Category Archives: روز و شب

قديم اور جديد کا امتزاج

آجکل ٹی وی پر ايک گيت چلايا جا رہا ہے جو شہزاد رائے نے جديد موسيقی پر ترتيب ديا ہے ۔ اس ميں اہم کارمنصبی بلوچستان کے ايک گاؤں کے رہنے والے کا ہے ۔ اس گيت نے مجھے لڑکپن اور نوجوانی کی ياد دلا دی جب ايسے کردار کو بہت اہميت دی جاتی تھی اور سنجيدہ محفلوں ميں بھی انہيں سنا جاتا تھا ۔ يہ لوگ ايک لَے ميں اپنے ہی تيار کردہ گيت پيش کرتے تھے جو کہ ذومعنی ہوتے تھے اور معاشرے کی عکاسی کرتے تھے يا اصلاحِ معاشرہ کی ترغيب ديتے تھے

جديد موسقی کا عبادہ اوڑھے قديم روائتی گيت حاضر ہے جس ميں قديم گيت ہی چھايا ہوا ہے

بچپن کی ياد اور ہماری حالتِ زار

جب ميں سيکنڈ سٹينڈرڈ [شايد تیسری جماعت کے برابر] کا امتحان دے رہا تھا ۔ ميں نے اختياری مضمون موسيقی کا امتحان ديا تو جو گانا ميں نے موسيقی کے ساتھ گا کر اوّل انعام حاصل کيا تھا اْس کے بول يہ تھے

نگری ميری کب تک يونہی برباد رہے گی
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

2 جنوری کو ڈاکٹر عبدالقدير خان کی تحرير “اپنا ہُنر بيچتا ہوں” پڑھتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ يہ گانا برصغیر کے مشہور اِنقلابی شاعر نواب شبّیر حسن خان جوش فلم ڈائريکٹر ڈبلیو زیڈ احمد کے اصرار پر انہوں نے فلم ”ایک رات“ کيلئے لکھا تھا ۔ ايک اور دلچسپ حقيقت يہ ہے کہ ڈبلیو زیڈ احمد صاحب اليکٹريکل انجيئر تھے اور انہوں نے ہميں انجيئرنگ کالج کے پہلے سال ميں پڑھايا بھی تھا ۔اس فلم کيلئے لکھنے پر معاوضہ ملا تھا جس کا نواب شبّیر حسن خان جوش صاحب کو قلق تھا اور انہوں نے يہ شعر لکھا

نہ ہوگا کوئی مجھ سا بھی تیرہ قسمت
میں کم بخت اپنا ہُنر بیچتا ہوں

انہوں نے ہندوستانیوں کی حالت زار بھی یوں بیان کی

سنا تو ہوگا تو نے ایک انسانوں کی بستی ہے
جہاں جیتی ہوئی ہر چیز جینے کو ترستی ہے

ڈاکٹر عبدالقدير خان لکھتے ہيں
چیزیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں اسی لئے بیچنے والے کے نام سے اس کا پیشہ جُڑ جاتا ہے جیسے سبزی فروش، گندم فروش، موتی والا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمارے ملک میں ایک اور نہایت مکروہ اور قابل ہتک نام بھی ہے اور وہ ہے ”وطن فروش“ جسے عرف عام میں غدّار کہتے ہیں۔ بلکہ یہ نام یا لقب غدّار سے بھی زیادہ قابل نفرت ہے کیونکہ غدّار تو ایک گروپ، فرقہ یا چند لوگوں سے بے وفائی کرتا ہے لیکن وطن فروش تو اپنے ہم وطنوں کی عزّت، غیرت، حمیت، جان و مال کا سودا کردیتا ہے۔ تاریخ میں ایسے وطن فروشوں کی کئی کہانیاں ہیں جن کی وجہ سے نسلیں تا قیامت اُن پر لعنت بھیجتی رہینگی۔ سب سے مشہور مثال ہمارے سامنے بنگال کے میر جعفر اور دکن کے میر صادق کی ہے۔ جن کا ذکر علامہ اقبال نے بھی اپنے کلام میں یوں کیا ہے
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
میر جعفر نے اگر نواب سراج الدولہ کے ساتھ غدّاری نہ کی ہوتی تو ہماری تاریخ مختلف ہوتی اور تمام انگریز وہیں نیست و نابود کردیے جاتے۔ اسی طرح میر صادق نے ٹیپو سلطان کے ساتھ غدّاری کی اور جنوبی ہند پر انگریزوں کا راج قائم ہوگیا ۔ بڑی بڑی حکومتیں غدّاری کے سبب فنا ہوگئیں

پرویز مشرف کا دور آیا تو سیاسی لوگ اور بیورو کریٹس حکومت کے ہم نوا بن کر اقتدار اور دولت دونوں حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگ گئے۔ جس کی جیتی جاگتی مثال ایک صاحب ہیں جنھوں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کے دن ہمارے سامنے مٹھائی بانٹی اور آج ان سے بڑا مخالفین کو لعن طعن کرنے والا ملک میں نہیں ۔ پرویز مشرف کے آرمی چیف بننے اور حکومت پر قبضہ کرنے سے پیشتر ہی فوج کو اور عوام کو اس کے کردار کے بارے میں تمام باتوں کا علم تھا۔ جوں ہی اس نے حکومت پر ناجائز قبضہ کیا تو اپنے ساتھ لٹیروں کا ایک گروہ ملا لیا۔ ملک کی عزّت و وقار کو چند ٹکوں میں بیچ دیا ۔ ہمیں امریکی کالونی بنادیا ۔ اپنے ہزاروں شہریوں کو قتل کردیا اور دوسروں سے کرایا۔ اپنے لوگ بیچ کر اس بارے میں اپنی کتاب میں فخریہ اس کی رقم وصول کرنے کا ذکر کیا۔ عورتیں، بچّے، علماء، بزرگ سیاستداں نواب اکبر بگتی وغیرہ کو شہید کیا۔ چوروں لٹیروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کردیئے

ایک وقت تھا جب ہمارے یہاں سرفروشوں کی عزّت کی جاتی تھی مگر اب ہم ضمیر فروشوں ، غدّاروں اور منافقوں کو ہیرو بنائے پھرتے ہیں ۔ اب وطن فروشوں نے ملک کے اندر ایسی پالیسیاں اختیار کرلی ہیں کہ بجائے جنگ کے ہم اقتصادی ، مالی اوراخلاقی طور پر ختم ہو کر پرانے غدّاروں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے

ڈاکٹر عبدالقدير خان نے ايک وطن فروش جماعت علی شاہ کا ذکر نہيں کيا جسے پرويز مشرف نے انڈس واٹر کميشن کا سربراہ بنايا تھاکہ پاکستان کے پانيوں کے حقوق حفاظت کرے اور وہ 30 ستمبر 2011ء کو ريٹائر ہوا ۔ جماعت علی شاہ پاکستان کے حق کی بجائے بھارت کے ناجائز اقدامات کی حفاظت کرتا رہا جس کے نتيجہ ميں بھارت نے 2002ء سے 2009ء تک مقبوضہ جموں کشمير کی سرزمين پر دريائے سندھ کا پانی روکنے کيلئے دو بڑے ڈيم بنا لئے ۔ ايک 57 ميٹر اُونچا نمُو بازگو کے مقام پت دريائے سندھ پر اور دوسرا 42 ميٹر اُونچا دريائے سندھ ميں شامل ہونے والی سورو ندی پر چتّر کے مقام پر ۔ ان 2 ڈيموں ميں 4238400000 مکعب فٹ پانی روکا جا سکتا ہے ۔ مزيد يہ کہ پاکستان کے ماحول کی حفاظت کے نام پر بھارت نے اقوامِ متحدہ سے 482083 ڈالر امداد بھی حاصل کر لی مگر جماعت علی شاہ اپنی قوم کو بيوقوف بناتے رہے کہ بھارت کچھ نہيں کر رہا ۔ کمال يہ ہے کہ 23 ستمبر 2011ء کو جماعت علی شاہ کی کارستانياں معلوم ہونے پر اُسے ايگزِٹ کنٹرول لسٹ پر رکھا گيا تھا مگر وہ کنيڈا جا پہنچا ہے

مقبوضہ جموں کشمير ميں بھارت کی طرف بنائے جانے والے ڈيموں کے متعلق ميں ماضی ميں اپنے بلاگ پر اور اخبار ميں لکھتا رہا ہوں ۔ ميں نے اس سلسلہ کی آخری تحرير اسی بلاگ پر 31 جولائی 2010ء کو لکھی تھی

آ بيل مجھے مار

شير محمد خان صاحب 15 جون 1927ء کو تحصيل پھلور ضلع جالندھر مشرقی پنجاب ميں پيدا ہوئے ۔ اُنہوں نے 1946ء ميں پنجاب يونيورسٹی سے بی اے پاس کيا ۔ پاکستان کے معرضِ وجود ميں آنے کے بعد کراچی ميں بسيرا کيا اور 1953ء ميں کراچی يونيورسٹی سے ايم اے پاس کيا ۔ وہ ايک بہترين مزاح نگار تھے اور کالم نويس بھی ۔ عمدہ شاعری کرتے تھے اور سفرنامے بھی خوب لکھتے تھے ۔ دنيا اُنہيں ” ابنِ انشاء ” کے نام سے جانتی پہچانتی ہے ۔ ہاجکنز لِمفوما ميں مبتلاء ہو کر 11 جنوری 1978ء کو لندن ميں وفات پائی اور کراچی ميں دفن ہوئے

ہوا يوں کہ ميں عنوان “نوکری” ديکھ کر جا پہنچا اُس تحرير پر جو ام تحريم صاحبہ نے “ابنِ انشاء” کی تصنيفات ميں سے اپنے بلاگ “ارتقاءِ حيات” پر نقل کی تھی ۔ دوسری غلطی يہ ہوئی کہ وہاں تبصرہ کے خانے ميں لکھ ديا کہ انشاء جی نے کہا کُوچ کرو اور خود کُوچ کر گئے ۔ خوب لکھا کرتے تھے ۔ ان کی آخری نظم يہاں ملاحظہ فرمايئے
https://theajmals.com/blog/2005/11/12

تير تو ميری کمان سے نکل گيا تھا ۔ اب پچھتائے کيا ہو ۔ جواب ميں آيا ايک ميزائل ان الفاظ ميں ” ساتھ ہی اس کی ویڈیو بھی شیئر کرتے تو کیا ہی بات تھی

ميں ٹھہرا غيرتمند [:lol:]۔ ناک پر کبھی مکھی نہ بيٹھنے دی ۔ ہو گيا انٹرنيٹ کے گھوڑے پر سوار اور نکل گيا يوٹيوب کے جنگل کی طرف اور رکھ لی ميرے رب نے ميری عزت اور مل گيا مجھے جس کی تلاش تھی

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو ۔ ۔ ۔ اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب ۔ ۔ ۔ جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں ۔ ۔ ۔ دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ ۔ ۔ ۔ اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا ۔ ۔ ۔ زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو ۔ ۔ ۔ سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں ۔ ۔ ۔ کیوں بن میں نہ جا بسيرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے ۔ ۔ ۔ تو اور کرے دیوانہ کیا

امتحان

آج ميرا ارادہ سانحہ مشرقی پاکستان کے سلسہ ميں عدنان شاہد صاحب کے سوال کا جواب شائع کرنے کا ارادہ تھا ليکن احمد عرفان شفقت صاحب نے 18 دسمبر کو مطلع کيا کہ 15 دسمبر کے بعد کی ميری تحارير اُردو سيارہ پر نمودار نہيں ہو رہيں ۔ يہ ڈی اين ايس کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے ليکن ميں نے اُسی دن اُردو سيارہ کی انتظاميہ کی توجہ بھی اس طرف مبزول کرا دی تھی ۔ آج کی يہ تحرير ديکھنے کيلئے ہے کہ ميرا بلاگ اُردو سيّارہ پر نمودار ہو گيا ہے يا کہ نہيں

پيپلز پارٹی اور نصرت بھٹو

ايک کھلنڈرا نوجوان قائدِ عوام کيسے بنا ؟
پيپلز پارٹی کس کا تخيل تھا ؟
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پيپلز پارٹی کيونکر قائم رہی ؟
بينظير کو سياست کس نے سکھائی ؟
مرتضٰے بھٹو کيوں قتل ہوا ؟

ميں اپنی پرانی ڈائريوں سے اس پر حقائق کافی حد تک جمع کر چکا تھا کہ ايک مختصر مگر جامع مضمون اسی کے متعلق شائع ہو گيا جو ميری معلومات سے ملتا جُلتا ہے ۔ ملاحظہ فرمايئے

میرا اُن کی شخصیت کے ساتھ پہلا تعارف روزنامہ مساوات میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کی وساطت سے ہوا۔ وہ اُن دنوں اس ادارے کی چیئرپرسن تھیں اور اُس کے معاملات میں دلچسپی لیتی تھیں۔ ایک روز میں نے اپنے ایک واقفِ کار سے جواسی اخبار میں کام کرتے تھے ۔ بیگم صاحبہ کے مزاج اُن کے رویوں کے بارے میں پوچھا تو اُس نے میری توقع کے بالکل برعکس اُن کی تعریف و توصیف شروع کر دی ۔ مجھے اُن کی باتیں سن کر حیرت انگیز خوشی ہوئی اور میں نے بیگم صاحبہ کی شخصیت کا بھٹو صاحب کی شخصیت سے ہٹ کر مطالعہ شروع کر دیا

اصفہان میں نصرت ایک امیر تاجر کے ہاں پیدا ہوئیں ۔ اُن کے والد کراچی منتقل ہونے کے بعد صابن سازی کا کارخانہ چلانے لگے۔ ایران کے حوالے سے اس خاندان کے تعلقات اسکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سے قائم ہوئے جنہوں نے آگے چل کر نصرت اور بھٹو کو شادی کے بندھن میں پرو دیا ۔ اس طرح جوان سال بھٹو جو امریکہ سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان آئے اُن کے بیگم نصرت بھٹو کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں صدر اسکندر مرزا سے مراسم پیدا ہوئے جن کی بدولت وہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد میں شامل کر لیے گئے۔

نصرت بھٹو اپنے شوہر کو سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہی تھیں۔ صدر اسکندر مرزا کے ذریعے مسٹر بھٹو جنرل ایوب خان سے متعارف ہوئے۔ جب اکتوبر 1958ء میں پہلا مارشل لاء لگا تو وہ لندن میں تھے۔ انہیں کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت آئی تو نصرت بھٹو نے اُنہیں یہ دعوت قبول کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ اُنہی کے اصرار پر وہ کابینہ میں شامل ہوئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھٹو صاحب کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں اُن کی اہلیہ نے ایک خاموش مگر انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جبکہ وہ خود تاریخ کی آنکھ سے چھپی رہی تھیں۔ مسٹر بھٹو ایوب خان کے دور میں وزیرِ خارجہ بنے اور بڑی شہرت پائی۔

اس دوران عائلی زندگی میں کئی نشیب و فراز لیکن نصرت بھٹو نے بڑی دانائی اور فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے اپنے شوہر کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کیا نہ اپنی جداگانہ شخصیت کا امیج بنانے کی ذرہ برابر کوشش کی۔ ان کی تمام تر توجہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر مرکوز رہی اور اُن کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ بھٹو صاحب عالمی سطح پر بلند پایہ لیڈر کے طور پر پہچانے جائیں اور پھر معاہدہٴ تاشقند کا سخت مرحلہ پیش آیا اور آخر کار صدر ایوب خان اور وزیرِ خارجہ زیڈ اے بھٹو کے راستے جدا ہو گئے اور وہ کابینہ سے نکال دیے گئے۔

آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے بعد اُن کے لیے یہ ایک سخت جاں مرحلہ تھا جس میں بیگم نصرت بھٹو نے اُنہیں دلاسہ دیا اور بدلتے ہوئے ملکی حالات کے پیشِ نظر اپنی سیاسی جماعت بنانے کا مشورہ دیا چنانچہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور تین سال کے اندر
پاکستان کے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور بعد ازاں وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز ہونے میں کامیاب رہے۔

بیگم نصرت بھٹو کا پیپلز پارٹی کی تشکیل میں سب سے قابلِ قدر کارنامہ یہ تھا کہ اُنہوں نے اس میں خواتین کا ونگ قائم کیا تحصیل اور ضلع کی سطح پر انتخابات کرائے اور کارکنوں نے اُنہیں قومی سطح پر باقاعدہ منتخب کیا۔ وہ حقیقی معنوں میں جمہوریت کی علمبردار اور اسے سیاسی جماعتوں کے اندر نچلی سطح تک رائج کرنے کی زبردست حامی تھیں۔ اسی ونگ کے ذریعے اُنہوں نے بہت سا فلاحی کام کیااور عام لوگوں کے اندر سیاسی بیداری پیدا کی۔ اُن کے ہاں محبت اور خیر خواہی کا جذبہ گہرا اور ہمہ گیر تھا۔ وہ 1973ء سے 1977ء تک پاکستان کی خاتونِ اوّل رہیں مگر خود نمائی سے پرہیز کیا اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ ہر صبح ناشتے کی میز پر مسٹر بھٹو سے ملکی اور عالمی حالات پر تبادلہٴ خیال کرتیں لیکن امورِ ریاست میں مداخلت سے پرہیز کرتی رہیں۔

وہ اپنے شوہر کو سیاسی تقویت پہنچانے کے ساتھ ساتھ اب اپنی بیٹی بے نظیر کی تعلیمی اور ذہنی تربیت پر توجہ دے رہی تھیں جو مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تھیں۔

1977ء میں حالات نے ایک بہت بڑا پلٹا اُن کے شوہر کی حکومت ختم ہو گئی اور فوج نے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ مسٹر بھٹو گرفتار کر لیے گئے اور پیپلز پارٹی کو کڑی آزمائش نے آ لیا۔ اس انتہائی نازک موقع پر بیگم نصرت بھٹو نے غیر معمولی تدبر تحمل اور فولادی عزم کا ثبوت دیا۔ اُن کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بے پناہ توانائیوں کے ساتھ اُجاگر ہوئیں اور اُنہوں نے ظلم اور جبر کا ہر وار بڑی بہادری اور مردانگی سے برداشت کیا اور لازوال جدوجہد کے ذریعے جمہوریت کی شمع روشن رکھی۔ مسٹر بھٹو پر جب قتل کا مقدمہ چلنا شروع تو بیگم صاحبہ نے عدالتوں میں بھی
بڑے حوصلہ مندی سے جنگ لڑی اور سیاسی میدان میں ایک شیر کی طرح غاصبوں پر جھپٹی رہیں۔ اُنہوں نے قائدانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا اور عوام کے ساتھ اُنہوں نے جو ایک گہرا تعلق پہلے سے پیدا کر رکھا تھا اس کے ذریعے کارکنوں کے اندر مزاحمت کی روح پھونکی اور اُنہیں فوجی آمریت کے مدمقابل ایک مضبوط سیاسی قوت میں ڈھال دیا۔ مسٹر بھٹو کی پھانسی کا صدمہ بھی اُنہوں نے اس طرح برداشت کیا جیسے وہ ہمت و عزیمت کی ایک ناقابلِ تسخیر چٹان ہوں۔

اُن کی فہم و فراست کا سب سے بڑا شاہکار یہ تھا کہ اُنہوں نے اُن تمام عناصر کو بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں اپنے ساتھ شامل کیا جنہوں نے پی این اے میں مسٹر بھٹو کے خلاف عوامی تحریک چلائی تھی۔ اُنہیں سرطان کا مرض لاحق ہو چکا تھا اس کے باوجود اُنہوں نے تحریکِ مزاحمت کی قیادت کی۔ سندھ میں ایم آر ڈی ناکام رہیلیکن جنرل ضیاء الحق پر اس قدر دباوٴ بڑھا کہ انہیں انتخابات کرانا پڑے اور یہی انتخابات آگے چل کر 1988ء کے انتخابات پر منتج ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے قومی سطح پر واضح کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی بیگم نصرت بھٹو کی رہینِ منت تھی مگر اُنہوں نے اقتدار کا تاج اپنی بیٹی بے نظیر کے سر پر رکھا اور خود سینئر وزیر بننے پر اکتفا کیا۔

اُن کا خلوص اور اُن کا ایثارآگے چل کر اقتدار کی کشمکش میں اُن کے لیے بڑی اذیت کا باعث بنا۔ 1993ء میں انتخابات ہوئے تو ماں نے بیٹی سے کہا کہ میرا اصل جان نشین میرا بیٹا میر مرتضیٰ بھٹو ہے جو اس وقت جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا ہے اسے پاکستان میں آنے اور انتخابات میں آنے کی اجازت دی جائے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اسے سندھ کی وزارتِ اعلیٰ کا منصب ملنا چاہیے مگر وزیرِ اعظم بے نظیر
نے اس خیال کی مخالفت کی تاہم بڑی رودکد کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو پاکستان آگئے اور وہ عظیم اور بیدار مغز ماں جس نے بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں لانے کے لیے راہ ہموار کی وہ اپنی بیٹی کی کرپٹ حکومت سے بیزار ہوتی گئی اور وہ اپنے بڑے بیٹے کی سیاسی حمایت میں اسی طرح سرگرم ہوگئیں جس طرح اُنہوں نے اپنے شوہر کی جان بچانے اور پیپلز پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے تگ و دو کی تھی۔

بیگم نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی وزیرِ اعظم بے نظیر سے کہا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کے دو مطالبات ہیں۔ ایک یہ کہ پارٹی میں انتخابات کرائے جائیں
اور دوسرا یہ کہ حکومت کو بدترین کرپشن سے پاک صاف کیا جائے۔ یہ دونوں مطالبات درست ہیں اور اُنہیں تسلیم کیا جائے۔ اس دوٹوک اعلان کے بعد 70 کلفٹن کے سامنے میر مرتضیٰ بھٹو گولیوں سے بھون دیئے گئے کیونکہ وہ جناب آصف زرداری اور بے نظیر کے اقتدار کو چیلنج کر رہے تھے

احوالِ قوم ۔ مايوسی گناہ ہے

خواجہ الطاف حسين حالی صاحب نے مسلمانانِ ہِند کی حالتِ زار بيان کرنے کے بعد اُنہيں مايوس ہونے سے بچانے اور ترقی کی راہ پر چلنے کا راستہ بھی بتايا ۔ مسدسِ حالی کے اس حصہ کا نام ” ضميمہ ” ہے

بس اے نااُمیدی نہ یوں دل بُجھا تُو ۔ ۔ ۔ جھلک اے اُمید اپنی آخر دکھا تُو
ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو ۔ ۔ ۔ فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو
ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں ۔ جلی کھیتیاں تو نے سر سبز کی ہیں

بہت ڈوبتوں کو ترایا ہے تو نے ۔ ۔ ۔ بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تونے
اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تونے ۔ ۔ ۔ اجڑتے گھروں کو بسایا ہے تونے
بہت تونے پستوں کو بالا کیا ہے ۔ ۔ ۔ اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے

نہیں فکر تو دل بڑھاتی ہے جب تک ۔ دماغوں میں بو تیری آتی ہے جب تک
یہ سچ ہے کہ حالت ہماری زبوں ہے ۔ عزیزوں کی غفلت وہی جوں کی توں ہے
جہالت وہی قوم کی رہنموں ہے ۔ ۔ ۔ تعصب کی گردن پہ ملت کا خوں ہے
مگر اے امید اک سہارا ہے تیرا ۔ ۔ ۔ کہ جلوہ یہ دنیا میں سارا ہے تیرا

ہم ترقی چاہتے ہيں ؟؟؟

آج بلکہ يوں کہنا چاہيئے کہ پچھلی کئی دہائيوں سے ہم لوگ مُلک و قوم کے دن بدن رُو بتنزل ہونے کا ہر محفل ميں رونا روتے ہيں ۔ تنزل کا مُوجب کوئی سياستدانوں کو قرار ديتا ہے تو کوئی فوجی آمروں کو اور کچھ ايسے بھی ہيں جو مُلا يا مُلا کے پڑھائے ہوئے اُن 18 فيصد افراد کو قرار موردِ الزام ٹھہراتے ہيں جنہوں نے مُلک ميں خواندگی کی شرح کو 17 سے 35 فيصد بنايا ہوا ہے ۔ آخرالذکر ميں اپنے کو زيادہ ذہين سمجھنے والےکچھ ايسے افراد بھی ہيں جو مروجہ بدحالی کا سبب دين اسلام کو قرار ديتے ہيں

ہموطنوں ميں پڑھے لکھوں سميت اکثريت کا يہ حال ہے کہ انہيں مطالعہ کا شوق نہيں ۔ وہ صرف نصاب کی کتب پڑھتے ہيں اسناد حاصل کرنے کيلئے اور بعض تو نصاب کی کُتب بھی پوری نہيں پڑھتے ۔ تعليميافتہ بننے يا اچھی عملی زندگی گذارنے کيلئے نصابی کُتب کے ساتھ ساتھ تاريخ ۔ معاشرتی اور معاشی علوم کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے اور يہ عادت نمعلوم کيوں ہموطنوں کی بھاری اکثريت ميں نہيں ملتی ۔ ہماری قوم کی ريخت و ناکامی کا يہی بڑا سبب ہے

دُور کيوں جايئے ۔ پڑھے لکھے ہموطنوں کی بھاری اکثريت کو 6 دہائياں پرانی اپنے ہی مُلک کی تاريخ کا ہی عِلم نہيں تو اور کيا توقع کی جائے ۔ اسی لئے يہ لوگ شکائت کرتے ہيں کہ مُلک ميں کسی نے 64 سال سے کچھ نہيں کيا ۔ صرف معاشی پہلو ہی کو ديکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری دِگرگوں حالت ہموطنوں کی بلاجواز شاہانہ عادات کا نتيجہ ہے ۔ آج کے دور ميں کسی سرکاری دفتر ميں چلے جائيے اور صرف قلم اور کاغذ کے استعمال کا تخمينہ لگايئے ۔ پھر اس کا مقابلہ کيجئے اُن لوگوں کے طريقے سے جنہوں نے اس مُلک کو حاصل کيا اور ترقی کی راہ پر ڈالا تھا

ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں يکم مئی 1963ء ميں ملازمت شروع کی ۔ مجھے اُس وقت کے سمال آرمز گروپ [جو 1967ء ميں ويپنز فيکٹری بنا] ميں تعينات کيا گيا ۔ سمال آرمز گروپ کے سربراہ ورکس منيجر تھے جن کے ماتحت ميرے سميت 2 اسسٹنٹ ورکس منيجر اور ايک سيکشن آفيسر ايڈمن تھے ۔ سيکشن آفيسر کے برابر عہدے کے 8 فورمين متذکرہ 2 اسسٹنٹ منيجرز کے ماتحت تھے پھر اُن کے ماتحت اسسٹنٹ فورمين ۔ چارجمين ۔ سپروائزر اور ورکمين وغيرہ تھے

ميں نے ديکھا کہ ہمارے دفاتر ميں کوئی ايسا کاغذ جس کے ايک طرف لکھا ہوا ہو اور اس کی ضرورت نہ رہی ہو تو اُسے ضائع نہيں کيا جاتا تھا بلکہ لکھائی پر صرف ايک کاٹا لگا کر اس کے دوسری طرف لکھنے کيلئے استعمال کی جاتی تھی ۔ اسی طرح جو لفافہ ڈاک ميں موصول ہو اُس پر جہاں پتہ لکھا ہوتا تھا ايک پرچی چپکا کر لفافہ دوبارہ استعمال کيا جاتا تھا ۔ کاغذوں کو نتھی کرنے کيلئے لوہے کے پِن کی بجائے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے جو قريب ہی اُگے کيکر کے درخت سے اُتارے جاتے تھے ۔ ہماری فيکٹری ميں صرف ايک ٹائپسٹ تھا اور ايک ہی ٹائپ رائٹر اسلئے کئی خطوط نب ہولڈر يا پکی پنسل سے ہی لکھے جاتے تھے

گليوں اور سڑکوں پر لگی بتياں کوئی توڑتا نہيں تھا ۔ نہ کوئی دوسری املاک کو نقصان پہنچاتا تھا ۔ طلباء اور طالبات اپنی چھٹيوں کے دوران دشمن کے ہوائی حملے سے بچنے اور اس کے بعد پيدا ہونے والی صورتِ حال سے نپٹنے ۔ ابتدائی طبی امداد اور دوسرے فلاحی کورس کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معلوماتِ عامہ کے امتحاں پاس کرتے تھے

ہماری فيکٹری ميں سيکشن آفيسر ايڈمن 50 سالہ اشرف علی صاحب تھے جو 1947ء ميں وسط بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔ چونکہ وہاں پر وہ سرکاری سيکرٹيريئٹ کے ملازم تھے اسلئے پاکستان پہنچنے پر اُنہيں کراچی ميں سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت دی گئی ۔ وہاں سے 1953ء ميں اُن کا تبادلہ پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں ہوا تھا ۔ ميں نے اشرف علی صاحب کو ديکھا کہ ردّی کاغذ کی نلکی بنا کر ايک چھوٹی سی پنسل کے پيچھے لگا کر اسے لمبا کيا ہوا تھا کہ لکھنے کيلئے ہاتھ ميں آ سکے ۔ مجھے کام شروع کرنے کيلئے ايک ماہ کيلئے 2 پنسليں ملی تھيں ۔ ميرے پاس لکھنے کا کام کم تھا سو ميں نے ان ميں سے ايک اشرف علی صاحب کو پيش کی تو اُنہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ يہ کہا “بھائی ميں چند سال ميں ريٹائر ہونے والا ہوں اور اپنی عادت خراب نہيں کرنا چاہتا کہ ريٹائرمنٹ کے بعد مجھے صرف پنشن پر گذر کرنا ہے”۔

اس کے بعد اُنہوں نے جو کچھ کہا وہ دورِ حاضر کے ہموطنوں کو اگر ہوش ميں نہ لائے تو پھر وہ اسی کے مستحق ہيں جو کچھ آجکل ہو رہا ہے ۔ اور عمران خان تو کيا شايد کوئی فرشتہ بھی آ کر اس مُلک و قوم کو درست نہ کر سکے ۔ اشرف علی صاحب نے مجھے جو بتايا تھا اُس کا خلاصہ يہ ہے

“جب پاکستان بنا تو ہم سی پی سے لُٹے پُٹے کراچی پہنچے سرحد پر نام اور دوسرے کوائف درج کئے جاتے تھے سو ہم نے لکھوا ديا ۔ کچھ دن ہميں کراچی مہاجرين کيمپ ميں رکھا گيا ۔پھر جوں جوں ضرورت ہوتی آدميوں کو ان کی تعليم اور تجربہ کے مطابق چھوٹی موٹی ملازمت دے دی جاتی سو ہميں بھی سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت مل گئی ۔ وہاں نہ کوئی کرسی تھی نہ کوئی ميز ۔ کچھ کاغذ جن کی ايک طرف کچھ لکھا تھا اور ايک پکی پنسل دے دی گئی ۔ ايک ساتھی جو پہلے سے موجود تھے اور ايک پيٹی [wooden crate] کو ميز بنائے بيٹھے تھے کہنے لگے کہ آج چھٹی کے بعد ميرے ساتھ چليں ۔ وہ چھٹی کے بعد مجھے کيماڑی لے گئے ۔ وہاں خالی پيٹياں پڑی تھيں ۔ ہم نے ايک چھوٹی اور ايک بڑی اُٹھا لی ۔ اگلے روز ہم دفتر ميں ميز لگا کر کرسی پر بيٹھے ۔ ہميں 3 ماہ تنخواہ پيسوں ميں نہيں ملی بلکہ چاول ۔ آٹا اور دال وغيرہ دے ديا جاتا تھا اور سب خوش تھے ۔ اپنا کام بڑے شوق اور انہماک سے کرتے تھے ۔ ايک دوسرے کا خيال بھی رکھتے تھے ۔ کسی کو کوئی پريشانی نہ تھی ۔ ہم پيدل ہی دفتر آتے جاتے تھے ۔ جن لوگوں کی رہائش دور تھی وہ صبح تڑکے گھر سے نکلتے تھے ۔ ہميں جو پنسل ملتی تھی اُسے ہم آخری حد تک استعمال کرتے تھے ۔ کوئی 6 ماہ بعد ہميں سياہی کا سفوف ۔ دوات ۔ نب اور ہولڈر مل گئے ۔ ليکن پکی پنسل ساتھ ملتی رہی کيونکہ نب سے کاپياں نہيں بن سکتی تھيں”۔

يہاں يہ ذکر بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان بننے کے بعد بھارت ميں گندم کی شديد قلت پيدا ہوئی تو مہاتما کرم داس موہن چند گاندھی نے پورے بھارت کا دورہ کيا اور خود آلو کی روٹی کھا کر عوام کو بھی آلو کی روٹی کھانے کی ترغيب دی تھی جو آج کی اُن کی ترقی کا پيش خيمہ ثابت ہوئی

ملک فيروز خان نون 1957ء ميں پاکستان کے وزير اعظم رہے ہيں ۔ اُن کا گھر ميں دفتر ايک چھوٹی سی ميز اور ايک کرسی پر مشتمل تھا جو اُنہوں نے اپنے سونے کے کمرے ہی ميں لگائی ہوئی تھی ۔ ايک دن ان کی بيوی بيگم وقارالنساء نون نے ذاتی خط لکھا اور اُسی ميز پر رکھ ديا ۔ جب وقت کے پاکستان کے وزير اعظم گھر آئے تو بيوی نے کہا يہ خط ڈاکخانے ميں ڈال آئيں
وزير اعظم نے پوچھا “يہ کاغذ کہاں سے ليا ہے ؟”
بيوی “آپ کی ميز سے”
وزير اعظم “اور يہ سياہی”
بيوی ” آپ کی ميز سے”
وزير اعظم غصے ميں” نہ يہ کاغذ تمہارے خاوند کا ہے اور نہ سياہی ۔ يہ دونوں بلکہ يہ دفتر وزيرِ اعظم پاکستان کا ہے ۔ اب يہ کمی پوری کرنا ہو گی”

کاش کہ تيرے دِل ميں اُتر جائے ميری بات