Category Archives: روز و شب

برطانوی عورتيں ۔ حيرت انگيز تعداد کی تبديلی مذہب

پچھلے ماہ معلوم ہوا کہ کس طرح ايک معروف صحافيہ اور سابق وزيرِ اعظم برطانيہ ٹونی بليئر کی خواہرِ نسبتی لورين بوتھ [Lauren Booth] نے اسلام قبول کيا ۔ کچھ عرصہ سے بالخصوص 11 ستمبر 2001ء کے بعد امريکا اور يورپ ميں بالخصوص گوروں ميں اسلام قبول کرنے والوں کں تعداد ميں روز افزوں اضافہ ہونے لگا تھا البتہ يہ عمل انگلستان ميں خاص طور پر ديکھا گيا ۔ سنڈے ٹائمز نے اپنی 22 فروری 2004ء کی اشاعت ميں ايک مضمون ” Islamic Britain lures top people ” کے عنوان سے شائع کيا تھا جس ميں تحرير تھا کہ:
“پہلے مصدقہ مطالعہ سے يہ حقيقت سامنے آئی ہے کہ برطانيہ کے 14000 سے زائد گوروں نے مغربی دنيا کی قدروں سے بيزار ہو کر اسلام قبول کر ليا ہے ان ميں برطانيہ کے چوٹی کے زمينداروں ۔ مشہور ہستيوں اور اعلٰی عہديداروں کی اولاد نے اسلام کے اصولوں پر سختی سے عمل شروع کر ديا ہے”

انگلستان ميں صرف ايک يوسف اسلام [سابق موسيقار ] ايک مشہور شخص تھا جس نے اسلام قبول کيا تھا ۔ 11 ستمبر کے بعد افغانستان سے اطلاعات بھيجتے ہوئے صحافيہ Yvonne Ridley [اب مريم] نے اُسے گرفتار کرنے والے طالبان کی مہمان نوازی اور عزت افزائی سے متاءثر ہو کر اسلام قبول کيا ۔ حيران کُن بات يہ ہے کہYvonne Ridley نے کہا کہ:
“مسلمان عورتوں کی يکجہتی کے سامنے مغربی دنيا کا نَظَرِيَہ حَقُوقِ نِسواں ھيچ [غيراہم] ہو کر رہ جاتا ہے”

اُس نے مزيد لکھا کہ “مجھے پوچھا گيا کہ اسلام کس طرح مردوں کو اپنی بيويوں کی پٹائی کی اجازت ديتا ہے ؟ مجھے افسوس ہے کہ وہ حقيقت سے وقف نہيں ہيں ۔ ہاں ميں جانتی ہوں کہ اسلام کے نقاد قرآنی آيات يا حديث کے بے ترتيب حوالے ديں گے جو کہ عام طور پر سياق و سباق سے ہٹے ہوئے ہوتے ہيں ۔ اگر ايک آدمی اپنی بيوی کی طرف اُنگلی بھی اُتھا تو اُسے اُس کے جسم پر نشان چھوڑنے کی اجازت نہيں ہے ۔ ۔ ۔ قرآن کے بيان کا ايک اور رُخ بھی ہے ‘اپنی بيوی کو بيوقوفوں کی طرح مت پِيٹو’ ”

“آيئے کچھ دلچسپ اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہيں ۔ نيشنل ڈوميسٹک وائلينس ہاٹ لائن [National Domestic Violence Hotline] کے مطابق اوسط 12 ماہ ميں 40 لاکھ امريکی عورتيں اپنے خاوندوں کے بڑے حملے [serious assault] کا نشانہ بنتی ہيں”

‘اوسطاً روزانہ 3 سے زائد امريکی عورتيں اپنے خاوندوں يا دوست لڑکوں [boyfriends] کے ہاتھوں قتل ہوتی ہيں ۔ جس کا مطلب ہے کہ 11 ستمبر 2001ء سے اب [پہلا ہفتہ ستمبر 2006ء] تک 5500 اس طرح قتل کی جا چکی ہيں

“Now you tell me what is more liberating. Being judged on the length of your skirt and the size of your cosmetically enhanced breasts, or being judged on your character, mind and intelligence? Glossy magazines tell us as women that unless we are tall, slim and beautiful we will be unloved and unwanted. The pressure on teenage magazine readers to have a boyfriend is almost obscene”
“آپ مجھے بتايئے کہ آزادی کيا ہے ؟ آپ کے سکرٹ کی لمبائی اور مصنوعی طريقہ سے بڑھائی ہوئی چھاتيوں سے ناپا جانا يا کہ آپ کے کردار ۔ عقل اور ذہانت سے اندازہ لگانا ؟ چمکدار رسالے ہميں بتاتے ہيں کہ بطور عورت اگر ہمارا قد اُونچا ۔ جسم پھريرا اور خوبصورت نہيں تو نہ کوئی ہم سے پيار کرے گا نہ ہماری چاہت ۔ نوجوانوں کے رسالوں ميں کسی نہ کسی لڑکے کو دوست بنانے کا دباؤ فحش ہونے کی حد تک ہوتا ہے”

[مجھے يقين ہے کہ وہ پاکستانی روشن خيالوں سے نہيں ملی ہو گی :lol:]

لَورين بُوتھ [Lauren Booth] کاميلا لی لينڈ [Camilla Leyland] کرسٹيانے بيکر [Kritiane Backer] لِنّے علی [Linne Ali] اور ديگر کے حاليہ حيران کُن تبديلی مذہب نے لوگوں کو يہ پوچھنے پر مجبور کر ديا کہ “برطانوی جديد کام کرنے والی عورتوں نے کيوں اسلام قبول کرنا شروع کر ديا ہے ؟”

دی ڈيلی ميل [The Daily Mail] نے اس سوال کا جواب دينے کی کوشش کی

کاميلا لی لينڈ کہتی ہيں
“مغربی دنيا ميں ہميں سطحی وجوہات کی بناء پر مجبور کيا جاتا ہے جيسا کہ ہميں کون سا لباس پہننا چاہيئے ۔ اسلام ميں ہر کوئی اعلٰی منزلِ مقصود رکھتا ہے ۔ ہر عمل اللہ کی خوشنودی کيلئے ہوتا ہے ۔ يہ ايک بالکل مختلف معيارِ زندگی ہے”

کرسٹيانے بيکر اپنی کتاب [From MTV to Mecca] کے مختصر بيان ميں لکھا ” ميں نے اپنے آپ کو گُم کر ديا تھا مگر اب ميں نے اپنے آپ کو پا ليا ہے ۔ شو بز کی چمک نے مجھے کچھ نہ ديا ۔ ميں اپنی اس پيشہ ورانہ زندگی کو کسی قيمت پر جاری نہيں رکھنا چاہتی تھی ۔ ميری واضح سمت تبديل ہو چکی تھی ۔ ميں اپنی زندگی کی ہر ہيئت کو ايک کام مختلف معياری نظام ميں مدغم کر دينا چاہتی تھی

لِنّے علی کہتی ہيں “ميں اتنی شکر گذار ہوں کہ مجھے بچ نکلنے کا راستہ مل گيا ۔ اب يہ ميری اصليت ہے ۔ ميں دن ميں پانچ بار عبادت کر کے خوش ہوں اور ميں مسجد ميں جا کے تعليم بھی حاصل کر رہی ہوں ميں اب ايک شکستہ گروہ اور اس کی توقعات کا حصہ نہيں ہوں”۔

يہ انکشافات ميرے جيسے عام پاکستانی مسلمانوں کيلئے شايد حيرت انگيز ہوں کيونکہ ساری دنيا بالخصوص پاکستان کے بيشتر مسلمانوں نے شرمندگی کا رويّہ اپنا رکھا ہے ۔ الزامات کی بوچھاڑ کے ساتھ ذرائع ابلاغ کا قائم کيا ہوا تُند و تيز اسلام دُشمن ميدانِ کار زار اور دہشتگردی ميں ضائع ہونے والی معصوم جانوں نے ہميں دفاعی صورت ميں کھڑا کر ديا ہے ۔ بنيادی اسلام کے خلاف يلغار اتنی تيز ہے کہ جہاد کا نام لينا بھی آدمی کو مصائب ميں مبتلا کر سکتا ہے جو ملامت اور تنقيد سے لے کر غائب ہونے تک ہو سکتے ہيں

ترجمہ اقتباس از تحرير ڈاکٹر جواد احمد خان
مکمل تحرير يہاں پڑھی جا سکتی ہے

ایک دلچسپ واقعہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زبانی

جب میں 1953ء میں کراچی ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں فزکس کا پریکٹیکل کر رہا تھا۔ ہمارے ڈیمانسٹریٹر نئے تعلیم یافتہ مرزا عبدالباقی بیگ تھے یہ ذہین انسان تھے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کے منتظر تھے۔ ہم کو ورنیئر کیلیپرس [Vernier Callipers
] اور مائیکرو میٹر [Micrometer] دیئے گئے تھے کہ ان کی مدد سے دھات کی شیٹ کے ایک ٹکڑے کی موٹائی اور ایک تار کا قطر معلوم کرنا تھا۔ ہمیں سکھایا گیا تھا کہ کس طرح ان آلات کا صحیح استعمال کیا جا سکتا تھا اور صحیح طریقے سے پیمائش کی جا سکتی تھی۔عبدالباقی بیگ سامنے ٹیبل و کرسی پر بیٹھے تھے تھوڑی دیر میں ہمارے پروفیسر ڈی سوزا [De Souza] آگئے اور عبدالباقی بیگ کے سامنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے میز پر رکھے کیلیپر اور مائیکرومیٹر کو اٹھا کر عبدالباقی بیگ سے اس کو استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کیا ۔ عبدالباقی بیگ جواب نہ دے سکے اور نہ ہی صحیح طریقہ سے استعمال کر سکے، پروفیسر ڈی سوزا نے پھر ان کو ان آلات کے استعمال کرنے کا طریقہ کار بتایا ۔ عبدالباقی بیگ نے بعد میں امریکہ میں فزکس میں پی ایچ ڈی کی اور نیویارک کے راکیفیلر انسٹی ٹیوٹ [Rockefeller Institute] میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بن کر دنیا میں نام پیدا کیا ان کا کام بہت اعلیٰ تھا اور انہوں نے بہت شہرت حاصل کی ہماری بدقسمتی کہ وہ نوبل انعام حاصل نہ کر سکے اور صرف 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

مرحوم آغاشاہی نے 1976ء کے اواخر میں ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا چیئرمین بننے کی پیشکش کی تھی چونکہ مرحوم وزیراعظم بھٹو منیر احمد خان کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ پروفیسر عبدالباقی بیگ زمانہ شناس اور سمجھدار تھے انہوں نے نرمی سے یہ پیشکش نامنظور کر دی او ر پاکستان نہ آئے۔

احوالِ قوم ۔ 4 ۔ کردار

زمانے میں ہیں ایسی قومیں بہت سی۔ ۔ ۔ ۔ نہیں جن میں تخصیص فرماں دہی کی
پر آفت کہیں ایسی آئی نہ ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کہ گھر گھر پہ یاں چھا گئی آکے پَستی
چکور اور شہباز سب اَوج پر ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ایک ہم ہیں کہ بے بال و پر ہیں

وہ ملت کہ گردُوں پہ جس کا قدم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہر اک کھونٹ میں جس کا برپا علَم تھا
وہ فرقہ جو آفاق میں محترم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اُمت لَقَب جس کا خَیرُ الاُمَم تھا
نشاں اس کا باقی ہے صرف اس قدریاں۔ ۔ کہ گِنتے ہیں اپنے کو ہم بھی مسلماں
وگرنہ ہماری رگوں میں لہو میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے ارادوں میں اور جستجو میں
دِلوں میں زبانوں میں اور گفتگو میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طبعیت میں فطرت میں عادت میں خُو میں
نہیں کوئی ذرّہ نجابت کا باقی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر ہو کسی میں تو ہے اتفاقی

ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ کمینوں سے بدتر ہمارا چلن ہے
لگا نامِ آبا کو ہم سے گہن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا قدم ننگِ اہلِ وطن ہے
بزرگوں کی توقیر کھوئی ہے ہم نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرب کی شرافت ڈبوائی ہے ہم نے
نہ قوموں میں عزت، نہ جلسوں میں وقعت۔ ۔ نہ اپنوں سے اُلفت، نہ غیروں سے ملت
مزاجوں میں سُستی، دماغوں میں نخوت۔ ۔ ۔ ۔ خیالوں میں پَستی، کمالوں سے نفرت
عداوت نہاں ۔ دوستی آشکارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ غرض کی تواضع ۔ غرض کی مُدارا

نہ اہلِ حکومت کے ہمراز ہیں ہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ درباریوں میں سرافراز ہیں ہم
نہ عِلموں میں شایانِ اعزاز ہیں ہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ صنعت میں حرفت میں مُمتاز ہیں ہم
نہ رکھتے ہیں کچھ مَنزلت نوکری میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ حصہ ہمارا ہے سوداگری میں
تنزل نے کی ہے بُری گَت ہماری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت دور پہنچی ہے نکبت ہماری
گئی گزری دنیا سے عزت ہماری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں کچھ ابھرنے کی صورت ہماری
پڑے ہیں اک امید کے ہم سہارے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ توقع پہ جنت کی جیتے ہیں سارے

کلام خواجہ الطاف حسين حالی

قربانی ۔ ؟ ؟ ؟

سيّدنا ابراھيم عليہ السلام نے ہميں کيا اسی قربانی کا سبق ديا تھا ؟
ايسا ايک ہی شہر ميں کيوں ہوتا ہے ؟
کسی کے پاس ہے اس کا مدلل جواب ؟

کراچی 17 نومبر 2010ء ۔ میں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں چھیننے کے دوران فائرنگ کے واقعات میں تین افراد ہلاک دس زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں نیازی چوک پر قربانی کے جانور کی کھالیں مانگنے کیلئے مسلح افراد آئے لیکن علاقے کے لوگوں نے کھالیں دینے سے انکار کر دیا ، جس پر مسلح افراد نے مکینوں سے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی زد میں آکردوبچوں سمیت10 افراد زخمی ہو گئے جبکہ دو افراد جاں بحق ہو گئے ۔زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں طبی امداد دی گئی واقع کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جہاں قانون نافذ کرنے والوں نے متاثرہ علاقے کو گھیر لیا اور سرچ اپریشن کیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔گلشن اقبال بلاک سترہ کے اشرف اسکوائر میں قربانی کی کھالیں چھیننے کے دوران ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے جھگڑے کے بعد فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ان کا اپنا ساتھی افتخار شدید زخمی ہوگیا جو بعد میں جناح اسپتال میں ہلاک ہوگیا ،پولیس واقع کی تفتیش کررہی ہے

قربانی اور اس کے لوازمات

ہر سال عیدالاضحٰے پر بکرا ۔ گائے ۔ اُونٹ وغیرہ کی قربانی کی جاتی ہے ۔ اس سلسلہ میں کئی باتیں سُننے اور دیکھنے میں آتی ہیں جن سے کم و بیش ہر ہموطن کو واسطہ پڑتا ہے ۔ کچھ باتیں تو ہمیشہ سے ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو کچھ سال قبل نہ تھیں اور اب ہیں اسلئے انوکھی محسوس ہوتی ہیں

ہموطنوں کی بھاری اکثریت قربانی خود اپنے ہاتھ سے نہیں کرتی ۔ ايسا شايد صرف پاکستان بنگلہ ديش اور بھارت ميں ہوتا ہے ۔ ذبح کرنے کیلئے کسی قصائی یا نام نہاد قصائی کو پکڑ کر لایا جاتا ہے کئی جگہوں پر میں نے ایسے شخص کو بکرا ذبح کرتے دیکھا جسے ذبح کرنا تو بڑی بات ہے چھُری پکڑنے کا بھی سلیقہ نہ تھا ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ قربانی دینے والے کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ذبح کرنے والا مسلمان بھی ہے یا نہیں ۔ جو چھُری اور ٹوکہ ہاتھ میں پکڑے نظر آ جائے اُسے پکڑ کر بکرا ذبح کروا لیا جاتا ہے ۔ اب تو 6 سال سے مجھے زمين پر بيٹھنے اور جھُکنے کی بھی اجازت نہيں ہے ۔ اچھے وقتوں ميں اللہ کے فضل سے ميں نے کم از کم 2 درجن قربانی کے جانور ذبح کئے اُن کی کھال اُتاری اور گوشت بھی بنايا

گوشت کی تقسيم

عام طور پر گوشت کے تین حصے کئے جاتے ہیں ایک اپنے لئے ۔ ایک عزیز و اقارب کیلئے اور ایک غُرباء میں تقسیم کرنے کیلئے ۔ یہ مُستحسن طریقہ ہے ۔ اگر سارا گوشت اپنے استعمال میں لایا جائے تو اس میں بھی کوئی بُرائی نہیں ۔ اسی طرح سارا گوشت پکا کر عزيز و اقارب کو کھلایا جا سکتا يا سارا گوشت عزيز و اقارب ميں بانٹا جا سکتا ہے يا سارا مساکين ميں تقسيم کيا جا سکتا يا اُنہيں پکا کر کھلايا جا سکتا ہے ۔ قربانی کے جانوار کے کسی بھی حصہ کے عِوض کچھ لینا حرام ہے ۔ کچھ لوگ اپنے افسر یا کسی اور بڑے آدمی کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کافی سارا گوشت یا پوری ران اُسے بھیج دیتے ہیں ۔ یہ مناسب بات نہیں کیونکہ اس میں قربانی کے جذبہ کی بجائے خود ستائشی یا خودغرضی آ جاتی ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ مساکین اور اپنے عزيز و اقارب بالخصوص جن کی مالی حالت اچھی نہ ہو کا خیال رکھا جائے

عید والے دن کئی لوگ گوشت مانگنے آتے ہیں ۔ ان پر اگر غور کیا جائے تو کچھ لوگ چند گھروں سے گوشت لے کر چلے جاتے ہیں اور کچھ کے پاس پہلے سے ہی چار پانچ کلو گرام یا زیادہ گوشت ہوتا ہے اور وہ مزید گوشت اکٹھا کرتے جاتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی خاندان کے سب افراد گوشت مانگنے نکل پڑتے ہیں ۔ یہ لوگ مستحق لوگوں کا حق مارتے ہیں ۔ اس لئے میں تو بہتر سمجھتا ہوں کہ پہلے سے ہی اہل محلہ پر غور کیا جائے اور ان میں جو گوشت خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کو ایک دن کیلئے کافی گوشت دے دیا جائے اور جو باقی بچے وہ مانگنے والوں میں بانٹا جائے ۔ اسلام آباد میں لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والے لوگوں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو سارا سال گوشت نہیں کھاتے ۔ اگر ایسے لوگوں کو سال میں ایک دن کیلئے گوشت کھانے کو دیا جائے تو اُن کے دل سے جو دُعا نکلے گی اس کا اندازہ عام انسان نہیں کر سکتا

ايک نيا نعرہ
کچھ سالوں سے سُننے ميں آتا ہے “مسلمان اتنے زيادہ جانور ذبح کر کے ضائع کرتے ہيں ۔ يہی روپيہ زلزلہ يا سيلاب کے متاءثرين کو دے ديں”
يہی بات حج کے معاملہ ميں بھی کہی جاتی ہے
يہ خام خيالی ہے ۔ نفلی حج يا نفلی قربانی کرنے کی بجائے اس کی قيمت صدقہ کر دينا بہتر ہے مگر فرض حج کو ملتوی کرنے کی دينی وجوہات کے علاوہ کسی اور وجہ سے ملتوی کرنا جائز نہيں ہے ۔ اسی طرح قربانی کرنے کی بجائے اس کی قيمت صدقہ کرنے سے قربانی ساقط نہيں ہوتی ۔ اس طرح کے استدلال ماننے کا مطلب اللہ اور اللہ کے رسول سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کے فرمان پر اپنی عقل کو ترجيح دينا ہے

امن کی آشا ۔ يا ۔ قوم کا استحصال ؟

آجکل ايک ٹی وی چينل ايک اشتہار بار بار دکھا رہا ہے جس کا منظر کچھ اس طرح ہے

پاکستان اور بھارت کے نزديک کسی قصبہ يا گاؤں ميں اپنے لوگ خيموں کے باہر کھڑے ايک بوڑھا پاکستانی فصا ميں اپنے ہاتھ بلند کئے کچھ عجيب سے اشارے کر رہا ہے اور باقی لوگ اُس کی ہلہ شيری کر رہے ہيں ۔ اُن سب کا رُخ بھارت کی طرف ہے جہاں کچھ خُوش پوش بھارتی اپنے پکے مکانوں سے باہر دُوربينوں کے ذريعہ ان نادار پاکستانيوں کو ديکھ رہے ہيں ۔ بھارتی اپنے گھروں ميں جا کر آل انڈيا ريڈيو کو ٹيليفوں پر بارتی فلمی گانا لگانے کی فرمائش کرتے ہيں ۔ جونہی گانا بجايا جاتا ہے ۔ پاکستانی اپنے 1950ء کے ماڈل ريڈيو کے گرد ناچنے لگتے ہيں

حقيقت يہ ہے کہ اس اشتہار کا ہر سيکنڈ اصل حالات کے بر عکس ہے ۔ آيئے ذرا حقائق کا اندازہ اُن اعداد و شمار سے لگاتے ہيں جو بين الاقوامی ادارے مہيا کرتے ہيں ۔ خيال رہے کہ يہ ادارے پاکستان دوست نہيں ہيں

1 ۔ پاکستان ميں 22 فی صد لوگوں کی آمدنی 1.20 ڈالر يوميہ سے کم ہے جبکہ بھارت مين 42 فيصد لوگوں کی آمدنی 1.2 ڈالر يوميہ سے کم ہے
2 ۔ پاکستان ميں بے گھر لوگوں کی تعداد ايک فيصد بھی نہيں جبکہ بھارت ميں 17 فيصد لوگ بے گھر ہيں ۔ خيال رہے کہ يہ اشتہار سيلابوں سے بہت پہلے کا چل رہا ہے

3 ۔ پاکستانيوں کو بھارت کے ريڈيو سے گانے سننے کی کيا ضرورت ہے جبکہ پاکستان ميں پچھلی صدی کے وسط سے ساری دنيا کی نشريات سُنی جا سکتی ہيں جن پر بھارتی فلمی گانے بھی سنائے جاتے ہيں ۔ پھر 2001ء سے ايف ايم چينل چل رہے ہيں جن پر بھاتی گانے عام سنائے جاتے ہيں ۔ اس کے بر عکس بھارت ميں ايف ايم کے لائيسنس 2007ء ميں جاری کئے گئے ہيں باقی 21 چينل سخت حکومتی نگرانی ميں چل رہے ہيں

4 ۔ 1950ء کا ماڈل ريڈيو سيٹ پاکستان ميں ايک عجوبہ ہی ہو سکتا ہے ۔ يہاں تو 80 فيصد آبادی ٹی ديکھ رہی ہے جبکہ بھارت کے 60 فيصد لوگوں کو يہ سہولت ميسّر ہے

5 ۔ کمال تو يہ ہے کہ بھارتی گاؤں ميں تو ٹيليفون کی سہولت اور پاکستانيوں کو ناچ کر اپنا پيغام دينا پڑے ؟ جبکہ پاکستان ميں 65 فيصد لوگوں کے پاس ٹيليفون کی سہولت موجود ہے اور بھارت ميں يہ سہولت صرف 50 فی صد لوگوں کو حاصل ہے

پاکستان نمبری کہاں سے بنتا ہے ؟ عوامی ادراک يا احساس سے ۔ خود گناہی کا يہ ادراک يا احساس کون اُجا گر کرتا ہے ہماے ٹی وی چينل اور اخبارات جو ايک واقعہ برائی کا پکڑتے ہيں اور اُسے دہرانے کا معمول بنا ليتے ہيں ۔ اس دوران بيسيوں اچھے واقعات نظروں سے اوجھل رہتے ہيں ۔ اور پاکستان دنيا کے بدترين مُلکوں ميں پاکستانيوں ہی کے غلط ادراک يا احساس کی وجہ سے پہنچ جاتا ہے

ميں يہ ٹائپ کر رہا ہوں اور جيو ٹی وی ” امن کی آشا” دکھا رہا ہے پاکستان اور بھارت کے عوام کو قريب لانے کيلئے ؟ کيا پرويز مشرف نے کرکٹ ۔ بسنت اور ناچ کے ذريعہ يہی کوشش نہيں کی تھی ؟ جس پر بھارتی رسالے نے لاہور کو “Bich in heat” کہا تھا ۔ اور وہ رسالہ جس کا مقام ممبئی ہے جہاں کم از کم 100000 جنسی ورکر [Sex workers] ہيں

کبھی اپ نے پڑھا ہے ؟ ايک دن ايسا نہيں ہوتا کہ اس کے پہلے صفحہ پر پاکستان کے خلاف کوئی انتہائی بودی خبر يا مضمون نہ ہو ۔ ان حالات ميں بھارت سے دوستی ؟

جو نيا نمبر جيو ٹی وی بتاتا ہے ميں نے اس پر ٹيليفون کيا مگر ميرا پيغام نشر نہيں کيا جبکہ وہ سب کا پيغام نشر کرنے کا دعوٰی کرتے ہيں

يہ چند اقتباسات عشر يعقوب صاحب کے مضمون ميں سے ہيں ۔ پورا مضمون پڑھے بغير مکمل صورتِ حال واضح نہيں ہو گی
پورا مضمون يہاں کلک کر کے پڑھيئے