچی میں رہائش اختیار کی تھی ۔ لڑکا شریف اور محنتی تھا ۔ اُس کے متعلق مشہور تھا کہ اُس سے بحث میں سب ہار جاتے ہیں

ہمارا آخری سال شروع ہونے والا تھا گرمیوں کی چھٹیاں گذار کر واپس ہوسٹل پہنچے تھے ۔ پڑھائی دو دن بعد شروع ہونا تھی ۔ میرے کمرے میں دس بارہ ہمجماعت کرسی میز اور چارپائی پر بیٹھے تھے اور خوش گپیاں ہو رہی تھیں
ایک بولا ” ‘ ز ‘ یار اب آخری سال شروع ہو رہا ہے ۔ راز تو بتاؤ تم سب کو بحث میں کیسے مات دیتے ہو ؟”
پھر کيا تھا سب باری باری مطالبہ کرنے لگے ۔ ایک ساتھی بولا ” یہ کراچی کی ٹریننگ ہے ”
آخر ” ز ” کہنے لگا ” سُنو ۔ اس کا کراچی سے کوئی تعلق نہیں ۔ تم سب بیوقوف ہو ”
اس پر شور مچ گیا ۔ میں نے سب کو چُپ کرایا اور کہا ” یار پوچھتے ہو تو پھر سُنو بھی ”
سب خاموش ہو گئے تو ” ز ” نے کہا ” میں یہ کہا چاہ رہا تھا کہ سب کو بیوقوف سمجھو اور بولتے جاؤ ۔ دوسرے کو بولنے کا موقع نہ دو ۔ اگر کوئی لاہور کی بات کرے کراچی کی بات کرو ۔ کراچی کی بات شروع کرے تو پشاور کی بات شروع کر دو ”

پچھلے دو تین ماہ سے مجھے ” ز ” بہت یاد آ رہا ہے ۔ کیسی پتے کی بات کی تھی اُس نے

پانچواں ستون ۔ معاشرت

رُکن اور ستون ” ۔ پہلا ستون ” ایمان ” دوسرا “اخلاق” تیسرا ” انصاف” اور چوتھا “معیشت” کا بیان پہلے ہو چکا ہے
عام طور پر معاشرہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس کی اکثریت چاہے گی ۔ معاشرہ میں بہتری لانے کیلئے دو عوامل ضروری ہیں ایک تحریک اور دوسرا رہنما ۔ اگر تحریک کو غلط رہنما مل جائے تو ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے ۔ اگر تحریک مفقود ہو تو عام طور پر اچھے سے اچھا سربراہ بھی ناکام رہتا ہے ۔ بعض اوقات کوئی واقعہ یا حادثہ تحریک کا سبب بن جاتا ہے لیکن کبھی کبھی قوموں کو ایسے باکردار رہنما بغیر تحریک کے مل جاتے ہیں جو انہیں اندھیروں سے نکال کر اُجالوں میں لیجاتے ہیں لیکن پھر بھی قوم میں تحریک پیدا نہ ہو یا پیدا ہو کر پانی کے بُلبلے کی طرح جلد ختم ہو جائے تو قوم پھر سے اندھیروں میں بھٹکنے لگتی ہے

اسلام نے معاشرہ کے کچھ بنیادی اصول وضع کئے ہیں جو پہلے چار ستونوں پر تعمیر ہوتے ہیں یعنی ایمان ۔ اخلاق ۔ انصاف اور معیشت ۔
معاشرت کے دو پہلو ہیں ایک عمومی اور دوسرا انتظامی ۔ عمومی کا تعلق ہر فرد سے ہے اور انتظامی کا تعلق صرف منتظمین سے ہے

عمومی

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اس سلسلہ میں واضح ہدایات اپنی کتاب میں دی ہیں جن میں سےچند یہ ہیں

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت 36 ۔ اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ اللہ (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا
سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت 86 ۔ اور جب تم کو کوئی احترام کے ساتھ سلام کرے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) سلام کرو یا انہی لفظوں سے سلام کرو بےشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت 148 ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو اعلانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور اللہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

سورت ۔ 49 ۔ الحجرات ۔ آیت 11 ۔ مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں۔ اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد بُرا نام (رکھنا) گناہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

سورت ۔ 60 ۔ الممتحنہ ۔ آیت 3 ۔ قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے

انتظامی
معاشرہ کوئی بھی ہو اس کی حوصلہ افزائی یا مایوسی کا انحصار اس کی انتظامیہ کے گفتار اور عمل میں مماثلت پر ہوتا ہے ۔
اسلامی نظام کی بہت سی مثالیں تاریخ میں مرقوم ہیں جن میں سے دو بطورِ نمونہ پیش ہیں

عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہے ریاست 23 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے ۔ لشکرِ اسلام کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے جو صحابی رسول بھی ہیں اور ايک سو سے زائد جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بڑے معرکہ سے واپس آ رہے ہیں ۔ لوگ ان سے بخشیش مانگتے ہیں ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دس ہزار درہم تقسیم کر تے ہیں ۔ اس کی اطلاع خلیفہ دوئم عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ملتی ہے ۔ خلیفہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حُکم دیتے ہیں کہ جا کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کمان لے لیں اور ساتھ پیغام دیا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کہیں “اگر دس ہزار درہم موسم گرما کی خوراک سے دیا ہے تو خیانت کی ہے اور اگر اپنے پاس سے دیئے ہیں تو یہ اعتدال کی حد کو چھوڑنا ہے”۔ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شاعر کا یہ قول پڑھا “تو نے ایک کام کیا ہے اور کسی کام کرنے والے نے تمہاری طرح کام نہیں کیا اور لوگ کچھ نہیں کرتے اللہ ہی کرتا ہے”۔ پھر فرمایا “اللہ کی قسم آپ مجھے بڑے ہی عزیز اور محبوب ہیں اور آج کے بعد کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے مجھ پر کچھ واجب ہو جائے”

جب عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسٰی رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے ہاتھ اہلِ بصرہ کے نام یہ پیغام بھیجا ” میں نے ابو موسٰی کو آپ کا امیر مقرر کیا ہے جو تمہارے طاقتور سے تمہارے کمزور کیلئے لیں گے اور تمہارے ساتھ مل کر تمہارے دشمن سے جنگ کریں گے اور تمہارے فرض کو ادا کریں گے اور تمہاری غنیمت کو تمہارے لئے اکٹھا کریں گے پھر اُسے تمہارے درمیان تقسیم کریں گے”
سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 ، 32 ۔ (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔کہہ دو کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو اللہ بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

سورت ۔ 4 ۔ النسآء ۔ آیت 59 ۔ مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحبِ حکومت ہیں ان کی بھی ۔ اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

سورت ۔ 6 ۔ الانعام ۔ 164 ، 165 ۔ کہو کیا میں اللہ کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا ۔ اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

غریبوں کو کیوں مروایا جا رہا ہے ؟

کراچی میں 36 گھنٹوں میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی جبکہ 15 افراد زخمی ہیں۔ اورنگی ٹاؤن اور قصبہ کالونی سے متصل علاقوں میں جمعہ کی رات سے شروع ہونے والا فائرنگ کا سلسلہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔پولیس کے مطابق قصبہ کالونی میں جمعہ کی شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک سیاسی جماعت کے کارکن سمیت 2 افراد کو ہلاک کر دیا تھا ۔ جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے اور علاقے میں شدید فائرنگ کی گئی۔ جس کی زد میں آکر 8 افرادزخمی ہو گئے ۔ ہنگامہ آرائی کا سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہا ۔ جس میں اورنگی ٹاؤن ۔ سلطان آباد ۔ منگھو پیر ۔ پاپوش نگر اور نارتھ ناظم آباد میں ڈینٹل کالج کے قریب فائرنگ کے واقعات میں مزید 8 افراد ہلاک ہو گئے ۔ اس دوران نامعلوم افراد نے اورنگی ٹاؤن اور مومن آباد میں ایک بس سمیت دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ۔ نارتھ ناظم آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا جبکہ شریف آباد میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جبکہ آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے ان واقعات کو سیاسی جماعتوں میں تصادم قرار دیا

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ خطرناک مرض

ہمارے مُلک میں ایک خطرناک مرض نفوذ ہو کر وباء کی طرح پھیل چکا ہے ۔ مزید خطرناک یہ کہ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں انہیں اس کا احساس نہیں اور وہ اسے مزید پھیلانے کا مُوجب بن رہے ہیں ۔ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے ہونے کی تمیز کے بغیر یہ مرض سب کو اپنے قابو میں لے چکا ہے ۔ مرض ہے ۔ “کوئی کچھ نہیں کرتا” ۔ “یہاں کچھ نہیں ہو سکتا” ۔ “پاکستان ہے ہی ایسا”۔ کہنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ کہہ کر فرض پورا ہو گیا ۔ سوچنا یہ ہے کہ بہتری کیسے آئے گی ؟ ایسا کہنے والے لوگ خود تو تعمیرِ ملت کیلئے ایک تِنکا بھی نہیں توڑتے لیکن تقریروں اور تحریروں میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ تھوڑا سا گھُوم پھر کر تحقیق کی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ استدلال حقیقی کم اور تخیّلاتی زیادہ ہے

میری عادت ہے کہ کوئی ميری کتنی ہی حوصلہ شکنی کرے میں اپنی کی سی کوشش ضرور کرتا ہوں اور اکثر اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ مجھے کامیاب کرتا ہے ۔ میں صرف پچھلے تین ماہ میں وقوع پذیر ہونے والی دو مثالیں بیان کروں گا

جولائی 2009ء میں ہم نے لاہور آ کر جس علاقے میں رہائش اختیار کی اُس کا پہلے کوئی عِلم نہ تھا نہ کوئی جاننے والا وہاں رہتا تھا ۔ اکتوبر کے مہینے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی تھی کہ ہماری رہائشگاہ کی بجلی بار بار بند ہونے اور چلنے لگی ۔ محلے میں کسی سے پوچھا کہ واپڈا کا کمپلینٹ آفس کہاں ہے ؟ جواب ملا “ہم تو کبھی گئے ہی نہیں وہاں کوئی کام تو ہوتا نہیں”۔ میں نے گھر واپس آ کر بجلی کا بِل نکالا اور اُس پر پتہ ڈھونڈنے لگا کہ میری نظر پڑی لکھا تھا “بجلی کی شکائت کے سلسلہ میں اس نمبر پر اطلاع کریں”۔ میں نے ٹیلیفون کیا ۔ دو بار نمبر مصروف ملنے کے بعد مل گیا ۔ السلام علیکم کہنے کے بعد اپنا مسئلہ بتایا تو جواب ملا کہ ابھی آدمی دوسرے کمپلینٹ پر گیا ہوا ہے ایک ڈیڑھ گھنٹہ تک آپ کے پاس پہنچ جائے گا ۔ جب آدمی تین گھنٹے تک نہ آیا تو میں گاڑی لے کر نکلا ۔ قریب ہی ایک دفتر تھا وہاں جا کر پوچھا کہ واپڈا کا کمپلینٹ آفس کہاں ہے ؟ جواب پہلے والا ہی ملا ۔ اسرار کرنے پر کہا کہ ” اُدھر ڈیفنس میں کہیں ہو گا “۔ میں ڈیفنس کی طرف چل پڑا اور پوچھتے پوچھتے لیسکو [LESCO] کے دفتر پہنچ گیا ۔ وہاں کمرہ شکایات میں جا کر مدعا بیان کیا تو بتایا گیا کہ ” آدمی جا چکا ہے آپ کے گھر پہنچنے والا ہو گا” اور مجھے اُس کا موبائل فون نمبر لکھ کر دے دیا ۔ میں نے گھر پہنچ کر جب دیکھا کہ وہ نہیں پہنچا تو اُسے ٹیلیفون کیا ۔ اُس نے کہا “بس میں اِدھر سے فارغ ہو گیا ہوں اور اب آپ کے پاس ہی آ رہا ہوں”۔ پانچ منٹ میں وہ پہنچ گیا اور ہمارے گھر کی بجلی درست کر کے چلا گیا

جنوری 2010ء شروع ہوتے ہی بہت سردی شروع ہو گئی ۔ قدرتی گیس کا پریشر جو پہلے ہی زیادہ نہ تھا اتنا کم ہو گیا کہ روٹی پکنا مُشکل ہو گیا ۔ میں نے گیس کا بل نکالا اور وہاں لکھے نمبر پر ٹیلیفون کرنا شروع کیا ۔ چوتھی بار نمبر مل گیا اور کمپیوٹر کی ریکارڈڈ آواز ڈیڑھ منٹ تک سنتا رہا پھر ایک لڑکا بولا “سر”۔ میں نے السلام و علیکم کہہ کر اپنی ببتا بیان کی ۔ اُس نے کہا اپنا کنزیومر نمبر بتایئے”۔ میرے بتانے پر اُس نے کہا آدمی 24 سے 48 گھنٹے کے درمیان پہنچ جائے گا اور ساتھ مجھے میرا شکائت نمبر لکھوا دیا ۔ ہفتہ کا دن تھا صبح کے 9 بجے تھے میں نے سوچا اتوار کی چھُٹی ہے آدمی پیر کو ہی آئے گا مگر اتوار کو شام 5 بجے گھنٹی بجی میں باہر نکلا تو ایک آدمی کہنے لگا “آپ نے گیس کا کمپلینٹ کیا تھا ۔ چیک کریں پریشر ٹھیک ہو گیا ہے”۔ میں نے بھاگ کر کوکنگ رینج کے پانچوں چولہے جلا دیئے اوردرست پاکر اُس شخص کا شکریہ ادا کیا