Category Archives: روز و شب

قربانی اور اس کے لوازمات

ہر سال عیدالاضحٰے پر بکرا ۔ گائے ۔ اُونٹ وغیرہ کی قربانی کی جاتی ہے ۔ اس سلسلہ میں کئی باتیں سُننے اور دیکھنے میں آتی ہیں جن سے کم و بیش ہر ہموطن کو واسطہ پڑتا ہے ۔ کچھ باتیں تو ہمیشہ سے ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو کچھ سال قبل نہ تھیں اور اب ہیں اسلئے انوکھی محسوس ہوتی ہیں

ہموطنوں کی بھاری اکثریت قربانی خود اپنے ہاتھ سے نہیں کرتی ۔ ايسا شايد صرف پاکستان بنگلہ ديش اور بھارت ميں ہوتا ہے ۔ ذبح کرنے کیلئے کسی قصائی یا نام نہاد قصائی کو پکڑ کر لایا جاتا ہے کئی جگہوں پر میں نے ایسے شخص کو بکرا ذبح کرتے دیکھا جسے ذبح کرنا تو بڑی بات ہے چھُری پکڑنے کا بھی سلیقہ نہ تھا ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ قربانی دینے والے کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ذبح کرنے والا مسلمان بھی ہے یا نہیں ۔ جو چھُری اور ٹوکہ ہاتھ میں پکڑے نظر آ جائے اُسے پکڑ کر بکرا ذبح کروا لیا جاتا ہے ۔ اب تو 6 سال سے مجھے زمين پر بيٹھنے اور جھُکنے کی بھی اجازت نہيں ہے ۔ اچھے وقتوں ميں اللہ کے فضل سے ميں نے کم از کم 2 درجن قربانی کے جانور ذبح کئے اُن کی کھال اُتاری اور گوشت بھی بنايا

گوشت کی تقسيم

عام طور پر گوشت کے تین حصے کئے جاتے ہیں ایک اپنے لئے ۔ ایک عزیز و اقارب کیلئے اور ایک غُرباء میں تقسیم کرنے کیلئے ۔ یہ مُستحسن طریقہ ہے ۔ اگر سارا گوشت اپنے استعمال میں لایا جائے تو اس میں بھی کوئی بُرائی نہیں ۔ اسی طرح سارا گوشت پکا کر عزيز و اقارب کو کھلایا جا سکتا يا سارا گوشت عزيز و اقارب ميں بانٹا جا سکتا ہے يا سارا مساکين ميں تقسيم کيا جا سکتا يا اُنہيں پکا کر کھلايا جا سکتا ہے ۔ قربانی کے جانوار کے کسی بھی حصہ کے عِوض کچھ لینا حرام ہے ۔ کچھ لوگ اپنے افسر یا کسی اور بڑے آدمی کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کافی سارا گوشت یا پوری ران اُسے بھیج دیتے ہیں ۔ یہ مناسب بات نہیں کیونکہ اس میں قربانی کے جذبہ کی بجائے خود ستائشی یا خودغرضی آ جاتی ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ مساکین اور اپنے عزيز و اقارب بالخصوص جن کی مالی حالت اچھی نہ ہو کا خیال رکھا جائے

عید والے دن کئی لوگ گوشت مانگنے آتے ہیں ۔ ان پر اگر غور کیا جائے تو کچھ لوگ چند گھروں سے گوشت لے کر چلے جاتے ہیں اور کچھ کے پاس پہلے سے ہی چار پانچ کلو گرام یا زیادہ گوشت ہوتا ہے اور وہ مزید گوشت اکٹھا کرتے جاتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی خاندان کے سب افراد گوشت مانگنے نکل پڑتے ہیں ۔ یہ لوگ مستحق لوگوں کا حق مارتے ہیں ۔ اس لئے میں تو بہتر سمجھتا ہوں کہ پہلے سے ہی اہل محلہ پر غور کیا جائے اور ان میں جو گوشت خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کو ایک دن کیلئے کافی گوشت دے دیا جائے اور جو باقی بچے وہ مانگنے والوں میں بانٹا جائے ۔ اسلام آباد میں لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والے لوگوں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو سارا سال گوشت نہیں کھاتے ۔ اگر ایسے لوگوں کو سال میں ایک دن کیلئے گوشت کھانے کو دیا جائے تو اُن کے دل سے جو دُعا نکلے گی اس کا اندازہ عام انسان نہیں کر سکتا

ايک نيا نعرہ
کچھ سالوں سے سُننے ميں آتا ہے “مسلمان اتنے زيادہ جانور ذبح کر کے ضائع کرتے ہيں ۔ يہی روپيہ زلزلہ يا سيلاب کے متاءثرين کو دے ديں”
يہی بات حج کے معاملہ ميں بھی کہی جاتی ہے
يہ خام خيالی ہے ۔ نفلی حج يا نفلی قربانی کرنے کی بجائے اس کی قيمت صدقہ کر دينا بہتر ہے مگر فرض حج کو ملتوی کرنے کی دينی وجوہات کے علاوہ کسی اور وجہ سے ملتوی کرنا جائز نہيں ہے ۔ اسی طرح قربانی کرنے کی بجائے اس کی قيمت صدقہ کرنے سے قربانی ساقط نہيں ہوتی ۔ اس طرح کے استدلال ماننے کا مطلب اللہ اور اللہ کے رسول سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کے فرمان پر اپنی عقل کو ترجيح دينا ہے

امن کی آشا ۔ يا ۔ قوم کا استحصال ؟

آجکل ايک ٹی وی چينل ايک اشتہار بار بار دکھا رہا ہے جس کا منظر کچھ اس طرح ہے

پاکستان اور بھارت کے نزديک کسی قصبہ يا گاؤں ميں اپنے لوگ خيموں کے باہر کھڑے ايک بوڑھا پاکستانی فصا ميں اپنے ہاتھ بلند کئے کچھ عجيب سے اشارے کر رہا ہے اور باقی لوگ اُس کی ہلہ شيری کر رہے ہيں ۔ اُن سب کا رُخ بھارت کی طرف ہے جہاں کچھ خُوش پوش بھارتی اپنے پکے مکانوں سے باہر دُوربينوں کے ذريعہ ان نادار پاکستانيوں کو ديکھ رہے ہيں ۔ بھارتی اپنے گھروں ميں جا کر آل انڈيا ريڈيو کو ٹيليفوں پر بارتی فلمی گانا لگانے کی فرمائش کرتے ہيں ۔ جونہی گانا بجايا جاتا ہے ۔ پاکستانی اپنے 1950ء کے ماڈل ريڈيو کے گرد ناچنے لگتے ہيں

حقيقت يہ ہے کہ اس اشتہار کا ہر سيکنڈ اصل حالات کے بر عکس ہے ۔ آيئے ذرا حقائق کا اندازہ اُن اعداد و شمار سے لگاتے ہيں جو بين الاقوامی ادارے مہيا کرتے ہيں ۔ خيال رہے کہ يہ ادارے پاکستان دوست نہيں ہيں

1 ۔ پاکستان ميں 22 فی صد لوگوں کی آمدنی 1.20 ڈالر يوميہ سے کم ہے جبکہ بھارت مين 42 فيصد لوگوں کی آمدنی 1.2 ڈالر يوميہ سے کم ہے
2 ۔ پاکستان ميں بے گھر لوگوں کی تعداد ايک فيصد بھی نہيں جبکہ بھارت ميں 17 فيصد لوگ بے گھر ہيں ۔ خيال رہے کہ يہ اشتہار سيلابوں سے بہت پہلے کا چل رہا ہے

3 ۔ پاکستانيوں کو بھارت کے ريڈيو سے گانے سننے کی کيا ضرورت ہے جبکہ پاکستان ميں پچھلی صدی کے وسط سے ساری دنيا کی نشريات سُنی جا سکتی ہيں جن پر بھارتی فلمی گانے بھی سنائے جاتے ہيں ۔ پھر 2001ء سے ايف ايم چينل چل رہے ہيں جن پر بھاتی گانے عام سنائے جاتے ہيں ۔ اس کے بر عکس بھارت ميں ايف ايم کے لائيسنس 2007ء ميں جاری کئے گئے ہيں باقی 21 چينل سخت حکومتی نگرانی ميں چل رہے ہيں

4 ۔ 1950ء کا ماڈل ريڈيو سيٹ پاکستان ميں ايک عجوبہ ہی ہو سکتا ہے ۔ يہاں تو 80 فيصد آبادی ٹی ديکھ رہی ہے جبکہ بھارت کے 60 فيصد لوگوں کو يہ سہولت ميسّر ہے

5 ۔ کمال تو يہ ہے کہ بھارتی گاؤں ميں تو ٹيليفون کی سہولت اور پاکستانيوں کو ناچ کر اپنا پيغام دينا پڑے ؟ جبکہ پاکستان ميں 65 فيصد لوگوں کے پاس ٹيليفون کی سہولت موجود ہے اور بھارت ميں يہ سہولت صرف 50 فی صد لوگوں کو حاصل ہے

پاکستان نمبری کہاں سے بنتا ہے ؟ عوامی ادراک يا احساس سے ۔ خود گناہی کا يہ ادراک يا احساس کون اُجا گر کرتا ہے ہماے ٹی وی چينل اور اخبارات جو ايک واقعہ برائی کا پکڑتے ہيں اور اُسے دہرانے کا معمول بنا ليتے ہيں ۔ اس دوران بيسيوں اچھے واقعات نظروں سے اوجھل رہتے ہيں ۔ اور پاکستان دنيا کے بدترين مُلکوں ميں پاکستانيوں ہی کے غلط ادراک يا احساس کی وجہ سے پہنچ جاتا ہے

ميں يہ ٹائپ کر رہا ہوں اور جيو ٹی وی ” امن کی آشا” دکھا رہا ہے پاکستان اور بھارت کے عوام کو قريب لانے کيلئے ؟ کيا پرويز مشرف نے کرکٹ ۔ بسنت اور ناچ کے ذريعہ يہی کوشش نہيں کی تھی ؟ جس پر بھارتی رسالے نے لاہور کو “Bich in heat” کہا تھا ۔ اور وہ رسالہ جس کا مقام ممبئی ہے جہاں کم از کم 100000 جنسی ورکر [Sex workers] ہيں

کبھی اپ نے پڑھا ہے ؟ ايک دن ايسا نہيں ہوتا کہ اس کے پہلے صفحہ پر پاکستان کے خلاف کوئی انتہائی بودی خبر يا مضمون نہ ہو ۔ ان حالات ميں بھارت سے دوستی ؟

جو نيا نمبر جيو ٹی وی بتاتا ہے ميں نے اس پر ٹيليفون کيا مگر ميرا پيغام نشر نہيں کيا جبکہ وہ سب کا پيغام نشر کرنے کا دعوٰی کرتے ہيں

يہ چند اقتباسات عشر يعقوب صاحب کے مضمون ميں سے ہيں ۔ پورا مضمون پڑھے بغير مکمل صورتِ حال واضح نہيں ہو گی
پورا مضمون يہاں کلک کر کے پڑھيئے

علامہ اقبال کی ياد ميں

آج يومِ اقبال ہے ۔ اس حوالے سے علامہ اقبال نے جس مسلمان کا بيان کيا تھا اورآج کے مسلمان کا تقابل

مسلمان ۔ علامہ اقبال کی نظر ميں

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گفتار ميں، کردار ميں، اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ يہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

ہمسايہءِ جبريل اميں بندہءِ خاکی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے اس کا نشيمن نہ بخارا نہ بدخشان
يہ راز کسی کو نہيں معلوم کہ مومن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔قاری نظر آتا ہے ، حقيقت ميں ہے قرآن

قدرت کے مقاصد کا عيار اس کے ارادے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔دنيا ميں بھی ميزان، قيامت ميں بھی ميزان
جس سے جگر لالہ ميں ٹھنڈک ہو وہ شبنم ۔ ۔ ۔ درياؤں کے دل جس سے دہل جائيں وہ طوفان

فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہنگ ميں يکتا ۔ صفت سورہءِ رحمٰن
بنتے ہيں مری کارگہِ فکر ميں انجم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان

عصرِ حاضر کا مسلمان

کردار کا، گفتار کا، اعمال کا مومن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان

سندھ کا ہے مومن، کوئی پنجاب کا مومن ۔ ۔ ۔ ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن

کہنے کو ہر شخص مسلمان ہے لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن ۔ ۔ ۔ ۔ مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے ۔ ۔ اس بندہ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو ۔ ۔ ۔ اک بار میں ہم چھٹے اس بار گراں سے

دعوٰی امن اور کرتوت دہشتگردی

ميرے ہموطن کتنے امن پسند اور قانوں کے پُجاری ہيں اس کی ايک جھلک اس خبر ميں ديکھئے

کراچی ميں شارع نورجہاں تھانے کی حدود فائیو اسٹارچورنگی کے قریب اورنگی ٹاؤن جانے والی تیز رفتار بس نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار عبدالغفار ولد عبداللہ شدید زخمی ہوگیا جسے عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا ۔ متوفی نارتھ کراچی کا رہائشی تھا

فائیو اسٹار چورنگی پر تعینات رینجرز اہلکاروں نے بس ڈرائیور کو پکڑنے کی کوشش کی تو بس میں سوار افراد نے رینجرز اہلکاروں سے جھگڑا شروع کردیا ۔ جھگڑے کے دوران ہوائی فائرنگ بھی ہوئی اور رینجرز اہلکاروں پر پتھراؤ بھی ۔ جس پر رینجرز اہلکاروں نے فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر عمران اور شہزاد زخمی ہوگئے جنہیں عباسی شہید اسپتال ليجایا گیا

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہم آہنگی ؟

ہندوؤں ميں ذات پات سُنی تھی مگر سب ذاتوں والے اپنے آپ کو ہندوستانی ہی کہتے ہيں بلکہ وہاں رہنے والے مسلمان بھی اپنے آپ کو ہندوستانی کہتے ہيں
جاپان کی آبادی تين چار مُختلف نسلوں پر مُشتمِل ہے مگر سب جاپانی اپنے آپ کو ايک قوم سمجھتے ہيں
جرمن ايک قوم ہيں چاہے وہ ميدانی علاقہ کے ہوں پہاڑی علاقہ کے ہوں ۔ مقامی ہوں يا آباد کار ہوں
ڈچ يعنی ہالينڈ کے لوگ ايک قوم ہيں جبکہ وہاں تين مختلف نسليں مختلف زبانيں بولنے والی آباد ہيں
بيلجيئم ايک چھوٹا سا ملک ہے ۔ اس چھوٹے سے مُلک ميں 4 مختلف نسليں آباد ہيں جن کی زبانيں بھی مختلف ہيں اس کےعلاوہ کچھ لبنانی عرب بھی وہاں آباد ہو چکے ہيں مگر يہ بيلجيک ہيں اور ايک قوم ہيں
امريکا کے تمام شہری ايک قوم ہيں جبکہ امريکا ميں درجنوں مختلف نسليں آباد ہيں اور ان کی ثقافتيں بھی مختلف ہيں ۔ [ميں گرين کارڈ والوں کی بات نہيں کر رہا]

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ايک ملک ميں صرف ايک قوم ہوتی ہے چاہے وہاں کئی زبانيں بولی جاتی ہوں ۔ ثقافتيں مختلف ہوں اور کئی مختلف نسليں رہتی ہوں

اگر ہم مسلمان ہيں تو سب مسلمان ايک قوم ہوتے ہيں کيونکہ وہ ايک نبی کی اُمت ہيں

ميری سمجھ ميں يہ نہيں آتا کہ ميرے ہموطن کيا ہيں ؟
کہ قوم کی بجائے قوميّتوں کی آوازيں ہر طر ف سے آ تی رہتی ہيں

ہمارے ملک ميں آدھی صدی قبل يہ صورتِ حال تھی

ايک ۔
دوست آں باشد کہ گيرد دستِ دوست در پريشاں حالی و در ماندگی
[ترجمہ ۔ دوست وہ ہوتا ہے جو بُرے وقت ميں کام آئے]

دو ۔
ہو گئی زندگی مجھ کو پياری ۔ مل گيا جب سے غمگسار مجھے
دوستی شمع بن کے چمکتی ہے ۔ راہ دکھلائے ميرا پيار مجھے

مگر اب کچھ اس طرح کی صورت نظر آتی ہے

تين ۔
دوست دوست نہ رہا پيار پيار نہ رہا
زندگی ہميں تيرا اعتبار نہ رہا

ہم پاکستان کے معرضِ وجود ميں آنے سے پہلے اور اس کے کچھ سال بعد تک ايک قوم تھے مگر پچھلی آدھی صدی ميں آہستہ آہستہ خلوص کی جگہ ماديّت ليتی گئی جس کے نتيجہ ميں پہلی دو صورتيں کم ہوتی گئيں اور تيسری صورت زور پکڑتی گئی
کيوں ؟
اسلئے کہ قدريں بدل گئيں ۔ خواہشات بڑھ گئيں ۔ محبت کی جگہ دولت نے لے لی
آج صرف دوسرے پر اعتراض کيا جاتا ہے مگر اپنے آپ کو کوئی بدلنے کو کوئی تيار نہيں
نتيجہ صاف ظاہر ہے

تباہی

يا اللہ ميرے ہموطنوں کو عقلِ سليم عطا فرما اور ہمت عطا فرما تاکہ وہ ابليس کے نرغے سے نکل سکيں

“عقل” اور “سمجھ”

آج ميں اپنی 10 جون 2009ء کو شائع شدہ تحرير کو مزيد وضاحت کے ساتھ دوبارہ شائع کر رہا ہوں ۔ اس وقت ميری عمر 70 سال سے زيادہ ہے اور يہ تحریر میری زندگی کے مطالعہ اور مشاہدوں کا نچوڑ ہے اسلئے اُميد رکھتا ہوں کہ قاريات اور قارئين اسے تحمل کے ساتھ پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کريں گے

ميری يہ تحرير ميری اجازت سے درجن بھرفورمز پر شائع کی يا پڑھی جا چُکی ہے

عقل” اور “سمجھ” دونوں ہی لطیف یعنی ايسی چيزيں ہيں جنہيں حواسِ خمسہ سے نہيں پہچانا جا سکتا ۔ البتہ انہیں دوسرے عوامل کی مدد سے پہچانا اور ان کا قیاس کیا جاتا ہے

عام طور پر انسان “عقل” اور “سمجھ” کو آپس میں گُڈ مُڈ کر دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں بالکل مُختلٍف عوامل ہیں

عقل” بے اختیار ہے اور “سمجھ” اختیاری ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ “عقل” آزاد ہے اور “سمجھ” غلام ہے

عقل” وہ جنس ہے جسے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہر جاندار میں کم یا زیادہ رکھا ہے

عقل” کی نشو و نما اور صحت ۔ ماحول اور تربیت پر منحصر ہے ۔ سازگار ماحول اور مناسب تربیت سے “عقل” کی افزائش تیز تر اور صحتمند ہوتی ہے

جس کی “عقل” پیدائشی طور پر یا بعد میں کسی وجہ سے مفلوج ہو جائے ایسے آدمی کو عام زبان میں “معذور يا پاگل” کہا جاتا ہے

عقل” اگر کمزور ہو تب بھی جتنا کام کرتی ہے وہ درست ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر جسے لوگ پاگل کہتے ہیں وہ بعض اوقات بڑے عقلمند لوگوں کو مات کر دیتے ہیں ۔ کسی زمانہ میں برطانیہ کے ذہنی بیماریوں کے ہسپتال کا ایک واقعہ بہت مشہور ہوا تھا ۔ ایک دن دماغی امراض کا ماہر ڈاکٹر اپنے کام سے فارغ ہو کر شام کو گھر جانے لگا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی کار کے ایک پہیئے کی چاروں ڈھِبریاں [nuts] نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر پریشان کھڑا تھا کہ ایک ذہنی مريض نے ہسپتال کی کھڑکی سے آواز دی
“ڈاکٹر ۔ کیا مسئلہ ہے ؟”
ڈاکٹر نے بتایا تو ذہنی مريض کہنے لگا “پريشانی کيا ہے ؟ باقی تین پہیئوں سے ایک ایک ڈھِبری اُتار کر اس پہیئے میں لگا لیں ۔ گاڑی آہستہ چلائيں اور راستے میں کسی دکان سے 4 ڈھِبریاں لے کر پوری کر لیں”

عقل” جانوروں کو بھی تفویض کی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی جانور نسل در نسل انسانوں کے درمیان رہے [چڑیا گھر میں نہیں] تو اس کی کئی عادات انسانوں کی طرح ہو جاتی ہیں
اصلی سیامی بِلی اس کی مثال ہے جو بدھ مت کے شروع میں بِکشوؤں نے اپنا لی اور پھر نسل در نسل وہ انسانوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسانوں کے کچھ اشاروں اور باتوں کو سمجھنے لگی
ہم نے ایک اصل سیامی بلی پالی تھی جو بستر پر سوتی تھی تکیئے پر سر رکھ کر ۔ ميں کہوں “بيٹھ جاؤ” تو بيٹھ جاتی ۔ مياؤں مياؤں کر رہی ہو تو ميرے “چُپ” کہنے يا اپنے منہ پر اُنگلی رکھنے سے چُپ ہو جاتی ۔ بلی کی یہ نسل دورِ حاضر میں بہت کم رہ گئی ہے جس کا ذمہ دار انسان ہی ہے
کچھ جانور انسان کے کچھ عوامل کی نقل کر لیتے ہیں مثال کے طور پر طوطا ۔ مینا ۔ بندر ۔ شِمپَینزی [chimpanzee] ۔ وغیرہ ۔ ایسا اُن کی عقل ہی کے باعث ہوتا ہے جو کہ اُن میں انسان کی نسبت کم اور محدود ہوتی ہے اسی لئے جانور انسان کی طرح ہمہ دان یا ہمہ گیر نہیں ہوتے

عقل” پر ابلیس براہِ راست حملہ آور نہیں ہو سکتا چنانچہ اسے بیمار یا لاغر کرنے کی غرض سے وہ ماحول کا سہارا لیتا ہے ۔ لیکن یہ کام ابلیس کیلئے کافی مشکل ہوتا ہے

آدمی اپنی “عقل” کو عام طور پر ابلیس کے حملے سے معمولی کوشش کے ساتھ محفوظ رکھ سکتا ہیں

سمجھ” وہ جنس ہے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے صرف انسان کو تفویض کی ہے ۔ “سمجھ” جانوروں کو عطا نہیں کی گئی ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کو اس کی افزائش ۔ صحت اور استعمال کی آزادی دے رکھی ہے

ابلیس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کی “سمجھ” کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لے
انسان کی فطری خود پسندی اور مادی ہوّس کو استعمال میں لا کر کُل وقتی نہیں تو جزو وقتی طور پر یا عارضی طور پر ابلیس اس میں عام طور پر کامیاب رہتا ہے

اگر ابلیس انسان کی “سمجھ” کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر متعلقہ انسان کو ہر چیز یا عمل کی پہچان ابلیس کے ودیعت کردہ اسلوب کے مطابق نظر آتی ہے ۔ اسی عمل کو عُرفِ عام میں ” آنکھوں پر پردہ پڑنا ” کہتے ہیں کیونکہ آدمی دیکھ کچھ رہا ہوتا ہے اور سمجھ کچھ رہا ہوتا ہے

اُخروی سزا و جزا کا تعلق “عقل” سے نہیں ہے بلکہ “سمجھ” سے ہے

بچے ميں “عقل” ابھی نشو و نما پا رہی ہوتی ہے اور “سمجھ” بہت کم ہوتی ہے ۔ يہی وجہ ہے کہ بچے کا کوئی عمل گناہ يا جُرم تصور نہيں ہوتا کيونکہ اُسے ابھی اتنی “عقل” يا “سمجھ” ہی نہيں ہوتی کہ جُرم يا گناہ کی پہچان کر سکے

سمجھ” مادی جنس نہیں ہے اسلئے میرا مفروضہ ہے کہ “سمجھ” انسان کے جسم میں موجود روح کی ایک خُو ہے

سمجھ” کی جانوروں میں عدم موجودگی کی وجہ سے جانوروں کو اچھے بُرے کی تمیز نہیں ہوتی اسی لئے اُنہیں اپنے عمل کے نتیجہ میں آخرت میں کوئی سزا یا جزا نہیں ہے ۔ اُن کی زندگی میں غلطیوں کی سزا اُنہیں اسی دنیا میں مل جاتی ہے اور اس کا تعلق ان کے جسم سے ہوتا ہے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمیں درست سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری “سمجھ” کو ابلیس کی گرفت سے محفوظ رکھے